آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عام انتخابات کے 30 روز کے اندر صدرِ پاکستان کا انتخاب لازمی، امیدوار کاغذات نامزدگی دو مارچ تک جمع کروا سکتے ہیں: الیکشن کمیشن

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر 190 ملین پاؤنڈ کیس میں فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم تاہم دونوں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگلے صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 روز کے اندر کروانا لازم ہے جس کے لیے تمام خواہشمند امیدوار آج سے کاغذات نامزدگی حاصل کر سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس: ’سپریم کورٹ بھٹو کیس کے میرٹس پر نہیں جا سکتی‘ جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بنچ سماعت کررہا ہے۔ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی 9 رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں۔

    عدالتی معاون خالد جاوید خان اس وقت دلائل دے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کا ٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، عدالت اس حد تک ضرور قرار دے سکتی ہے کہ بھٹو کیس غلط طریقے سے چلایا گیا۔

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ بھٹو کیس کے میرٹس پر نہیں جا سکتی۔

    چیف جٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کا پابند ہے۔

    جس پر خالد جاوید نے دلائل دیے کہ سیاسی مقاصد کے علاوہ دیگر معاملات پر عدالت رائے دینے کی پابند ہے۔ اس موقع پر جسٹس منصور کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں عدالت بھٹو کیس میں صرف ٹرائل شفاف ہونے کی حد تک دیکھ سکتی ہے۔

    خالد جاوید خان کا کہنا ہے کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پوری ریاستی مشینری جنرل ضیا الحق کے کنٹرول میں تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس تاریخ کا وہ واحد فوجداری فیصلہ ہے جو 935 طویل صفحات پر مشتمل ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ کیا کبھی اسے بھی طویل فوجداری فیصلہ لکھا گیا ہے تو بتائیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اتنے تفصیلی فیصلے سے لگتا ہے جن ججز نے فیصلہ دیا وہ خود بھی متفق نہیں تھے اس لیے اتنی تفصیل لکھی گئی۔

    خالد جاوید خان نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج آفتاب احمد نے کہا تھا ذوالفقار علی بھٹو اچھے مسلمان نہیں، ایک ہائیکورٹ کے جج کو کسی کے اچھے مسلمان ہونے بارے بات کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ انھوں نے کہا کہ اچھا مسلمان نہ ہونے کی بات بھی سپریم کورٹ کے نوٹس میں آئی۔

    ان کا کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے جج کی آبزرویشن کی نفی نہیں کی، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے جج کی بات کو غلط نہیں کہا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج نے ایسی بات کی تھی جس پر خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ موجود ہے جس میں ہائیکورٹ کے جج کی آبزرویشن کا ذکر ہے۔

  2. پنجاب اسمبلی: وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس شروع، اپوزیشن کا واک آؤٹ

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

    یہ اجلاس سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت ہو رہا ہے۔

    انھوں نے وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کا طریقہ کار ایوان میں بناتا شروع کردیا ہے اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین واک آؤٹ کر گئے ہیں۔

    پانچ منٹ کے لیے گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں تاکہ ایوان سے باہر ممبران ایوان میں آ جائیں۔

    سیکریٹری اسمبلی کے مطابق انتخاب کا عمل شروع کرنے سے قبل تمام دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

    سپیکر نے اپوزیشن ارکان کو منانے کے لیے جانے والے وفد کو واپس بلا لیا ہے اور کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل نہیں آتی تو ہم پھر بھی کارروائی شروع کردیں گے۔

    انھوں نے اسمبلی سٹاف کو کہا کہ ارکان کو ایوان میں بلا کر دروازوں کو لاک کریں۔

  3. پاکستان میں حکومت سازی کی پیش رفت پر سٹاک مارکیٹ میں تیزی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے پہلے ایک گھنٹے میں 741 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس 63600 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ ہفتے کاروبار کا اختتام مثبت انداز میں ہوا تھا اور نئے ہفتے کے آغاز پر بھی اس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ ملک میں انتخابات کے بعد حکومت سازی کی پیش رفت ہے۔ سندھ اور پنجاب میں حکومت سازی کا عمل جاری ہے اور دوسرے صوبوں میں بھی اگلے چند روز میں یہ کام مکمل ہونے جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وفاق میں بھی اگلے چند دنوں میں پیش رفت متوقع ہے تو دوسری جانب آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے اعلان نے بھی سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کو جنم کیا۔

  4. توہینِ مذہب کے کیس میں نظرثانی درخواستوں پر سماعت: ’ہمارے ایمان پر سوال نہ اٹھائیں یہ ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے‘ جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ میں آج توہینِ مذہب کے مقدمے میں نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    جماعت اسلامی کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے بھی اس کیس میں نظرثانی درخواست دائر کی ہے۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کی درخواست ابھی موصول ہوئی، ابھی پڑھی نہیں۔

    شوکت عزیز صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں اس کیس میں عدالت کی درست معاونت نہیں ہوئی اور درست معاونت نہ ہونے پر 6 فروری کے آرڈر میں غلطی ہوئی۔

    شوکت عزیز صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ درخواست گزار نے دفعات حذف کرنے کی استدعا کہیں کی ہی نہیں تھی۔

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ ایک ضمانت کے کیس کا معاملہ تھا؟ اٹارنی جنرل سے عدالت کو بتایا کہ ایک درخواست ضمانت کی تھی ایک فرد جرم میں ترمیم کی۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ہمارے ایمان پر سوال نہ اٹھائیں یہ ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے۔

    اس موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ آئین کے معاملے پر جماعت اسلامی کے وکیل کو سنیں گے اور کیس کے میرٹس پر صرف متعلقہ فریقین کو سنیں گے۔ انھوں نے ریمارکس دیے کہ مختلف مکاتب فکر کے علما اور فریقین کو نوٹس کر دیں تو اچھا نہیں ہو گا؟

    شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ مفتی منیب الرحمان اور دیگر کو نوٹس کر دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو کوئی بھی فیصلے کی حد تک رہنمائی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اور ہم کسی فرد کو نہیں اداروں کو نوٹس کردیتے ہیں پھر وہ جس کو چاہیے بھیج دیں۔

    سپریم کورٹ نے بڑے دینی مدارس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ہے، جن مدارس کو نوٹس جاری کیا گیا ان میں اسلامی نظریاتی کونسل ،دارالعلوم کراچی اور جامعہ نعیمیہ کراچی شامل ہیں۔

    عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی عدالتی فیصلے پر رائے دینا چاہتا ہے تو تحریری طور پر تین ہفتوں میں دے سکتا ہے۔

  5. اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد، ملزمان کی احاطہ عدالت سے گرفتاری روک دی گئی

    اسلام آباد پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے احاطہ عدالت سے ملزمان کو گرفتار نہ کرنے کے ایس او پیز بنا کر آئی جی پولیس کی جانب سے تمام تفتیشی افسران کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے ہدایات جاری کی تھیں کہ انصاف کے حصول کے لیے آئے ملزم کی احاطہ عدالت سے گرفتاری نہ کی جائے۔

    عدالت کو بتایا گیا ہے کہ آئی جی جانب سے ایس او پیز اسلام آباد کے تفتیشی افسران کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

    ایس او پیز کے مطابق انصاف کے حصول کے آئے ملزم کی احاطہ عدالت سے گرفتاری نہیں ہو گی اور صرف عدالتی حکم پر گرفتاری عمل میں لائی جا سکے گی۔

    دہشتگردی، عدالتی وقار، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے گرفتاری کی جا سکے گی۔

    احاطہ عدالت میں قابل دست اندازی جرم کرنے کی صورت میں بھی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی اور ایسی کسی گرفتاری کی صورت میں عدالتی سیکورٹی انچارج کو مطلع کیا جائے گا۔

    ایس پی سیکورٹی ان تمام معاملات میں انچارج ہوں گے اور آئندہ سے کسی قسم کی خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

  6. پنجاب اور سندھ میں وزرائے اعلیٰ کا انتخاب آج ہو گا

    پاکستان میں 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد آج ملک کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ میں وزرائے اعلیٰ کا انتخاب ہونے جا رہا ہے۔

    پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار مریم نواز اور سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب احمد مدمقابل ہوں گے جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مراد علی شاہ اور ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار علی خورشیدی مدِمقابل ہیں۔

    پاکستان میں مرکزی حکومت قائم کرنے کا راستہ زیادہ تر صوبہ پنجاب سے ہو کر گزرتا ہے اور عمومی طور پر جس سیاسی جماعت کو انتخابات میں پنجاب سے برتری حاصل ہو جائے اس کے لیے مرکز کا دروازہ باآسانی کُھل جاتا ہے۔

    پھر مرکز میں بہتر انداز حکومت چلانا بھی کافی حد تک پنجاب میں اقتدار سے جڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنہ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی حکومت بنانے پر زور دیا تھا۔

    حالیہ انتخابات کے بعد پنجاب میں حکومت قائم کرنے کی رسہ کشی تھم جائے گی یا کسی آئینی بحران کا دروازہ اب بھی کُھلا ہے؟

  7. سائفر اور توشہ خانہ مقدمات میں عمران خان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت آج ہو گی

    سائفر اور توشہ خانہ کیسز میں سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت آج 26 فروری کو ہو گی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔ شاہ محمود قریشی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پربھی سماعت ہو گی۔ یہی بینچ سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواستیں بھی سنے گا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت سے دس سال قید اور توشہ خانہ نیب ریفرنس میں احتساب عدالت سے 14 سال قید کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 26 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔

    سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی جبکہ توشہ خانہ ریفرنس میں بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر بھی سماعت ہو گی۔

    تمام سزا یافتہ مجرموں نے سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواستیں بھی دائر کر رکھی ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔

    بانی پی ٹی آئی کی 190ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے بھی بینچ تشکیل دے دیا گیا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔

  8. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت صدارت کے عہدے اور حلف کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے ہیں اورقومی اسمبلی کے اجلاس پر وہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔ اس سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مملکت نے سمری پر اجلاس نہ بلایا تو 29 فروری کو سپیکر آئینی طورپر خود اجلاس طلب کر سکتا ہے۔
    • پاکستان پیپلز پارٹی کے سید اویس قادر شاہ نے سپیکر اور انتھونی نوید نے ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی کا حلف اٹھا لیا ہے۔پنجاب میں ملک احمد خان نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ہونے کے بعد اپنے عہدے کا حلف گذشتہ شب لیا۔
    • گورنر خیبر پختونخوا غلام علی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 28 فروری کو طلب کیا ہے۔ اس افتتاحی اجلاس میں نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔
    • پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے عمران خان کے آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے متعلق موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس خط سے کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر اس کے نتیجے میں ان کی اصلیت پاکستانی عوام کے سامنے آئے گی۔‘
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!

    25 فروری تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں