آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
لائیو کوریج
وسعت اللہ خان کا کالم: رل تو گئے پر مزہ بہت آیا
شمولیتی حکومت سازی کے لیے مذاکرات: ’عمران خان کی خواہش تو بہت اچھی ہے اگر طالبان بات مان لیتے ہیں تو‘
افغانستان کی اخلاقی پولیس: جو ’نیکیوں کا حکم دے کر برائی سے روکے‘ گی
کیا دھڑے بندی اور قبائلی تفریق افغانستان میں طالبان حکومت کو کمزور بنا رہی ہے؟
’کہا تھا نہ سکرین پر مت آنا۔۔۔ اب ہم سب تمھاری وجہ سے مارے جائیں گے‘
افغان صوفی رقاصہ کے فرار کی کہانی: ’ہمارے سارے خواب وہیں دفن ہوگئے‘
پاکستان میں ’روپوش‘ افغان گلوکار جنھیں طالبان کے ڈر سے افغانستان چھوڑنا پڑا
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد وسطی ایشیائی ممالک کی خارجہ حکمت عملی کیا ہے؟
میونسپلٹی کی ملازم خواتین گھر پر رہیں، صرف کچھ خواتین کام پر آ سکتی ہیں، طالبان
حقانی اگر قبیلہ نہیں تو کون ہیں؟ عمران خان کی طرف سے ان کو ’پشتون قبیلہ‘ کہنے پر شدید بحث
مزار شریف میں ’حضرت علی کے روضے‘ سے ہیراتان کی بندر گاہ تک
طالبان حکومت کے ڈپٹی وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر منظر نامے سے غائب کیوں ہیں؟
’شاید میں اپنے والد کی طرح اپنے بچوں کو یہ نہ کہہ سکوں کہ ہم پھر افغانستان جائیں گے‘
افغانستان کا مستقبل: کیا چین طالبان حکومت کو عالمی تنہائی سے بچا پائے گا؟
طالبان کی حامی خواتین کی وائرل تصاویر: کیا سر تا پا سیاہ برقع افغان کلچر ہے؟
نائن الیون حملوں کے 20 برس بعد القاعدہ کہاں کھڑی ہے؟
طالبان کی عبوری حکومت کی تقریب حلف برداری کیوں نہ ہو سکی؟
سوشل میڈیا نے 9/11 سے متعلق سازشی نظریات کو کیسے بڑھاوا دیا
کیا پاکستانی کرنسی میں تجارت افغانستان کی معیشت ’کنٹرول‘ کرنے کی کوشش ہے؟