شمالی وزیرستان میں حملے کے بعد پی ٹی آئی کے حامیوں نے فوج مخالف مہم چلائی: عطا تارڑ کا دعویٰ

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا گروپ پر الزام عائد کیا کہ ایک پیروڈی اکاؤنٹ کے ذریعے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سنی اتحاد سے ملنا درست فیصلہ تھا، ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے: بیرسٹر گوہر

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مخصوص سیٹوں کے معاملے پر سپریم کورٹ سے جلد فیصلے کے لیے امید کا اظہار کیا ہے انھوں نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم وکورٹ جانے کا عندیہ دیا ہے۔

    خیال رہے کہ مخصوص نشستوں کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے کی گئی پی ٹی آئی کی استدعا مسترد ہو گئی تھی۔

    سنیچر کو راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ 80 سیٹیں زیادہ گئی ہیں اس میں سے 67 سیٹیں خواتین کی اور دس غیر مسلموں کی ہیں۔

    بیسٹر گوہر نے سوال کیا کہ کیا کسی سیاسی جماعت کو جیتی ہوئی سیٹوں سے زیادہ مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں؟

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیاسی جماعت سنی اتحاد سے رابطہ کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد سے ملنا صحیح فیصلہ تھا سوچ سمجھ کر کیا گیا فیصلہ تھا۔

    انھوں نے کہا کہ `ہم نے سیاسی جماعت کو دو مقاصد کے لیے جوائن کرنا تھا ایک مخصوص نشستیں ملیں اور دوسرے آزاد امیدواروں کے ساتھ ہمیں پروٹیکشن ملے۔ ہم اب بھی یقین کرتے ہیں کہ آئین میں واضح ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو جیتی ہوئی نشستوں سے زیادہ مخصوص نشستیں نہیں مل سکتیں۔‘

  2. بریکنگ, شمالی وزیرستان: فوجی چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک

    north waziristan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوج کے مطابق سنیچر کی صبح شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ چھ دہشت گردوں کو مارا گیا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں چھ دہشت گردوں کے گروہ نے حملہ کیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ فوج نے ابتدائی حملے کو ناکام بتایا پھر شدت پسندوں نے چیک پوسٹ پر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ٹکرا دی جس کے بعد متعدد خودکش دھماکے ہوئے۔

    بتایا گیا ہے کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے ابتدائی حملوں میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ کلیئرنس آپریشن کے دوران ایک لیفٹیننٹ کرنل اور کپتان کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس دوران چھ کے چھ دہشت گردوں کو مار دیا گیا۔

    علاقے میں اب بھی فوج کا آپریشن جاری ہے۔

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں قریب موجودخدی مارکیٹ کو نقصان پہنچا ہے جس میں دکانوں کے شیشے اور شٹر اکھڑ گئے ہیں۔

  3. سینٹ انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لیے وقت میں توسیع

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینٹ انتخابات میں امیدواروں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لیے دیے گئے وقت میں توسیع کر دی ہے۔

    الیکشن کمیشن نے سنیچر کو جاری بیان میں لکھا ہے کہ امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 16 مارچ کی شام چھے بجےتک ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کروا سکتے ہیں۔

    election

    ،تصویر کا ذریعہElection Commission

  4. اسد طور کی رہائی کے لیے روبکار جیل سپریٹینڈنٹ کو بھجوا دیا گیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    صحافی و یوٹیوبر اسد علی طور کی رہائی کی روبکار جاری ہو گئی ہے۔

    ان کی رہائی کی روبکار سپیشل جج سینٹرل نے جاری کی اور اب اسے جیل سپرٹنڈنٹ کو بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب صحافی اسد طور کی ایف آئی اے نوٹسز کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کے خلافو جاری نوٹسز کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نوٹسز خلاف قانون جاری ہوئے پھر ایف آئی آر درج ہو گئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد متعلقہ فورم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ از خود نوٹس کا اختیار نہیں اس لیے اسد طور کو رہا کرنے کا حکم نہیں دے سکتے ، اسلام آباد ہائیکورٹ صرف نوٹسز کو چیلنج کیا گیا تھا اس لئے درخواست ابزرویشنز کے ساتھ نمٹا رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسد طور نے 23 اور 26 فروری کے نوٹسز گرفتاری سے پہلے چیلنج کیے تھے اور عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 7 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  5. فضل الرحمان نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تو حکومت چلی جائے گی: فواد چوہدری, نامہ نگار شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہx

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ کا فیصلہ کر لیا تو حکومت چلی جائے گی۔

    فواد چوہدری کو سنیچر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش کیا گیا۔

    فواد چودھری کے خلاف نوکری کا جھانسہ دے کر پیشے لینے کے حوالے سےفراڈ کیس درج ہے۔ انھیں سول جج سہیل تھہیم کی عدالت پیش کیا گیا۔ فواد چوہدری کو اس کیس میں تو ضمانت پر رہائی ملی لیکن وہ کک بیکس کے کیس میں نیب کی تحویل میں ہیں۔

    فوادچودھری کی والدہ اور اہلیہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔

    فواد چودھری نے صحافیوں سے کمرہ عدالت میں غیررسمی گفتگو کی اور کہا کہ موجودہ حکومت کو مودی سرکار اور ایان علی کے علاوہ کوئی نہیں مانتا،۔

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت مئی تک نہیں چل سکتی۔

    فوادچودھری نے دعوی کیا کہ موجودہ حکومت نے سعودیہ عرب کے سفیر سے کال پر بات کرنے کا خود کہہ کر انتظام کیا، یورپی یونین کے کسی ملک نے مبارکباد نہیں دی۔

    ان کا یہ بھی کہا تھا کہ موجودہ حکومت کو ہٹانے میں خیبرپختونخوا کا کردار اہم ہوگا۔

    فواد چودھری نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ کا فیصلہ کرلیا تو حکومت چلی جائےگی، مولانا فضل الرحمان نے فیصلہ کرلیا تو پورا خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف ہوجائےگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف کو اپنی 33 فیصد کابینہ کا معلوم نہیں۔

  6. محسن نقوی کا پاکستان: محمد حنیف کا کالم

  7. ایمنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستان میں ایکس پر 29 دن سے جاری پابندی ہٹانے کا مطالبہ

    انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ 29 دنوں سے حکومت نے ایکس پر پابندی لگا رکھی ہے۔

    سنیچر کو عالمی ادارے کی جانب سے ایکس پر جاری تحریری بیان میں بتایا گیا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کل 28 اداروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں پاکستانی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اظہارے رائے کی آزادی کا احترام کریں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے معلومات تک رسائی دینے کے بین الاقومی انسانی حقوق کو تسلیم کر رکھا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. رمضان کے دوران گیس لیک کے حادثات: ’جیسے ہی ماچس کی تیلی جلائی تو ایک زوردار دھماکہ ہوا‘

  9. صحافی اسد طور کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    اسد طور

    ،تصویر کا ذریعہYouTube/AsadToor

    اسلام آباد کی ایک خصوصی عدالت نے صحافی اور یوٹیوبر اسد طور کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر کی جانب سے اسد طور کی درخواستِ ضمانت کی مخالفت نہ کرنے کے بعد سپیشل جج سینٹرل ہمایوں دلاور نے پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض اسد طور کی ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کیا۔

    وکیل ایمان مزاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ ’ہم پراسس مکمل کر کے انھیں لینے اڈیالہ جیل جا رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسد طور کی ایف آئی اے نوٹسز کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسد طور کو جاری نوٹسز کو خلاف قانون قرار دیا ہے۔

    عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ نوٹسز خلاف قانون جاری ہوئے پھر ایف آئی آر درج ہو گئی۔ ’ایف آئی آر درج ہونے کے بعد متعلقہ فورم سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ازخود نوٹس کا اختیار نہیں اس لیے اسد طور کو رہا کرنے کا حکم نہیں دے سکتے۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ صرف نوٹسز کو چیلنج کیا گیا تھا اس لیے درخواست آبزرویشنز کے ساتھ نمٹا رہے ہیں۔

    اسد علی طور کے خلاف اعلیٰ عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف ہرزا سرائی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور انھیں ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔

  10. سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شہباز شریف کو فون، وزیر اعظم بننے پر مبارکباد

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انھیں آج صبح سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود نے دوبارہ وزیر اعظم بننے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

    وزیر اعظم کے بقول انھوں نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت و تندرستی کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار بھی کیا۔

  11. ’پاکستان میں وہ یتیم خانہ اب تک نہیں بنا جس کے لیے میں نے 40 ہزار پاؤنڈز عطیہ کیے تھے‘

  12. وزیراعظم کا دورۂ جی ایچ کیو: ’سول اور عسکری قیادت کا قومی مفاد، خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم‘

    شہباز شریف، آرمی چیف

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیراعظم شہباز شریف نے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں کو یقینی بنانے کے لیے درکار تمام وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے پُرامن عروج کو یقینی بنانے کے لیے افواج پاکستان کے کردار کی اہمیت کو کم نہیں کیا جاسکتا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے اہم اراکین کے ہمراہ جمعے کو فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا جہاں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔

    وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس کے بعد انھوں نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے۔ وزیراعظم نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان نے عسکری قیادت کے ساتھ ’قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور فوجی تیاریوں کے امور پر بات چیت کی۔‘

    بیان کے مطابق وزیراعظم کو ’سکیورٹی کی موجودہ صورتحال، خطرے کے سپیکٹرم، سیکورٹی خطرات سے نمٹنے اور انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں‘ کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    ’وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارت، آپریشنل تیاریوں اور قربانیوں کو سراہا اور ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور امن و استحکام کو یقینی بنانے میں پاک فوج کے عزم کو سراہا۔‘

    دوسری طرف آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے وزیراعظم کے جی ایچ کیو کے دورے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی فوج ’قوم کی توقعات پر پورا اترتی رہے گی اور پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں حکومت کی بھرپور حمایت کرے گی۔

    ’سویلین اور فوجی قیادت نے قومی مفادات کو برقرار رکھنے اور خوشحال اور محفوظ پاکستان کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘

  13. بریکنگ, سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ غلط تھا، پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت کا مخصوص نشستوں کے حصول کی غرض سے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ کیے جانے والے اتحاد کا فیصلہ غلط تھا۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ’عمران خان نے کہا تھا کہ مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے ہم اسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کریں گے جو قانونی تقاضوں کو پورا کرے، لیکن پھر یہ فیصلہ تبدیل ہو گیا۔‘

    بیرسٹر علی ظفر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’پہلے پارٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم شیرانی گروپ کے ساتھ اتحاد کریں گے کیونکہ ہمیں مخصوص نشستیں چاہییں تھیں، لیکن پھر فائنل مذاکرات کے بعد فیصلہ نہیں ہو سکا۔‘

    ’پھر ہماری اگلی چوائس مجلس وحدت المسلمین تھی کیونکہ انھوں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ یہ فیصلہ ہو گیا تھا لیکن پھر آخری وقت پر تبدیل ہو گیا اور سنی اتحاد کونسل کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔‘

    پروگرام اینکر شہزاد اقبال کے اس سوال پر کہ مجلس وحدت المسلمین کی بجائے سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ تو اس پر علی ظفر نے کہا ’کچھ لوگ (پی ٹی آئی رہنما) عمران خان سے ملنے اڈیالہ گئے تھے اور باہر آ کر انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہم سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کر رہے ہیں لیکن یہ فیصلہ کیوں تبدیل کیا گیا مجھے اس کی وجہ کا علم نہیں۔‘

    بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ ’میں نے اس بارے میں عمران خان سے بھی پوچھا تو انھوں نے کہا انھوں نے یہ فیصلہ (مجلس وحدت المسلمین سے اتحاد کا) تبدیل نہیں کیا۔‘

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے اس معاملے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ عمران خان کا تھا۔

    ایکس پر صاحبزادہ حامد رضا نے لکھا کہ ’پی ٹی آئی کے دوست اپنے معاملات گھر میں ہی حل کریں تو بہتر ہے، سنی اتحاد کونسل کا فیصلہ عمران خان نے کیا تھا۔ میری طرف سے کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’میری کمٹمنٹ عمران خان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گی اور میں میڈیا پر تشہیر کے لیے عمران خان کا بُرا نہیں سوچ سکتا۔‘

  14. کیا اربوں روپے کے عطیات ضرورت مندوں تک پہنچ رہے ہیں؟

  15. انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کوئی اہلکار پاکستان میں موجود نہیں، دورے کی خبر جھوٹی ہے: دفترِ خارجہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPM House

    ،تصویر کا کیپشنفروری 2023 میں آخری مرتبہ اٹامک ایجنسی کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر لی گئی تصویر

    پاکستان کے دفترِ جارجہ نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے وفد کی پاکستان کے دورے کے حوالے سے چلنے والے خبروں کو ’فیک نیوز‘ قرار دیا ہے۔

    جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دفترِ جارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’آئی اے ای اے‘ کے اعلیٰ سطحی وفد کے پاکستان کے دورے کے حوالے سے خبریں جھوٹی ہیں۔‘

    دفترِ خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب مبینہ طور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئِی) کے حامی سوشل میڈیا اکاؤٹس کی جانب سے انڈین ٹی وی چینل کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جا رہی ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کو ’آئی اے ای اے‘ کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے متعدد صارفین نے یہ سوال پوچھا کہ کیا موجود حکومت نے پاکستان کے جوہری ہتھیار ’آئی اے ای اے‘ کو سونپ دینے کے حوالے سے کوئی معاہدہ کر لیا ہے؟

    اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’نہ ہی اس وقت آئی اے ای اے کا کوئی اہلکار پاکستان میں موجود ہے اور نہ آئی اے ای اے کے ساتھ مستقبل قریب میں کوئی پالیسی لیول مذاکرات طے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ رافیل ماریانو گروسی نے فروری 2023 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس حوالے سے اس وقت میڈیا کو بھی بریفنگ دی گئی تھی۔

    انڈین ٹی وی چینل کی ویڈیو یوٹیوبر اور اینکرپرسن معید پیرزادہ نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے ’ایکس‘ پر اینکرپرسن کو مخاطب کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’کوئی کسی مغالطے میں نہ رہے، ایسے جھوٹ اور ریاست کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جانے والے پراپگنڈے کا جواب دیا جائے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. پیپلز پارٹی نے سینیٹ الیکشن کے لیے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ کی 48 سیٹوں پر 2 اپریل کو ہونے والے انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔

    پی پی پی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سندھ سے سینیٹ کی جنرل نشستوں کے لیے کاظم شاہ، اشرف جتوئی، مسرور احسن، ندیم بھٹو، سرفراز راجہ، دوست علی جیسر کو نامزد کیا گیا ہے۔ اسی طرح سندھ سے خواتین کی نشستوں کے لیے قرات العین مری، روبینہ قائمخانی کو نامزد کیا گیا ہے۔ اسی طرح سندھ سے ٹیکنوکریٹ اور غیرمسلم سیٹ کے لیے بالترتیب بیرسٹر ضمیر اور پونجو بھیل کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔

    پی پی پی اعلامیے کے مطابق بلوچستان سے سینیٹ کی جنرل نشستوں کے لیے ایمل ولی خان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے مشترکہ امیدوار ہوں گے جبکہ جان محمد بلیدی پیپلز پارٹی اور نیشنل پارٹی کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔ اس کے علاوہ بلوچستان سے چنگیز خان جمالی اور سردار عمر کے نام بھی بلوچستان کی نشستوں کے لیے فائنل کیے گئے ہیں۔ بلوچستان سے خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشستوں کے لیے بالترتیب عشرت بروہی، کرن بلوچ اور بلال مندوخیل پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

    خیبرپختونخوا سے روبینہ خالد جبکہ پنجاب سے فائزہ احمد ملک اور اسلام آباد سے رانا محمود الحسن کو نامزد کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ سینیٹ کی 48 خالی نشستوں پر انتخابات کا انعقاد دو اپریل کو ہونا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. 20 برس کے وقفے کے بعد پاکستان فروری 2025 میں سہ ملکی ایک روزہ سیریز کی میزبانی کرے گا: پاکستان کرکٹ بورڈ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPCB

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اعلان کیا ہے کہ فروری 2025 میں پاکستان سہ فریقی ایک روزہ بین الاقومی میچوں کی میزبانی کرے گا۔ اس سہ فریقی سیریز میں پاکستان، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں مدِمقابل ہوں گی۔

    پی سی بی کی جانب سے اس ضمن میں ایک پریس ریلیز چیئرمین (پی سی بی) محسن نقوی کی دبئی میں نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین لاسن نیڈوو اور جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین راجرٹوسے سے ملاقات کے بعد جاری کی گئی ہے۔

    اس ملاقات میں پاکستان میں فروری 2025 میں مجوزہ تین ملکی کرکٹ ٹورنامنٹ کوحتمی شکل دی گئی۔

    پی سی بی کے مطابق یہ سیریز کھیلنے کے لیے جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیمیں جنوری کے آخر میں پاکستان آئیں گی جبکہ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈز کے چیئرمینوں کوبھی اس سے قبل پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔

    پی سی بی کے مطابق اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’ٹرائی سیریز کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان میں 20 برس کے وقفے کے بعد ہو گی اور پاکستان میں ٹرائی سیریز کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلنے پر جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈز کا شکریہ ادا کیا۔

  18. وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا

    بلوم

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    وزیراعظم شہباز شریف کی جمعہ کے روز پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات ہوئی ہے جس میں پاکستانی وزیر اعظم نے امریکہ میں دہشت گردی کے مقدمے میں سزا یافتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے۔

    اس ضمن میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر ڈونلڈ بلوم نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو ایک اہم پارٹنر سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کرتا ہے۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، صحت، دفاع، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی تبدیلیوںکے شعبوں میں موجودہ مثبت رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اُن کی حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے میکرو اکنامک اصلاحات پر توجہ دے گی اور اس سلسلے میں پاکستان نے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے کردار پر بھی روشنی ڈالی جو پاکستان میں ترجیحی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

    ملاقات کے دوران دوطرفہ اور علاقائی اہمیت کے متعدد امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میںغزہ اور بحیرہ احمر کی صورتحال، افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت ہوئی جبکہ ملاقات میں وزیراعظم نے امریکی سفیر سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی پرزور طریقے سے اٹھایا۔

  19. کوئٹہ کے بڑے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر بن کر وزیراعلیٰ کو بریفنگ دینے پر نرس کے خلاف مقدمہ درج، غیرحاضر 22 ڈاکٹر معطل

    بلوچستان حکومت، سرفراز بگٹی، بولان میڈیکل کمپلیکس

    ،تصویر کا ذریعہBalochistan government

    پاکستان کے شہر کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال (بی ایم سی) کے ایک میل نرس کے خلاف وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو ڈاکٹر بن کر بریفنگ دینے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ایک دورے پر بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال پہنچے تھے جہاں میل نرس محمد قاسم نے اپنا تعارف ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کروایا اور انھیں بریفنگ بھی دی۔

    محمد قاسم کے خلاف مقدمہ بروری تھانے میں ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر محمد ہاشم کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹو آفیسر محمد ہاشم نے تصدیق کی کہ مذکورہ میل نرس نے وزیر اعلیٰ کے حالیہ دورے کے موقع پر خود کو ڈاکٹر ظاہر کیا اور انھیں شعبہ حادثات سے متعلق بریفنگ دی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان کے پاس ایک ویڈیو بھی موجود ہے جس میں میل نرس خود اپنے آپ کو ڈاکٹر کہہ رہا ہے۔

    اس حوالے سے درج ہونے والے ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے 12مارچ کی شب 11بجکر 50منٹ پر بی ایم سی ہسپتال کا اچانک دورہ کیا۔

    ’ہسپتال کے شعبہ حادثات میں تعینات میل نرس محمد قاسم نے غلط بیانی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے سامنے اپنے آپ کو بطور ڈاکٹر پیش کیا۔‘

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس غلط بیانی کرنے پر ہسپتال کے میڈکل سپرنٹنڈنٹ کو مذکورہ میل نرس کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا حکم دیا تھا۔

    بروری پولیس نے غلط بیانی کرنے پر میل نرس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دو دفعات 419 اور 420 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    بولان میڈیکل کمپلیکس کا شمار بلوچستان کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔

    وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سرفراز بگٹی نے سب سے پہلے اس سرکاری ہسپتال کا اچانک دورہ کیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ کے دورے کے موقع پر 22 ڈاکٹروں کے علاوہ دیگر عملے کے 20 لوگ غیرحاضر پائے گئے تھے۔

    وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے مطابق غیر حاضر پائے جانے والے ڈاکٹروں اور اسٹاف کے دیگر عملے کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی غیرحاضری کے حوالے سے شکایات عام ہیں۔

    گزشتہ روز میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا تھا کہ حکومتِ بلوچستان سالانہ 80 ارب روپے صحت کے شعبے پر خرچ کرتی ہے لیکن اس کا فائدہ غریب لوگوں کو نہیں پہنچتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ سرکاری شعبوں میں بہتری کے لیے اصلاحات لائی جارہی ہیں جس کے لیے کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔

    بلوچستان میں یہ بھی شکایت عام ہے کہ ڈاکٹر کوئٹہ سے باہر ذمہ داریاں سرانجام دینے کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ کوئٹہ میں ہی پوسٹنگ حاصل کرلیں۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت صحت کے شعبے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے کے سیکرٹری صحت عبداللہ خان نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں مجموعی طور پر تعینات 4 ہزار میں سے لگ بھگ ڈھائی ہزار ڈاکٹر کوئٹہ میں تعینات ہیں جو دیہی علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔

    دوسری جانب ینگ ڈاکٹرایسوسی ایشن اور ڈاکٹروں کی دیگر تنظیمیں بلوچستان میں صحت کے شعبے کی زبوں حالی کا ذمہ دار حکومت اور بیوروکریسی کو ٹھہراتے ہیں ۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں سہولیات نہیں ہیں جبکہ کوئٹہ سے باہر بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ڈاکٹروں اوردیگر عملے کو رہائش تک کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

  20. قومی اسمبلی میں سات آرڈیننسز کی منظوری، پی پی پی اور سُنی اتحاد کونسل کے اراکین کی حکومت پر تنقید

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نزیر تارڑ نے سات آرڈیننس پیش کیے جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ سُنی اتحاد کونسل کے اراکینِ اسمبلی کے اراکین کے احتجاج کے باوجود منظور کرلیے گئے۔

    جمعے کو قومی اسمبلی میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ترمیمی آرڈیننس 2023، پاکستان نیشنل سپنگ کاروپوریشن آرڈیننس 2023، پاکستان پوسٹل سروسز مینیجمنٹ بورڈ آرڈیننس 2023، نیشنل ہائی وے اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس 2023، فوجداری قوانین ترمیمی آرڈیننس 2023، نجکاری کمیشن ترمیمی آرڈیننس 2023 اور ٹیلی مواصلات ایپلیٹ ٹریبونل آرڈیننس 2023 کی معیاد میں 120 دن کی توسیع منظوری دی گئی۔

    اس حوالے سے اسمبلی میں بات کرتے ہوئے پی پی پی کے رُکن اسمبلی نوید قمر نے پاکستان مسلم لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ آرڈیننسز پر انھیں شدید تشویش ہے اور ان کے مطابق قومی اسمبلی میں ایسی کوئی چیز منظور نہیں ہونی چاہیے جو ناقابلِ واپسی ہو۔

    پی پی پی رہنما خورشید شاہ بھی اسمبلی میں تقریر کے دوران ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننسز کی منظوری پر اپوزیشن کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں اور حکومتیں آرڈیننسز پر نہیں چلتیں۔

    قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے رکنِ اسمبلی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ انہیں ایوان میں پیش کیے گئے آرڈیننسز کی پہلے مہیا نہیں کیے گئے تھے اور ان کے خیال میں اتنی اُجلت میں قانون سازی نہیں کی جانی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ متعدد بار وزیر رہے لیکن ماضی میں اتنی اُجلت میں کبھی قانون سازی نہیں کی گئی۔

    اپوزیشن کے احتجاج کے دوران اسمبلی میں بات کرتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ان معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جن میں اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کے اراکین کی نمائندگی موجود ہوگی۔

    اس دوران اپوزیشن کے اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی میں آرڈیننسز کی کاپیاں پھاڑیں۔ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے خبردار کیا کہ اگر اراکینِ اپوزیشن نے ایوان میں اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا تو وہ انضباطی کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    قومی اسمبلی کے سپیکر نے اراکینِ اسمبلی کو بتایا کہ یہ آرڈیننسز بین الاقوامی فنڈ (آئی ایم ایف) سے جُڑے معاملات سے متعلق ہیں اور انھیں منظور کروانے میں تاخیر نہیں کی جا سکتی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا ہے۔