آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ کے صدارتی الیکشن: کب کیا ہوا؟

امریکی صدارتی انتخاب میں سخت مقابلے کے بعد رپبلکن جماعت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹ جماعت کی ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر ملک کے 45ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ابھی تک کوئی غیر متوقع نتیجہ نہیں آیا

    صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج  میں ڈونلڈ ٹرمپ کو روایتی طور پر رپبلکن جماعت کے حق میں ووٹ دینے والی ریاستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان ریاستوں میں انڈیانا، الاباما، کینٹکی، مغربی ورجینیا، اوکلاہوما، ٹینیسی اور جنوبی کیرولائنا شامل ہیں۔

    دوسری جانب ہلیری کلنٹن کو ابتدائی نتائج میں ان ریاستوں میں کامیابی ملی ہے جہاں روایتی طور پر ڈیموکریٹک امیدوار کامیاب ہوتے آیے ہیں۔

    ان ریاستوں میں ورمونٹ، ڈیلاویئر، میری لینڈ، میساچوسٹس اور نیو جرسی شامل ہیں۔

    دو اہم ریاستوں شمالی کیرولائنا اور اوہائیو میں پولنگ ختم ہو چکی ہے جہاں بالترتیب 15 اور 18 الیکٹرول ووٹ ہیں تاہم ابھی تک یہاں سے نتائج آنا شروع نہیں ہوئے ہیں۔

    شمالی کیرولائنا میں رائے منقسم تھی جہاں نئے ووٹرز کا جھکاؤ ہلیری کی جانب جبکہ دیہی علاقوں کے غریب سفید فام ووٹرز ٹرمپ کے حق میں تھے۔

    اوہائیو کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں سخت مقابلہ ہے۔اس ریاست کے بارے میں دلچسپ بات یہ  ہے کہ اس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہمیشہ اس امیدوار کو ووٹ دیا جو بعد میں صدر منتخب ہوا۔

    اس کے علاوہ نظریں ورجینیا پھر بھی ہیں جہاں پولنگ کے بعد کے ابتدائی جائزوں کے مطابق کانٹے کے مقابلہ ہے۔ اس ریاست میں نسلی، صنفی اور تعلیمی لحاظ سے بڑی تقسیم ہے۔

  2. ٹائمز سکوائر میں انتخاب کا رنگ

    نیویارک کے مشہورِ زمانہ ٹائمز سکوائر میں نصب دیوقامت اشتہاری سکرینوں پر بھی الیکشن کے اثرات نمایاں ہیں اور اشتہارات کی جگہ منگل کی شب یہاں نتائج کے اعلانات ہیں۔

  3. ٹرمپ کے حامی ممکنہ فتح کے اعلان پر شاداں

  4. فلوریڈا میں مقابلہ سخت

    فلوریڈا میں اب تک کے نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو معمولی برتری حاصل ہے لیکن ابھی کئی اہم کاؤنٹیوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔

  5. سب نظریں فلوریڈا پر

    29 الیکٹورل ووٹوں والی ریاست فلوریڈا میں فتح دونوں صدارتی امیدواروں کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

    فلوریڈا نے سنہ 2008 اور سنہ 2012 میں ڈیموکریٹ صدر براک اوباما کو منتخب کیا تھا تاہم سنہ 2000 میں یہاں سے رپبلکن امیدوار جارج بش صرف 537 ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔

    اگر ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا اور اوہایو کی ’سوئنگ سٹیٹس‘ میں فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو ان کے صدر بننے کے امکانات بہت کم رہ جائیں گے۔

  6. امریکی صدارتی انتخاب کی کوریج

    امریکہ کے صدارتی انتخابات کی رپورٹنگ کے لیے امریکہ بھر میں بی بی سی کے نامہ نگار موجود ہیں۔

  7. اہم ریاستوں میں پولنگ مکمل

    امریکہ فلوریڈا، پنسلوینیا اور اؤہائیو سمیت کئی اہم اور فیصلہ کن ریاستوں میں پولنگ ختم ہو گئی ہے۔

    ان اتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس انتخاب ووٹروں کا زیادہ ٹرن آؤٹ کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

  8. فلوریڈا سے رپبلکن سینیٹر مارک روبیو کامیاب

    • رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل امیدوار مارکو روبیو فلوریڈا سے امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے ہیں۔
  9. ابتدائی نتائج کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

    • ریاست نیو جرسی میں سنہ 1992 کے انتخابات کے بعد پہلی بار ڈیموکریٹس کو کامیابی ملی ہے۔ 
    • سنہ 2008 میں براک اوباما کو یہاں سے 10 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ٹرمپ کی حمایت کرنے پر ریاست کے گورنر کرس کریسٹی کی مقبولیت میں کافی کمی آئی تھی۔
    • امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی غیر ریاستی شہر ہے اور یہاں سے ہمیشہ ڈیموکریٹس کامیاب ہوئے ہیں۔
    • ریاست میری لینڈ میں ڈیموکریٹس ہی عموماً کامیاب ہوتے ہیں۔
    • مسیسپی میں رپبلکن جماعت کو کامیابی ملتی رہی ہے۔
    • اوکلاہوما رپبلکنز کا مضبوط گڑھ ہے۔
  10. ابتدائی نتائج میں ہلیری کی برتری

  11. سینیٹ کے انتخابی نتائج

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کے علاوہ سینیٹ کے انتخابی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

    ابتدائی نتائج کے مطابق ریاست اوہائیو سے رپبلکن جماعت کے امیدوار باب پورٹمین دوبارہ سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کے ساتھ سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں اور ایوان نمائندگان کی تمام سیٹوں کے لیے انتخاب منعقد ہوا۔ 

  12. امریکی انتخاب کے نتائج

    امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں پولنگ کا وقت مکمل ہو گیا ہے۔

    12 ریاستوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق ہلیری کلنٹن کے الیکٹرول ووٹوں کی تعداد 68 اور ٹرمپ کے 37 ووٹ ہیں۔

    نیو جیرسی، کولمبیا، میری لینڈ، الینوائےمیں ہلیری کلنٹن کامیاب ہوئی ہیں۔

  13. فیس بک انتخاب پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟

    سنہ 2008 کے بعد امریکہ کے ہر انتخاب کے دوران فیس بک اپنے صارفین کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو یہ بتا سکیں کہ انھوں نے ووٹ دیا ہے۔ 

    ایک رپورٹ کے مطابق اس فیچر کی وجہ سے اضافی 340000 ہزار ووٹروں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

    فیس بک کے مطابق امریکہ میں شام سات بجے تک 75 لاکھ افراد نے ’میں نے ووٹ دیا‘ کا فیچر استعمال کیا۔

  14. ٹرمپ کی کامیابی پر جشن

  15. نیویارک سے تازہ ترین اپ ڈیٹس

      امریکی صدارتی انتخاب: نیویارک سے تازہ ترین اپ ڈیٹ برجیش اپادھیے کے ساتھ  

  16. صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج

    امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں پولنگ کا وقت مکمل ہو گیا ہے۔

     تین ریاستوں کے ابتدائی نتائج آنے کے بعد ٹرمپ کے الیکٹرول ووٹوں کی تعداد 19 ہے جبکہ ہلیری کے تین ووٹ ہیں۔

  17. امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں پولنگ ختم

    امریکہ کی چھ مشرقی ریاستوں میں پولنگ کا وقت مکمل ہو گیا ہے۔ اس وقت تجزیہ کاروں کی نظریں ورجینیا پر ہیں۔ فلوریڈا اور پنسلوینیا جیسی اہم ریاستوں میں پولنگ ایک گھنٹے میں ختم ہو جائے گی۔

  18. فائرنگ کے بعد پولنگ سٹیشن بند

    ریاست کیلیفورنیا کے علاقے میں پولنگ سٹیشن کے قریب فائرنگ ہوئی ہے۔ جس کے بعد پولنگ سٹیشن بند کر دیا گیا ہے۔

    سی این این کے مطابق فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دوپر دو بجے کے قریب رہایشی علاقے میں فائرنگ ہوئی۔

    پولیس اہلکار جیری ویلسن نے مقامی روزنامے کو بتایا کہ ’یہ خلاف ورزی ہے اور انتہائی صورتحال ہے۔ علاقے کو بند نہیں کیا گیا۔‘

  19. ہلیری کلنٹن کی ہوٹل آمد

    بی بی سی کی نامہ نگار ریگن مورس کا کہنا ہے کہ ہلیری ہوٹل پہنچ گئی ہیں جہاں وہ رات دیر گئے تک قیام کریں گی۔ یہ ہوٹل ٹرمپ ٹاور کے قریب ہے۔ پولیس نے منہٹن کا کچھ علاقے بند کروا دیا ہے۔

  20. کیا ڈونلڈ ٹرمپ ٹویٹر پر ہیں؟

    بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ بھی اب امریکیوں کی طرح کچھ پریشان ہیں۔