آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پیپلز پارٹی اور مُسلم لیگ ن کے درمیان معاملات طے، شہباز شریف وزیر اعظم اور آصف علی زرداری صدر ہوں گے

بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں کہا کہ پی پی پی اور ن لیگ کے حکومت بنانے کے لیے درکار نمبر مکمل ہو چُکے ہیں، جس کے بعد پی پی پی اور مُسلم لیگ ن مل کر وفاق میں حکومت بنانے جا رہے ہیں۔ شہباز شریف مُلک کے وزیر اعظم جبکہ صدر کے لیے دونوں جماعتوں کی جانب سے مشترکہ اُمیدوار آصف علی زرداری ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ آج پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پھانسی دے جانے کے خلاف صدارتی ریفرنس پرسماعت کرے گی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ اس ریفرنس کی سماعت کرے گا۔ عدالت نے اس ریفرنس میں مقرر کیے گئے عدالتی معاونین سے تحریری دلائل طلب کر رکھے ہیں۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر یہ ریفرنس دائر کیا تھا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں اس ریفرنس پر چند سماعتیں بھی ہوئی تھیں اور اس کے بعد سات چیف جسٹس صاحبان نے اس ریفرنس پر کوئی سماعت نہیں کی۔

    سابق وفاقی وزیر بابر اعوان نے ریفرنس دائر ہونے کے بعد اس کی پیروی کی تھی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے وکیل رہنما اور پارٹی کے اہم رکن اعتزاز احسن کو اس ریفرنس کی پیروی کرنے کی درخواست کی تھی تاہم انھوں نے اس سے معزوری ظاہر کر دی۔

  2. یہ ’ضمیر‘ کون ہے؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  3. بشریٰ بی بی کو کچھ ہوا تو تم سب کا بدترین حشر ہونا ہے: قاسم سوری

    تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی طبیعت ناساز ہے اور ان کے طبی معائنے پر ’پابندی لگائی گئی ہے۔‘

    ایکس پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’ایک مرتبہ پھر وارننگ دے رہا ہوں کہ بشریٰ بی بی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے انہیں طبی معائنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔

    ’جس نے بھی انہیں کھانےمیں غلط چیز ڈال کے کھلائی اور طبی معائنے پر پابندی لگائی ہے اگر بشریٰ بی بی کو کچھ ہوا تو تم سب کا بدترین حشر ہونا ہے۔‘

    خیال رہے کہ تحریک انصاف نے بشریٰ بی بی کے فوری طبی معائنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    جماعت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر عاصم یوسف کو بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’غیر قانونی طور پر قید سابق خاتون اول کو ایک ہفتے قبل کھانے میں کوئی کیمیکل ملا کر دیا گیا جس سے ان کے گلے اور معدے میں جلن ہے۔ وہ کھانے کے قابل نہیں اور ان کی طبیعت ناساز ہے۔ مگر ان کا علاج نہیں کیا جا رہا۔۔۔ یہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ خان پر ہار ماننے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔‘

    تاحال ضلعی انتظامیہ یا حکومت نے اس الزام پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  4. عمران خان سے منسوب ’سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان‘ جعلی ہے: تحریک انصاف

    تحریک انصاف نے اپنے کارکنان اور رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ عمران خان سے منسوب کیے جانے والے بعض جعلی نوٹیفیکیشن سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ عمران خان سے متعلق تمام اعلانات پی ٹی آئی یا اس کے ارکان کے آفیشل اکاؤنٹ سے کیے جاتے ہیں۔

    اس حوالے سے ایک جعلی خط کی کاپی شیئر کی گئی ہے جس میں عمران خان سے منسوب کیا گیا ہے کہ وہ سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر رہے ہیں۔

    خط میں مزید لکھا ہے کہ نو منتخب آزاد امیدوار اپنی مرضی کی سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لیں۔ تاہم تحریک انصاف نے اس نوٹیفیکیشن کے متن کی تردید کی ہے۔

  5. آزاد امیدوار اور نمبرز گیم: صوبہ پنجاب میں بننے والی نئی حکومت کتنی مستحکم ہو گی؟

  6. پاکستان میں الیکشن کا انعقاد مستحکم رہا، عوامی فیصلے کا احترام کرتے ہیں: چین

    چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے پاکستان میں عام انتخابات کے ’مستحکم اور ہموار‘ انعقاد پر مبارکباد پیش کی ہے۔

    پیر کی پریس بریفننگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کے عوام کا احترام کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ متعلقہ جماعتیں مل کر سیاسی اتحاد اور سماجی استحکام کو بحال کریں گی۔

    چین کو امید ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعاون سے دونوں ملکوں کے عوام ترقی کے نئے دور میں داخل ہوسکیں گے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ انتخابی نتائج میں کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور سیاسی جماعتوں کے لیے حکومت سازی میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں تو چینی ترجمان نے دوبارہ کہا کہ پاکستان میں مستحکم اور ہموار انداز میں انتخابات کا انعقاد ہوا۔

    چین کو امید ہے کہ تمام متعلقہ جماعتیں ’اتحاد پیدا کریں گی، استحکام لائیں گی اور متعلقہ مسائل کو مل کر حل کریں گی۔‘

    ’ہم پاکستان کے عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔‘

  7. الیکشن کمیشن کے قائم کردہ بینچز آج پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی شکایات سنیں گے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قائم کردہ دو بینچز آج انتخابی شکایات کے حوالے سے کیسز سن رہے ہیں۔ شکایت کنندگان میں سے اکثریت پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی ہے۔

    پہلے بینچ کے سامنے عالیہ حمزہ، قیصرہ الہی، عامر مسعود سمیت دیگر کی شکایات سنی جا رہی ہیں۔

    دوسرے بینچ میں ایاز امیر، شعیب شاہین، زین العابدین، خرم شیر زمان، یاسمین راشد اور دیگر کی درخواستیں لگائی گئی ہیں۔

    امیدواروں نے اس حوالے سے اپنی شکایات درج کرائی تھیں جن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی، جعلی نتائج کی روک تھام، فارم 47 پر نظرثانی جیسے مطالبے کیے گئے۔

  8. بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت آج

    سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پھانسی دینے کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت آج ہوگی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ اس ریفرنس کی سماعت کرے گا۔

    عدالت نے اس ریفرنس میں مقرر کیے گئے عدالتی معاونین سے تحریری دلائل طلب کر رکھے ہیں۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر یہ ریفرنس دائر کیا تھا۔ سابق

    چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں اس ریفرنس پر چند سماعتیں ہوئی تھیں اور اس کے بعد سات چیف جسٹس صاحبان نے اس ریفرنس پر کوئی سماعت نہیں کی۔

    سابق وفاقی وزیر بابر اعوان نے ریفرنس دائر ہونے کے بعد اس کی پیروی کی تھی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے وکیل رہنما اور پارٹی کے اہم رکن اعتزاز احسن کو اس ریفرنس کی پیروی کرنے کی درخواست کی تھی تاہم انھوں نے اس سے معذوری ظاہر کی ہے۔

  9. الیکشن کے بعد سیاسی بے یقینی آئی ایم ایف معاہدے کو الجھا سکتی ہے: فِچ

    عالمی ریٹنگز ایجنسی فِچ نے متنبہ کیا کہ پاکستان میں آٹھ فروری کے انتحابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی بے یقینی نئے آئی ایم ایف معاہدے کے لیے پیچیدگی پیدا کرسکتی ہے۔

    پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ ایس بی اے معاہدہ مارچ 2024 کو ختم ہو رہا ہے۔

    پیر کو فچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ اگلا معاہدہ آئندہ چند ماہ میں طے ہوجائے گا تاہم طویل مذاکرات یا ناکامی کی صورت میں ڈیفالٹ کا خدشہ بڑھ جائے گا اور قرضوں کی ادائیگیوں میں مسائل پیدا ہوں گے۔

    اس نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ممکنہ حکومتی اتحاد کے بعد اگر تحریک انصاف کو مزید نظر انداز کیا گیا تو عوامی غصہ بڑھ سکتا ہے۔

  10. گذشتہ روز کی بڑی خبریں

    • انٹرنیٹ ٹریکنگ مانیٹر نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابی دھاندلی کے حوالے سے خدشات کے ہوتے ہوئے ملک میں 48 گھنٹوں سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) تک رسائی محدود رکھی گئی ہے۔ نیٹ بلاکس نے کہا کہ حکام اس کی قانونی بنیاد ثابت کرنے میں ناکام رہے اور اس سے اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
    • پاکستان تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اتحاد کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نو منتخب آزاد اراکین سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے ہیں
    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے کامیاب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے تینوں امیدواروں کے نوٹیفیکیشن معطل کر دیے ہیں
    • سپریم کورٹ میں انتخابات کالعدم قرار دینے کی استدعا کرنے والے درخواست گزار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد علی سپریم کورٹ میں پیش نہ ہوسکے جس پر پولیس کو انھیں پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور سماعت ملتوی کر دی گئی
    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس اور ڈی جی انٹیلیجنس بیورو کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ چونکہ انھی اداروں پر جبری طور پر گمشدگی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، لہذا جو بھی حکومت ہو، اِن تین اداروں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی جبری گمشدگی کے معاملے پر جوابدہ ہوگی
    • رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ 27 یا 28 فروری تک نئی اتحادی حکومت کے قیام کا حتمی اعلان ہوسکتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمارا کابینہ میں شامل ہونا کسی دن بھی ایجنڈے پر نہیں تھا‘۔
    • نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد پُرتشدد رویوں کا ریکارڈ رکھنے والے کچھ عناصر ’سرکاری ملازمین کو بلیک میل کرنے اور ریاست پاکستان سے ان کی وفاداری ہٹانے کے لیے ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔‘