آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’ٹرمپ حکم نامے کے خلاف کل بل پیش کریں گے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کے خلاف دنیا بھر سے شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے جبکہ عالمی رہنماؤں نے بھی اس فیصلے کی پذیرائی نہیں کی۔

لائیو کوریج

  1. ’ناقابلِ تلافی نقصان‘

    جج این ڈونیلی کے فیصلے کے بعد ان لوگوں کی ملک بدری رک گئی ہے جن کے پاس پناہ گزینی کی منظور شدہ درخواستیں، منظور شدہ ویزا، یا امریکہ میں داخلے کے لیے درکار دوسری قانونی دستاویزات موجود تھیں۔

    ہنگامی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ لوگوں کو ’بڑے اور ناقابلِ تلافی نقصان‘ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ 

  2. ویزے کے باوجود واپسی

  3. ’یہ اچھا کام کر رہا ہے‘

    اس حکم نامے کے تحت، جس پر انھوں نے جمعے کو دستخط کیے تھے، امریکہ کا پناہ گزینوں کا پروگرام معطل کر دیا گیا تھا اور عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، اور یمن کے شہریوں کی امریکہ آمد پر 90 دن کی پابندی لگا دی تھی۔

    وہ لوگ جو اس دوران سفر کر رہے تھے، انھیں امریکہ آمد پر حراست میں لے لیا گیا تھا، چاہے ان کے پاس جائز ویزا اور دوسری دستاویزات ہی کیوں نہ ہوں۔

    ہفتے کے روز صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’یہ اچھا کام کر رہا ہے۔ آپ اسے ہوائی اڈوں پر دیکھ رہے ہیں، آپ اسے ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔‘

  4. امریکی شہری آزادی کی تنظیم اے سی ایل یو نے سنیچر کو صدر کے حکم نامے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

    اے سی ایل یو نے کہا کہ جج کے سٹے آرڈر سے ان لوگوں کی ملک بدری رک گئی ہے جو اس حکم نامے کی 'زد' میں آ گئے تھے۔

    تنظیم کا اندازہ ہے کہ ایک سو سے دو سو تک لوگوں کو ہوائی اڈوں پر روک دیا گیا تھا۔ 

  5. عدالت نے ٹرمپ کے حکم نامے پر عمل درآمد رکوا دیا

    امریکہ کے شہر نیویارک کی ایک عدالت نے صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے پر عبوری طور پر عمل درآمد روک دیا ہے جس کے تحت سات مسلمان اکثریتی ممالک سے پناہ گزینوں کی امریکی آمد پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

  6. امریکی ہوائی اڈے پر پناہ گزین زیرِ حراست

     انسانی حقوق کی تنظیموں کے ایک گروہ نے نیویارک کی ایک عدالت میں ان پناہ گزینوں کو رہا کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے جنھیں جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

  7. شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد

     صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پناہ گزین پروگرام معطل کرتے ہوئے شام سے آنے والے پناہ گزینوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد 'انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں' کا امریکہ میں داخلہ روکنا ہے۔  

  8. ’مسلمان ممالک کے باشندوں کا امریکہ میں داخلہ بند‘

     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر چھ مسلمان ممالک کے باشندوں کا امریکہ میں 90 دن تک داخلہ بند ہے۔