آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
لائیو کوریج
افغانستان میں طالبان مخالف گروہ ایک نئی خانہ جنگی چھیڑ سکتے ہیں؟
دہائیوں بعد منظرعام پر آنے والے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کون ہیں؟
ٹی ٹی پی سے مذاکرات: ’افغان طالبان سے زیادہ امید نہیں رکھی جا سکتی‘
افغان طالبان سے جھڑپیں: چمن میں باب دوستی تین دن کی بندش کے بعد کھول دیا گیا
وہ افغان خواتین جو خاموش رہنے کو تیار نہیں: ’آپ ایک ہاتھ سے زندگی کیسے چلا سکتے ہیں‘
پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر منشیات کی ’بڑھتی ہوئی سمگلنگ‘، وجہ کیا ہے؟
حقوقِ نسواں کی افغان کارکن تمنا پریانی کو رہا کر دیا گیا
طالبان کی مبینہ انتقامی کارروائیاں: ’اگلی صبح ان کی لاش گھر کے باہر پڑی ملی‘
امریکہ میں منجمد افغان فنڈز کو تقسیم کرنے کا صدارتی حکمنامہ جاری، طالبان کی فیصلے پر کڑی تنقید
یونیورسٹی جاتے ہوئے ’میں گھبرائی ہوئی تھی مگر طالبان نے ہمیں پریشان نہیں کیا‘
آکاش بشیر: خودکش بمبار کو روکنے والے پاکستانی نوجوان کے لیے ’خدا کے خادم‘ کا خطاب
افغانستان میں امن مگر کس قیمت پر؟
’شہزاد اکبر کے استعفے کی وجہ محض نواز شریف کو واپس لانے میں ناکامی نہیں‘
پاکستانی شہروں میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات افغانستان میں ٹی ٹی پی پر پُراسرار حملوں کا ردعمل ہیں؟
کابل سے لاپتہ تمنا کی تلاش: ‘گھر کے اندر کوئی نہیں، دروازے پر ایک بڑے بوٹ کا نشان‘
’زینب کا آخری تحفہ شاید اب کبھی استعمال نہ کر پاؤں‘
طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والا آسٹریلوی شہری دوبارہ افغانستان کیوں جانا چاہتا ہے؟
افغانستان: لوگ گھر گرم کرنے کے لیے پلاسٹک جلانے پر مجبور
طالبان سے چھپتے افغان اساتذہ: ‘ہم گھروں میں ایسے بیٹھے ہیں جیسے جیل میں ہوں‘