یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کے لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں کہا کہ پی پی پی اور ن لیگ کے حکومت بنانے کے لیے درکار نمبر مکمل ہو چُکے ہیں، جس کے بعد پی پی پی اور مُسلم لیگ ن مل کر وفاق میں حکومت بنانے جا رہے ہیں۔ شہباز شریف مُلک کے وزیر اعظم جبکہ صدر کے لیے دونوں جماعتوں کی جانب سے مشترکہ اُمیدوار آصف علی زرداری ہوں گے۔
بی بی سی کے لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
بلاول بھٹو نے زرداری ہاؤس اسلام آباد سے پریس کانفرنس میں کہا ’سیاسی معاملات کے لیے جو کمیٹیاں بنیں انھوں نے بڑی محنت سے کام کیا ہے اور ہم آج یہاں تک پہنچے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے لیے معاملات طے پا گئے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پی پی پی اور ن لیگ کے حکومت بنانے کے لیے درکار نمبر مکمل ہو چُکے ہیں، اب پاکستان کو اس معاشی بحران سے نکالنے کے لیے پی پی پی اور مُسلم لیگ ن حکومت بنانے جا رہے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر شہباز شریف مُلک کے وزیر اعظم بنیں گے۔‘
بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم کے الیکشن کے بعد صدر کا انتخاب ہو گا جس میں صدر کے لیے مشترکہ اُمیدوار آصف علی زرداری ہوں گے۔‘
بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ہم مل کر اس مُلک کو معاشی بحران سے نکالیں۔‘
دونوں جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم کے لیے نامزد اُمیدوار اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم مل کر اس مُلک کو معاشی اور دیگر بحرانوں سے نکالنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اپنے تمام اتحادیوں کا شُکر گُزار ہو کہ انھوں نے یہ موقع دیا ہے کہ ہم مل کر اس مُلک کو تمام بحرانوں سے نکلالیں۔‘
دونوں جانب سے اس ملاقات میں شامل رہنماؤں میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، صدر مُسلم لیگ ن شہباز شریف، کے علاوہ اسحاق ڈار، مراد علی شاہ، قمر زمان کائرہ، اعظم نزیر تارڑ، ایاز صادق شامل تھے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری پر غور کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس 23 فروری کو طلب کر لیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعیناتی پر غور ہوگا۔
خیال رہے لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس امیر علی بھٹی رواں سال 7 مارچ کو مدت ملازمت پوری ہونے کے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔
پاکستان کے صوبے پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتنے والے دو مزید آزاد اراکین نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
ن لیگ کے ترجمان کے مطابق قصور کے صوبائی حلقے پی پی 180 سے کامیاب ہونے والے احسن رضا خان اور پی پی 128 سے جیتنے والے آزاد امیدوار کرنل ریٹائرڈ غضنفر قریشی نے منگل کو نامزد وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سے ملاقات کی اور جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا۔
ملاقات کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا کہ انھوں نے پنجاب کی ترقی اور عوام کو ریلیف دینے کی جامع حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ متنازع ہو چکے ہیں اور انھیں فی الفور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ 'آج عمران خان صاحب سے ملاقات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف چیف الیکشن کمشنر سے باضابطہ طور پر استعفے کا مطالبہ کرتی ہے۔'
خیال رہے پاکستان تحریکِ انصاف کا الزام ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے ان کی نشستیں کم کی گئی تھیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ 'ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فارم 45 کے مطابق نتائج بنائے جائیں، لیکن موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے سائے تلے یہ آزادانہ طریقے سے نہیں ہو سکتا۔'
ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر 'متنازع' ہو چکے ہیں اور مبینہ دھاندلی کی شفاف تحقیقات کے لیے ان کا مستعفی ہونا ضروری ہے۔
پاکستان کے صوبے پنجاب میں بہاول نگر کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 238 سے فتح یاب ہونےوالے آزاد امیدوار انعام باری نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان کے مطابق پی پی 238 سے جیتنے والے امیدوار انعام باری نے منگل کو اسلام آباد میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی اور جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا۔
انعام باری بہاول نگر کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 238 سے 54 ہزار 500 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ ان کے مخالف پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سید نذر محمود شاہ نے 49 ہزار 401 ووٹ حاصل کیے تھے۔
الیکشن کمیشن نے سابق وزیرِ اعلی پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ کی طرف سے این اے 64 گجرات میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے دو رکنی بینچ نے سماعت کی اورچیف الیکشن کمشنر نے درخواست گزار کو بتایا کہ ریٹنرنگ افسر نے این اے 64 نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل عامر سعید نےاپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی موکلہ کے مخالف امیدوار سالک حسین کو جتوانے کیلئے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن سے دو روز قبل ان کے لوگوں کو اٹھایا گیا۔ عامر سعید نے دعویٰ کیا کہ فارم 45 میں کٹنگ کر کے سالک حسین کے ووٹ بڑھائے گئے۔
انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جعل سازی پر آر او کے خلاف کارروائی کی جائے۔
خیال رہے گجرات میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 64 سے پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار چوہدری سالک حسین 1 لاکھ 5 ہزار 205 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔
اس حلقے سے کامیاب ہونے والے امیدوار چوہدری سالک حسین کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے حتمی نتیجہ مرتب کرتے وقت اصل فارم 45 جمع نہیں کروائے۔
انھوں نے استدعا کی کہ آر او رپورٹ کی روشنی میں قیصرہ الٰہی کی درخواست کو مسترد کیا جائے۔
اس حلقہ سے دیگر امیدواروں نے بھی کیس میں فریق بننے کے لیےالیکشن کمیشن میں درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہر یار آفریدی کو عدالتی حکم کے باوجود تھری ایم پی او کے تحت نظربند کرنے سے متعلق توہین عدالت کےمقدمے میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کے ورانٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں اور وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے سربراہ کے علاوہ چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کو عرفان نواز میمن کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے منگل کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی تو عدالت نے جب ملزمان کی حاضری لگائی تو عدالت کو بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد دو ہفتوں کی چھٹی لیکر عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈلا جائے اور انھیں گرفتار کر کے بدھ کو صبح 9 بجے عدالت میں پیش کیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے اپنی والدہ کے ساتھ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانا تھا اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے لہٰذا ان کی ایک دن کے لیے عدالت سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو منظور کیا جائے۔
جسٹس بابر ستار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو اس سلسلے میں آگاہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔
انھوں نے کہا کہ عدالت کو بتائے بغیر ڈی سی بیرونِ ملک کیسے چلے گئے۔
عدالت نے ملزم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کو حکم دیا کہ وہ ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں۔
بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں گذشتہ رات دھرنے کے شرکا کی گرفتاری کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔
گرفتاریوں کے خلاف چمن شہر میں کاروباری مراکز بند کر دیے گئے ہیں جبکہ مظاہرین نے کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان شاہراہ کو بھی بطور احتجاج بند کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف چمن شہر میں گذشتہ چار ماہ سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
واضح رہے کہ پاسپورٹ کی شرط کے خلاف سرحدی شہر چمن میں دھرنا چمن شہر کی تاریخ کا طویل ترین احتجاج ہے۔
دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سرحدی مارکیٹ سے چمن کے لوگوں کے معاش اور روزگار وابستہ ہے جس کے لیے روزانہ ہزاروں افراد کو آمدورفت کرنا پڑتی ہے۔
پاسپورٹ کی شرط کو چمن کے لوگوں کے معاش اور روزگار کے خاتمے کے مترادف قرار دیتے ہوئے دھرنے کے شرکا نے مطالبہ کیا ہے کہ اس شرط کو ختم کرکے پہلے کی طرح قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر آمدورفت کی اجازت دی جائے۔
دو روز قبل دھرنا کے شرکا نے چمن شہر میں پاسپورٹ آفس کے کے سامنے کنٹینر لگا کر اس کے مین گیٹ کو آمدورفت کے لیے بند کیا تھا۔
گذشتہ شب چمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتاریاں کرکے پاسپورٹ آفس کے سامنے رکاوٹوں کا ہٹا دیا تھا۔
چمن دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق خان اچکزئی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ رات کو کارروائی میں دس سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان جان محمد اچکزئی نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ چار افراد کو گرفتار کرکے پاسپورٹ آفس کے باہر رکاوٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔
چمن کے سینیئر صحافی نور زمان اچکزئی نے بتایا کہ گرفتاریوں کے خلاف چمن شہر میں تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ مظاہرین نے کوئٹہ اور چمن کے درمیان شاہراہ کو کوژک کے مقام پر بند کیا، جس کے باعث اس اہم شاہراہ سے گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔
چمن شہر میں مشتعل مظاہرین نے بعض سرکاری دفاتر پر پتھراؤ بھی کیا جن کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
درایں اثنا اس واقعے کے حوالے سے بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی کہنا ہے کہ چمن میں قانون ہاتھ میں لینے اورپاسپورٹ آفس بلاک کرنے پر مظاہرین کو گرفتارکرلیا گیا۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ پولیس نے دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ملزمان کو گرفتارکیا- ان کے مطابق مظاہرین کوگذشتہ چند ماہ سے پرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی تھی- لیکن پاسپورٹ آفس کو بلاک کرنے کے اشتعال انگیزعمل کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی دستاویز یعنی سفر کے لیے پاسپورٹ کی شرط ریاست کا فیصلہ ہے۔ پاسپورٹ کی شرط کے نفاذ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں حکومت سازی میں تعطل نظر آ رہا ہے، جو جمہوریت اور معیشت کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
انھوں نے اس تاخیر کی وجہ مسلم لیگ ن کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کی غیرسنجیدگی کو قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق ن لیگ مذاکرات کے لیے پیپلز پارٹی کے پاس آئی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’اب ن لیگ کو پیپلز پارٹی نے اپنی شرائط پر ووٹ دینے ہیں نہ کہ ن لیگ کی شرائط پر۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ جتنا جلدی حکومت سازی کا مرحلہ طے ہو جاتا تو اچھا ہوتا کیونکہ تاخیر سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستان کے سیاسی استحکام اور انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت سازی سے ’مجھے اور پیپلز پارٹی کو کوئی جلدی نہیں ہے، مگر تاخیر سے پاکستان اور معیشت کا نقصان ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اگر کسی (ن لیگ) نے مؤقف تبدیل کرنا ہے تو پھر پیشرفت ہو سکتی ہے۔‘
بلاول کے مطابق پاکستان کے عوام کی سمجھداری دیکھیں کہ انھوں نے کسی ایک جماعت کو اکثریت نہیں دی ہے اور یہ فیصلہ سنایا ہے کہ کوئی ایک جماعت نہیں بلکہ سب مل کر ملک کو چلائیں۔
ان کے مطابق اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ’ان انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف بن کر سامنے آئی ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘
بلاول بھٹو کے مطابق جب وہ بات کرنے کو تیار نہیں ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت سازی بھی نہیں کر سکتے۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مذاکراتی کمیٹیوں کے پانچ اجلاس ہو چکے ہیں اور چھٹا اجلاس آج ہو گا۔ ن لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کو وفاقی کابینہ میں شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے مگر اہم آئینی عہدوں پر اپنے امیدوار ضرور سامنے لائیں گے۔
ان مذاکرات سے واقف ن لیگ کے دو رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی شرائط کی فہرست طویل ہے جس کی وجہ سے ان مذاکرات میں زیادہ وقت لگ رہا ہے۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی نے صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی اورصوبائی گورنرز سمیت اہم عہدوںپر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزائے موت سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی ماں اور پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کا خواب تھا کہ وہ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دلا سکیں۔
بلاول بھٹو کے مطابق ’اب یہاں ایک صدارتی ریفرنس سنا جا رہا ہے اور اب جج صاحبان یہ فیصلہ کریں گے کہ اس کیس میں کیا انصاف کیا گیا ہے۔ کیا آمریت کے دور میں ہونے والا بھٹو کا قتل درست فیصلہ ہے۔؟
ان کے مطابق اگر یہ درست فیصلہ نہیں تھا تو پھر ’ریمیڈی‘ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ہمیں انصاف دے گی۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’چیف جسٹس صاحب نے خود کہا تھا کہ بھٹو ریفرنس کیس عدلیہ کا امتحان ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ اس طریقے سے عدلیہ اپنے اوپر داغ کو بھی دھوئے گی اور باقی جو داغ دوسرے اداروں پر ہے، ان اداروں سے بھی ایک داغ دھونے کا ایک موقع ہمیں نظر آ رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’صدارتی ریفرنس کے ذریعے تاریخ درست ہو سکے گی۔ تا کہ میں ایک حد طے کر سکیں کہ جو ماضی میں ہوا وہ غلط تھا، تا کہ ہم مستقبل کی طرف دیکھ سکیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’عدلیہ یا کوئی اور ادارہ اس طرح کا سنگین جرم نہیں دہرائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج اس کیس کے بینچ میں موجود ہیں۔‘
پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے 23 فروری کو صوبائی کابینہ کا الوداعی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
اجلاس میں تمام صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، انسپکٹرجنرل پولیس، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور تمام سیکرٹریز شرکت کریں گے۔
سپریم کورٹ میں پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پھانسی دے جانے کے خلاف صدارتی ریفرنس پرسماعت شروع ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ اس ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے۔ عدالت نے اس ریفرنس میں مقرر کیے گئے عدالتی معاونین سے تحریری دلائل طلب کر رکھے ہیں۔
اس وقت مخدوم علی خان عدالت میں اپنا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول زرداری بھی کمرہ عدالت میں اس سماعت کو سن رہے ہیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر یہ ریفرنس دائر کیا تھا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں اس ریفرنس پر چند سماعتیں بھی ہوئی تھیں اور اس کے بعد سات چیف جسٹس صاحبان نے اس ریفرنس پر کوئی سماعت نہیں کی۔
پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عرفان صدیقی نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ 2024 کے الیکشن میں پانچ، دس سیٹیں اِدھر اُدھر ہوئی ہوں، ہمارے ہر انتخاب میں ایسا ہوتا رہا ہے۔
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے پانچ سیٹیں، دس سیٹیں اِدھر اُدھر ہوئی ہوں، میں یہ نہیں کہتا، ہمارے ہر انتخابات میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اگر آج عمران خان جیل میں ہیں تو 2018 میں نواز شریف کہاں تھے؟ انھیں بھی سزائیں ہوئیں، انھیں بھی جیل میں ڈالا گیا، ان کی بیٹی کو جیل میں ڈالا گیا۔ کیا ہم یہ باتیں بھول گئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات کے معاملے پر تو شام غریباں بپا کی گئی مگر 2018 کے الیکشن پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ ’2018 میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ چار دن بعد نتائج کا اعلان ہوا تھا، اُس وقت (2018) بھی بہت کچھ ہوا، شاید آج بھی ہوا ہو اور اگر آج کچھ ہوا ہے تو وہ پورے ملک میں ہوا ہے، وہ صرف پنجاب میں نہیں ہوا، اگر ہوا ہے تو خیبرپختونخوا میں بھی ہوا ہو گا۔ کیا خیبرپختونخوا میں الیکشن امام کعبہ نہ کروائے ہیں؟ کیا وہاں یہی الیکشن کمیشن نہیں تھا۔ اگر خرابی ہوئی ہے تو ہمہ جہت ہوئی ہے، اس خرابی کا نقصان شاید مجھے بھی ہوا ہو آپ کو بھی۔ اگر الیکشن میں مسئلہ ہے تو ایسا نہیں کہ آپ کے پاس جو فارم 45 ہے وہ تو مقدس ہے مگر ہمارے پاس جو فارم 45 ہے وہ ناپاک اور پلید ہے۔‘
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں انتخابات کی تاریخ کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے، قوموں کی زندگیوں میں ٹھہراؤ الیکشن کے بعد آتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا اور یہ سلسلہ 1970 سے جاری ہے۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’2013 میں نعرہ 35 پنکچر جبکہ آج فارم 45 ہے۔ اس وقت افضل خان اٹھے تھے، آج کمشنر راولپنڈی اٹھ آئے ہیں۔ یہ رپیٹ ہوتی ہوئی تاریخ دیکھیں۔‘
سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے۔ سنی اتحاد کونسل نے اپنے میں خط میں الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور غیر مسلم مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ نومنتخب آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا اعلان کردیا تھا۔
سنی اتحاد کونسل کے خط میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 50 کامیاب آزاد امیدوار اب تک سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوچکے ہیں، جن کے نوٹی فکیشن 16 فروری کو جاری کیے گئے تھے۔
سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مرحلے وار مخصوص نشستوں کے لیے لکھا جائے گا۔
ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے قسطوں میں آزاد امیدواروں کے حتمی نتائج جاری کیے ہیں، جس کی وجہ سے اب ہر امیدوار کے تین دن کے وقت میں فرق آ گیا ہے۔ ان کے مطابق ابھی کچھ لوگوں کے حتمی نتائج جاری نہیں کیے گئے، وہ جب نوٹیفکیشن ہو جائے گا تو پھر مزید مخصوص نشستوں کے لیے رابطہ قائم کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد خان پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بُلٹ نے بیلٹ کو اغوا کیا ہے، گولی نے پرچی کو اغوا کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک بلٹ بیلٹ کو اغوا کرے گا اور گولی پرچی کو اغوا کرے گی تو عوام کو حق حکمرانی بحال نہیں ہو سکتا۔
سینیٹر مشتاق نے کہا کہ کیا ’چند سرکاری افسر بند کمروں میں بیٹھ کر 25 کروڑ لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ آزادی اس وجہ سے حاصل نہیں کی تھی کہ یہ چند سرکاری افسران کی غلام بن جائے۔‘
سینیٹر مشتاق احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن معافی مانگے، چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں اور ان پر آرٹیکل چھ (سنگین غداری) لگایا جائے۔‘
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ’انتخابات پر جو 50 ارب خرچ ہوا وہ ذمہ داران لوگوں سے وصول کیے جائیں اور سپریم کورٹ کی سطح پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔‘
ان کے مطابق دھاندلی کرنے والے پاکستان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ ملک کی یکجہتی سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ سینیٹر مشتاق کے مطابق الیکشن اس لیے کیا جاتا ہے کہ بحرانوں سے نکلا جائے اور ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف لے جایا جائے۔
انھوں نے سوال کیا کہ ’یہ کیسا الیکشن ہے جس کے بعد جمہوریت کی تنزلی ہوئی، معاشی اور سیاسی غیریقینی پیدا ہوئی۔
تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے عمران خان پر قائم مقدمات اور سنائی گئی سزاؤں پر بات کی۔ انھوں سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر کے لیے قرار داد بھی پیش کی۔
سپریم کورٹ نے سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔
53 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاست دانوں کی تاحیات نا اہلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں دیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے لکھا کہ (ماضی کی) سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا ڈکلیئریشن دے کر آئین بدلنے کی کوشش کی۔ چیف جسٹس کے فیصلے کے مطابق الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نا اہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔
فیصلے کے مطابق آرٹیکل 62 ون ایف میں تاحیات نا اہلی کا کہیں ذکر نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا تصور بنیادی حقوق کی شقوں سے ہم آہنگ نہیں۔
چیف کے مطابق ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر آرٹیکل 62 میں تاحیات نااہلی کی شق شامل کرائی، تاحیات نا اہلی انتخابات لڑنے اور عوام کے ووٹ کے حق سے متصادم ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عدالت الیکشن ایکٹ کے دائرہ کار کو موجودہ کیس میں نہیں دیکھ رہی، آرٹیکل 62 ون ایف کو تنہا پڑھا جائے تو اس کے تحت سزا نہیں ہوسکتی۔
فیصلے کے مطابق آرٹیکل 62 ون ایف میں یہ درج نہیں ہے کہ کورٹ آف لا کیا ہے او ریہ آرٹیکل یہ واضح نہیں کرتا کہ ڈکلیئریشن کس نے دینی ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو واضح کرے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سابق جج عمر عطا بندیال نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ لکھا اور خود فیصلے کی نفی بھی کی۔
چیف جسٹس نے لکھا کہ سابق جج عمر عطا بندیال نے فیصل واوڈا اور اللہ ڈینو بھائیو کیس میں اپنے ہی فیصلے کی نفی کی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ تاحیات نا اہلی ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں۔
ان کے مطابق رٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی مستقل یا تاحیات نہیں۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن تک محدود ہے، نا اہلی تب تک بر قرار رہتی ہے جب تک کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن موجود ہو۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ درست تھا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے یماری کے باعث رخصت پر ہونے سے ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی۔
عدالت نے اس مقدمے پر سماعت 23 فروری تک ملتوی کر دی۔
وفاقی حکومت نے سیشن جج رانا جاوید کو احتساب عدالت کا جج تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اور امکان ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف یہ مقدمہ ان کی عدالت میں منتقل کیا جائے گا۔