بریکنگ, بٹلر نورکیا کی گیند پر پویلین لوٹ گئے!, انگلینڈ کا سکور: چھ اوورز میں 59/1
جنوبی افریقہ کو ایک انتہائی اہم بریک تھرو مل گیا ہے اور ان فارم اوپنر جاس بٹلر 15 گیندوں پر 26 رنز بنا کر مڈ آف پر کھڑے بووما کے ہاتھوں کیچ ہو گئے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں گروپ ون کے آخری دو میچوں میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کو آٹھ وکٹوں سے جبکہ جنوبی افریقہ نے انگلینڈ کو 10 رنز سے شکست دی لیکن جنوبی افریقہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کر پایا اور اس گروپ سے انگلینڈ اور آسٹریلیا سیمی فائنل میں پہنچ گئے۔
جنوبی افریقہ کو ایک انتہائی اہم بریک تھرو مل گیا ہے اور ان فارم اوپنر جاس بٹلر 15 گیندوں پر 26 رنز بنا کر مڈ آف پر کھڑے بووما کے ہاتھوں کیچ ہو گئے ہیں۔
انگلش اوپنر جیسن رائے ریٹائرڈ ہرٹ ہو چکے ہیں۔انھیں پانچویں اوور کے دوران دائیں ٹانگ میں شدید تکلیف ہوئی تھی، جو ہیمسٹرنگ کا مسئلہ بتائی جا رہی ہے۔
تاہم انگلینڈ کی جانب سے جارحانہ آغاز کے باعث ٹیم کے پچاس رنز مکمل ہو چکے ہیں۔ انگلینڈ کی جانب سے معین علی کو نمبر تین پر بھیجا گیا ہے۔
ربادا کے پہلے اوور میں انگلینڈ نے تین چوکے لگا کر اپنے آغاز کو بہترین بنا دیا ہے۔ ربادا کے اس اوور میں 15 رنز بن چکے ہیں۔
انگلینڈ کے دونوں اوپنرز نے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے خلاف اننگز کا اچھا آغاز کیا ہے۔
دونوں نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ آغاز میں سست آغاز کے باوجود وکٹیں نہ گنوائی جائیں۔
تاہم محتاط آغاز کے بعد جہاں بھی دونوں کو ایسی گیند ملی جس پر باؤنڈری لگائی جا سکے، تو دونوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
یوں تو انگلینڈ کو جنوبی افریقہ کے خلاف جیتنے کے لیے 190 رنز درکار ہیں لیکن اس وقت اصل بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کو انگلینڈ کو 131 رنز سے پہلے روکنا ہے تاکہ وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکیں۔
یعنی جنوبی افریقہ کو 58 رنز سے فتح حاصل کرنی ہو گی۔
اس بڑے ٹوٹل میں جن دو کھلاڑیوں نے سب سے اہم کردار ادا کیا ان میں راسی وینڈر ڈوسن اور ایڈن مارکرم شامل ہیں جن کی نصف سنچریوں کی بدولت جنوبی افریقہ کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔
جنوبی افریقی بلے بازوں نے ٹوٹل کو کھینچ کر 172 تک لے آئے ہیں اور ابھی ایک اوور بھی باقی ہے۔
جارڈن نے اپنے اوور میں اچھی بولنگ کا مظاہرہ کیا لیکن کچھ فیلڈنگ کے مسائل کے باعث جنوبی افریقہ نے 10 رنز بنا لیے۔
اب جنوبی افریقہ 180 سے 190 رنز کے درمیان ٹوٹل بنا سکتا ہے۔
جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 150 رنز مکمل کر دیے ہیں اور اس وقت دونوں ہی بلے باز جارحانہ موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں۔
کرس ووکس کا آخر اوور خاصا مہنگا ثابت ہوا ہے۔ پہلے وینڈر ڈوسن نے انھیں دو چھکے مارے، اور پھر مارکرم بھی انھیں چھکا مار کر اوور مییں 21 رنز وصول کر لیے۔
وینڈر ڈوسن اس وقت وکٹ کو مکمل طور پر سمجھ چکے ہیں اور اب انھوں نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرس ووکس کو دو چھکے مار دیے ہیں۔
آخری پانچ اوورز میں جنوبی افریقہ کی ٹیم جارحانہ انداز اپناتے ہوئے اوور میں زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی کوشش کرے گی۔
اس وقت جنوبی افریقہ کا سکور 118/2 ہے اور انھیں اچھے نیٹ رن ریٹ اور اور اپنے بولرز کو بہتر ٹوٹل فراہم کرنے کے لیے بہتر ٹوٹل دینا ہو گا۔
جنوبی افریقہ بلے بازوں نے اب جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا ہے، وڈ کے پچھلے اوور وینڈر ڈوسن نے آخری گیند پر چھکا مارا تھا، جبکہ عادل رشید کو ایڈن مارکرم نے مڈوکٹ کے اوپر سے چھکا مارا ہے۔
گذشتہ پانچ اوورز میں جنوبی افریقہ نے ایک وکٹ کے نقصان پر 49 رنز بنا لیے ہیں۔
راسی وینڈر ڈوسن نے ایک خطرناک رن لیتے ہی اپنی نصف سنچری مکمل کر لی ہے۔ انھوں نے 37 گیندوں پر نصف سنچری بنائی ہے۔
آغاز میں وکٹ گرنے کے بعد وینڈر ڈوسن اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیے ہیں اور اب انھوں نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ جنوبی افریقہ ایک اچھا ٹوٹل بنانے میں کامیاب ہو جائے۔
کوئنٹن ڈی کاک 34 رنز بنا کر عادل رشید کی گیند پر مڈ آن کے فیلڈر کو کی کیچ دے بیٹھے ہیں۔ 11 اوورز کے بعد اب یہ موقع تھا جب وہ جارحانہ انداز اپناتے، لیکن وہ جارحانہ شاٹ کھیلتے ہوئے باؤنڈری پر کیچ ہو گئے۔
جنوبی افریقہ کے دونوں ہی بلے باز اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ہر اوور میں کم از کم ایک باؤنڈری ضرور لگا رہے ہیں۔
تاہم اب دونوں ہی بلے بازوں کو جارحانہ انداز اپنانا ہو گا، تاکہ جنوبی افریقہ کو ایک اچھے ٹوٹل تک پہنچایا جا سکے۔
دونوں بلے بازوں راسی وینڈر ڈوسن اور ڈی کاک کے درمیان نصف سنچری شراکت مکمل ہو چکی ہے اور دونوں نے جنوبی افریقہ کو ایک اچھی بنیاد ضرور فراہم کر دی ہے۔