آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مخصوص نشستوں کے حصول‘ کے لیے پی ٹی آئی کا سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اتحاد کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اتحاد کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نو منتخب آزاد اراکین سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے کامیاب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے تینوں امیدواروں کے نوٹیفیکیشن معطل کر دیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کے 36 حلقوں سے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبہ خیبرپختونخوا کے 45 قومی اسممبلی کے حلقوں میں سے 36 کے حتمی نتائج جاری کرتے ہوئے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفیکشنز کا اجرا کر دیا ہے۔

    انتخابی عذرداریوں کی وجہ سے کچھ امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہو سکے ہیں۔ یاد رہے کہ صوبے میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں انتخابات کا انعقاد نہیں ہوا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق جیتنے والے 36 امیدواروں میں سے 33 آزاد اراکین ہیں۔ ان آزاد امیدواروں میں سے بیشتر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے ان آزاد امیدواروں کو کہا گیا ہے کہ وہ نوٹیفیکیشن کے اجرا کے تین روز کے اندر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ آزاد اراکین کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بجائے اپنا الگ آزاد گروپ بھی تشکیل دے سکتے ہیں مگر ایسا کرنے کی صورت میں اُن کا مخصوص نشستوں سے استحقاق ختم ہو جائے گا تاہم کسی پارٹی میں شمولیت سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ابتدا میں کہا گیا تھا کہ ان کے اراکین خیبرپختونخوا کی حد تک جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کریں گے جبکہ پنجاب اور وفاق میں مجلس وحدت المسلمین میں شامل ہوا جائے گا۔ تاہم اس ضمن میں اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان بھر میں قومی اسمبلی کے 266 حلقوں میں براہ راست انتخابات ہوتے ہیں جبکہ دس نشستیں اقلیتوں کے لیے مختص ہیں اور خواتین کے 60 نشستیں ہیں، جنھیں مخصوص نشستیں بھی کہا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں انمخصوص نشستوں کے لیے اپنے اقلیتی ارکان اور خواتین امیدواران کے نام الیکشن کمیشن کو جمع کراتی ہیں۔

    جو سیاسی جماعت براہ راست انتخابات میں زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے، اسے مخصوص نشستیں بھی زیادہ ملتی ہیں۔

  2. پاکستان بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس تک ’رسائی میں مشکلات‘

    پاکستان بھر میں صارفین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    انٹرنیٹ پر بندشوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ’نیٹ بلاکس‘ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں اور افراتفری کے درمیان صارفین کو ایکس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘

    اس حوالے سے بی بی سی نے پی ٹی اے سے مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

    ایکس کی ’بندش‘ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب راولپنڈی کے کمشر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیا گیا ہے اور اس کا الزام چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان پر عائد کیا گیا ہے جن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

  3. راولپنڈی ڈویژن کے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران کی مشترکہ پریس کانفرنس، سابق کمشنر لیاقت چٹھہ کے الزامات کی تردید, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق الزامات کے بعد ضلع راولپنڈی کے پانچ ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس نوعیت کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔

    ڈی آر اوز کی پریس کانفرنس کے موقع پر گذشتہ روز ہی راولپنڈی میں کمشنر کے عہدے کا چارج سنبھالنے والے سیف انور بھی موجود تھے۔ یاد رہے کہ کمشنر کی جانب سے راولپنڈی ڈویژن میں انتخابی دھاندلی سے متعلق الزامات کے بعد نگراں حکومت نے انھیں اُن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور اس عہدے کا اضافی چارج ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سیف ایوان کو دے دیا تھا۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران نے الیکشن کمیشن سے اِن الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ سنیچر کو رات گئے الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ان الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو اس معاملے پر تین دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    پریس کانفرنس میں ڈی آر اوز نے دعویٰ کیا کہ اُن پر پولنگ کے روز کوئی دباؤ نہیں تھا اور انھوں نے قوانین کے تحت الیکشن کا انعقاد کروایا

    ڈی آر او جہلم کیپٹن ریٹائرڈ سمیع اللہ فاروق نے دعویٰ کیا کہ انتخابات صاف و شفاف تھے جبکہ یہی مؤقف ڈی آر او چکوال قراۃ العین نے بھی اختیار کیا۔

    اس پریس کانفرنس میں ڈی آر او راولپنڈی حسن وقار چیمہ، ڈی آر او اٹک راؤ عاطف، ڈی آر او چکوال قراۃ العین، ڈی آر او مری ظہیر عباس شیرازی اور ڈی آر او تلہ گنگ خاور بشیر بھی موجود تھے۔

  4. سابق کمشنر راولپنڈی کا انتخابات میں ہارے ہوئے امیدواروں کو مبینہ دھاندلی سے جتوانے کا الزام: گذشتہ روز کیا ہوا؟

    سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے عام انتخابات میں دھاندلی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن کے 13 ایم این ایز ’70، 70 ہزار کی لیڈ سے ہار‘ رہے تھے جنھیں ’جعلی مہریں لگا کر اور جتوا کر‘ ملک کے ساتھ ’کھلواڑ ہوا۔‘

    سابق کمشنر نے یہ انتخابی دھاندلی سے متعلق الزامات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عائد کیے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے بعد انھوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

    سابق کمشنر کے اس بیان کے بعد نگراں حکومت نے انھیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے اور ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی جو راولپنڈی ڈویژن کے ریٹرنگ اور ڈپٹی ریٹرنگ افسران کے بیانات قلمبند کرے گی اور تین روز میں اپنی رپورٹ چیف الیکشن کمشنر کو پیش کرے گی۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد ’کمشنر راولپنڈی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن یا دیگر قانونی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔‘

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی سابق کمشنر راولپنڈی کی جانب سے اُن پر لگائے گئے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ الزام لگا دیں بے بنیاد، جس میں ذرا سی بھی صداقت نہ ہو، کوئی سچائی نہ ہو اور نہ ہی آپ کوئی ثبوت پیش کریں۔‘

    ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ان دعوؤں کی روشنی میں چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تو دوسری طرف مسلم لیگ ن نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کا نام ای سی ایل میں ڈال کر ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کمشنر راولپنڈی کی جانب سے سامنے آنے والے دعوؤں کے بعد نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ’انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے کسی قسم کے خدشات اور شکایات کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائیں۔‘

    دوسری جانب پاکستان میں گذشتہ روز انتخابی دھاندلی کے اس دعوے کے بعد ایکس (سابقہ ٹوئٹر) تک بڑے پیمانے پر رسائی محدود ہوئی ہے۔ نیٹ بلاکس کے مطابق ’پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں اور افراتفری کے درمیان صارفین کو ایکس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘