آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی
طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔
لائیو کوریج
’کابل ایئرپورٹ پر اب بہت کم طیارے موجود ہیں‘
کابل ایئرپورٹ کے گرد و نواح سے تازہ اطلاعات کے مطابق وہاں اب بہت کم طیارے کھڑے ہیں۔ اتوار کو وہاں بہت کم صحافی موجود ہیں جبکہ حملوں کے خدشات کے دوران طالبان نے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔
کابل میں موجود الجزیرہ کی نامہ نگار شارلٹ بیلس کہتی ہیں کہ ’آج صبح، کابل ایئرپورٹ پر ایک امریکی طیارہ بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ اور گذشتہ روز کے کے مقابلے فضا میں اور بھی کم پروازیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں افراد اب بھی وہاں سے نکلنے کی کوششوں میں ہیں۔ انھوں نے طالبان سے رابطہ کر کے بسوں کا استعمال شروع کر دیا ہے تاکہ صرف ایئرپورٹ کے باہر کھڑے رہنے کے بجائے اندر داخل ہوسکیں۔
آپریشن سائیکلون: جب امریکہ نے افغانستان میں ’طالبان‘ کو تیار کیا
’ہم طالبان سے بات چیت کریں گے لیکن ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘, طالبان مخالف گروہوں کا موقف
خبر رساں ادارے روئٹرز نے کابل کے شمال میں واقع پنجشیر وادی میں طالبان مخالف گروہ سے بات کی ہے۔ یہ وہ واحد علاقہ ہے جو افغانستان میں طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ تاہم طالبان نے اسے چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے۔
روئٹرز نے بلخ صوبے کے سابق گورنر کے بیٹے خالد نور سے بات کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ طالبان مخالف گروہ ایک ساتھ مل کر طالبان سے مذاکرات کریں گے۔ ان مذاکرات میں ملک کے سابق نائب صدر اور ازبک رہنما عبدالرشید دوستم بھی شامل ہوں گے۔
تاہم یہ واضح نہیں کے طالبان کے خلاف یہ گروہ کتنے متحد ہوں گے۔ خالد نور کا کہنا ہے کہ یہ ’بڑا خدشہ‘ ہے کہ مذاکرات ناکام ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر افغانستان پر حکومت کرنا ’ناممکن ہے۔‘
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف گروہوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انھوں نے کامیابی کی شرح ’60 فیصد‘ تک بتائی ہے۔
’ہم ایک پُرامن افغانستان کے خواہشمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں کسی قسم کی کوئی بیرونی مداخلت نہ ہو‘
شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ یہ ایک مسئلہ ضرور ہیں لیکن ناقابل حل مسئلہ نہیں ہیں اور غیر ملکی افواج کے جانے کے بعد پنجشیر کے مخالف جنگجو اور دولت اسلامیہ دونوں اس قابل نہیں رہیں گی کہ افغانستان کا امن خراب کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یورپی ممالک اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لے کر آئیں گے اور افغانستان کی جانب خود مختار پالیسی اپنائیں گے بجائے صرف امریکی نقش قدم پر چلنے کے۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایک پر امن افغانستان کے خواہشمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں کسی قسم کی کوئی بیرونی مداخلت نہ ہو اور افغان عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، لیکن سب سے پہلے اس کے لیے جنگ کا خاتمہ ضروری ہوگا تاکہ ایک عبوری حکومت کا قیام ہو اور آنے والے سو دنوں کی منصوبہ بندی کی جائے۔
افغانستان میں ایران اور پاکستان سے زیادہ معدنیات ہیں: گلبدین حکمت یار
حزب اسلامی کے سربراہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں معاشی مسائل ہیں اور ملک بحران کی کیفیت سے گزر رہا ہے لیکن انھیں امید ہے کہ جب ملک میں ایک اچھی حکومت قائم ہوگی تو حالات بہتر ہوں گے۔
انھوں نے افغانستان میں معدنیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس قدرتی دولت سے مالامال ہے اور یہاں سونا، تانبا، لوہا، لیتھیم ، تیل، گیس موجود ہے جس کی مدد سے افغانستان کی حالت بہتر کی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایران اور پاکستان سے زیادہ معدنیات ہیں اور اگر ہم اپنے ملک میں پانی کے وسائل کا بہتر استعمال کریں تو پورے ملک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انھوں نے دعوی کیا کہ ماضی میں چین کی خواہش تھی کہ وہ افغانستان میں سرمایہ کاری کرے لیکن امریکہ نے ایسا ہونے نہیں دیا اور کہا کہ اب ایسا نہیں ہوگا اور ہم ایسے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کریں گے۔
کوئی اکیلا فریق افغانستان کے مسائل کو حل نہیں کر سکتا: گلبدین حکمت یار
افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ملکی حالات اچھے نہیں ہیں لیکن اگر تمام فریق مل جل کر کام کریں تو ہم حالات کو سنبھال سکتے ہیں اور کوئی ایک فریق اکیلے اس پورے مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہی کچھ ہمیں طالبان کی جاب سے بھی سننے میں آ رہا ہے۔
تاہم انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت نہیں چاہتا اور شاید وہ اس وجہ سے یہاں کی حکومت کو کچھ عرصے تک تسلیم بھی نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ چند ممالک نے مثبت اشارے دیے ہیں اور دباؤ ڈالنے کے بجائے وقت دینے کا کہا ہے۔
’انڈیا کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے کہ وہ یقین دلائیں کہ اب وہ افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے‘
گلبدین حکمت یار نے پریس کانفرنس میں انڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اخلاقی اور سیاسی ذمے داری یہ تھی کہ وہ دنیا کو اور افغانستان کو یقین دلائیں کہ وہ اب افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے لیکن بجائے ایسا کرنے کے، انھوں نے تو ایک جنگجو گروپ کی حمایت کرنی شروع کر دی۔
افغان مجاہدین کے سابق کمانڈر نے کہا کہ ماضی میں بھی جب سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی تو اس وقت بھی انڈیا نے سویت یونین کا ساتھ دیا تھا اور ہم توقع کرتے ہیں کہ انڈیا بھی پاکستانی وزیر اعظم کی طرح اس بات کی معافی مانگے جس میں عمران خان نے تسلیم کیا کہ امریکہ کی جنگ میں حصہ بننا ایک غلطی تھی۔
گلبدین حکمت یار نے کہاں کہ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک سابق انڈین فوجی افسر کھلے عام احمد مسعود کے جنگجو گروہ کو مسلح کرنے کی باتیں کر رہا ہے اور وہ ایسا کرنے سے اجتناب برتیں۔
انھوں نے ناٹو افواج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بھی اتنی فوجی یہاں تھے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا اور ہمارا مشورہ یہ ہے کہ جنگ اور اس قسم کی حمایت کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
پنجشیر میں موجود افغان طالبان مخالف جنگجؤں کا حوالہ دیتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہاں کہ چند امریکی قانون ساز اُن جنگجوؤں کی ابھی بھی حمایت کر رہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید امریکہ ابھی بھی افغانستان سے جانا نہیں چاہتا اور اس کی خواہش ہے کہ کسی طرح سے جنگ کو طوالت دے۔
’دنیا نے افغانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں لیکن انڈیا نے مجھے واپس بھیج دیا‘
افغان عوام چاہتی تھی کہ غیر ملکی قوتیں یہاں سے چلی جائیں اور ایسا ہو گیا: گلبدین حکمت یار
افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار کہتے ہیں کہ افغان عوام ان تبدیلیوں سے خوش ہیں اور وہ اس کے خواہشمند تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ غیر ملکی قوتیں یہاں سے چلی جائیں اور یہ ہو گیا۔
’اب شکر ہے کہ ایسا ہو گیا ہے اور سوائے پنجشیر کے پورے ملک میں امن ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ افغانستان پر جنگ باہر سے مسلط کی گئی تھی اور بیرونی قوتیں نہیں چاہتی تھیں کہ پر امن طریقے سے اقتدار کی منتقلی نہ ہو اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ جنگ ختم ہو لیکن اب ان کا ایجنڈا ناکام ہو گیا۔
گلدبین حکمت یار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان نے کابل شہر میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اشرف غنی کے چلے جانے کے بعد انھیں موقع ملا جس کے بعد وہ شہر میں داخل ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ طالبان کو امریکیوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کسی قسم کا خون خرابہ نہیں ہو گا اور انھوں نے بھی طالبان کو یہی مشورہ دیا تھا کہ کابل داخل ہونے میں مسلح جنگجوؤں کو وہاں نہ بھیجا جائے، اہم حالات نے انھیں مجبور کیا اور وہ شہر میں داخل ہوئے اور حالات کو قابل میں کیا۔
یقین ہے طالبان خواتین کو نہ صرف ان کے حقوق دیں گے بلکہ ان کا تحفظ بھی کریں گے: گلبدین حکمت یار
گلبدین حکمت یار نے افغانستان سے باہر جانے والے شہریوں اور خواتین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ باہر جانا چاہتے ہیں تو وہ ان کی اپنی مرضی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب بھی وہ غیر ملکیوں سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے خواتین کو کپڑوں کے علاوہ اور کیا دیا ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔
گلبدین حکمت یار نے کہا کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ طالبان خواتین کو نہ صرف ان کے حقوق دیں گے بلکہ ان کا تحفظ بھی کریں گے اور انھوں نے بھی طالبان کو مشورہ دیا تھا کہ خواتین کو شریعت کی رُو سے کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔
اسی حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم مغرب کے ’غیر اخلاقی تعلقات‘ کے خلاف ہیں اور اسلام نے مرد اور عورت کے لیے لباس اور ان کے حقوق کا تعین کیا ہوا ہے اور انھیں وہ حقوق پورے ملنے چاہیے۔
بریکنگ, افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین الاقوامی برادری کو منظور ہو: گلبدین حکمت یار
افغانستان میں حزب اسلامی کے رہنما اور ماضی میں روس کے خلاف جنگ لڑنے والے مجاہدین کی قیادت کرنے والے گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین الاقوامی برادری کو منظور ہو۔
کابل میں ایک پریس کانفرنس سے بات چیت کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ غیر ملکی لوگ افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت لانا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ طالبان پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دے رہے ہیں اور کہہ رہے کہ ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ یہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ ’اپنے لوگوں‘ کو حکومت میں لانا چاہتے ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ افغان عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کرے اور اس بات کو مد نظر رکھے کہ ان کے مذہبی اور قومی اقدار کیا ہیں۔
گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ان کی جماعت طالبان کی حمایت کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ دیگر ممالک افغانستان پر پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔
انھوں نے کابل ایئرپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری اس کے پاس ہونی چاہیے جو افغانستان کے بارے میں بری نیت نہ رکھتا ہو تاکہ ہم دنیا کے لیے کھلے رہیں اور اس طرح ہماری نقل و حرکت بند نہیں ہو گی۔
’طالبان نے پنجشیر میں انٹرنیٹ، ٹیلی کام سہولیات منقطع کر دی ہیں‘
بی بی سی نیوز کی اینکر یلدا حکیم نے مقامی ذرائع کے حوالے سے ٹوئٹر پر خبر دی ہے کہ طالبان نے پنجشیر صوبے میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سہولیات کو منقطع کر دیا ہے۔
خبروں کے مطابق کابل کے شمال میں واقع پنجشیر ملک کا واحد صوبہ ہے جو اس وقت طالبان کے قبضے میں نہیں ہے اور ملک میں موجود بیشتر طالبان مخالف رہنما اس وقت وہیں قیام پذیر ہیں۔
طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں بھی پنجشیر طالبان مزاحمت کا مرکز تھا۔
’ہم مل جل کر مذاکرات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔۔ لیکن ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘
افغان رہنماؤں کا ایک گروپ طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اگلے چند ہفتوں میں آپس میں ملاقات کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ طالبان سے نئی حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کر سکے۔
افغانستان کے شمالی صوبے بلخ کے سابق گورنر عطا نور محمد کے بیٹے خالد نور نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گروپ میں ازبک عسکری رہنما عبدالرشید دوستم سمیت طالبان مخالف رہنما شامل ہیں۔
’ہم لوگ مل جل کر مذاکرات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ افغانستان کے مسائل کوئی ایک شخص نہیں حل کر سکتا۔ اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کی پوری سیاسی کمیونٹی ساتھ بیٹھے ، بالخصوص وہ روایتی رہنما، جنھیں عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔‘
عطا نور اور عبدالرشید دوستم افغانستان میں گذشتہ چار دہائیوں سے جاری لڑائیوں میں شامل رہے ہیں اور اگست میں جب طالبان نے مزار شریف شہر پر قبضہ کر لیا تو دونوں رہنما لڑائی کیے بغیر ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔
27 سالہ خالد نور نے کہا کہ مذاکرات ناکام ہونے کا ’بڑا خدشہ‘ ہے اور ان کا گروہ طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے کے لیے تیاری شروع کر چکا ہے۔ ’ہتھیار ڈالنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘
افغانستان سے ریسکیو مشن میں نکالے گئے دو کھلاڑی پیرالمپکس میں شرکت کرنے ٹوکیو پہنچ گئے
افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی جاپان میں معذور کھلاڑیوں کے لیے جاری پیرالمپکس میں شرکت کرنے ٹوکیو پہنچ گئے ہیں۔
انٹرنیشنل پیرالمپکس کمیٹی (آئی پی سی) کے عہدے دار نے جاپان کی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو افغانستان سے بچا کر نکالنا اور پھر ان کھیلوں میں شرکت کرنے جاپان پہنچانا اور یہاں خوش آمدید کرنا ’بہت ہی جذباتی‘ لمحہ تھا۔
ان کھلاڑیوں میں ایک خاتون ٹائی کوانڈو کھلاڑی ذکیہ خدادی اور دوسرے ٹریک اینڈ فیلڈ کھلاڑی حسین رسولی ہیں۔
ان دونوں کھلاڑیوں کو گذشتہ ہفتے افغانستان سے نکالا گیا تھا اور وہ ہفتے کی شام ٹوکیو بذریعہ پیرس پہنچے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق یہ دونوں کھلاڑی اب اولمپکس ولیج میں قیام پذیر ہیں اور اپنے کھیلوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔
آئی پی سی کے صدر اینڈریو پارسنس نے ایک بیان میں کہا کہ ذکیہ اور حسین اپنے خواب کی تکمیل کرنے اب ٹوکیو میں موجود ہیں اور دنیا بھر میں لوگوں کو امید کا پیغام دے رہے ہیں۔
آئی پی سی کے ترجمان کریگ سپینس نے مزید بتایا: ’ان سے ملاقات بہت ہی جذباتی تھی۔ اس کمرے میں موجود ہر کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ بہت ہی زبردست میٹنگ تھی۔‘
واضح رہے کہ آئی پی سی نے پہلے کہا تھا کہ وہ ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹوکیو تک نہیں پہنچا سکیں گے لیکن اس کے بعد متعدد ممالک کی حکومتوں اور مختلف تنظیموں نے ایک ’مشترکہ عالمی آپریشن‘ کیا تاکہ ان دونوں کی مدد کی جا سکے اور انھیں ٹوکیو تک پہنچایا جا سکے۔
’طالبان کہتے ہیں نوکریوں پر جائیں لیکن جب لوگ کام پر جاتے ہیں تو اُنھیں واپس بھیج دیتے ہیں‘
انخلا کا امریکی آپریشن بھی تکمیل کے نزدیک، ’شہریوں کے انخلا کا عمل اتوار کو مکمل ہو جائے گا‘
افغانستان سے شہریوں کے انخلا کے عمل کا سلسلہ اب اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور امریکی افواج کی جانب سے کابل ایئرپورٹ میں موجود ہزار سے سے زیادہ شہریوں کو لے جانے والی آخری پرواز اتوار کو روانہ ہو جائے گی۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آپریشن کے اختتام کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی ہے تاہم امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر قائم ہیں۔
سکیورٹی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ حکام کی پوری کوشش ہے کہ ہر غیر ملکی شہری اور وہ جو خطرات کا شکار ہیں انھیں نکال لیا جائے اور اس کے بعد فوجییوں کے انخلا کا عمل شروع ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو ہفتے کو بتایا تھا کہ اب ایئرپورٹ پر چار ہزار سے کم فوجی رہ گئے ہیں۔
برطانوی فوجی، سفارتی عملہ انخلا کے آپریشن کے بعد وطن کے لیے روانہ
افغانستان میں دو دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد برطانوی فوجی دستے اور سفارتی عملہ ہفتے کی شب وطن کے لیے واپس روانہ ہو گیا ہے۔
شہریوں اور اتحادیوں کے انخلا کے لیے تقریباً دو ہفتے سے جاری ’آپریشن پٹنگ‘ دوسری جنگِ عظیم کے بعد لوگوں کو متاثرہ علاقے سے نکالنے کے لیے برطانیہ کا سب سے بڑا آپریشن تھا۔
آپریشن پٹنگ کی تکمیل کے لیے برطانیہ نے ہزار سے زیادہ فوجی اور سفارتی عملہ افغانستان بھیجا تاکہ وہاں موجود برطانوی اور افغان شہری اور دیگر اتحادی ممالک کے شہریوں کو نکالا جا سکے۔
واضح رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد شہریوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔
اس آپریشن میں 15 ہزار سے زیادہ افراد کو بحفاظت نکالا گیا۔
برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے رات گئے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسا مشن نہیں دیکھا اور میں اس میں مدد کرنے والے تمام افراد کا مشکور ہوں۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے افغانستان میں فوجی موجودگی نے دو دہائیوں سے القاعدہ کو برطانیہ سے دور رکھا اور آج وہ اسی وجہ سے محفوظ ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ آپریشن پٹنگ میں افغانستان سے نکالے جانے والے افراد میں 2200 کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔
برطانیہ نے اس آپریشن میں پانچ ہزار برطانوی شہری اور ان کے خاندان والوں کو نکالا جبکہ اس کے علاوہ برطانیہ کے لیے کام کرنے والے آٹھ ہزار سے زیادہ افغان شہری اور ان کے خاندان والوں کو بھی برطانیہ لے جایا گیا جن کے بارے میں خدشہ تھا کہ طالبان انھیں نشانہ بنائیں گے۔
آمنہ مفتی کا کالم: کابل، شہر افسوس!
غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار
افغانستان پر قبضہ حاصل کرنے والے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ وہ امریکیوں کے اشارے کے منتظر ہیں جس کے بعد وہ کابل کے فضائی اڈے کا مکمل طور پر انتظام سنبھال لیں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ٹیکنیکل ماہرین اور انجنئیرز کی ٹیم موجود ہے جو ایئرپورٹ کا نظام چلا سکتی ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتے کو مزید بتایا کہ طالبان نے افغانستان کے 34 میں سے 33 صوبوں کے گورنر اور پولیس سربراہان منتخب کر لیے ہیں اور بہت جلد ملک کی معاشی حالات کو حل کرنے کے لیے کام شروع کر دیں گے۔