یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
28 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر 190 ملین پاؤنڈ کیس میں فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم تاہم دونوں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگلے صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 روز کے اندر کروانا لازم ہے جس کے لیے تمام خواہشمند امیدوار آج سے کاغذات نامزدگی حاصل کر سکتے ہیں۔
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
28 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور اس کے نواحی علاقے مسلسل 12 گھنٹے سے زائد کی موسلادھار بارش کی وجہ سے زیر آب آگئے ہیں۔
حق دوتحریک بلوچستان کے سربراہ اور ضلع سے نومنتخب رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ گھروں میں پانی داخل ہونے سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
گوادر شہر سے تعلق رکھنے والے صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ بارش کا سلسلہ علی الصبح شروع ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 12 گھنٹے سے زائد برسنے والی بارش نے پورے شہر کے نظام کو درہم برہم کردیا کیونکہ ملابند، فقیر کالونی سمیت شہر کے بہت سارے علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوا ہے جبکہ دوکانوں کے اندر بھی چار چار فٹ بارش پانی داخل ہوگیا ہے۔
صحافی بہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ گوادر کے مضافات میں سربندن میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جس سے متعدد چار دیواریاں منہدم ہوگئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ماہی گیروں کی متعدد کشتیاں ساحل کنارے کھڑی ڈوب گئیں ۔
گوادر سے نو منتخب رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے بتایا کہ شہر میں ترقی اور نکاسی آب کے نظام پراربوں روپے لگائے گئے لیکن نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے بارش کا پانی باہر جانے کی بجائے گھروں میں داخل ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حق دو تحریک کے چیئرمین حسین واڈیلہ اور رضاکار لوگوں کی ہرممکن مدد کررہے ہیں جبکہ کارپوریشن کا عملہ بھی مصروف عمل ہے تاہم اصل مسئلہ گھروں سے پانی نکالنے کا ہے۔
کمشنر مکران ڈویژن سعید عمرانی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گوادر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے فون پر بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ گھروں کو جُزوی نقصان پہنچا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
کمشنر مکران ڈویژن نے بتایا کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اب تک 20سے 25خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے
نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کا گوادر اور گرد و نواح میں بارشوں اور سیلابی صورتحال پر اظہار افسوس،پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو مربوط امدادی کارروائیوں کی ہدایت کی ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں تاہم رابطہ سڑکیں زیر آب آنے سے ریسکیو کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے نومنتخب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منگل کی شام اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے مراد علی شاہ سے بطور وزیر اعلیٰ حلف لیا۔ حلف برادری کی تقریب گورنر ہاؤس کے سبزہ زار میں منعقد ہوئی جس میں نگران وزیر اعلیٰ سندھ اور نگراں کابینہ کے اراکین نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر مختلف ممالک کے قونصل جنرلز، معروف صنعت کار اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہJUI
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تمام تر ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے اسمبلیاں بھی ان کے مطابق ہوں اور لوگ بھی، ہماری پوزیشن واضح ہے کہ ہم کسی حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔‘
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’میں ابھی بھی سلجھا ہوا اور منجھا ہوا ہوں۔ ہم نے ساری زندگی الیکشن لڑے ہیں، میری یہ داڑھی الیکشن میں سفید ہوئی ہے۔ مجھے 1965 کا الیکشن بھی یاد ہے اور سنہ 1970 کے انتخابات میں تو میں نے اپنے والد کی خود الیکشن مہم بھی چلائی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ الیکشن مہم میں عوام کوپتہ چل جاتا ہے کون جیت رہا ہے اور کون ہار رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق ’یہاں نتائج ایسے لوگوں کے حق میں آئے ہیں جو کہیں نظر ہی نہیں آئے ہیں۔ الیکشن سے دستبردار شدہ لوگ، گھروں میں سوئے ہوئے اس بار کامیاب ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر پی ٹی آئی جیتی ہے تو پھر اسے تسلیم کریں۔ اگر یہ انتخابات شفاف تھے تو تسلیم کریں کہ ایک باغی کو قوم نے مینڈیٹ دیا ہے اور ایک باغی کو وزیراعلیٰ بنانے جا رہی ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان (اسٹیبلشمنٹ) کی مداخلت ہے تو پھر الیکشن کے ہونے اور نہ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سنہ 2018 میں بھی کہتے تھے دھاندلی ہوئی، آج بھی کہہ رہے ہیں دھاندلی ہوئی، آنے والے دنوں میں بتاؤں گا سسٹم کے اندر رہنے والے روئیں گے۔
پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی وفد آیا ہم نے روایات کے مطابق انھیں عزت دی، کوئی ہمارے تحفظات دور کرنے میں سنجیدہ ہو تو سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے وقت بھی کہا تھا کہ مقابلے کا مزہ نہیں آ رہا، ہم خود قید گزار چکے ہیں سیاسی لوگ جیل جاتے ہیں، میں کسی سیاست دان کی قید میں رہنے پر خوش نہیں ہوتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن نے صدرِ پاکستان کے عہدے کے لیے ہونے والے انتخاب میں حصہ لینے کے تمام خواہشمند امیدواروں کو ہدایت کی ہے وہ کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن کے صوبائی اور وفاقی دفاتر سے حاصل کر سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل (4) 41 کے تحت صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 روز کے اندر کروانا لازم ہے۔
الیکشن کمیشن نے مزید وضاحت کی ہے کہ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 91 اور 130 کے تحت تمام اسمبلیوں کی پہلی نشست انتخابات کے 21 روز کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے تو اسی قانون کو سامنے رکھتے ہوئے 29 فروری 2024 تک تمام اسمبلیاں (وفاقی و صوبائی) وجود میں آ جائیں گی اور اس طرح سے صدر کے انتخاب کے لیے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ یکم مارچ 2024 کو صدر پاکستان کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کر دیں گے اور آئین کے تحت کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00 بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔
الیکشن کمیشن نے اس انتخاب میں حصہ لینے کے تمام خواہش مند امیدواران کو کہا ہے کہ وہ آج سے ہی کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے سنیچر کے روز پورے پاکستان میں پُرامن احتجاج کی کال دی ہے۔
پنجاب سے پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما حماد اظہر نے کہا ہے کہ سنیچر کو تمام نومنتخب قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین، ٹکٹ ہولڈرز، تنظیموں کے عہدیدار اور عوام اس احتجاج میں شرکت کریں گے۔
یاد رہے کہ منگل کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے سنیچر کو احتجاج کرنے کی کال دی تھی۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’فارم 47 میں جعلسازی کی پیدوار جعلی حکومت کو عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالنے نہیں دیا جائے گا۔ کمزور اور مصنوعی حکومت کو اب عوام آڑے ہاتھوں لے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہPTI/Twitter
رہنما پاکستان تحریک انصاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے قومی اسمبلی میں سپیکر کے عہدے کے لیے عامر ڈوگر جبکہ ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے جنید خان کو نامزد کیا ہے۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو آخری دم تک اپنے حق کے لیے لڑنا ہو گا۔
یاد رہے کہ عامر ڈوگر حالیہ انتخابات میں ملتان سے قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے ہیں جبکہ جنید خان مالاکنڈ سے منتخب ہوئے ہیں۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’آئندہ وفاقی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی بنے گی۔ ہماری جدوجہد سچائی کے لیے ہے اور اسی لیے پاکستان کی عوام نے ہمیں دو تہائی سے زیادہ اکثریت دی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر 190 ملین پاؤنڈ کیس میں فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم تاہم دونوں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔
منگل کی دوپہر احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اس مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کی۔ سماعت کا آغاز ہونے سے قبل بانی تحریک انصاف عمران خان اور اُن کی اہلیہ کو خصوصی کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
اس کیس کی سماعت کے دوران حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بشریٰ بی بی کو اسلام آباد کے نواحی علاقے بنی گالہ میں واقع سب جیل (سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ) سے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا جبکہ عمران خان پہلے ہی اڈیالہ جیل میں مقید ہیں۔
سماعت کے آغاز کے بعد احتساب عدالت کے جج نے دونوں ملزمان کی موجودگی میں فردِ جرم پڑھ کر سُنائیجس پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت کے احکامات پر فردِ جرم کی کاپیاں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کو بھی دی گئیں۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی اور ایک سینیئر جیل اہلکار کے مطابقاحتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا جب فردِ جرم کو پڑھ کر سنا رہے تھے تو عمران خان روسٹم پر آئے اور انھوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فرد جرم پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اس میں کیا کچھ لکھا ہو گا۔
اس موقع پر عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا نے عدالت سے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کو کو مزید ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کی استدعا کی جسے جج نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ عدالت پہلے ہی ملزمان اور ان کے وکلا کو بہت زیادہ وقت دے چکی ہے۔
صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری (الیکشن کا دن) سے پہلے نیب کو کیسز چلانے اور فیصلہ کرنے میں جلدی تھی مگر اب انھیں جلدی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کیس کا جلد از جلد فیصلہ ہو۔
سینیئر جیل اہلکار کے مطابق دوران سماعت احتساب عدالت کے جج نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خان صاحب یہ بتائیں کہ کیا آپ نے دانتوں کا چیک اپ کروا لیا ہے۔‘ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ’جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو دانتوں کا ڈاکٹر آئے گا، تو پھر ہی چیک اپ ہو گا۔‘
کمرہ عدالت میں موجود جیل کے اہلکار کے مطابق سماعت کے بعد عمران خان نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ سے بڑی چوری اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا کہ سنیچر کو دوبارہ اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کی کال دی جائے گی۔
صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے کہا کہ 20 سیٹیں جتنے والی جماعت کو اقتدار میں لایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اُن کی جماعت نے عام انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں مگر پارٹی کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں نہیں دی جا رہی ہیں۔
عمران خان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ انھیں الیکشن کمیشن سے کسی اچھے کام کی امید نہیں ہے، جبکہ انھوں نے صدر عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے متعلق بھیجی گئی سمری کو مسترد کرنے کے اقدام کو بھی مستحسن قرار دیا ہے۔
سابق وزیر اعظم سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ وہ ماضی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو بُرے القابات سے پکارتے تھے مگر اب تحریک انصاف ان سے سیاسی اتحاد قائم کرنے کا تاثر دے رہی ہے۔ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ صرف ن لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے خلاف ہیں کیونکہ ان جماعتوں کو، عمران خان کے بقول، دھاندلی کر کے جتوایا گیا۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دھاندلی کروا کر ہرائی جانے والی تمام جماعتوں کو اکھٹا کیا جا رہا ہے تاکہ مل کر اِن انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج کیا جائے۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اُن کی جانب سےآئی ایم ایف کو خط لکھنے کے معاملے کو’غداری‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ تو جیل میں ہیں اور وہ جیل کے باہر کوئی چیز نہیں بھیج سکتے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو لکھا جانے والا خط انھوں نے ڈکٹیٹ کروایا تھا۔ جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ خط آئی ایم ایف کو بھجوادیا گیا ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد آج ائی ایم ایف کو خط بھیج دیا جائے گا۔
بعدازاں 190 ملین پاؤنڈ کیس کے پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان اور بشری بی بی اور دیگر کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کا ریفرنس 2023 میں دائر کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں استغاثہ کے 58 گواہان ہیں، جن میں سے پانچ گواہان کو اگلی سماعت پر بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا گیا ہے اور اس مقدمے کی اگلی سماعت 6 مارچ کو ہو گی۔
نیب کی طرف سے دائر کیے گئے اس ریفرنس میں نجیہاؤسنگ سوسائٹی ’بحریہ ٹاؤن‘ کے مالک ملک ریاض اور اُن کے بیٹے علی ریاض بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں تاہم عدم پیشی کی بنا پر عدالت پہلے ہی انھیں اشتہاری قرار دینے کے ساتھ ساتھ اُن کے نام پر موجود منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادوں کو سیل کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ سردار مظفر عباسی کے مطابق اس کسی میں جن ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی جاری ہے۔
اس مقدمے کے دیگر ملزمان میں سابق مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر، سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری، فرحت شہزادی اور ضیا المصطفی نسیم شامل ہیں جن کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی احتساب عدالت سے جاری ہو چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران جھڑپ میں سپریٹینڈنٹ پولیس ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پولیس کے مطابق اس کارروائی میں شدت پسندوں کے دو اہم کمانڈر ہلاک ہوئے ہیں۔
ضلع پولیس افسر مردان نجیب اللہ کے مطابق پولیس کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کاٹلنگ کے علاقے میں بائیزیی کے مقام پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے محسن قادر گروپ موجود ہے جس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ۔
یہ کارروائی منگل اور پیر کے درمیانی شب کی گئی جس کی قیادت ایس ایس پی اعجاز خان کر رہے تھے۔
اس جھڑپ میں ایس ایس پی اعجاز خان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ڈی ایس پی سمیت دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔
ڈی پی او کے مطابق اس کارروائی میں ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر محسن قادر سمیت دو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور اس علاقے میں شدت پسند متحرک ہیں۔
اس کے علاوہ یہاں پشاور میں بھی دو مشتبہ موٹر سائیکل سواروں نے پولیس پر فائرنگ کی ہے جس میں ایک پولیس اہلکار قیصر خان ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔
یہ واقعہ تھانہ پھندو کی حدود میں پیش آیا ہے ۔ پولیس کے مطابق ابابیل سکواڈ کے اہلکار معمول کی ڈیوٹی پر تھے جب مشتبہ موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن نہ رکنے پر اہلکاروں نے مشتبہ افراد کا پیچھا کیا جس پر موٹر سائکل سواروں نے پولیس پر فائرنگ کی ہے ۔
اس واقعہ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کا اعلان کیے بغیر اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ’پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر قانونی طریقے سے کیا گیا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس غیر قانونی طریقے سے چلایا گیا۔ اگر قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جاتا ہے تو یہ بھی غیر قانونی ہوگا کیونکہ اسمبلیوں کا اجلاس تمام اراکین کے مطلع ہونے کے بعد بلایا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس کا نوٹس لے اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی نئی پارٹی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں الاٹ کرے۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے صحافی اسد طور کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
ایف آئی اے نے صحافی اسد طور کو اسلام آباد کچہری میں جوڈیشنل مجسٹریٹ محمد شبیر کی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔
اسد طور نے اس دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں صحافی ہوں اپنا موبائل فون نہیں دے سکتا۔ میں ایف آئی اے کے سامنے دو بار پیش ہوا اور 24 فروری کو بائے ہینڈ نوٹس موصول کیا۔‘
وکیل صفائی نے اس دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کال اپ نوٹس کے خلاف ہائیکورٹ گئے اور 26 فروری کو ہم ساڑھے چار بجے ہائیکورٹ کا آرڈر لے کر ایف آئی اے آفس پہنچے تھے۔
’ہم نے ایف آئی آر اور جو الزامات ہیں ان کا پوچھا۔‘
اسد طور کے وکلا نے اس موقع پر ملاقات کی اجازت مانگی جو انھیں دے دی گئی۔ دوسری جانب ایف آئی اے نے صحافی اسد طور کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد اسد طور کا پانچ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی ہو گئی ہے۔
دورانِ سماعت وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے درخواست دی، کیا دوسری جماعتیں سنی اتحاد کونسل کی نشستیں لینا چاہتی ہیں؟
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہماری مخصوص سیٹیں لینا چاہتی ہے تو سامنے آئے، اس پر وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کو چیلنج کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنی چاہییں یا نہیں؟
وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ رکی ہوئی مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی، ن لیگ کو دینے کی درخواست کی ہے۔
وکیل اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے آخری تاریخ تک الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے لیے کوئی فہرست ہی جمع نہیں کرائی، جب فہرست ہی جمع نہیں کرائی تو سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں کیسے دی جاسکتی ہیں؟
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کے معاملے پر تمام فریقین کو سنے گا۔ وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو آئین، قانون اور انصاف کے مطابق مخصوص نشستیں ملنی چاہییں۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل قومی اسمبلی میں ایک نشست بھی حاصل نہیں کرسکی اور عوام نے الیکشن میں سنی اتحاد کونسل کو مسترد کردیا، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایسی پارٹی میں آزاد ارکان کو اکٹھا کر کے کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟
ممبر اکرام اللہ خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی درخواست ہے کہ مخصوص نشستیں ان میں تقسیم کی جائیں۔
اس پر علی ظفر کا کہنا تطا کہ تمام درخواستوں کی کاپیاں دی جائیں، کل دلائل دے دوں گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہی نہیں تو مخصوص نشستیں کیسے دی جاسکتی ہیں؟
اس پر الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ یہ تمام معاملات فیصلے کے لیے الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیں۔
وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر تمام پارلیمانی جماعتوں کو فریق بنا کر نوٹسز جاری کرے اور الیکشن کمیشن تمام پارلیمانی جماعتوں کو بلا کر سنے۔
اس کے ساتھ ہی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔
سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت اور خصوصی نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کے خلاف چھ درخواستوں پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن سماعت کر رہا ہے۔
رہنما ن لیگ اعظم نذیر تارڑ، عطا اللہ تارڑ، اقبال ظفر جھگڑا، کیپٹن صفدر، فاروق نائیک، بابر اعوان، بیرسٹر گوہر، بیرسٹر علی ظفر، فروغ نسیم کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔
بیرسٹر علی ظفر نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ ہم نے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کی درخواست دی تھی، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ درخواست گزار کس لیے آئے ہیں۔
جس پر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم ان مخصوص نشستوں کے لیے آئے ہیں جو ابھی تک الاٹ نہیں کی گئیں۔ فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ بطور جماعت کیا سنی اتحاد کونسل کا مخصوص نشستوں کا استحقاق ہے یا نہیں۔
اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم ذاتی حیثیت میں نہیں بطور سیاسی جماعت آئے ہیں، اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ان جماعتوں کا کیا مسئلہ ہے؟
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی درخواستیں آئیں جنھیں سننا ضروری ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایسی پارٹی مخصوص نشستوں کا دعویٰ کر رہی ہے جو ایک بھی جنرل نشست نہیں جیتی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اعظم نذیر تارڑ ہمارے 86 آزاد ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے 81 آزاد امیدواروں کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کیا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہماری درخواست سب سے پہلے آئی لیکن ہمارے خلاف درخواستوں کو پہلے سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے تمام درخواست گزاروں کی درخواستوں کی کاپی سنی اتحاد کونسل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن قومی و صوبائی اسمبلیوں میں آنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو سنے، یہ ایک آئینی و قانونی سوال ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اتحاد کونسل کے اعتراضات پر کمیشن آج حکم نامہ جاری کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہasad toor
ایف آئی اے کی جانب سے صحافی اسد طور کے خلاف پیمرا ایکٹ 2016 کے تحت درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر اور مذموم مقاصد کے تحت اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاکستان کے سرکاری ملازمین، افسران اور ریاستی اداروں کے خلاف عوامی سطح پر بدنیتی پر مبنی اور جھوٹی مہم شروع کی اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست مخالف سرگرمیوں کو بڑھاوا دیا۔
اسد طور پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کی ٹویٹس میں شئیر کیا گیا مواد گمراہ کن ہے جس کا مقصد حکومت اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، عدم تحفظ کا احساس اور عوام کو سرکاری ملازمین اور پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف تشدد پر اکسانا شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق دائر درخواست کی سماعت اوپن کورٹ میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ پیر کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت آج منگل کے روز الیکشن کمیشن میں کرے گا۔
الیکشن کمیشن 23 مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست کی سماعت کرے گا۔
اس ضمن میں ایک اور درخواست بھی الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو الاٹ کی جائیں کیونکہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی درخواست جمع نہیں کروائی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کمیٹی فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس ان ایشیا (سی پی جے) نے پاکستانی حکومت سے صحافی اسد طور کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے اسد طور کو ان کے پیشہ ورانہ صحافتی ذمہ دارویوں کے لیے ہراساں کرنا بند ہونا چاہیے۔
سی پی جے کے پروگرام ڈائریکٹر کارلوس مارٹینیز ڈی لا سرنا نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی صحافی اسد علی طور کی گرفتاری سے ہم حیرت زدہ ہیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو قوم پرست رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور سردار اخترمینگل سے ملاقات کی ہے۔
دونوں قوم پرست رہنماؤں سے سابق سپیکر اسد قیصر اور بیرسٹر سیف نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ملاقات کے بعد بی این پی کے سربراہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے انھیں بتایا کہ وہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ہدایت پر ملاقات کرنے آئے ہیں۔
'تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بتایا کہ انھیں خان صاحب نے دھاندلی سے متائثر ہونے والی جماعتوں سے رابطہ کرنے کے لیے کہا ہے تاکہ دھاندلی کے خلاف تمام جماعتیں ایک صفحے پر ہوں'۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بتایا کہ ہمارے ساتھ تو دھاندلی ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے انھیں بتایا کہ ہم ان کی تجویز کو چار جماعتی اتحاد کے سامنے پیش کریں گے کیونکہ ہم پہلے ہی دھاندلی کے خلاف چار جماعتی اتحاد کا حصہ ہیں۔
'چار جماعتی اتحاد کا اس حوالے سے جو فیصلہ ہوگا اس سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو آگاہ کیا جائے گا'۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال تحریک انصاف کے رہنماؤں نے صرف دھاندلی کے معاملے پر بات کی۔
پاکستان میں صحافی اسد طور کی وکیل ایمان حاضر مزاری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایف آئی اے حکام نے یہ تصدیق کی ہے کہ اسد طور کو انھوں نے گرفتار کر لیا ہے تاہم انھوں نے مقدمے کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔
ایمان مزاری کے مطابق پیر کی سہہ پہر چار بجکر 46 منٹ پر اسد طور ایف آئی اے کے دفتر میں پیش ہونے کے لیے اندر گئے مگر پھر رات تقریباً سوا نو بجے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی۔
ایمان مزاری کے مطابق اسد طور نے ایک کاغذ پر چند نوٹس لکھ کر بھیجے جس میں انھوں نے اپنی ضعیف ماں کا خیال رکھنے کے بارے میں درخواست کی ہے۔
بلوچستان کے ضلع قلات میں پیر کی شب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک ہندوتاجر ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔
قلات پولیس کے ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ ’شراب‘ کی دوکان پر کی گئی۔
پولیس اہلکار کے مطابق فائرنگ سے ہندوتاجر لیلا رام ہلاک ہوگیا جبکہ کرتن کمہار زخمی ہوگیا جنہیں طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اہلکار کے مطابق حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے کے محرکات کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات جاری ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نومنتخب قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے متعلق وفاقی حکومت کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری کو بنا منظور کیے واپس بھیج دیا ہے۔
ایوان صدر کے ایک سینیئر اہلکار نے نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر مملکت نے اِس بنیاد پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی سمری منظور نہیں کی کیونکہ ابھی تک الیکشن کمیشن کی جانب سے سُنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی گئیں ہیں، چنانچہ تکنیکی اعتبار سے یہ ایوان ابھی نامکمل ہے۔
دوسری جانب نگراں وفاقی حکومت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے اس پیش رفت کے بعد نگراں وزیر اعظم ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی سمری صدر مملکت کو بھجوائیں گے اور اگر ایوان صدر سے دوبارہ ایسا ہی ردعمل آتا ہے تو پھر آئین کے تحت قومی اسمبلی کے سپیکر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سُنی اتحاد کونسل کی طرف سے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے دائر کردہ درخواست پر 27 فروری (کل) کی صبح دس بجے اوپن کورٹ میں سماعت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کا پانچ رکنی بینچ اس درخواست پر سماعت کرے گا اور سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں کو بھی رسائی دی جائے جو دلائل اور ریمارکس کی کوریج کر سکیں گے۔
اس صورتحال میں پاکستان کے سوشل اور روایتی میڈیا پر یہی بحث جاری ہے کہ اگر صدر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کرتے تو آگے کیا ہو گا اور کیا سپیکر قومی اسمبلی قانون کے مطابق یہ اجلاس طلب کرنے کے مجاز ہیں؟
بی بی سی نے انہی سوالات کے جواب جاننے کے لیے چند ماہرین قانون سے بات کی ہے۔
سابق وزیر قانون خالد رانجھا نے بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اِس وقت ایک پارٹی کی لائن پر چل رہے ہیں اور اُمور مملکت کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں تاہم، اُن کے مطابق، صدر مملکت کے پاس یہ آئینی اختیارات موجود ہیں کہ وہ اس سمری پر فیصلہ کرنے کی ضمن میں اپنا وقت لیں، اسے مسترد کریں یا منظور کیے بغیر واپس بھیج دیں۔
خالد رانجھا کے مطابق سپیکر کے پاس ایسے کوئی آئینی اور قانونی اختیارات نہیں ہیں، کہ وہ صدر کے ہوتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر سکیں۔
خالد رانجھا کے مطابق مخصوص نشستوں کے لیے سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کی طرف سے دی جانے والی ڈیڈ لائن میں فہرست جمع کراتی ہیں تاہم ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ابتدائی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں کو دی گئیں۔ خالد رانجھا نے کہا کہ مگر یہ الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے کہ وہ اس بار کیا فیصلہ کرتا ہے۔
خالد رانجھا کے مطابق جب ادارے کسی جماعت کو رعایت دینا چاہیں تو پھر اس کے لیے بھی گنجائنش نکال لی جاتی ہے اور اگر کسی خاص جماعت سے اچھا تجربہ نہ رہا ہو تو پھر سختی سے ایک ضابطہ کار پر ہی عملدرآمد کیا جاتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان انتخابات میں متعدد ایسے مواقع آئے کہ جو اپنی نوعیت کے ایسے واقعات تھے کہ جن سے اس سے قبل الیکشن کمیشن کو واسطہ نہیں پڑا۔
الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق صدر مملکت کا اختیار ہے کہ وہ اجلاس طلب کریں، تاہم اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر آئین خاموش ہے اور سپیکر کو بھی کہیں اس طرح کا اجلاس طلب کرنے کی اجازت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مخصوص نشستوں سے متعلق ایسا تنازع بھی کھبی پیدا نہیں ہوا جو اس دفعہ سامنے آیا ہے۔ یوں یہ صدر مملکت کی طرف سے اپنی نوعیت کا پہلا اعتراض ہے کہ اس وقت قومی اسمبلی کی کمپوزیشن ہی مکمل نہیں ہے۔
اُن کے مطابق 27 فروری کو اب الیکشن کمیشن اس پر حتمی فیصلہ دے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 91 کی شق دو کے تحت قومی اسمبلی کو عام انتخابات کے دن کے بعد سے 21 دن کے اندر اجلاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس شق کے تحت صدر پہلے بھی اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔
شیری رحمان کے مطابق اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ صدر کے آئین کے آرٹیکل 54 کی شق ایک کے تحت قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے لیے اختیارات کی 21 دن تک کی حد ہے۔
صدر اجلاس بلانے سے متعلق کوئی شرائط نہیں عائد نہیں کر سکتے۔