آٹھ فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کرے گا۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی اس بینچ کا حصہ ہیں۔
شہری محمد علی کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ یہ انتخابات عدلیہ کی زیرنگرانی نہیں ہوئے اور ان انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق تمام سیاسی جماعتیں آواز اٹھا رہی ہیں، لہذا انھیں کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بھی ان انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پر تنقید کی جا رہی ہے جس سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان انتخابات کو عدالت کالعدم قرار دے اور تیس روز میں سپریم کورٹ اپنی زیرنگرانی ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کرے۔
سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کی طرف سے پولنگ کے دوران مبینہ دھاندلی اور اس کے نتیجے میں راولپنڈی ڈویزن میں 13 مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو جتانے کا دعویٰ کیا تھا۔
لیاقت چٹھہ نے اپنی پریس کانفرنس میں اس جرم کی پاداش میں خو کو کچہری چوک پر پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انتخابات کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت میں اس نقطے پر بھی بات ہوگی۔ لیاقت چٹھہ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔
چیف جسٹس نے راولپنڈی کے سابق کمشنر کی ان کی حد تک لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی تھی۔
لیاقت چٹھہ کے ان الزامات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اور وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد امیدوار عمر ایوب نے اپنی ریس کانفرنس میں چیف جسٹس سے استدعا کی ہے کہ وہ اس درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ سے الگ ہو جائیں۔
دوسری جانب لیاقت چٹھہ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے راولپنڈی ڈویژن کے چھ ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران کو اپنے بیانات قلمبند کرنے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔
یہ کمیٹی تین روز میں اپنی رپورٹ چیف الیکشن کمشنر کو پیش کرے گی جس کے بعد لیاقت چٹھہ کے خلاف ممکنہ کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہوگا۔