آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔

لائیو کوریج

  1. برطانوی حزب اختلاف کی وزیر اعظم پر تنقید

    برطانوی حزبِ اختلاف کے سربراہ کیر سٹارمر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے قیادت کا فقدان قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دوہا معاہدے میں طے پانے والے امریکی انخلا کے بعد سے کابل پر قبضے کے درمیان اٹھارہ ماہ کا وقت تھا۔ اس دوران آٹھ ہزار میں سے صرف دو ہزار افغانوں کو برطانیہ لایا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ان کے انخلا کے لیے محفوظ راستے کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی اور برطانوی وزیر اعظم نے بورس جانسن نے جی سیون کا اجلاس کابل پر قبضہ ہونے کے بعد ہی طلب کیا۔ برطانوی وزیر اعظم نے جواب میں ملک کی افواج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مقررہ حد سے دوگنی تعداد میں لوگوں کو وہاں سے نکالا۔

  2. ’افغانستان کے اندر جو بھی ہو رہا ہے اس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں‘

  3. ہم طالبان کو ان کے اقدامات سے جانچیں گے الفاظ سے نہیں: بورس جانسن

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اس وقت پارلیمینٹ میں موجود ہیں اور افغانستان کے حوالے سے بیان دے رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ برطانیہ طالبان کو ان کے اقدامات سے جانچیں گے ان کے الفاظ سے نہیں۔

    انھوں نے اپنے بیان میں کابل سے انخلا کی کوششوں کی تعریف کی جو کہ ایئر پورٹ ہر حملے جس میں 170 افراد ہلاک ہوئے کے بعد بھی جاری رہا۔

    بورس جانسن نے کہا کہ برطانوی حکومت نے افغانستان میں فوج سے فارغ ہونے والوں کی ذہنی صحت کے لیے 30 لاکھ پاؤنڈ امداد اور فوج کی مدد کے لیے 50 لاکھ فنڈ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    انھوں نے برطانیہ میں آنے والے افغانوں کی مدد کے اعلان کو بھی دوہرایا۔

  4. ایران افغانستان کا مسئلہ

    طالبان کے ساتھ نمٹنا ایران کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ طالبان کو بطور امریکہ مخالف فورس دیکھتے ہوئے ایران نے اس سے تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ بہت سی رپورٹس کے مطابق طالبان کو ایران سے فوجی اور معاشی مدد ملی ہے۔ طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے سے پہلے متعدد بار ایرانیوں نے ان کا خیر مقدم کیا ہے اور ان کی افغانستان کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی پر ان خوشی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس کے دوسری جانب سنی نظریات کے حامل طالبان ایران کی شیعہ مذہبی اسٹیبلشمنٹ سے واضح طور پر مختلف ہیں ہے۔

    طالبان کو بطور امریکہ مخالف فورس دیکھتے ہوئے ایران نے اس سے تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ بہت سی رپورٹس کے مطابق طالبان کو ایران سے فوجی اور معاشی مدد ملی ہے۔ طالبان کی جانب سے کابل کا کنٹرول سنبھالنے سے پہلے متعدد بار ایرانیوں نے ان کا خیر مقدم کیا ہے اور ان کی افغانستان کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی پر ان خوشی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس کے دوسری جانب سنی نظریات کے حامل طالبان ایران کی شیعہ مذہبی اسٹیبلشمنٹ سے واضح طور پر مختلف ہیں۔

    جب طالبان نے 1998 میں شمالی افغانستان میں بلخ صوبے کا کنٹرول سنبھالا تو ان پر آٹھ ایرانی سفاررتکاروں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ اس وقت، طالبان سینکڑوں کی تعداد میں شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے ذمہ دار تھے اور ایران طالبان انتظامیہ کے ساتھ جنگ کے دہانے پر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو ایسے بہت سے طالبان مخالف سیاسی اتحادیوں کا ساتھ حاصل رہا ہے جو کہ وادی پنجشیر میں طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

    طالبان کا وادیِ پنجشیر میں آپریشن وہ پہلا ایسا موقعہ تھا جب ایران نے حالیہ برسوں میں ان کی عوامی سطح پر مزمت کی۔ یہ اس باات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ ایران طالبان سے نمٹنے کے موضوع پر کسی فیصلے پر تا حال نہیں پہنچا۔ کیا وہ طالبان کے معاملے پر حقیقت پسندانہ رویہ استعمال کرتے ہوئے یہ تسلیم کریں گے وہ خطے کی ایک اہم طاقت ہیں۔ یا پھر افغانستان میں شیعہ انتظامیہ کے خلاف اس بنیادی طاقت پر تنقید کریں۔ ایک ایسی انتطامیہ جو کہ افغانستان میں بہت عرصے سے کام کر رہی ہے۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ طالبان کو خطے میں پڑوسی ممالک سے نمٹنے میں مختلف چیلینجز کا سامنا ہوگا اور انھیں حکومت کی تشکیل کے دوران مختلف نظریے سے دیکھا جائے گا۔

  5. ہم افغانستان میں واپس جائیں گے: لنڈسے گراہم

    امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا کہنا ہے کہ ہم افغانستان واپس جائیں گے۔ امریکی ریپبلکن پارٹی کے اہم رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ امریکی فوجی مستقبل میں ’افغانستان واپس جائیں گے’۔

    بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ہمیں یہ کرنا پڑے گا کیونکہ (دہشت گردی) کا بہت بڑا خطرہ ہوگا۔

    امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ ’طالبان دور حاضر کے تقاضوں کے خلاف ہیں وہ افغان لوگوں پر ایک ایسی حکومت کا تسلط کریں گے جو ہمارے لیے تکلیف کا باعث ہوگی مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ القاعدہ کو محفوظ مقامات مہیا کریں گے جن کا مشن ہے کہ ہمیں مشرق وسطی سے نکال باہر کریں اور وہ ہم پر اس لیے حملہ کریں گے کیونکہ انھیں ہمارا طرز زندگی پسند نھیں۔

  6. پنجشیر کی مزاحمتی فورس کے فہیم دشتی کی ایبٹ آباد میں گزرے دنوں کی یادیں

  7. مزار شریف میں خواتین کا احتجاجی مارچ: ’طالبان نے صحافیوں کو دھمکیاں دیں اور کچھ کو مارا پیٹا‘

    شمالی افغانستان کے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں خواتین کے ایک گروپ نے آج (6 ستمبر) کو اپنے حقوق اور آزادی کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی۔

    مظاہرین نے بلخ کی صوبائی انتظامیہ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ طالبان اپنی حکومت میں افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔

    ریلی کے شرکا میں سے ایک نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اگرچہ مارچ پرامن تھا، طالبان کے ارکان نے انھیں اور صحافیوں کو مارنے کی دھمکیاں دیں:

    ’انھوں نے ہمیں لعن طعن کی اور کہا کہ ہمیں جلدی سے منتشر ہونا چاہیے، ورنہ ہم آپ کو مار دیں گے۔ انھوں نے ہمارے ساتھ اسی راستے پر چلتے ہوئے دوبارہ دھمکی دی کہ اگر آپ نے فلم بنائی تو ہم آپ کے سیل فون توڑ دیں گے اور آپ کو جان سے مار دیں گے۔‘

    بی بی سی فارسی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں طالبان کی جانب سے صحافیوں کو بندوق اٹھائے دھمکی دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ایک اور عینی شاہد نے بی بی سی فارسی کو بتایا ’طالبان فورسز نے صحافیوں کو دھمکیاں دیں اور ان میں سے کچھ کو مارا پیٹا۔‘

    ان کے مطابق طالبان فورسز نے رپورٹرز کے کیمروں کی تصاویر بھی چیک کیں۔

  8. بریکنگ, احمد مسعود کی افغان عوام سے طالبان کے خلاف ملگ گیر قومی بغاوت شروع کرنے کی اپیل

    افغانستان میں قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود نے اپنے فیس بک پیج پر ایک تازہ آڈیو پیغام میں افغان عوام سے کہا ہے کہ وہ پورے افغانستان میں طالبان کے خلاف ملگ گیر قومی بغاوت شروع کریں۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ مزاحمتی محاذ کی فوجیں تاحال پنجشیر میں ہیں اور طالبان کے خلاف لڑرہی ہیں۔

    احمد مسعود نے طالبان پر الزام لگایا کہ اُن کے جنگجووں نے پنجشیر کے مقامی علما کے کہنے پر جنگ روک دی تھی لیکن طالبان جنگجووں نے وعدے کی خلاف ورزی کی اور جنگ جاری رکھی۔

    احمد مسعود کے مطابق اتوار کو طالبان کے ساتھ لڑائی میں اُن کے خاندان کے کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے۔

    تاہم انھوں نے طالبان کے پنجشیر پر مکمل قبضے کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مزاحتمی فوجیں تاحال پنجشیر کے سڑیٹجک حصے میں موجود ہیں۔

    اپنےپیغام میں احمد مسعود نے بین الاقوامی برادری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ طالبان کو عسکری اور سیاسی طور پر مضبوط اور زیادہ مضبوط ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    لیکن ان کا کہنا ہے کہ طالبان تبدیل نہیں ہوئے اور پہلے سے زیادہ شدت پسند ہیں۔

    مسعود نے کہا کہ تاریخ اپنا فیصلہ خود کرے گی اور معلوم ہوگا کہ کون سے ممالک افغانوں کے حقیقی دوست ہیں۔

    احمد مسعود نے کہا ، ’جو لوگ اس وقت طالبان اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ خود کو، اپنے خاندانوں کو، ان کے مستقبل اور آخرت کو تباہ کر رہے ہیں۔‘

    اس نے کسی کا نام نہیں لیا ، لیکن ان سے کہا کہ وہ ترمیم کریں اور افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔

    مسعود نے یہ کہہ کر اختتام کیا کہ قومی مزاحمتی محاذ جلد ہی اپنے نئے ترجمان کا اعلان کرے گا اور جدوجہد جاری رہے گی۔

    گروپ کے سابق ترجمان فہیم دشتی اتوار کو پنجشیر میں طالبان کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

  9. طالبان میں اختلافات نہیں، حکومت سازی میں تاخیر کی وجوہات تکنیکی ہیں: ذبیح اللہ مجاہد

    کابل میں پریس کانفرنس کے دوران طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حکومت بننے کے بعد خواتین کو صحیح وقت پر احتجاج کرنے اور کسی ایسے شخص کے سامنے آواز اٹھانے کا حق ہے جو انھیں جوابدہ ہو۔‘

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے افغان آئین پر کام کر رہے ہیں جو اسلامی ہو اور سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

    طالبان کے ترجمان نے کہا کہ طالبان کے اندر کوئی اختلافات نہیں ہیں، تکنیکی وجوہات پر حکومت سازی میں تاخیر ہو رہی ہے

    طالبان کابل شہر میں لوٹ مار، چوری اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو پکڑ رہے ہیں اور ان کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پنجشیر میں بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ افعانستان کو واپس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں لیکن امارات اسلامی اس کی بالکل اجازت نہیں دے گی۔

  10. مزار شریف سے نکلنے کے لیے ہزار سے زائد افراد فلائٹ کلیئرنس کے منتظر ہیں

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لوگوں کے لیے سفری سہولیات کا انتظام کرنے والے ایک شخص (حفاظت کی غرض سے شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی) نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پر تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ کئی دنوں سے فلائٹس کلیئرنس کے انتظار میں امریکیوں سمیت تقریباً 1000 افراد افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    منتظم کے مطابق محکمہ خارجہ طالبان کو شمالی شہر مزار شریف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پروازوں کی روانگی کے لیے اپنی منظوری یا لینڈنگ سائٹ کی توثیق کے متعلق بتانے میں ناکام رہا ہے۔

    منتظم کا کہنا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

    روئٹرز کا کہنا ہے کہ وہ منتظم کے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

  11. کیا طالبان افغان شہریوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟

    بی بی سی نے اقوامِ متحدہ کی دستاویزات دیکھی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ طالبان ان لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جنھوں نے امریکی اور نیٹو فوج کے ساتھ کام کیا یا کسی بھی حیثیت میں ان کا ساتھ دیا۔

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی فوج اور افغان حکومت کی طرف سے کثیر تعداد میں جمع گیا بائیومیٹرک ڈیٹا ان لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    بائیو میٹرک ڈیٹا میں عموماً لوگوں کی انگلیوں کے نشانات اور ان کی تصاویر شامل ہوتی ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس فرسٹ کے سینیئر ایڈوائزر برائن ڈولے نے بی بی سی ’ٹیک اینڈ ٹینٹ‘ پوڈکاسٹ کو بتایا کہ اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں لیکنخیال یہی ہے کہ یہ کثیر ڈیٹا یا تو طالبان کے ہاتھ میں آ گیا ہے یا پھر آنے والا ہے۔

    • طالبان کے اقتدار میں آنے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟, جیمز لینڈیل، سفارتی نامہ نگار

      کچھ مغربی ممالک کو یہ امید ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پر اثر و رسوخ استعمال کیا جا سکے گا۔ ان ممالک کو یہ امید بھی ہے کہ پاکستان اس حوالے سے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

      پاکستان کا افغانستان کے ساتھ منفرد نوعیت کے تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ 2570 کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اہم کاروباری شراکت داری بھی ہیں۔ ان میں کئی ثقافتی، لسانی اور مذہبی روابط پائے جاتے ہیں۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک بار دونوں ممالک کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دو ایسے بھائیوں کی طرح ہیں جنھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

      مگر کچھ ممالک جو اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات پر بحال کرنے کے منتظر ہیں ان میں اس حوالے سے منقسم رائے پائی جاتی ہے۔

      کچھ کے نزدیک پاکستان ’جہادی دہشتگردی‘ کے خلاف جنگ میں کوئی مضبوط اتحادی ثابت نہیں ہوا ہے۔ امریکہ سمیت کچھ دیگر ممالک طویل عرصے سے پاکستان پر یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ یہ ملک طالبان کی مدد کرتا ہے۔ تاہم پاکستان اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

      ابھی مغربی ممالک یہ چاہتے ہیں کہ طالبان ان کے شہریوں کا افغانستان سے محفوط انخلا یقینی بنائے، انسانی بنیاد پر دی جانے والی امداد کے رستے کھول دے اور بہتر انداز میں نظام حکومت چلائے۔

    • صوبہ لوگر میں عمارتوں پر گولیوں کے نشان اور زیرِ زمین موجود ذخائر, ملک مدثر - بی بی سی لوگر

      صبح سات بجے ہم کابل سے افغانستان کے صوبہ لوگر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس بار ماضی کے برعکس ہماری میزبانی یا رہنمائی طالبان نے کرنا تھی۔

      راستے میں تین چار مقام پر طالبان کے چیک پوسٹ تھے۔ ایک چیک پوائنٹ پر گزرتے ہوئے ایک طالب کی نظر میرے کیمرے پر پڑی تو اس نے چیخ کر کہا کہ ’کیمرہ کہاں لے کر جا رہے ہوں‘ لیکن اتنی دیر میں ہم چیک پوسٹ پار کر چکے تھے۔

      لوگر افغانستان کے جنوب مشرق میں واقع ہے جہاں جانے کے لیے چمن حضوری اور جادئے میوند سے گزرنا ہوتا ہے۔

      لوگر کے دارالحکومت پل عالم پہنچنے پر ہم کلچر اور اطلاعات کے دفتر گئے۔ وہاں دیوار پر لگے پینا فلکس پر تاریخی شخصیات کی تصاویر بھی تھیں لیکن ایک تصویر پر سفید کاغذ تھا۔

    • طالبان کے زیرِ کنٹرول ہرات میں زندگی اب کیسی ہے؟

      ہرات آبادی کے لحاظ سے افغانستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ بی بی سی نے ہرات کے شہریوں سے پوچھا کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول اس شہر میں اب زندگی کیسی ہے؟

    • طالبان پر خاتون پولیس اہلکار کو گھر میں گھس کر قتل کرنے کا الزام

      افغانستان کے صوبہ غور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت فیروز کوہ میں مبینہ طور پر طالبان نے ایک خاتون پولیس اہلکار کو اس کے گھر میں گھس کر گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

      اس واقعے کے متعلق بانو نگار نامی خاتون کے رشتے داروں نے بی بی سی کو بتایا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کے عینی شاہد ہیں۔

      یہ قتل افغانستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ مظالم کی اطلاعات کے درمیان ہوا ہے۔

      بی بی سی نے طالبان حکام سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

      طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس واقعے کا علم ہے اور میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ طالبان نے اس خاتون کو قتل نہیں کیا۔ ہماری تحقیقات جاری ہیں۔‘

      ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان نے پہلے ہی سابق حکومت کے لیے کام کرنے والے افراد کو معافی دینے کا اعلان کر دیا ہے اور ممکن ہے کہ نگار کا قتل ’ذاتی دشمنی یا کسی دیگر وجہ سے ہوا ہو۔‘

      اس واقعے کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں کیونکہ فیروزکوہ میں کچھ لوگوں کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر انھوں نے اس بارے میں بات کی تو ان کے خلاف انتقامی کارروائی ہو سکتی ہے۔

    • طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ کی تردید

      طالبان نے افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

      طالبان ترجمان ذبیح االلہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجشیر میں دشمن کے مکمل علاقے پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور پوری وادی طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

      دوسری جانب قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔

      ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں قومی مزاحمتی اتحاد کا کہنا ہے کہ این آر ایف فورسز لڑائی جاری رکھنے کے لیے وادی بھر میں تمام سٹریٹجک پوزیشنوں پر موجود ہیں۔ ہم افغانستان کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان اور ان کے شراکت داروں کے خلاف جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف اور آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔

      تاہم بی بی سی آزادانہ طور دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

      سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز میں طالبان جنگجوؤں کو پنجشیر کے گورنر ہاؤس (مقامِ ولایت) کے باہر سلفیاں لیتے اور امارت اسلامیہ کا سفید اور سیاہ جھنڈا لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

      کلچرل کمیشن، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف احمد اللہ متقی نے بھی گورنر ہاؤس کے باہر کھڑے طالبان کی تصویر شئیر کی ہے۔

    • بریکنگ, جنرل فیض حمید کی ملا برادر سے ملاقات، ’افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی‘

      طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی قیادت میں جس وفد نے اختتامِ ہفتہ پر کابل کا دورہ کیا تھا اسے اس بات کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ طالبان افغان سرزمین سے پاکستان میں کوئی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔

      بی بی سی کے ملک مدثر کے مطابق جنرل فیض حمید کے دورہ کابل کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ انھوں نے طالبان رہنما ملا برادر سے ملاقات کی ہے۔

      انھوں نے بتایا کہ ’کل آنے والے وفد کے خدشات ڈیورنڈ لائن کی حفاظت اور جیلوں سے بھاگنے والے قیدیوں سے متعلق تھے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرکے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

      طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے انھیں تسلی کروائی ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔

      ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان سے سرحد پار کرنے کے خواہشمند افغانوں کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

      ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’سرحد پر ہمارے لوگوں کو روکا ہوا ہے اور تجارت نہیں ہونے دی جا رہی‘۔

      ’ہم نے کل آنے والے پاکستانی وفد سے بات کی ہے کہ ہمارے لوگوں کو آنے جانے کی سہولت فراہم کریں تاکہ آرام سے تجارت ممکن ہو سکے۔‘

      خیال رہے کہ پاکستان کہہ چکا ہے کہ وہ کسی افغان پناہ گزین کو قبول نہیں کرے گا اور سرحد پار کرنے کے لیے ویزا لازمی ہے۔

    • طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ

      ذبیح االلہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجشیر میں دشمن کے مکمل علاقے پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور پوری وادی طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

      انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبان نے افغانستان کے تمام جنگی سازو سامان پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

      ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان اس ملک میں کہیں پر بھی کسی بھی طرح کی جنگ نہیں چاہتے لیکن کچھ لوگ کابل سے فرار ہو گئے اور بیت المال کے اسلحے کو استمعال کرتے ہوئے حکومت اور لوگوں کے لیے سردرد بنے۔

      ’ہم افغانستان کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ متحد رہیں اور دوبارہ ایسے حالات نہ بننے دیں۔‘

    • افغانستان کی تازہ صورتحال

      بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے حوالے سے ہماری کوریج جاری ہے اور یہاں آپ کو اس اہم خبر سے جڑی تازہ ترین معلومات، خبریں اور تجزیے ملیں گے۔

      اب تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

      • طالبان کے ترجمان ذبیح االلہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبہ پنجشیر پر مکمل طور پر طالبان نے قبضہ کر لیا گیا ہے۔
      • شمالی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے
      • طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کے اندورنی اختلافات کے باعث حکومت سازی کی خبریں بے بنیاد ہے۔
      • ذبیح اللہ نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد از جلد حکومت کا اعلان کیا جائے گا۔

      گذشتہ ہفتے کیا کیا ہوا؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

    • کیا 111 سالہ بڑھیا کی کہانی نے بابر کو ہندوستان کی فتح کا خواب دکھایا؟