بریکنگ, شمسی کی دوسری وکٹ، شمیم حسین بھی آؤٹ
فاسٹ بولرز کی عمدہ بولنگ کے بعد اب تبریض شمسی نے بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے شمیم حسین کو آؤٹ کر دیا ہے۔ یہ ان کی تین اوورز کے دوران دوسری وکٹ تھی۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 30ویں میچ میں آج ابو ظہبی کے میدان میں جنوبی افریقہ نے بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی۔ اب تک بنگلہ دیش اس ورلڈکپ میں کوئی بھی میچ نہیں جیتا جبکہ جنوبی افریقہ اس وقت چھ پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں دوسرے نمبر پر ہے۔
فاسٹ بولرز کی عمدہ بولنگ کے بعد اب تبریض شمسی نے بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے شمیم حسین کو آؤٹ کر دیا ہے۔ یہ ان کی تین اوورز کے دوران دوسری وکٹ تھی۔
آغاز میں ہی تین وکٹیں حاصل کرنے والے کگیسو ربادا اب اپنا آخری اوور کروانے آئے ہیں۔ انھوں نے اپنے اوور میں صرف چھ رنز دیے جن میں ایک وائڈ اور ایک نوبال شامل تھی۔
ربادا نے اپنے چار اوورز میں صرف 20 رنز دیے اور تین کھلاڑی آؤٹ بھی کیے۔
جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولرز نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے دس اوورز میں پانچ آؤٹ کیے تھے۔ تاہم اب سپنرز نے صورتحال اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے نپی تلی گیند بازی جاری رکھی ہوئی ہے۔
شمسی کے دو اوورز میں اب تک صرف پانچ رنز بنے ہیں اور انھوں نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ بھی کیا ہے۔
لٹن داس اب تک دوسرے اینڈ پر کھڑے وکٹیں گرتے دیکھ رہے تھے لیکن اب وہ اگر فاسٹ بولرز سے آؤٹ نہیں ہوئے تو انھیں تبریض شمسی نے آؤٹ کر دیا ہے۔
لٹن داس نے ریویو بھی لیا، لیکن اس کا بھی کوئی فائد نہیں ہوا۔
فاسٹ بولرز تو اپنا کام کر ہی رہے ہیں لیکن اب سپنرز کی باری ہے اور کیشو مہراج نے اپنے تیسرے اوور میں تین رن دیے ہیں۔
کگیسو ربادا نے تین اوورز میں صرف 14 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور یہ یقینی بنا دیا کہ بنگلہ دیش بڑے ہدف تک نہ پہنچ پائے۔
لیکن ان کے بعد پہلے اینرک نورکیا اور پھر ڈوین پریٹوریئس نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور ایک ایک وکٹ لے کر بنگلہ دیشی بیٹنگ کے لیے رنز بنانا دو بھر کر دیا۔
صحافی ٹم وگمور کہتے ہیں کہ کوئی بھی ٹیم ناک آؤٹ میچوں میں اس جنوبی افریقی فاسٹ بولنگ کا مقابلہ نہیں کرنا چاہے گی، خاص طور پر اگر پچ میں ہلکی سے بھی جان ہوئی۔
بنگلہ دیش کی نصف ٹیم پویلین لوٹ چکی ہے اور اب عفیف حسین کو ڈوین پریٹوریئس نے بولڈ کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی بیٹنگ اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے اور اس وقت ایک رن بنانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔
اگر آپ ربادا سے بچ جائیں گے تو نورکیا آپ کو آؤٹ کر دیں گے۔
اس وقت جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر بنگلہ دیشی بلے بازوں پر پوری طرح حاوی ہیں۔ اور پہلے آٹھ اوورز میں چار کھلاڑی پویلین لوٹ چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کی ٹیم پاور پلے میں ایک بار پھر بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ اس مرتبہ ان کا سامنے ربادا سے ہوا ہے جنھوں نے بترین فاسٹ بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔
اب بنگلہ دیش محتاط انداز بھی اپنائے ہوئے ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ اب مزید وکٹیں کھوئے بغیر اچھا ہدف بنایا جائے۔
سات اوورز میں بنگلہ دیش کا رن ریٹ پانچ سے بھی کم ہے اور اسے اس وقت ایک مضبوط شراکت درکار ہے۔
ربادا اس وقت بنگلہ دیشی بلے بازوں پر بھاری پڑتے جا رہے ہیں۔ ان کے اوور کی پہلی دو گیندوں پر کوئی رن نہیں بنا اور پھر تیسری گیند پر انھوں نے مشفیق الرحیم کو پویلین کی راہ دکھا دی۔
یہاں ہمیں جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا بووما کو بھی داد دینی ہو گی جنھوں نے اپنے ربادا کو تیسرا اوور بھی دیا اور گلی میں فیلڈر بھی رکھا۔ مشفیق الرحیم اس گیند کو تھرڈ مین پر بھیجنے چاہتے تھے، لیکن راستے میں ریزا ہینڈرکس نے اسے آسانی سے کیچ کر لیا۔
انرک نورکیا نے اپنے پہلے اوور میں صرف دو رنز دیے ہیں اور ربادا کے پچھلے اوور میں بہترین بولنگ کے باعث بننے والے دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ربادا نے اپنے اوور کی آخری گیند پر سومیا سرکار کو ایل بی ڈبلیو کرتے ہوئے دو گیندوں پر دو وکٹیں حاصل کر لی ہیں۔
یہ وکٹ ایک ریویو کے نتیجے میں حاصل ہوئی، اور سومیا سرکار بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
بنگلہ دیش نے اپنی اننگز کا محتاط آغاز کیا تھا، اور اسے تین اوورز کے اختتام پر صرف 17 رنز ہی بنائے تھے جب ربادا کی گیند پر محمد نعیم نے جارحانہ شاٹ کھیلنے کی کوشش کی اور مڈ وکٹ پر موجود ریزا ہینڈرکس کو کیچ دے بیٹھے۔
محمد نعیم نے 11 گیندوں پر صرف نو رنز بنائے۔
کیشو مہراج بہترین بولنگ کا مظاہرہ کر رہے تھے، لیکن ان کی چوتھی گیند پر ایڈن مارکرم کی مس فیلڈ نے ان کا پورا اوور خراب کر دیا۔ جہاں صرف ایک سنگل بننا تھا، وہاں چار رنز بنے، اور اوور میں آٹھ رنز بن گئے۔
جنوبی افریقہ نے مہراج کے ساتھ دوسری اینڈ سے اپنے سٹار فاسٹ بولر کگیسو ربادا کو بولنگ کا موقع دیا اور ان کا لٹن داس نے آتے ہی ایک خوبصورت کور ڈرائیو سے استقبال کیا۔
تاہم ربادا نے اپنے تجربے کا استعمال کرتے ہوئے باقی اوور میں صرف ایک رن دیا۔ ایسے اوور میں صرف پانچ رنز ہی بنے۔
کیشو مہراج نے اپنے پہلے اوور میں صرف چار رنز دیے ہیں اور وہ ان دونوں اوپنرز کے خلاف اس لیے بہتر آپشن تھے کیوںکہ دونوں کا لیفٹ آرم سپن کے خلاف سٹرائک ریٹ خاصا کم ہے۔