آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے کہ پاکستان سے بات چیت الیکشن میں دھاندلی کے آڈٹ سے مشروط ہونی چاہیے: بیرسٹر علی ظفر

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ عمران خان آئی ایم ایف کو خط میں لکھیں گے کہ اگر آئی ایم ایف نے پاکستان سے کوئی بات چیت کرنی ہے تو پہلے وہ یہ شرط واضح کر دے کہ جن حلقوں میں دھاندلی ہوئی، ان میں آڈٹ ہو۔ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف نے تین مارچ کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا اعلان کیا ہے اور عمران خان نے بیرسٹر علی ظفر کو پارٹی کی چیئرمین شپ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کیا غیر ملکی برانڈز کے بائیکاٹ سے کچھ فرق پڑتا ہے؟

  2. دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، خیبرپختونخوا میں حکومت بنا کر اداروں سے تعلقات بہتر کریں گے: تیمور جھگڑا, اعظم خان، بی بی سی اردو

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر خـزانہ تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

    ان کے مطابق پانچویں نمبر والے امیدوار کو بھی پہلا نمبر دیا گیا ہے۔ تیمور جھگڑا کے مطابق ’مجھے انتظامیہ نے ریٹرنگ آفیسر (آر او) کے دفتر میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جبکہ آر او نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ نتائج میرے سامنے مرتب کیے گئے ہیں۔‘

    تیمور جھگڑا نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے نو منتخب ارکان صوبائی اسمبلی کے ہمراہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندہ کے سامنے خیبرپختونخوا میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف دستاویزات پیش کیں اور کہاں کہ یہ وہ ثبوت ہیں جنھیں عدالت نے الیکشن کمیشن کو فیصلے کے لیے بھیجا مگر کمیشن ہے کہ فیصلہ کرنے سے انکاری ہے۔

    تیمور جھگڑا کے مطابق خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی 115 نشستوں میں سے تحریک انصاف کے امیدواروں کو 93 پر کامیاب قرار دیا گیا ہے جبکہ 16 سے 17 ایسی نشستیں ہیں، جہاں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو دھاندلی سے ہرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق نو فروری سے 14 فروری تک آر آوز اپنے دفاتر میں دستیاب ہی نہیں تھے۔

    ان کے مطابق تحریک انصاف نے صوبے سے قومی اسمبلی کی 45 نشستوں میں سے 42 جیتیں ہیں جبکہ تحریک انصاف کو تمام نشستیں نہیں دی گئیں۔

    خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں باجوڑ کی ایک قومی اسملبی کی نشست پر انتخابات منعقد نہیں ہوئے ہیں۔ تیمور جھگڑا کے مطابق تحریک انصاف کے ساتھ قومی اسمبلی کی جن پانچ نشستوں پر دھاندلی ہوئی اس کے بھی ثبوت ان کے پاس موجود ہیں۔

    تیمور جھگڑا کی رائے میں اس وقت وفاقی حکومت کی قانونی حیثیت خود مشکوک ہے اس وجہ سے صرف جوڈیشل کمیشن کے ذریعے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کروائی جا سکتی ہیں کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے دھاندلی شدہ انتخابات ہیں۔

    تیمور جھگڑا نے بتایا کہ انھیں دھاندلی کے باوجود خیبرپختونخوا سے دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے اور اب صوبے میں حکومت بنا کر ملکی اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق ملکی مفاد میں وفاقی حکومت سمیت تمام اداروں سے تعاون جاری رکھیں۔

    آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ اس پروگرام پر عملدرآمد ان کے صوبے نے کیا ہے جس کا خود آئی ایم ایف نے بھی اعتراف کیا ہے۔ ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جب وفاقی حکومت نئے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط سے متعلق ان کی صوبائی حکومت سے رابطہ کرے گی تو پھر ہی اس پر مؤقف دیا جا سکے گا۔

    تیمور جھگڑا نے بی بی سی کے ایک سوال پر بتایا کہ علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ کے لیے ہر کسی کو اس وجہ سے قابل قبول ہیں کہ ان کے نام کی منظوری خود عمران خان نے دی ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی فیصلہ عمران خان کر دیں تو پھر اس میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ ہم سب اس فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کی کون سی نشستوں پر دھاندلی کا دعویٰ کیا ہے؟

    تیمور جھگڑا نے دعویٰ کیا ہے کہ جن حلقوں میں دھاندلی کی گئی ہے ان کے 90 فیصد سے زائد فارم 45 ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کے مطابق آٹھ حلقوں میں آر اوز نے لفظ بہ لفظ ایک ہی طرح کا فیصلہ لکھا ہے، جسے انھوں نے ’کاپی پیسٹ‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ صوبے کی نو نشستوں پر نتائج اس طرح کے بدلے گئے کہ ایسا سنہ 1985 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے نور عالم نے پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 28 سے صرف 39709 ووٹ حاصل کیے مگر ان کے ووٹ بڑھا کر 138389 کر دیے گئے اور یوں ان کی شکست کو جیت میں بدل دیا گیا۔

    تیمور جھگڑا کے مطابق سنہ 2024 کے انتخابات ماضی کے تمام انتخابات سے متخلف ہیں۔ انھوں نے فارم 45 میں بھی ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا ریکارڈ بھی شیئر کیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ وہ ایسے ثبوت ہیں کہ جس پر تمام تر کوششوں کے باوجود الیکشن کمیشن نے کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے پاس سب سے زیادہ 93 نشستیں ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کے بعد تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں حاصل ہو سکیں گے یا نہیں۔

  3. پیپلز پارٹی کی حمایت یافتہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو کیا ایک کٹھن سفر کا سامنا رہے گا؟

  4. پنجاب کے عوام نے واضح مینڈیٹ دیا ہے، خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کریں گے: مریم نواز

    جاتی امرا میں نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام نے ن لیگ کے عوام کو واضح مینڈیٹ دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس بار پنجاب سے بہت بڑی تعداد نوجوان ایم پی ایز کی ہے۔ ان کے مطابق ان نوجوان ایم پی اے کے منتخب ہونے پر بہت خوشی ہے۔

    ان کے مطابق یہ ایک مشکل الیکشن تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کریں گے۔

    مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب میں ترقی کی بنیاد 80 کی دہائی میں نواز شریف نے رکھی ہے۔ ان کے مطابق پھر اس سفر کو آگے شہباز شریف نے بڑھایا ہے۔

    مریم نواز کے مطابق دوسرے صوبے بھی یہ خواہش کرتے ہیں کہ ان کے پاس شہباز شریف کی طرح کا کوئی وزیراعلیٰ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ترقی تب ممکن ہو سکی کیونکہ یہ کام کسی نے یہاں کیے ہیں۔

    مریم نواز نے پنجاب میں گورننس سے متعلق اپنی ترجیحات بھی شیئر کی ہیں۔

  5. جج مستعفی ہو بھی جائے تب بھی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نہیں رکے گی: سپریم کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ نے حکومت کی طرف سے شہر بانو کے مقدمے میں نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران اعلیٰ عدلیہ کا کوئی جج مستعفی ہوجائے تو سپریم جوڈیشل کونسل اس مستعفی ہونے والے جج کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔

    جسٹس امن الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے سے اختلاف کرنے والے جسٹس اظہر حسن رضوی ہیں۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’جب سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے تو استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ پر کارروائی ختم نہیں ہو سکتی۔

    سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد حال ہی میں مستعفی ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو کارروائی کرنے کا اختیار بھی مل گیا ہے۔

    سپریم جوڈیشل کونسل نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر مستعفی ہونے والے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی تاہم وہ اس دوران ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

    سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ شہر بانو کی درخواست پر سپریم کورات کے دو رکنی بینچ کا وہ فیصلہ تھا، جس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اگر کوئی جج مستعفی ہو جائے یا ریٹائرمنٹ لے لے تو سپریم جوڈیشل کونسل اس جج کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی۔

    سپریم کورٹ کے اس دو رکنی بینچ میں جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی شامل تھے۔ دونوں جج صاحبان نے کچھ عرصہ قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

    شہر بانو نے یہ درخواست اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف دی تھی لیکن چونکہ چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ ہوتا ہے اس لیے اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی، جس پر انھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس پر دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا۔

    عدالتی سماعت کا احوال

    اس سے پہلے نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیے اور اپنے دلائل میں انھوں کے کہا کہ جج کے دوران سروس کیے گئے ’مِس کنڈکٹ‘ پر کارروائی کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کا ہی اختیار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدلیہ،عوام اور حکومت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتی ہے اور عدلیہ بنیادی حقوق کی ضامن ہے اس لیے اسے آزاد ہونا چاہیے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے ججز کا احتساب لازم ہے اور اگر احتساب سے اعتراض برتا جائے تو اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو خود متحرک ہونا چاہیے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 209 کے تحت ججز کے خلاف انکوائری کا اختیار صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کریں تو ضروری نہیں کہ ان کی برطرفی کی سفارش کی جائے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جج ذہنی بیماری میں مبتلا ہو تو اس کا علاج ممکن ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جن بیماریوں کا علاج ممکن ہے ان کی بنیاد پر کونسل جج کو کچھ عرصے کی رخصت دے سکتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ اسے برطرف کردے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وقت کی پابندی نہ کرنے پر جج کے خلاف شکایت ہو تو کونسل برطرفی کے بجائے تنبیہ کر سکتی ہے، اور کونسل کے سامنے شکایت آ جائے تو اس پر کوئی نہ کوئی رائے دینا لازم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جج ریٹائرمنٹ کے بعد چیف الیکشن کمشنر، شریعت کورٹ کے ججز یا ٹریبیونلز جیسے آئینی عہدوں پر مقرر ہوتے ہیں اور ضروری ہے کہ جج کے اوپر لگے الزام پر کونسل اپنی رائے دے تاکہ آئینی عہدوں پر تعیناتی ہو سکے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ججز کا احتساب ہونا چاہیے لیکن اس احتساب سے سپریم کورٹ کا وقار کم نہ ہواور ججز کے خلاف کارروائی کوئی اور ادارہ نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ جج کے خلاف کارروائی اس کے حاضر سروس ہونے کے دورانیے سے متعلق شکایت پر ہو سکتی ہے، اور عوامی اعتماد کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو شفافیت سے کام کرنا چاہیے۔

    بینچ میں موجود جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مثال موجود ہے کہ ایک جج کے خلاف آرٹیکل 209 کی کارروائی شروع کی گئی اور ان کے استعفیٰ پر ختم کر دی گئی۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ سنہ 2019 کا ہے تو اٹارنی جنرل آفس نے پانچ سال تک کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا۔

    جسٹس کمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کسی جج کے خلاف کارروائی دوبارہ کرنی ہے یا نہیں یہ فیصلہ کونسل کا ہوگا۔

  6. پاکستان میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی مکمل اور شفاف تحقیقات چاہتے ہیں: امریکہ

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات میں 'مداخلت اور فراڈ کے دعووں' کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔

    ایک پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں 'مداخلت اور فراڈ کے دعووں کی پاکستان کے قوانین اور طریقہ کار کے تحت مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔'

    میتھیو مِلر کا مزید کہنا تھا کہ 'میں سفارتی بات چیت پر بات نہیں کروں گا لیکن ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ ہم بے ضابطگیوں اور بے ضابطگیوں کے دعووں کی مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں۔'

    خیال رہے پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ دھاندلی کے ذریعے ان کو جیتی ہوئی نشستوں پر ہروایا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے ملک میں مخلوط حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتحادی جماعتوں کے مطابق ان کے وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف جبکہ صدرِ پاکستان کے امیدوار آصف علی زرداری ہوں گے۔

  7. القادر ٹرسٹ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواستِ ضمانت سماعت کے لیے منظور کر لی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی درخواستِ ضمانت سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

    عدالت کی جانب سے درخواستِ ضمانت پر سماعت کے لیے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل دو رُکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رُکنی بینچ 26 فروری کو عمران خان کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

    خیال رہے احتساب عدالت نے اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی اور وہ اس کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

    القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔'

    حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔

    جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

  8. بلوچستان اسمبلی میں مزید پانچ اراکین نے پی پی پی اور ن لیگ میں شمولیت اختیار کرلی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر کامیاب ہونے والے آزاد اراکین نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

    پانچ اراکین میں سے تین نے پاکستان پیپلز پارٹی اور دو نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔

    پانچ آزاد اراکین میں سے ولی محمد نورزئی اور کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی نے پاکستان مسلم لیگ ن جبکہ بخت محمد کاکڑ، لیاقت لہڑی اور اسفندیار کاکڑ نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

    ان آزاد اراکین کی شمولیت کے بعد بلوچستان اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 13، 13 ہوگئی ہے۔

    تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت سازی کے لیے ایک اور آزاد رکن مولوی نوراللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    مولوی نوراللہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی جماعت میں شامل نہیں ہوں گے تاہم وہ حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں گے۔

    جمیعت علما اسلام کی بلوچستان اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 10 ہے۔

    جمیعت علما اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ پارٹی مجلس عمومی کے اجلاس کے بعد بلوچستان میں حکومت بنانے یا کسی حکومت کا حصہ بننے یا نہ بننے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کی تعداد چار ہے۔ تاہم قلات اور منگیچر سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدوار میر ضیاء اللہ لانگو کی کامیابی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تنازع کے باعث ان کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو روک دیا گیا ہے۔

    نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی تعداد تین اور عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد دو ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی، حق دو تحریک، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور جماعت اسلامی کے اراکین کی تعداد ایک، ایک ہے۔

    خصوصی نشستوں کو ملا کر بلوچستان اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 65 ہے، جس میں سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔

    حالیہ انتخابات کے بعد بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ تاہم مخلوط حکومت کے قیام کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن بلوچستان کے صدر شیخ جعفر مندوخیل نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کی جماعت صوبے میں آسانی کے ساتھ اپنا وزیر اعلیٰ لاسکتی ہے، تاہم انھیں اس سلسلے میں پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلے کا انتظار ہے ۔

    سینیئر تجزیہ کار رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بلوچستان میں اپنا وزیراعلیٰ لانے کے حوالے سے زیادہ پر اعتماد ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وفاق میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان مسلم لیگ ن کو جو شرائط پیش کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ بلوچستان میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو دیا جائے گا۔

  9. پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید عدالت میں سرینڈر، 13 مارچ کو فرد جرم عائد ہو گی

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید عدالت میں سرینڈر ہوگئے ہیں۔

    عدالت نے ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے 13 مارچ کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

    فیصل جاوید کے خلاف توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے متعدد مقدمات تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج ہیں، مسلسل عدم پیشی پر عدالت نے فیصل جاوید کو اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع کر رکھی تھی، تاہم اب سینیٹر فیصل جاوید نے خود کو عدالت کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

    سینیئر سول جج قدرت اللہ نے مقدمے کی سماعت کی، عدالت نے فیصل جاوید کے خلاف اشتہاری قرار دیے جانے کی کارروائی روکتے ہوئے وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیے۔

    عدالت نے بتایا کہ آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی ہوگی۔

  10. اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بیرون ملک جانے سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کے خلاف توہینِ عدالت کی سماعت جاری ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

    دورانِ سماعت ڈی سی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کو بتایا کہ وہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے کوئی ردعمل نہیں دیا اور کہا کہ انھیں جو دوسرا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اس کا جواب 26 فروری تک جمع کروائیں۔

    جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ عدالت اگلے ہفتے توہین عدالت سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سنائے گی۔

  11. ڈی سی اسلام آباد کا جسٹس بابر ستار پر اعتراض، کیس دوسرے بنچ کو منتقل کرنے کی استدعا کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کے خلاف توہینِ عدالت کی سماعت جاری ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے جسٹس بابر ستار پر اعتراض کرتے ہوئے کیس دوسرے بنچ کو منتقل کرنے کی استدعا کر دی ہے تاہم جسٹس بابر ستار نے استدعا مسترد کر کے دلائل دینے کا حکم دیا ہے۔

    انھوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اب بنچ آپ کی مرضی سے بنیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسکو ڈراماٹائز کرنے کی ضرورت نہیں ہے، دلائل دیں۔

    ڈی سی اسلام آباد کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جسٹس بابر ستار ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے ایم پی او آرڈر جاری کرنے میں کوئی بدنیتی نہیں، جس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ سولہ مئی کو پہلا ایم پی او آرڈر کاالعدم قرار دیا گیا اور اس کیس میں شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی ایم پی او آرڈر جاری کیے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتی ہے کہ آرڈر درست نہیں۔

    جسٹس بابر ستار ے ریمارکس دیے کہ جب ہم نے ان کی ایم پی او آرڈر جاری کرنے کی پاور ختم کی تو یہ رکے۔

    اس پس راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیے کہ اگر یہ آرڈر پاس نا کرتےاور امن و امان کی ایسی صورتحال ہوتی کہ کوئی جان چلی جاتی تو اس صورت میں عدالت نے ہی کہنا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔ انھوں نے دلائل دیے کہ رپورٹس کے مطابق شہریار آفریدی جیل میں ہوتے ہوئے احتجاج کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

    راجہ رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی رپورٹ پر ایم پی او آرڈرز جاری کئے گئے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی میں آئی ایس آئی ، آئی بی ، ایم آئی، ٹرپل ون بریگیڈ اور پولیس کے نمائندگان شامل تھے۔ انھوں نے دلائل دیے کہ ڈی سی راولپنڈی کا یہاں پیش نا ہونا انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھا اور ان کا کوئی ایسا ارادہ نہیں تھا کہ عدالت کی اتھارٹی کو انڈرمائن کرتے۔

    راجہ رضوان عباسی نے عدالت سے استدعا ہے کہ توہین عدالت کا کیس خارج کیا جائے۔

    اس کے ساتھ ہی ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کے وکیل شاہ خاور نے دلائل کا آغاز کیا ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ پولیس کے پاس تو انفارمیشن ہو گی کہ شہریار آفریدی نے جیل میں بیٹھ کر کس کو اشتعال دلایا؟ انھوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ان لوگوں کے خلاف بھی ایم پی او جاری کرنے کی سفارش کی؟

    کیل شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ ہمارا فوکس لیڈرشپ پر تھا۔

    اس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ ایک بندہ پہلے ہی جیل میں ہے تو اس کے ساتھ کیا کریں گے؟ دوبارہ جیل میں ڈالیں گے؟ جسٹس بابر ستار نے وکلا کو ہدایت کی دیا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی کمپوزیشن اور ٹی او آرز جمع کرائیں۔

  12. بریکنگ, عام انتخابات کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست خارج، درخواست گزار بریگیڈیئر (ر) علی پر جرمانہ

    سپریم کورٹ نے اس ماہ 8 تاریخ کو ہونے والے عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔

    عدالت نے درخواست گزار بریگیڈیر ریٹائرڈ علی خان کی عدالت میں عدم پیشی کی بنا پر ان پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

    درخواست گزار علی خان جو کہ درخواست کے مطابق ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہیں گذشتہ سماعت پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو حکم دیا تھا کہ وہ درخواست گزار کو پکڑ کرعدالت میں پیش کریں اور اس کے علاوہ رجسٹرار آفس سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ درخواست گزار سے رابطہ کرے۔ تاہم درخواست گزار سابق بریگیڈیئر علی خان آج بھی پیش نہ ہو سکے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ علی خان کے گھر پولیس بھی گئی اور وزارت دفاع کے ذریعے نوٹس بھی بھیجا، مگر وہ گھر پر نہیں تھے۔

    اس موقع پر چیف جسٹس نے درخواست گزار کی ای میل عدالت میں پڑھ کر سنائی جس میں انھوں نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی ہے، علی خان نے لکھا ہے کہ بیرون ملک ہونے کے وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عجیب بات ہے درخواست دائر کی اور دوسرے دن بیرون ملک چلے گئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لگتا ہے علی خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے پبلیسیٹی سٹنٹ کھیلا ہے۔

    عدالت نے سپریم کورٹ نے اس درخواست کو خارج کرتے ہوئے درخواست گزار بریگیڈیر ریٹائرڈ علی خان کی عدالت میں عدم پیشی کی بنا پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

  13. بریکنگ, فی الحال کابینہ کا حصہ نہیں ہوں گے، شہباز شریف جسے چاہیے کابینہ میں شامل کریں: فیصل کریم کنڈی

    پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے مرکز میں حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن ان کی جماعت فی الحال کابینہ کا حصہ نہیں ہو گی اور وفاقی کابینہ کی تشکیل شہباز شریف کی صوابدید ہے۔

    پاکستان کے مقامی چینل جیو نیوز کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنر پیپلز پارٹی کے ہوں گے جب کہ سندھ اور بلوچستان کے مسلم لیگ (ن) سے ہوں گے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ سیاست میں پانچ سالہ معاہدہ نہیں لکھا جا سکتا، پیپلز پارٹی وزیراعظم کے لیے ووٹ، اعتماد کا ووٹ اور سپیکر کا ووٹ دے گی، حکومت کی قانون سازی میں حمایت کریں گے۔

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ابھی لوگوں کی نظریں بجٹ اور آئی ایم ایف میں ہیں، ورکنگ ریلیشن پر دونوں جماعتوں کی کمیٹی بھی بن رہی ہے، کمیٹی کو اعتماد میں لیں گے اور کمیٹی پارٹی کو اعتماد میں لے گی۔

    پی پی رہنما نے مزید کہا کہ شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے اور ان کی صوابدید ہے کہ کسے کابینہ کا حصہ بنائیں اور کسے نہ بنائیں، وہ کسی کو بھی کابینہ میں شامل کریں یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ پی ڈی ایم میں 16 ماہ کا تجربہ اچھا نہیں تھا، اب شہباز شریف نے لیڈ کرنا ہے، امید کرتے ہیں وہ بہتر طریقے سے لیڈ کریں گے۔

  14. ڈی سی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت: ’خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں‘ ڈی سی عرفان نواز میمن

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کے خلاف توہینِ عدالت کی سماعت ہو رہی ہے۔

    عرفان میمن اب سے کچھ دیرقبل عدالت پہنچے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

    یاد رہے عدالت نے گذشتہ روز ڈی سی اسلام آباد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور ڈی سی اسلام آباد کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالت نے ڈی سی اسلام آباد کو حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود عدم حاضری پر شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا

    یاد رہے ڈی سی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز کے خلاف عدالتی حکم کے باوجود پی ٹی آئی کے رہنما شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لینے پر توہین عدالت کی کارروائی چل رہی ہے۔

    دورانِ سماعت ڈی اسلام آباد عرفان نواز میمن نے عدالت کو بتایا کہ وہ کیس میں اٹھارہ سماعتیں ہوئیں، کسی سماعت میں وہ غیر حاضر نہیں ہوئے۔

    ڈی سی نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آپ کو اس عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں جس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مذاق ہے، آپ کے خلاف توہین عدالت چل رہا ہے۔

    عدالت نے ڈی سی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس کل مکمل ہو جانا تھا، آپ کی وجہ سے نہیں ہو سکا، جسٹس بابر ستار نے ڈی سی کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا آپ کو عدالت کا آرڈر معلوم نہیں تھا ، جس پر ڈی سی نے جواب دیا کہ مائی لارڈ میں عدالتی حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

  15. پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے اعلان کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے پہلے دس منٹوں میں انڈیکس میں 1075 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی۔

    کاروباری دن کے آغاز میں انڈیکس 61000 پوائنٹس کی سطح عبور کر کے 61500 پوائنٹس سے اوپر چلا گیا ہے۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کئی دنوں سے مندی کا رجحان جاری تھا جس کی وجہ ملک میں انتخابات کے بعد سیاسی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ تھا تاہم گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اگلی وفاقی حکومت بنانے کے لیے اتفاق رائے ہونے کے بعد مارکیٹ مین تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے دو جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پر مثبت انداز میں ردعمل دیا۔ تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق بدھ کے روز مارکیٹ میں اضافے کی وجہ دو جماعتوں کے درمیان نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اتفاق رائے ہے۔

  16. کیا نئی حکومت ملک کو تاریخی قرضوں کے چنگل سے نکال پائے گی؟

  17. انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر آج دوبارہ سماعت ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    آٹھ فروری میں ملک میں ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست پر سماعت آج پھر ہو گی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

    درخواست گزار علی خان جو کہ درخواست کے مطابق ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہیں گزشتہ سماعت پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو حکم دیا تھا کہ وہ درخواست گزار کو پکڑ کرعدالت میں پیش کریں اور اس کے علاوہ رجسٹرار آفس سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ درخواست گزار سے رابطہ کرے۔

    درخواست گزار بریگیڈیر ریٹائرڈ علی خان نے اپنی درخواست میں جو گھر کا ایڈریس لکھا ہے وہ فوج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی اسلام آباد کا ہے۔

    جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق درخواست گزار کو فوج میں بغاوت پھیلانے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں انھیں سزا بھی سنائی گئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق جو درخواست دائر کی گئی ہے اس میں درخواست گزار کے گھر کا پتہ اور ٹیلی فون نمبر وہی ہے جہاں پر برگیڈیر ریٹائرڈ علی خان رہتے ہیں۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے درخواست گزار کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے وزارت دفاع سے بھی معلومات مانگی ہیں۔

    عام انتخابات کو کالعدم قرار دینےسے متعلق سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی درخواست میںعدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ان انتخابات کو کالعدم قرار دے کر اپنی زیر نگرانی تیس روز میں ملک میں دوبارہ انتخابات کروائے۔

    19 فروری کو اس درخواست کی پہلی سماعت کے دوران جب درخواست گزار پیش نہیں ہوئے تھے تو عدالت نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ درخواست دائر کرنے کا مقصد محض سستی شہرت حاصل کرنا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس معاملے کو ایسے نہیں جانے دے گی۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار علی خان نے 12 فروری کو درخواست دائر کی اور اس سے اگلے روز درخواست کو واپس لینے سے متعلق بھی دائر کی تھی۔

    قابل ذکر امر یہ ہے کہ درخواست گزار علی خان نے انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کسی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی خدمات حاصل نہیں کیں۔

  18. بریکنگ, پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا وفاق میں مل کر حکومت بنانے کا اعلان

    پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے وفاق میں مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہے اب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمبرز پورے ہو چکے ہیں اور ہم حکومت سازی پر عملدرآمد کریں گے، ہم وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔

    شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مذاکرات کے لیے قائم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹیوں نے بڑی محنت کے بعد اپنا کام مکمل کیا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ شہباز شریف وزیر اعظم اور آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدے کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ جلد از جلد شہباز شریف ایک بار پھر ملک کے وزیراعظم بنیں گے اور ہم سب کی دعا یہ ہے کہ حکومت کامیاب ہو اور جو ہمارے اندرونی مسائل، بیرون ملک جو ہمارے مسائل ہیں، پاکستانیوں کو معیشت میں درپیش مشکلات کا حل نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ ہمارا ساتھ دے اور ہم کامیاب ہو جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے الیکشن کے بعد جو صدر پاکستان کا الیکشن ہونے جا رہا ہے تو اس میں بھی ہم مسلم لیگ (ن) کے شکر گزار ہیں کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار آصف زرداری کی حمایت کر رہے ہیں اور صدر پاکستان کے لیے ہمارے مشترکہ امیدوار آصف علی زرداری ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم مل کر مسائل کا مقابلہ کریں گے اور ہماری پوری کوشش ہو گی کہ عوام کی جو ہم سے امیدیں ہیں، ہم اس کے مطابق کارکردگی دکھا سکیں، میں آپ سب کا بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کا شکر گزار ہوں۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری پر غور کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس 23 فروری کو طلب کر لیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعیناتی پر غور ہو گا۔ خیال رہے لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس امیر علی بھٹی رواں سال 7 مارچ کو مدت ملازمت پوری ہونے کے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔
    • پاکستان کے صوبے پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتنے والے دو مزید آزاد اراکین نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ مسلم لیگ ن کے ترجمان کے مطابق قصور کے صوبائی حلقے پی پی 180 سے کامیاب ہونے والے احسن رضا خان اور پی پی 128 سے جیتنے والے آزاد امیدوار کرنل ریٹائرڈ غضنفر قریشی نے منگل کو نامزد وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سے ملاقات کی اور جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا۔ ملاقات کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا کہ انھوں نے پنجاب کی ترقی اور عوام کو ریلیف دینے کی جامع حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ متنازع ہو چکے ہیں اور انھیں فی الفور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ 'آج عمران خان صاحب سے ملاقات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف چیف الیکشن کمشنر سے باضابطہ طور پر استعفے کا مطالبہ کرتی ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ 'ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فارم 45 کے مطابق نتائج بنائے جائیں، لیکن موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے سائے تلے یہ آزادانہ طریقے سے نہیں ہو سکتا۔‘ خیال رہے پاکستان تحریکِ انصاف کا الزام ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے ان کی نشستیں کم کی گئی تھیں۔
    • الیکشن کمیشن نے سابق وزیرِ اعلی پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ کی طرف سے این اے 64 گجرات میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے دو رکنی بینچ نے سماعت کی اورچیف الیکشن کمشنر نے درخواست گزار کو بتایا کہ ریٹنرنگ افسر نے این اے 64 نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ خیال رہے گجرات میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 64 سے پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار چوہدری سالک حسین 1 لاکھ 5 ہزار 205 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہر یار آفریدی کو عدالتی حکم کے باوجود تھری ایم پی او کے تحت نظربند کرنے سے متعلق توہین عدالت کےمقدمے میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کے ورانٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں اور وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے سربراہ کے علاوہ چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کو عرفان نواز میمن کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے منگل کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی تو عدالت نے جب ملزمان کی حاضری لگائی تو عدالت کو بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد دو ہفتوں کی چھٹی لیکر عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈلا جائے اور انھیں گرفتار کر کے بدھ کو صبح 9 بجے عدالت میں پیش کیا جائے۔