آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی تنبیہ

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عبوری حکومت کے قیام سے افغانستان میں استحکام لایا جاسکے گا۔

لائیو کوریج

  1. ’ترکی طالبان حکومت تسلیم کرنے میں جلد بازی نہیں کرے گا‘

    ترکی کے وزیرِ خارجہ میولوت چاواشولو نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کو طالبان حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور دنیا کو بھی اس حوالے سے جلدی نہیں ہونی چاہیے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے اور ترکی مختلف عوامل کی بنا پر یہ فیصلہ لے گا۔

    ترک ٹی وی چینل این ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ترکی طالبان کے ساتھ بتدریج تعلقات بڑھائے گا۔

    اُنھوں نے کہا: ’ہمیں اُمید ہے کہ افغانستان میں نوبت خانہ جنگی تک نہیں پہنچے گی۔ اس وقت وہاں معاشی بحران اور قحط کی سی صورتحال ہے اور ہم قطر اور امریکہ سے کابل ایئرپورٹ کے متعلق بات چیت کر رہے ہیں۔‘

    میولوت چاواشولو نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کو تمام گروہوں کی نمائندہ حکومت ہونا چاہیے اور اگر اس میں صرف طالبان ہوئے تو پھر اُن کے مطابق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    ’طالبان کے لیے خانہ جنگی سے بہتر یہ ہوگا کہ وہ تمام دھڑوں کی نمائندہ حکومت بنائیں کیونکہ اسے پوری دنیا قبول کرے گی۔ افغان خواتین کو بھی حکومت میں ذمہ داری دی جانی چاہیے۔‘

  2. سراج الدین حقانی کی واحد تصویر جو پاکستانی گلوکارہ کے کیسٹ کور میں ’سمگل‘ کی گئی

  3. کابل ڈائری: طالبان کے امیر آخر ہیں کہاں؟

  4. طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے نئی کابینہ مسترد کر دی

    افغانستان میں طالبان مخالف قوتوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ منگل کو طالبان کی اعلان کردہ نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں۔

    اُنھوں نے کہا کہ طالبان اور اُن کے ساتھیوں کی صرف مردوں پر مشتمل کابینہ ’غیر قانونی‘ ہے۔

    قومی مزاحمتی محاذ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے نگراں کابینہ کے اعلان کو ’گروپ کی افغان عوام کے ساتھ دشمنی کی کھلی علامت‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکہ نے اپنی افواج پر حملوں سے منسلک افراد کی کابینہ میں شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ یورپی یونین نے کہا ہے کہ طالبان نے تمام دھڑوں کی نمائندہ حکومت بنانے کے وعدے کو توڑا ہے۔

    بدھ کو کابل میں اور صوبہ بدخشاں میں درجنوں خواتین نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کی نمائندگی کے بغیر کوئی حکومت قبول نہیں کریں گی۔

    طالبان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے مظاہروں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا ہے تاہم اُنھوں نے کہا کہ مظاہرین کو اجازت لینی ہوگی اور غلط زبان استعمال کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

  5. قطر نے فوری طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟

    قطر کا کہنا ہے کہ طالبان نے عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے اور انھیں افغانستان کے غیر متنازع حکمرانوں کے طور پر ان کے اقدامات سے جانچا جائے۔

    قطر کی نائب وزیر خارجہ لولوۃ الخاطر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو میں بتایا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ افغان نے کرنا ہے بین الاقوامی برادری نے نہیں۔

    قطر کی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بات پر کوئی سوال نہیں کہ طالبان ڈی فیکٹو حکمران ہیں۔

    ان کا یہ انٹرویو طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان سے پہلے دیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ بہت سے بے گھر افراد کابل چھوڑنے میں کامیاب ہوئے، بشمول بہت سی طالبات۔ یہ اس (عملیت پسندی کا عکاس) ہے کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ہماری جانب سے کی جانے والی ثالثی پر سوال اٹھا رہے تھے مگر اب ہم اس کو اصل امتحان کے طور پر چھوڑ رہے ہیں اور اب پوری دنیا ہماری جانب دیکھ رہی ہے کہ ہم مدد کریں اور ثالثی کریں۔

    لولوۃ الخاطر نے بتایا کہ اگر طالبان انسانی حقوق کی، عورتوں کے حقوق اور خاص طور پر عورتوں کی تعلیم کا احترام کریں گے تو اس کا فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اس کے نتائج ہوں گے۔

    وہ کہتی ہیں کہ زمین پر لاجسٹکس میں مشکلات کے باوجود امید ہے کہ امداد کی کوششیں بحال ہوں گی۔ اس ضمن میں انھوں نے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے زیادہ سے زیادہ کردار کی اہمیت پر بھی بات کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کو سیاست کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور امدادی اور ترقیاتی امور میں مدد فراہم کرنی چاہیے۔

  6. شاہ محمود قریشی کی صدارت میں افغانستان کی صورتحال پر پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جاری

    پاکستان کی دعوت پر افغانستان کے پڑوسی ملکوں کے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس ابھی جاری ہے جس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

    ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

    اجلاس میں چین، ایران،تاجکستان، ترکمانستان اورازبکستان کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔اجلاس میں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے مشترکہ چیلنجوں کے حل اور خطے میں استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو پرامن اور مستحکم افغانستان کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کا ایک موقع فراہم کیا جائے گا جو مستحکم معاشی روابط کے لیے ناگزیر ہے۔

  7. کابل میں طالبان کا خواتین مظاہرین پر تشدد

    گذشتہ روز کی مانند ایک بار پھر کابل میں خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ کابل میں سکیورٹی پر موجود طالبان اہلکاروں نے اپنے ہاتھ میں موجود بیلٹس ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے خواتین کو ماریں۔ اس ویڈیو میں وہ منظر دیکھا جا سکتا ہے جسے صحافی ذکی دریابی نے ٹوئٹر پر اپ لوڈ کیا ہے۔

  8. کابل احتجاج میں فائرنگ: ’ہماری آواز تاریخ بدلے گی‘

    کابل میں منگل کے روز سینکڑوں لوگ سڑکوں پر خواتین کے حقوق اور طالبان کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے نکلے۔ مظاہرین پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ پاکستان طالبان کی حمایت کرتا ہے۔

    جائے وقوعہ کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان نے اس بڑے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے شدید فائرنگ کی۔ ویڈیو: سکندر کرمانی، ملک مدثر

  9. ’مبارک ہو، طالبان کی حکومت میں صرف مرد، ملا اور طالب شامل ہیں‘

  10. ایران کے سکیورٹی چیف کی جانب سے افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر تشویش, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران میں اعلی سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ ایران میں طالبان کی جانب سے جامع حکومت کی تشکیل میں ناکامی اور بیرونی مداخلت تشویش کا باعث ہیں۔

    ایران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغان حکام کو امن اور استحکام کو ہر چیز سے بالا رکھنا چاہیے۔

    انھوں نے لکھا کہ افغان عوام کے دوستوں کے بنیادی تحفظات یہ ہیں کہ وہاں جامع حکومت کی ضرورت کو نظر انداز کیا تپا، بیرونی مداخلت اور بہت سے سماجی اور نسلی گروہوں کی جنب سے مذاکرات کے ذریعے مطالبات کو پورا کرنے کے بجائے ہتیھاروں کا استعمال کیا گیا۔

    ان کی جانب سے یہ بیان طالبان کی نئی عبوری حکومت کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

    شامخانی بظاہر طالبان کے پنجشیر میں قبضے پر بھی تنقید کرتے دکھائی دیے۔

    یاشد رہے کہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ پنجشیر پر انھوں نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے جب مزاحمتی فورسز جن کی قیادت احمد مسعود کر رہے ہیں نے طالبان کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی جانب سے طالبان کی مدد سے متعلق رپورٹس پر نظر رکھے ہوئے ہے تاہم طالبان نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے۔

  11. چین نئی افغان حکومت سے رابطے برقرار رکھنے کے لیے تیار

    چین نے کہا ہے کہ افغانستان میں عبوری حکومت امن و امان اور جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے ایک ضروری قدم ہے اور وہ افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے وانگ وینبن نے یہ بات بیجنگ میں معمول کی پریس کانفرنس کے دوران پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

    ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا چین افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرے گا۔

    خیال رہے کہ نئی افغان حکومت میں ایسے افغان رہنما بھی شامل ہیں جو امریکہ کی دہشت گردوں سے متعلق فہرشت میں موجود ہیں۔

    چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان کی سالمیت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔

    جب طالبان نے اگست میں افغانستان پر قبضہ کیا تو اس نے کہا تھا کہ وہاں کھلی اور جامع حکومت کا قیام ہونا چاہیے۔

    وانگ وینبن نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان کے نئے حکام تمام نسلوں اور گروہوں کے لوگوں کی بات سنیں گے تاکہ اپنے لوگوں کی خواہشات اور بین الاقوامی برادری کی توقعات پر پورے اتر سکیں۔

  12. کابل میں احتجاج کے ساتھ ایک نئے دن کا آغاز

    درجنوں خواتین بدھ کابل کی گلیوں میں احتجاج کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    یہ احتجاج کابل میں گذشتہ شام طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے اعلان کے بعد کیا جا رہا ہے جس میں خواتین کو نمائیندگی نہیں دی گئی۔

    کُ خواتین نے اس حاملہ خاتون پولیس اہلکار کی تصویر اٹھا رکھی تھی جسے گذشتہ ہفتے صوبہ گور می ہلاک کیا گیا تھا۔

    اطلاعات ہیں کہ ہرات میں ہونے والے مظاہرے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ کابل میں ایتلا اطروز نامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے ان رپورٹرز کو گرفتار کیا گیا جو مظاہرے کی کوریج کر رہے تھے۔

    صحافی سید حسن نے ٹویٹ پر اپنی پوسٹ میں خواتین کے اس گروہ کی تصویر لی ہے جنھوں نے آج پھر کابل میں اپنے احتجاج کا آغاز کیا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ کابل کی گلیوں میں شروع ہونے والے اس احتجاج میں خواتین نے جو پے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان میں سے ایک پر لکھا تھا میں پھر آزادی کے نغمے گاؤں گی ، بار بار۔

  13. عبوری کابینہ میں شامل گوانتنامو بے میں قید رہنے والے ’طالبان فائیو‘ کون ہیں؟

    اس کے علاوہ اس عبوری کابینہ میں ’طالبان فائیو‘ کے نام سے ایسے رہنما شامل ہیں جو بدنام زمانہ جیل گوانتانامو بے میں قید رہ چکے ہیں۔

    ان میں ملا محمد فاضل، خیراللہ خیر خواہ، ملا نور اللہ نوری، ملا عبدالحق واثق، اور محمد نبی عمری شامل ہیں۔ اگرچہ اس کابینہ کے علاوہ بھی ایسے طالبان رہنما موجود ہیں جو گوانتانامو یا افغانستان کی مختلف جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔

    ان میں ملا خیر اللہ خیر خواہ کو وزارت اطلاعات اور براڈکاسٹ، نوراللہ نوری کو سرحد اور قبائلی علاقہ جات، عبدالحق واثق انٹیلیجنس کے سربراہ، ملا محمد فاضل وزارت دفاع میں نائب وزیر ہوں گے۔

  14. طالبان عبوری حکومت کے کم سے کم 14 اراکین اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں

    گذشتہ روز طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کا اعلان کیا گیا تھا اور کابینہ کے 27 عہدیداروں کی فہرست بھی جاری کی گئی تھی۔

    اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے دہشتگردوں کی ایک بلیک لسٹ موجود ہے جس میں ایسے افراد شامل ہیں جو عالمی طور پر مطلوب ہیں۔ اس فہرست میں ان ناموں کو ڈھونڈنے پر معلوم ہوا کہ 27 میں سے نئی افغان کابینہ کے کم سے کم 14 اراکین اقوامِ متحدہ کی دہشتگردوں کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ تاہم یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

    ذیل فہرست میں ان 14 افراد اور موجودہ عبوری حکومت میں ان کے عہدے درج ہیں:

    • ملا محمد حسن اخوند، وزیرِ اعظم
    • ملا عبدالغنی برادر، نائب وزیرِ اعظم
    • مولوی عبدالسلام حنفی، نائب وزیرِ اعظم
    • مولوی محمد یعقوب مجاہد، دفاع
    • ملّا سراج الدین حقانی، داخلہ
    • امیر خان متقی، خارجہ
    • ملّا عبداللطیف منصور، پانی و بجلی
    • نجیب اللہ حقانی، برقی مواصلات
    • خلیل الرحمان حقانی، پناہ گزین افراد
    • عبدالحق وثیق، انٹیلیجنس
    • قاری دین محمد حنیف، اقتصادیات
    • نوراللہ نوری، سرحد و قبائل
    • شیر محمد عباس ستانکزئی، نائب وزیرِ خارجہ اُمور
    • مولوی نور جلال، نائب وزیرِ خارجہ

    خیال رہے کہ دیگر 13 افراد میں سے اکثر مختلف عرفیت سے بھی جانے جاتے ہیں اور اس فہرست کے ذریعے ان ناموں کے حوالے سے تصدیق کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔

  15. دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طالبان کی عبوری کابینہ کے اراکین کون ہیں؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    افغانستان میں طالبان کی عبوری کابینہ میں ایسے اراکین شامل ہیں جو پاکستان کے دینی مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

    افغان طالبان ہوں یا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ان میں موجود بیشتر ایسے اراکین ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں اکوڑہ خٹک کے مقام پر قائم تاریخی مدرسے ’دارالعلوم حقانیہ‘ سے فارغ التحصیل ہیں۔

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کو عالمی سطح پر طالبان کی یورنیورسٹی یا ’یورنیورسٹی آف جہاد‘ کے نام بھی دیا گیا ہے۔ ان طالبان رہنماؤں میں ملا عبدالطیف منصور شامل ہیں جو زیادہ تر پاکستان میں مقیم رہے ہیں۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ ملا عبدالطیف منصور نے دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انھیں وزارتِ پانی و بجلی کا قلمدان دیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالباقی بھی دارالعلوم حقاینہ میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ وہ وزیرِ تعلیم مقرر ہوئے ہیں جبکہ نجیب اللہ حقانی اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں اور انھیں مواصلات کا قلمدان دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم بھی دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین بھی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ محمد نعیم اور سہیل شاہین کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

  16. کابل میں مظاہرے انتظامیہ کی اجازت سے مشروط ہوں گے: سہیل شاہین

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ جو افراد کابل میں پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں اب اس کے لیے انھیں حکام سے باضابطہ اجازت لینی ہو گی اور یہ بتانا ہو گا کہ وہ کس مخصوص جگہ پر احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے یہ بات صحافیوں کے ساتھ واٹس ایپ پر قائم ایک گروپ میں کہی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایسے نہیں جیسے اس وقت ہو رہا ہے، امارت اسلامی افغانستان کے رہنماؤں کے لیے نازیبا زبان کا استعمال کیا جا رہا ہے اور آپس کی دشمنیوں کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسے لمحات کو فلم بند کر کے سوشل میڈیا پر شائع کیا جا رہا ہے۔‘

    بی بی سی نیوز کے سکندر کرمانی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پڑھی لکھی اور اختلاف کرنے والی شہری آبادی‘ طالبان کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

  17. افغانستان میں آئندہ کا لائحہ عمل: امریکی وزیرِ خارجہ جرمنی میں، 20 ممالک کے وزرا کے ساتھ آن لائن اجلاس متوقع

    افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد جب طالبان نے نئی حکومت کا اعلان کیا ہے تو دنیا بھر کے اکثر ممالک کی نظریں افغانستان میں آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینتھونی بلنکن بدھ کو جرمنی کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ قطر سے جرمنی پہنچ چکے ہیں۔ قطر افغانستان سے ایئرلفٹ کے دوران سب سے بڑی گزرگاہ ثابت ہوا تھا جبکہ جرمنی ان ہزاروں افغانوں کے لیے پناہ کی جگہ بن چکا ہے، جرمنی میں امریکہ کا ریمسٹین فوجی اڈہ اس کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    بلنکن اس فوجی اڈے میں جرمنی کے وزیرِ خارجہ ہیکو ماس سے ملاقات کریں گے اور 20 ممالک کے وزیروں سے آن لائن میٹنگ کریں گے جس میں افغانستان میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بات کی جائے گی۔

    امریکہ طالبان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گا تاکہ افغانوں کے ملک سے نکلنے کے وعدوں پر پورا اترنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    امریکہ کا کہنا تھا کہ انھیں موجودہ عبوری حکومت کے بارے میں خدشات ہیں لیکن وہ اس کے فیصلوں سے اسے پرکھیں گے۔ امریکی حکام نے زور دیا ہے کہ باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں ابھی بہت وقت ہے۔

  18. ’ہم دوسروں کو اپنی کابینہ کیوں نامزد کرنے دیں جب دوسرے ممالک یہ کام خود کرتے ہیں؟‘, لیز ڈوسیٹ، چیف بین الاقوامی نامہ نگار، بی بی سی نیوز

    ایک ایسی تحریک جو ایک عرصے تک غائب رہی اور اس کے عہدیداروں کے نام صرف دہشتگروں کی واچ لسٹ میں دیکھنے کو ملتے تھے اب ایسے عہدوں کا اعلان کر رہے ہیں جو دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    اس وقت قائم مقام وزیرِ اعظم ملا حسن اخوند کی اپنی سربراہی میں کام کرنے والے اہم عسکری اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ دشمنیاں ہیں جو ان کے لیے آئندہ مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔

    اس عبوری حکومت کے ذریعے طالبان کو بندوقوں سے حکومت کرنے کی طرف بڑھنے کا موقع بھی ملے گا۔

    اس سے اس بات کے بارے میں بھی علم ہوتا ہے کہ طالبان کی جیت کا مطلب طالبان کی حکومت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسی حکومت کے قیام سے انکار کیا جس میں سب کی شمولیت ہو۔

    انھوں نے سابقہ سیاسی رہنماؤں اور حکام کو حکومت میں شامل کرنے سے انکار کیا خاص طور پر وہ جن پر اس سے قبل بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے تھے۔

    اس بارے میں سوال کا ایک جواب یہ تھا کہ ’ہم دوسروں کو اپنی کابینہ کیوں نامزد کرنے دیں جب دوسرے ممالک یہ کام خود کرتے ہیں؟‘

    جہاں تک بات خواتین کی ہے تو اس بات کا کبھی بھی کوئی امکان نہیں تھا کہ انھیں کوئی وزارت دی جائے گی۔ خواتین کے معاملات کی وزارت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

  19. حامد کرزئی نے دہائیوں تک طالبان، امریکہ اور مجاہدین کے درمیان توازن کیسے رکھا

  20. چین طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے انتظامات کرے گا: بائیڈن

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو کہا کہ انھیں یقین ہے چین طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے انتظامات کی کوشش کرے گا۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انھیں اس بات کی فکر ہے کہ چین طالبان کی مالی مدد کرے گا، بائیڈن نے کہا کہ ’چین کو طالبان سے بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ تو وہ طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے انتظامات کریں گے۔‘

    ’مجھے یقین ہے ایسا پاکستان، روس اور ایران بھی کریں گے۔ یہ سب سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اب انھیں کیا کرنا ہے۔‘

    امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک ساتھ مل کر طالبان سے متعلق حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا ہے اور فی الحال ان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔