سری لنکا کی اننگز کا پہلا چوکا پریرا کے بلے سے, دو اوورز کا اختتام، سری لنکا کا سکور 11/0
ہیزلوڈ کے پہلے اوور میں پانچ رنز بنے۔ پریرا نے پُل شاٹ پر چار رنز حاصل کیے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 22ویں میچ میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو سات وکٹوں سے شکست دی ہے۔ وارنر کے 65 رنز کی بدولت آسٹریلیا نے 155 رنز کا ہدف 17ویں اوور میں حاصل کر لیا۔
ہیزلوڈ کے پہلے اوور میں پانچ رنز بنے۔ پریرا نے پُل شاٹ پر چار رنز حاصل کیے۔
سٹارک کو پہلے اوور کی تینوں گیندوں پر سوئنگ ملی ہے۔ ایک گیند پر پریرا کی ایج لگی اور انھوں نے دو رنز حاصل کیے۔
تیسری گیند پر پریرا نے جارحانہ شاٹ کھیلنے کی کوشش کی مگر آؤٹ سوئنگ کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔
سری لنکا کی طرف سے اوپنرز پتھم نیسنکا اور کوسال پریرا اننگز کا آغاز کریں گے۔
آسٹریلیا کی طرف سے پہلا اوور مچل سٹارک کرائیں گے۔
گذشتہ میچ کے بعد آسٹریلیا نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ مچل سٹارک، جنھیں گذشتہ میچ کے بعد انجری ہوئی تھی، ٹیم میں موجود ہیں۔
دوسری طرف سری لنکا نے فاسٹ بولر بنورا فرنینڈو کی جگہ آف سپنر مہیش تھیکشنا کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں سری لنکا کے اسلانکا نے پانچ چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 80 رنز کی ناقابل شکست باری کھیل کر اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرایا تھا۔ ان کا ساتھ راجاپکسا نے نصف سنچری بنا کر دیا تھا۔
دوسری طرف جنوبی افریقہ کے خلاف مقابلے میں آسٹریلیا کے بولرز حاوی رہے تھے۔ سٹارک، ہیزلوڈ اور زیمپا نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس میچ میں سمتھ نے 35 رنز بنائے تھے مگر آسٹریلوی اوپنر اور کپتان فنچ صفر پر آؤٹ ہوگئے تھے۔
آسٹریلیا کے شائقین کو اس میچ میں اوپنر ڈیوڈ وارنر سے بھی بہتر کارکردگی کی امید ہوگی۔
ایک ٹویٹ میں عرفان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا بمقابلہ سری لنکا کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ وارنر، فنچ، سمتھ اور میکسویل جیسے آسٹریلوی بلے باز سری لنکن سپنرز کو کیسا کھیلتے ہیں۔
’پچ سپنرز کے لیے زیادہ موثر لگتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آسٹریلیا کے لیے یہاں رنز بنانا آسان نہیں ہوگا۔‘
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ گھٹنے میں چوٹ کی وجہ سے آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل سٹارک یہ میچ نہیں کھیل سکیں گے۔
سابق آسٹریلوی بولر بریڈ ہوگ نے ایک ٹویٹ میں اسے آسٹریلیا کے لیے بڑا دھچکا کہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سٹارک کی عدم شمولیت آسٹریلیا کے لیے بڑا دھچکا ہوسکتا ہے۔ بائیں ہاتھ کا فاسٹ بولر محدود اوورز کے کھیل میں اہمیت رکھتا ہے۔ امید ہے یہ انجری سنجیدہ نہیں ہوگی۔‘
کڑے مقابلے والے گروپ ون میں اس وقت انگلینڈ کی ٹیم دو فتوحات کے ساتھ سرفہرست ہے۔
سری لنکا اور آسٹریلیا نے اپنا ایک، ایک میچ جیتا ہے اور آج کے میچ میں جو ٹیم بھی جیتے گی اس کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکان بڑھ جائیں گے۔
جنوبی افریقہ کو ایک میچ میں جیت اور ایک میں شکست ہوئی ہے۔
جبکہ بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کو اپنے دونوں میچز میں شکست ہوئی اور وہ ٹیبل میں آخر پر ہیں۔
خیال رہے کہ ہر گروپ میں سے صرف دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکیں گی۔
داسن شناکا (کپتان)، شارتھ اسلانکا، دشمنتھا چمیرا، دنیش چندیمال، اکیلا داننجیا، دھاننجیا ڈی سلوا، آوشکا فرنینڈو، بنورا فرنینڈو، وانندو ہسرنگا، چامیکا کارونارتنے، لاہیرو کمارا، پتھم نیسنکا، کوسال پریرا (وکٹ کیپر)، بھنوکا راجاپکسا، مہیش تھیکشنا
ایرون فنچ (کپتان)، ایشٹن ایگر، پیٹ کمنز، جوش ہیزلوڈ، جوش انگلس، مچل مارش، گلین میسکویل، کین رچرڈسن، سٹیو سمتھ، مچل سٹارک، مارکس سٹوئنس، مچل سویپسن، میتھیو ویڈ (وکٹ کیپر)، ڈیوڈ وارنر، ایڈم زیمپا
کرکٹ کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 22ویں میچ میں آج دبئی میں آسٹریلیا اور سری لنکا کی ٹیمیں مدمقابل ہیں۔ گروپ ون کی ان دونوں ٹیموں نے اپنے ابتدائی مقابلے جیت لیے تھے۔
اپنے گذشتہ میچز میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کو پانچ وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کے خلاف آخری اوور میں ہدف کا تعاقب کر لیا تھا۔
آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں آسٹریلیا چھٹے جبکہ سری لنکا نویں نمبر پر ہے۔
اب تک آسٹریلیا نے ٹی ٹوئنٹی کا ورلڈ کپ نہیں جیتا۔ دوسری طرف سری لنکا سنہ 2012 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی فاتح ٹیم تھی۔