آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’ٹرمپ حکم نامے کے خلاف کل بل پیش کریں گے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کے خلاف دنیا بھر سے شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے جبکہ عالمی رہنماؤں نے بھی اس فیصلے کی پذیرائی نہیں کی۔

لائیو کوریج

  1. پابندی ’شرمناک اور سفاک‘

    لندن کے میئر صادق خان جو خود بھی ایک مسلمان ہیں انھوں نے امریکی صدر کی جانب سے مسلمان ممالک کے افراد پر عائد کی جانے والی پابندی کو شرمناک اور سفاک قرار دیا ہے۔ 

  2. تفریق پیدا کرنے والا اقدام

    برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے صدر ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان ممالک کے افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کو غلط اور تفریق پیدا کرنے والا اقدام قرار دیا ہے 

  3. بریکنگ, جہاز کے عملے میں تبدیلیاں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکمنامے کے باعث ایمیریٹس ایئر لائن کو امریکہ کی پرواز کے لیے پائلٹ اور ایئر ہوسٹسز کو تبدیل کرنا پڑا۔

    ایئر لائن کی ترجمان نے کہا امریکہ کے صدارتی حکمنامے کا اطلاق صرف مسافروں پر نہیں ہوتا بلکہ جہاز کے عملے پر بھی ہوتا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے عملے میں تبدیلیاں کرنی پڑیں۔‘

  4. سوئٹزر لینڈ کے سفیر کی تہران طلبی

    ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سمیت چھ دیگر مسلم ممالک کے شہریوں اور تارکین وطن کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے ایگزیکٹیو آرڈرز پر سوئٹزر لینڈ کے سفیر کو تہران طلب کیا ہے۔

     نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی اثنا نے وزارت خارجہ کے ترجمان بحرام غسیمی کے حوالے سے کہا ہے کہ ’عارضی سفری پابندی مشترکہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، جیسے کہ دونوں ممالک کے درمیان 1955 کا معاہدہ۔‘

     ایران اور امریکہ کہ درمیان 1979 کے بعد سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں، جب ایرانی طلبا نے امریکی سفارتخانے پر چڑھائی کر کے 52 امریکیوں کو 444 دنوں کے لیے یرغمال بنا لیا تھا۔ اس لیے سوئٹزر لینڈ ایران میں امریکی معاملات کو دیکھتا ہے۔  

  5. حکم نامے کے اہم نکات

    ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامے پر دستخط کے کئی گھنٹوں بعد اس کا متن سامنے آیا جس میں یہ اقدامات شامل ہیں:

    • امریکی پناہ گزینوں کے داخلے کا پروگرام 120 روز کے لیے معطل
    • جب تک بعض ’اہم تبدیلیاں نہ کی جائیں،
    • شامی پناہ گزینوں پر پابندی90 روز تک عراق، شام اور ’باعث تشویش‘ علاقوں سے آنے والوں پر پابندی، اطلاعات کے مطابق ان ممالک میں ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں
    • مذہبی استحصال کا شکار افراد کی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے لیکن صرف ان لوگوں کی جو اپنے ممالک میں کسی اقلیتی مذہب کا حصہ ہوں
    • 2017 میں صرف 50 ہزار پناہ گزینوں کو داخلہ دیا جائے۔ یہ تعداد سابق صدر اوباما کے مقابلے میں نصف ہے
  6. کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کا پناہ گزینوں کو خوش آمدید

    کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکی کی جانب سے پناہ گزینوں پر پابندی کے فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر برملا اظہار کرتے ہوئے کینیڈا میں پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا ہے  

  7. ’مجھے لگا گرین کارڈ مستقل ہوتا ہے‘

    امریکہ میں داخلے پر عائد ہونے والی پابندی سے متاثرہ ممالک کے بیشتر افراد امریکہ مستقل بنیادوں پر چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔

    واشنگٹن میں کام کرنے والے ایک ایرانی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیوی ایران گئیں اور وہاں انھیں اپنے ویزا کو رینیو کرانے کے لیے پانچ ماہ تک انتظار کرنا پڑا اور اب وہ وہاں پھنس چکی ہیں۔ ’میں چند خوفناک کہانیاں سن چکا ہوں۔ جن کے پاس گرین کارڈ ہیں انھیں بھی امریکہ میں داخل ہونے نہیں دیا جا رہا۔ میرے خیال میں تو گرین کارڈ کا مطلب مستقل رہائش تھا، لیکن بظاہر ایسا نہیں ہے۔‘ 

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی سے ملاقات اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ وہ ایران چلے جائیں۔ 

  8.  پینٹاگون میں وزیر دفاع جمیز میٹس کی تقریب حلف برادری کے بعد صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو حکمنامے پر دستخط کیے جس کے تحت 'انتہا پسند اسلامی دہشت گردوں' کو ملک سے دور رکھنے کے لیے جانچ پڑتال کے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔  

  9. بیروت کی فضائی کمپنیوں نے عملدرآمد شروع کر دیا

     بیروت کی فضائی کمپنیوں نے امریکی صدارتی حکم نامہ کے تحت پابندی کا سامنا کرنے والے سات مسلم ممالک کے مسافروں کے لیے سفر کی سہولت مسترد کرنا شروع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیروت کی ائیر لائنز نے ان ممالک کے مسافروں کو امریکہ لے جانے سے انکار کر دیا ہے۔  

  10. ’میں انتہائی دل برداشتہ ہوں‘

     ملالہ یوسفزئی نے ملالہ فنڈ کے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’میں انتہائی دل برداشتہ ہوں، صدر ٹرمپ نے آج ان بچوں، ماؤں اور والدین پر دروازے بند کر دیے ہیں جو تشدد اور جنگ کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ میں دل برداشتہ ہوں کیونکہ امریکہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کا خیر مقدم کرنے والی اپنی تاریخ سے منہ موڑ رہا ہے۔‘  

  11. ’قلم کی ایک لکیر نے تمام خواب توڑ دیے‘

    اردن کے موسی شرکاوی جو کے دل کے امراض کے ماہر ہیں اور کنیکٹیکٹ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کی اہلیہ جو کہ شامی ڈاکٹر ہیں ان کے پاس آئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’شامی پاسپورٹ کی وجہ سے میری بیوی ملک نہیں چھوڑ سکتیں کیونکہ پھر وہ دوبارہ واپس نہیں جا پائیں گی۔‘

    ’میری بیوی کے رشتہ دار ہم سے ملنے امریکہ نہیں آ سکتے کیونکہ ان کے ویزا حاصل کرنے پر پابندی ہے۔ یہ ایگزیکیٹو آرڈر یقینی طور پر خاندانوں کو الگ کر رہا ہے۔‘

    ’نئے صدر کے قلم کی ایک لکیر نے کئی خواب توڑ دیے ہیں۔ کئی نوجوان ڈاکٹروں نے لائسنسنگ امتحان دینے کے لیے کئی سال گزارے اور ہزاروں ڈالر خرچ کیے۔‘

  12. ’ہمیں اس پالیسی کے نفاذ کی تفصیلات کا سمجھنا ہوگا‘

     ایتھلیٹس کی عالمی گورننگ باڈی آئی اے اے ایف نے بھی امریکی صدر کے فیصلہ پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ سنہ 2021 میں دی آئی اے اے ایف ورلڈ چیمپیئن شپس ایگن اور اوریگن میں ہونی ہیں۔ لاس اینجلس کے میئر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں اس پالیسی کے نفاذ کی تفصیلات کا سمجھنا ہوگا تاکہ یہ پتا چلے کہ یہ 2010 میں ہونے والے مقابلوں پر اثر انداز تو نہیں ہوں گی۔‘  

  13. ’یہ پابندی کتنی بے معنی ہے‘

    شامی خاتون بتول شینن جنھوں نے جرمنی سے ایک ہفتے کے دوران امریکہ کا سفر کرنا ہے۔ بتول ایک سائنسدان ہیں اور جلد کے کینسر سے متعلق تحقیق کر رہی ہیں۔ وہ ماضی میں بھی امریکہ میں کام کر چکی ہیں۔

    بتول نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے درخواست دی اور مجھے بی1 - بی2 ویزا مل گیا۔ مجھے آٹھ فروری کو فلیڈیلفیا جانا تھا چھٹیوں پر جہاں میں نے اپنے پرانے ساتھیوں سے ملاقات کرنی تھی۔‘

    ’اب کیا صرف مجھ پر ہی پابندی نہیں لگائی گئی ہے، میں نہیں جانتی کے میں اپنی فلائیٹ کینسل کر سکتی ہوں۔‘

    ’ناانصافی کا خیال بہت برا ہوتا ہے اور یہ پابندی انتہائی بے معنی اور شرمناک ہے۔‘

  14. ’امریکیوں کو بھی عراق سے نکل جانا چاہیے‘

    شیعہ رہنما مقتدىٰ الصدر نے امریکہ کی جانب سے سفری پابندیوں کے ردِعمل میں کہا ہے کہ امریکیوں کو بھی عراق سے نکل جانا چاہیے۔  ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی تکبر والی بات ہو گی کہ اگر آپ خود تو آزادانہ طور پر عراق میں داخل ہوتے ہیں لیکن یہاں کے لوگوں کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ اس لیے آپ بھی اپنے شہریوں کو یہاں سے نکال لیں۔

  15. بریکنگ, پٹیشن پر 15 ہزار سے زائد دستخط

     برطانیہ کی پارلیمان کی ویب سائٹ پر لانچ کی گئی ایک پٹیشن پر 15 ہزار سے زائد دستخط کیے جا چکے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سرکاری دورے پر برطانیہ مدعو نہیں کیا جا نا چاہیئے۔ 

  16. ’یہ افسوسناک اور مایوس کن ہے‘

    ایک گرین کارڈ رکھنے والی خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کی 69 سالہ ایرانی والدہ نے اتوار کو امریکہ کا سفر کرنا تھا۔

    ’انھوں نے گذشتہ سال مئی میں اپلائی کیا تھا، میرے ہاں بیٹے کی پیدائش سے دو ماہ بعد۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ پہلی بار امریکہ آکر ہم سے اور اپنے نواسے سے ملاقات کریں۔ آخر کاردو ہفتے قبل نو ماہ کے طویل انتظار کے بعد انھیں ویزا مل گیا۔‘

    ’ہمارے پاس کل کی ٹکٹ ہے۔ وہ صبح میں پرواز کریں گی اور اسی روز نیو یارک پہنچیں گی۔ ہم ابھی بھی نہیں جانتے، لیکن میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے جو پہلے ہی یہاں سے واپس ہو چکے ہیں۔‘

    ’کیا یہ وہ ملک ہے جہاں آپ رہنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ ملک ہے جو اپنی اقدار سے دور ہو رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتی کہ یہ امریکی ہیں۔ میں نہیں سمجھتی کہ یہ انسان ہیں، یہ غیر اخلاقی ہے۔‘

  17. ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو پناہ گزینوں پر پابندی لگانے کا جواز بنانا ٹھیک نہیں‘

     جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو پناہ گزینوں پر پابندی لگانے کا جواز بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’جرمن چانسلر سمجھتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی خاص پس منظر کے لوگوں کو شک کا مرکز بنانا مناسب نہیں ہے۔ ‘ ترجمان کے مطابق جرمنی کی حکومت سات مسلمان ممالک کے لوگوں اور پناہ گزینوں پر پابندی کو مسترد کرتی ہے اور جرمنی کے دوہری شہریت رکھنے والے افراد پر اس کے اثرات کے حوالے سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔  

  18. ایران کا رد عمل

     ایران کے وزیر خارجہ نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کے یہ فیصلہ ’تاریخ میں انتہا پسندوں اور ان کے حامیوں کے لیے ایک بڑے تحفے کے طور پر دیکھا جائے گا۔‘  

  19. عدالت کے باہر جمع ایک ہجوم نے نعرے لگائے

    امیگرینٹس کے حقوق کی تنظیم آئی آر پروجیکٹ کے ڈپٹی لیگل ڈائریکٹر نے کہا کہ عدالت کے باہر جمع ایک ہجوم نے نعرے لگا کر اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

    انھوں نے کہا کہ خدشہ تھا کہ بعض لوگوں کو ہفتے کے روز جہاز میں بٹھا کر امریکہ بدر کر دیا جائے گا۔

    'مختصر الفاظ میں، جج نے بھانپ لیا کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور جو ہم چاہتے تھے وہ ہمیں دے دیا۔ اور وہ تھا کہ ٹرمپ کے اس حکم کی معطلی اور حکومت کو اجازت نہ دینا کہ ملک بھر میں جو بھی اس حکم کی زد میں آیا ہے، اسے نکال باہر کر دیا جائے۔'