بریکنگ, شاداب بھی ایک ہی گیند کے مہمان ثابت ہوئے, پاکستان 77/7
اوشین تھامس نے بھی اپنی دوسری وکٹ حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے شاداب خان کو ان کی پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ شاداب کو ’گولڈن ڈک‘ کی ہزیمت اٹھانی پڑی ہے
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
12ویں کرکٹ ورلڈ کپ میں جمعے کو ناٹنگھم میں کھیلے جانے والے میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو بظاہر ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد سات وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔
ذیشان حیدر، عابد حسین، دانش حسین
اوشین تھامس نے بھی اپنی دوسری وکٹ حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے شاداب خان کو ان کی پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ شاداب کو ’گولڈن ڈک‘ کی ہزیمت اٹھانی پڑی ہے
ویسٹ انڈیز کی حکمت عملی صاف ظاہر ہے۔ شارٹ پچ گیندوں سے انھوں نے پاکستان بلے بازوں کا ناطقہ بند کر دیا ہے۔
ہولڈر نے اوور کی پہلی گیند پر سرفراز کو آؤٹ کیا اور اس کے بعد اوور کی آخری گیند پر عماد وسیم کو کیپر کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔
عماد وسیم صرف ایک رن بنا سکے اور ہولڈر کی تیزی سے منہ پر آتی ہوئی گیند کو سنبھل کر نہ کھیل سکے۔
ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر کی گیند بظاہر سرفراز کے جسم سے لگ کر کیپر شائے ہوپ کے پاس گئی لیکن انھوں نے فوراً اپنے کپتان کو اشارہ کیا کہ دو آوازیں آئی ہیں جس کے نتیجے میں ہولڈر نے ریویو لیا اور تھرڈ امپائر نے ری پلے دیکھ کر فیصلہ دیا کہ گیند سرفراز کے گلوز سے لگ کر گئی ہے۔ سرفراز احمد صرف آٹھ رنز بنا سکے۔
پاکستان کے سابق کرکٹر رمیز راجہ نے بابر اعظم کے آؤٹ ہونے پر کہا ’کوئی تکنیک نہیں، بابر اہم کھلاڑی تھے لیکن اب پاکستان بہت زیادہ مشکل میں پھنس چکا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا ’وہ ایک کلاس کے کھلاڑی ہیں، لیکن جو انھوں نے کیا وہ ضروری نہیں تھا۔ انھیں ایک مستحکم پارٹنرشپ کی ضرورت تھی نہ کہ ویسے ایک شاٹ کی۔‘
ویسٹ انڈیز کی ماضی میں برق رفتار فاسٹ بولرز کے لیے مشہور تھی لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے ان کے پاس کوئی ایسا بولر نہیں آیا۔ لیکن اب 22 سالہ اوشین تھامس نے ایک بار پھر ان امیدوں کو روشن کر دیا ہے کہ وہ ماضی کے عظیم بولرز کا نام روشن کریں گے۔
اب تک نو ایک روزہ میچ کھیلنے والے اوشین کہتے ہیں کہ ان کی بولنگ اتنی تیز ہے کہ ان کے ساتھی آندرے رسل جو دھواں دھار بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں وہ بھی ان کی بولنگ پر تیز شاٹ نہیں مارتے۔
انگلینڈ کے خلاف لگاتار تین میچوں میں تین سو سے زائد رنز بنانے والی ٹیم آج مشکلات سے دوچار ہے۔ نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستانی ٹیم نے اسی میدان میں انگلینڈ کے خلاف 340 رنز اسکور بنائے تھے
وکٹیں گرنے کے ساتھ ہی پاکستان کے رنز بنانے کی شرح میں بھی کمی آ رہی ہے اور اب یہ اوسط پانچ رنز فی اوور سے بھی کم ہو چکی ہے۔ کریز پر محمد حفیظ اور سرفراز احمد موجود ہیں لیکن دونوں سست روی سے کھیل رہے ہیں
پاکستان کی تمام تر امیدیں بابر اعظم سے وابستہ تھیں لیکن وہ بھی 22 رنز بنا کر اوشین تھامس کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ بابر تھامس کی تیز گیند پر بروقت ردعمل دینے میں ناکام رہے اور وکٹ کیپر شائے ہوپ نے ان کا عمدہ کیچ لیا
12 اوورز کے کھیل کے بعد پاکستان کے رنز بنانے کی شرح پانچ رنز فی اوور کے لگ بھگ ہی چل رہی ہے
پاکستان کے لیے اس اننگز میں امید کی کرن بابر اعظم ہی دکھائی دے رہے ہیں جو کہ پراعتماد انداز میں کھیل رہے ہیں۔
بابر اعظم اس سال ون ن ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کے دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں۔ بابر اعظم کے کریئر کی نو سنچریوں میں چار ویسٹ انڈیز کے خلاف ہیں۔
بابر اعظم 11ویں اوور میں آؤٹ ہوتے ہوتے اس وقت بال بال بچے جب بریتھویٹ کی گیند پر شیمون ہیٹمیئر نے پوائنٹ پر ان کا کیچ چھوڑ دیا۔
پاکستانی کپتان سرفراز احمد چوتھے نمبر پر ایک ایسے وقت میں بیٹنگ کے لیے آئے ہیں جب ان کی ٹیم مشکلات کا شکار ہے
پاکستانی ٹیم پہلے ہی پاور پلے میں تین وکٹیں کھو بیٹھی ہے۔ آؤٹ ہونے والے تیسرے بلے باز حارث سہیل تھے جنھیں آندرے رسل نے وکٹوں کے پیچھے کیچ کروایا۔ یہ رسل کی دوسری وکٹ ہے
انگلینڈ کے سابق کرکٹر اینڈریو ملر نے اپنی ٹویٹ میں جنوبی افریقہ کے بلے باز عمران طاہر اور ویسٹ انڈیز کے بولر شیلڈن کوٹرل کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ دونوں کرکٹرز ورلڈ کپ پر اپنا تاثر چھوڑ رہے ہیں۔
پاکستان کی رنز بنانے کی اوسط میں کچھ کمی آئی ہے اور وہ اب پانچ رنز فی اوور سے کچھ زیادہ ہے۔ خیال رہے کہ ناٹنگھم کا میدان بڑے سکورز کے لیے جانا جاتا ہے اور یہاں پانچ رنز کی اوسط کافی نہیں
چوتھے نمبر پر کھیلنے کے لیے پاکستان نے حارث سہیل کو بھیجا ہے جن کی ٹیم میں آصف علی کی شمولیت پر کئی مبصرین کو حیرانی ہوئی ہے۔
حارث سہیل نے اب تک 34 ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور 47 کی اوسط سے 1320 رنز بنائے ہیں۔
پاکستان کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ وکٹیں گرنے کے باوجود کریز پر موجود بلے باز کھل کر سٹروکس کھیل رہے ہیں
ٹرینٹ برج کا میدان انگلینڈ میں بڑے بڑے سکورز کے لیے معروف ہے لیکن اب تک کے کھیل میں دیکھنے میں آیا ہے کہ آؤٹ فیلڈ بہت سست ہے اور گیند کو باؤنڈری تک پہنچانا آسان نہیں