آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مخصوص نشستوں کے حصول‘ کے لیے پی ٹی آئی کا سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اتحاد کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اتحاد کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نو منتخب آزاد اراکین سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے کامیاب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے تینوں امیدواروں کے نوٹیفیکیشن معطل کر دیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی سے اتحاد نہیں ہوا: مولانا فضل الرحمان

    جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا تحریک انصاف کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوا جبکہ انھیں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی فتح پر تشویش ہے۔

    جیو نیوز کے شو جرگہ میں گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ سیاستدان کبھی بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرتا اور یہ پہلی بار نہیں پی ٹی آئی کا وفد ان کی جماعت سے ملنے آیا ہو۔

    انھوں نے کہا کہ جے یو آئی ف انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتی مگر اس کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہتھیار نہیں اٹھائے جائیں گے۔

  2. عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست پر آج سپریم کورٹ میں سماعت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    آٹھ فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت کرے گا۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی اس بینچ کا حصہ ہیں۔

    شہری محمد علی کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ یہ انتخابات عدلیہ کی زیرنگرانی نہیں ہوئے اور ان انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق تمام سیاسی جماعتیں آواز اٹھا رہی ہیں، لہذا انھیں کالعدم قرار دیا جائے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بھی ان انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پر تنقید کی جا رہی ہے جس سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان انتخابات کو عدالت کالعدم قرار دے اور تیس روز میں سپریم کورٹ اپنی زیرنگرانی ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کرے۔

    سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کی طرف سے پولنگ کے دوران مبینہ دھاندلی اور اس کے نتیجے میں راولپنڈی ڈویزن میں 13 مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو جتانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    لیاقت چٹھہ نے اپنی پریس کانفرنس میں اس جرم کی پاداش میں خو کو کچہری چوک پر پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انتخابات کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت میں اس نقطے پر بھی بات ہوگی۔ لیاقت چٹھہ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    چیف جسٹس نے راولپنڈی کے سابق کمشنر کی ان کی حد تک لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی تھی۔

    لیاقت چٹھہ کے ان الزامات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اور وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد امیدوار عمر ایوب نے اپنی ریس کانفرنس میں چیف جسٹس سے استدعا کی ہے کہ وہ اس درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ سے الگ ہو جائیں۔

    دوسری جانب لیاقت چٹھہ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے راولپنڈی ڈویژن کے چھ ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران کو اپنے بیانات قلمبند کرنے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔

    یہ کمیٹی تین روز میں اپنی رپورٹ چیف الیکشن کمشنر کو پیش کرے گی جس کے بعد لیاقت چٹھہ کے خلاف ممکنہ کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہوگا۔

  3. حکومت سازی کے لیے ٹائم شیئرنگ کے علاوہ بھی فارمولے ہوسکتے ہیں: اسحاق ڈار

    مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ اتحادی حکومت کے قیام کے لیے ٹائم شیئرنگ فارمولے پر بھی بات ہوئی ہے۔

    جیو نیوز سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ’حکومت سازی کے پراسس پر پارٹیوں نے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔۔۔ ہم نے پیپلز پارٹی کے ساتھ طے کیا تھا حتمی شکل آنے تک کوئی رکن اسے پبلک نہیں کرے گا۔ ہم اپنے رہنماؤں سے یہی توقع کر رہے ہیں۔ ہم اخلاقی طور پر باؤنڈ ہیں۔‘

    انھوں نے بلاول بھٹو کے اس بیان کا جواب بھی دیا جس کے مطابق مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو دو سال کے لیے وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’بلاول صاحب نے جو بات کی، مذاکرات میں یہ بات ہوئی ہے۔ لیکن میں اس کی مزید تفصیل نہیں دے سکتا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ حکومت بنانے کی کئی قسمیں ہوسکتی ہیں۔ ’بلاول صاحب نے ٹائم شیئرنگ کی بات پبلک کر دی ہے۔ اس کے علاوہ بھی فارمولے ہوسکتے ہیں۔‘

  4. بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی کے کیس میں نگران وزیر اعظم کی آج عدالت میں پیشی متوقع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    12 بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

    عدالت نے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے علاوہ نگراں وزیر داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو بھی ذاتی حثیت میں طلب کر رکھا ہے۔

    اس درخواست کی گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ جبری گمشدگی میں ملوث افراد کے لیے سزائے موت ہونی چاہیے۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ اگر نگراں وزیر اعظم اور دیگر حکام سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔

    انوار الحق کاکڑ دوسرے وزیر اعظم ہیں جنھیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری گمشدگی کے معاملے پر ذاتی حثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    اس سے پہلے سابق وزیر اعظم میاں شہباز شریف بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی جبری گمشدگی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ جبری گمشدگی کے معاملے پر ریاست کی طرف سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔

    عدالت نے جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

  5. مشاورت مکمل ہونے سے پہلے کوئی بات کرنا مناسب نہیں: اسحاق ڈار

    مسلم لیگ ن کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اسحاق ڈار نے اپنی جماعت اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے گزارش کی ہے کہ ’بات چیت کے لیے کمیٹیوں کے درمیان وضع کردہ ضابطے کی پاسداری کریں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اکابرین سے درخواست ہے کہ بات چیت کے لیے کمیٹیوں کے درمیان وضع کردہ ضابطے کی پاسداری کریں۔

    ’طے ہوا تھا کہ دونوں جماعتوں کی تشکیل کردہ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کا کوئی رکن یا راہنما بات چیت کے جاری عمل اور اس میں زیرغور نکات پر بیان بازی نہیں کرے گا۔ فریقین کے درمیان ابھی تک حتمی نکات طے نہیں پائے اور مختلف تجاویز پر گذشتہ روز تک مشاورت جاری رہی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’مشاورت کے چار دور مکمل ہو چکے ہیں اور کل بروز پیر دوپہر پانچویں نشست طے ہو چکی ہے کل کے اجلاس میں اہم پیش رفت متوقع ہے مشاورت مکمل ہونے پر دونوں جماعتوں کا باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا۔

    ’دونوں جماعتوں میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مشاورت مکمل ہونے سے پہلے کوئی بات کرنا مناسب نہیں۔‘

  6. تحریک انصاف کا جعلی بیلٹ پیپر کی چھپائی کا الزام

    جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پیغام میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے سیاسی حریف نواز شریف کو جتوانے کے لیے لاہور کے ایک نجی پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپر چھاپے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے ایک مقامی صحافی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آٹھ فروری کے الیکشن کے 10 روز بعد ’منظم دھاندلی جاری ہے۔‘

    خیال رہے کہ نواز شریف نے مانسہرہ کے حلقے این اے 15 میں اپنی شکست کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا تھا مگر جمعرات کو کمیشن کی جانب سے اس استدعا کو عدم پیروی پر مسترد کر دیا گیا تھا۔ نواز شریف کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہزادہ گشتاسپ خان کو ہاتھوں قریب 15 ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست ہوئی تھی۔

    پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ پرنٹنگ پریس پر ان حلقوں کے بیلٹ پیپر چھاپے جا رہے ہیں جہاں سے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو شکست ہوئی۔

    عمران خان نے فارم 45 کے مطابق انتخابی نتائج دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے تاحال اس الزام پر ردعمل نہیں دیا مگر اس سے قبل اس کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کی تردید کی گئی تھی۔ جبکہ شکایات کے حوالے سے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا کہا گیا تھا۔

    الیکشن قوانین کے تحت صرف سرکاری پرنٹنگ پریس پر بیلٹ پیپر کی چھپائی ممکن ہے جو کمیشن کے مطابق آٹھ فروری کے الیکشن سے چند روز قبل مکمل کر لی گئی تھی۔

    دوسری طرف مسلم لیگ ن نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ذریعے اس الزام کی تردید کی ہے اور بیلٹ پیپر کی چھپائی کی ویڈیو کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’جعلی فارم 45 چھاپنے والوں نے اب جعلی بیلٹ پیپرز کا ڈرامہ شروع کردیا ہے۔ پہلے ’لیول پلئینگ‘ کارڈ فیل ہوا، ’دھاندلی کارڈ‘ فیل ہوا، پھر ’کمشنر کارڈ‘ فیل ہوا، جس کے بعد اب یہ نیا ڈرامہ اپنے یوٹیوبر کے ذریعے گھڑا گیا۔‘

    مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ’نہ تو اتنے امیدوار الیکشن اس حلقے سے لڑ رہے تھے، جتنے چھاپے گئے اور یہ بیلٹ پیپرز پہ دو شیر بھی بنا دیے۔‘

    انھوں نے ’اصلی‘ بیلٹ پیپر کی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں ’صرف 15 امیدوار تھے۔‘

  7. آج کے دن کی اہم خبروں کا خلاصہ

    آج دن بھر میں سامنے آنے والی خبروں پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو انتخابات کے بعد سے مُلک بھر میں جہاں سیاسی جماعتوں کی مُلاقاتوں کی خبریں آتی رہیں وہیں دوسری جانب مُلک بھر میں متعدد ایسی سیاسی جماعتیں بھی تھیں کہ جو مُلک میں مبینہ انتخابی دھاندلی پر احتجاج بھی کر رہی تھیں۔

    آج کی اہم خبریں:

    • پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹھٹہ میں خطاب کے دوران کہا کہ جو ہمارے پاس ووٹ مانگنے آئے ہیں، ان سے وزارتیں نہیں لیں گے، عوام کا فائدہ دیکھیں گے جبکہ صدارتی الیکشن میں آصف علی زرداری ہمارے اُمیدوار ہوں گے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کہا گیا کہ تین سال ہمیں دیں، پھر دو سال آپ وزیر اعظم بنیں مگر میں نے منع کر دیا۔‘
    • پاکستان بھر میں تقریباً ایک دن تک سوشل میڈیا پیلٹ فارم ایکس تک صارفین کی رسائی محدود رہی۔ تاہم بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر پی ٹی اے کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا کہ ’وزارتِ داخلہ کے احکامات پر مُلک بھر میں ایکس کو بند کیا گیا تھا۔‘
    • اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزارتِ اعظمیٰ کے اُمیدوار عُمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’کمشنر راولپنڈی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور اس سلسلے میں انڈیپینڈنٹ ججز ہونے چاہیے، جن لوگوں کے نام کمشنر راولپنڈی نے لیے ہیں وہ ان تحقیقات کا حصہ نا بنیں۔‘ انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران چیف چسٹس آف پاکستان سے بھی کہا کہ وہ بھی اس بینچ کا حصہ نا بنیں کیونکہ اُن کا بھی نام کمشنر راولپنڈی نے لیا ہے تاہم کوشش کی جائے کہ صاف شفاف جوڈیشل انکوائری ہو۔‘
    • عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اس احتجاج کی کال قوم پرست جماعتوں پر مشتمل چار جماعتی اتحاد پشتونخوا ملی عوامی پارِٹی، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے دی تھی۔ ان تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے شاہراہوں کو مختلف علاقوں میں بند کیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا چمن، ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی، تفتان اور جیکب آباد سے رابطہ منقطع رہا۔ اتوار کی شام چار بجے تمام تر مرکزی شاہراہوں کو کھول دیا گیا۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں پارٹی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے خطابق کیا اور کہا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ اس سارے معاملے کی انکوائری اور تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور جو لوگ دھاندلی کے اس عمل میں شریک ہیں اُنھیں شاملِ تفتیش کیا جائے۔‘
    • صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ کا اجلاس 19 فروری کو طلب کیا ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اجلاس پیر کو منعقد ہوگا۔
    • مسلم لیگ ن کے رہنما احمد خان نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے بے بنیاد الزامات پاکستان کی سیاست، معیشت اور افواج پاکستان کے خلاف سازش ہے۔
  8. کہا گیا کہ تین سال ہمیں دیں، پھر دو سال آپ وزیر اعظم بنیں مگر میں نے منع کر دیا: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’مجھے کہا گیا کہ پہلے تین سال ہمیں دے دیں آخری دو سال آپ وزیر اعظم بن جانا جس پر میں نے منع کر دیا۔‘

    ٹھٹہ میں جلسے سے خطاب میں بلاول کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ چند مہینوں سے پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم پاکستان بھر میں چلا رہا تھا، چاروں صوبوں میں انتخابی مہم چلائی، عوام نے میرا ساتھ دیا، الیکشن جیتنے کے بعد فیصلہ کیا کہ جشن ہوگا تو ٹھٹہ میں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جو ہمارے پاس ووٹ مانگنے آئے ہیں، ان سے وزارتیں نہیں لیں گے، عوام کا فائدہ دیکھیں گے جبکہ صدارتی الیکشن میں آصف علی زرداری ہمارے اُمیدوار ہوں گے۔‘

    بلاول کا کہنا تھا کہ ’میں اس طریقے سے وزیر اعظم نہیں بننا چاہتا جیسے دوسری سیاسی جماعت والے چاہتے ہیں، اگر میں نے وزیر اعظم بننا ہوا تو مجھے پاکستان کی عوام بنائے گی۔‘

    انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ملک میں غربت تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے ایسے میں ہونا یہ چاہیے کہ پاکستان کے تمام سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات کی بجائے پاکستان کے مفاد کے بارے میں سوچیں۔‘

    بلاول نے عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کے نتائج ایسے نکلے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں چاہ جیتنے والی ہوں یا ہارنے والی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے ماحول میں پاکستان کیسے چلے گا، یہ ماحول رہا تو پاکستان کو معاشی بحران سے کون نکالے گا۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جو پورے پاکستان میں آگ لگی ہوئی ہے اسے بجھانے کا فیصلہ ہم نے کر لیا ہے اور یہ کام آصف علی زرداری ہی کر سکتے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف علی زرداری صدارتی الیکشن میں ہمارے امیدوار ہوں گے۔‘

  9. ایک دن گُزر جانے کے باوجود پاکستان میں ’ایکس‘ تک رسائی محدود

    سنیچر کی شام پاکستان میں سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس تک صارفین کو مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد اب ایک روز گُزر چُکا ہے۔

    پی ٹی اے سے اس بارے میں جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو ترجمان کی جانب سے بتایا گیا کہ ’ایکس کی بندش کے متعلق احکامات وزارتِ داخلہ کی جانب سے موصول ہوئے تھے۔‘

    متعلق پی ٹی اے کی جانب سے کوئی اعلامیہ سامنے نہیں آیا۔

    گذشتہ رات سے پاکستان میں موجود ایکس کے صارفین ایپ کا استعمال نہیں کر پا رہے۔

    انٹرنیٹ پر ان معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے ’نیٹ بلاکس‘ نے اس کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ’پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں اور افراتفری کے دوران صارفین کو ایکس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘

    ایکس کی ’بندش‘ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے الزامات سامنے آئے۔

  10. چیف جسٹس الیکشن دھاندلی کی تحقیقات کا حصہ نہ بنیں، پی ٹی آئی کا مطالبہ

    اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزارتِ اعظمیٰ کے اُمیدوار اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عُمر ایوب نے گوہر علی خان کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف کے ہر ورکر کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا اور مقدموں میں جکڑنے کی کوشش کی گئی۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ان تمام سختیوں کے باوجود ہمارے لوگوں نے بارہا آواز اٹھائی اور ابھی بھی پولیس ہمارے ورکرز کو ہمارے منتخب ممبرز کو کو جبری طور پر لاپتہ کرنے میں مصروف ہیں اور اُن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔‘ عُمر ایوب نے کہا کہ ’جو نشستیں مبینہ دھاندلی کی وجہ سے پی ٹی آئی سے لی گئیں ہیں وہ واپس کی جائیں اور اُن پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اُمیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری کیے جائیں۔‘

    عُمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’کمشنر راولپنڈی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور اس سلسلے میں انڈیپینڈنٹ ججز ہونے چاہیے، جن لوگوں کے نام کمشنر راولپنڈی نے لیے ہیں وہ ان تحقیقات کا حصہ نا بنیں۔‘ انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران چیف چسٹس آف پاکستان سے بھی کہا کہ وہ بھی اس بینچ کا حصہ نا بنیں کیونکہ اُن کا بھی نام کمشنر راولپنڈی نے لیا ہے تاہم کوشش کی جائے کہ صاف شفاف جوڈیشل انکوائری ہو۔‘

    عُمر ایوب نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق بات کوتے ہوئے کہا کہ ’جو ریگینگ کا پراسیس پاکستان تحریک انصاف کے خلاف کیا گیا ہے۔ ہم اس کو ’مدر آف آل رگنگ‘ قرار دے رہے ہیں اور اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں پریس کانفرنس میں شریک بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ’ہم چیف جسٹس کے استعفیٰ کا مطالبہ نہ کرتے اور نہ پہلے کیا ہے جو الزامات کمیشنر راولپنڈی نے لگائے اس سے ہمارے موقف کی تائید ہوئی ہے کہ ہماری جیت کو شکست میں تبدیل کیا گیا ہے اس سلسلے سے توجہ نہ ہٹائی جائے اس کی انکوائری کروائی جائے۔‘

  11. عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بلوچستان کی تمام اہم قومی شاہراہوں پر پہیہ جام ہڑتال اتوار شام چار بجے ختم, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اس احتجاج کی کال قوم پرست جماعتوں پر مشتمل چار جماعتی اتحاد پشتونخوا ملی عوامی پارِٹی، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے دی تھی۔

    ان تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے شاہراہوں کو مختلف علاقوں میں بند کیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا چمن، ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی، تفتان اور جیکب آباد سے رابطہ منقطع رہا۔ اتوار کی شام چار بجے تمام تر مرکزی شاہراہوں کو کھول دیا گیا۔

    اسی طرح کوسٹل ہائی وے سمیت اہم شاہراہوں کو بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی ان جماعتوں کے کارکنوں نے بند کیا۔ جس کے باعث لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے جہاں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے دیگر ذرائع اختیار کیئے جارہے ہیں وہاں 9 فروری سے کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر ایک احتجاجی کیمپ بھی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

    گزشتہ روز اس کیمپ میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا تھا جس سے ان جماعتوں کے سربراہوں محمود خان اچکزئی، سردار اختر مینگل، ڈاکٹر مالک بلوچ اور عبدالخالق ہزارہ نے خطاب کیا تھا۔

    انھوں نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان میں ملوث سرکاری اہلکاروں کو ملازمتوں سے برطرف کر کے ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں۔

    نواز لیگ کے سوا بلوچستان میں انتخابات میں حصہ لینے والی تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ چار سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی پہیہ جام ہڑتال ناکام ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے سردار اور نواب عام لوگوں کو 2024 کے انتخابات میں مسترد کرنے کی سزا دے رہے ہیں۔‘

  12. پی ٹی آئی کا مبینہ انتخابی دھاندلی اور نتائج میں تبدیلی کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ’جس طریقے سے پی ٹی آئی نے انتخابات میں حصہ لیا، نا ریلی کی اجازت اور نا انتخابی نشان مگر اس کے باوجود جس طرح سے لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا وہ سب کے لیے ایک جواب تھا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ووٹنگ کا عمل تو پُر امن طریقے سے ہوا، مگر رات تک جیتنے والے اُمیدواروں کو صبح کے وقت جعلی ووٹوں کی مدد سے جتوا دیا گیا، رٹرنگ افسر کی ذمہ داری ہے کہ فارم 45 کے مطابق فارم 47 بنائے۔‘ گوہر علی خان نے کہا کہ ’فارم 45 پی ٹی آئی کے نمائندوں کو نہیں ملا تاہم باقی تمام جماعتوں کو ملا، نتائج میں تاخیر کی گئی، ہمیں جو سیٹیں ملیں وہ کم کی گئیں۔‘

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’جس دھاندلی کا ذکر ہم کر رہے ہیں اُس کی تائید کل راولپنڈی کے کمشنر نے کی جب انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُن کے کہنے پر آر اوز اور ڈی آر اوز نے دھاندلی کی اور ہارے ہوئے اُمیدواروں کو کامیاب کروایا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ اس سارے معاملے کی انکوائری اور تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور جو لوگ دھاندلی کے اس عمل میں شریک ہیں اُنھیں شاملِ تفتیش کیا جائے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’پی ٹی آئی اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ اس جوڈیشل کمیشن کے سامنے جو حقائق بھی آئیں اُنھیں عوام کے سامنے رکھا جائے۔‘

    اسی کے ساتھ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ’فارم 45 کے مطابق ہمارے جو اُمیدوار کامیاب ہوئے ہیں اُن کے نوٹیفیکیشن جاری کیے جائیں۔‘

  13. یہ ملک ہے یا ٹوبہ ٹیک سنگھ؟ وسعت اللہ خان کا کالم

  14. صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 19 فروری کو سینیٹ کا اجلاس طلب کر لیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ کا اجلاس 19 فروری کو طلب کیا ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اجلاس پیر کو منعقد ہوگا۔

  15. گذشتہ رات میرے گھر پر چھاپہ مارا گیا، میرا لیپ ٹاپ ساتھ لے گئے: شیر افضل مروت

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر نائب صدر شیر افضل مروت نے الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ رات اُن کے گھر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا ہے جس کے دوران اُن کا لیپ ٹاپ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر انھوں نے لکھا کہ ’وہ کسی نہ کسی طرح اپنے گھر سے فرار ہونے میں کامیاب رہے اور اب وہ کسی محفوظ مقام پر موجود ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ اس ’مجرمانہ عمل‘ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔

  16. پنجاب میں مسلم لیگ ن اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے: خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کے مطابق سنا ہے کل شام وفاق میں حکومت بنانے سے متعلق بھی پیشرفت ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا، معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’20 سال میں پاکستان پیپلز پارٹی سے ورکنگ ریلیشن رہا ہے اور جے یو آئی میں ماضی میں بھی شراکت داری رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اب نئی چیز یہ دیکھنے میں آ رہی ہے کہ ’جن کے خلاف دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ان سے ہی اتحاد بھی ہو رہے ہیں۔‘

  17. ’یہ پاکستان کی سیاست، معیشت اور افواج پاکستان کے خلاف سازش ہے‘: رہنما مسلم لیگ ن

    مسلم لیگ ن کے رہنما احمد خان نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے بے بنیاد الزامات پاکستان کی سیاست، معیشت اور افواج پاکستان کے خلاف سازش ہے۔

    انھوں نے نگراں حکومت سے اس ’سازش‘ کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی استدعا کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ انتشاری لوگ باز نہیں آ رہے ہیں اور انھوں نے نو مئی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘

    احمد خان نے لیاقت علی چھٹہ کے انکشافات کے بارے میں کہا کہ ’یہ پاکستان کے ساتھ سخت زیادتی ہے اور یہ جو پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے یہ بلاسبب نہیں ہے۔ یہ اسی سازش کی کڑی ہے، جو ہم پہلے ریاست اور سیاست کے خلاف دیکھ چکے ہیں۔‘

    احمد خان کے مطابق دوبارہ سے صورتحال خراب کی جا رہی ہے۔

    ان کے مطابق تحریک انصاف کی تاریخ ہے وہ کسی بھی انتخابات کو تسلیم نہیں کرتی، چاہے وہ چار حلقوں کی بات ہو یا 35 پنکچر جیسے الزامات ہوں۔

    احمد خان کے مطابق لیاقت علی چٹھہ کمشنر ہوتے ہوئے انتخابی عمل میں ’نان پارٹی‘ یعنی غیرمتعلقہ فرد ہیں کیونکہ کسی بھی ڈویژن کے کمشنر کا انتخابی عمل، ووٹوں کی گنتی یا نتائج کو جمع کرنے کے پورے عمل میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

    احمد خان کا کہنا تھا کہ سرکاری اہلکاروں کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں اور اسی طرح کی مہم 9 مئی سے قبل بھی افواج پاکستان کے خلاف چلائی گئی تھی۔

    احمد خان نے نگراں حکومت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  18. ’عمران خان سیاسی انتقام نہیں فتح مکہ ماڈل چاہتے ہیں‘

    رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کی سابق وزیر اعظم عمران خان سے جیل میں ملاقات ہوئی جس میں انھوں نے سیاسی انتقام کے بجائے ’فتح مکہ ماڈل‘ کی بات کی۔

    سنیچر کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران علی محمد خان نے بتایا کہ ’میں اس کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں۔۔۔ انھوں نے وہی بات کی جو گرفتاری سے پہلے کرتے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ جیت کے بعد انتقام کی طرف جائیں گے تو خان صاحب نے اس وقت اور آج وہی بات کی کہ ہم فتح مکہ ماڈل پر جائیں گے۔‘

    علی محمد خان کے بقول ’ہم فتح مکہ ماڈل کی مثال قائم کریں گے۔‘

    ’خان صاحب نے نیلسن منڈیلا کی بات کی۔۔۔ (انھوں) نے کہا جس طرح نیلسن منڈیلا نے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن قائم کر کے سچائی کی طاقت سے جنوبی افریقہ کو ظلم کے اندھیروں سے نکالا۔۔۔ ہم اس لائحہ عمل کی طرف جائیں گے۔ ملک کو سیاسی انتقام نہیں سیاسی استحکام کی طرف لے کر جائیں گے۔‘

    رہنما پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ’200 دن سے قید آدمی نے انتقام کی نہیں فتح مکہ کی مثال دے رہا ہے۔۔۔ انھوں نے یہ بھی کہا عوام کو ان کا حق واپس کیا جائے۔ اگر عوام کا مینڈیٹ چرایا جائے گا تو یہ آئین پر وار ہے۔‘

    ’عمران خان نے ہدایت دی کہ کن کن جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں، جس جماعت سے بات ہوتی ہے اس میں عارضی طور پر شامل ہوں اور سیٹیں حاصل کریں۔‘

    ان کے مطابق عمران خان نے فوری طور پر انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی ہدایت دی ہے۔ ’عمران خان نے کہا چاہے مجھ پر جتنے مرضی کیس کریں، یہ جیل مجھے نہیں جھکا سکتی کیونکہ میں قوم کے لیے کھڑا ہوں۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ سردار لطیف کھوسہ نے عمران خان کو اپنی لاہور کی سیٹ کی پیشکش کی جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ جیل سے نکلنے کے بعد میانوالی سے الیکشن لڑیں گے۔

  19. لیاقت علی چٹھہ کا انتخابات میں دھاندلی کا الزام: کیا کمشنر کا انتخابات کے انعقاد میں کوئی کردار ہوتا ہے؟

  20. ’ایکس کی بندش غلط ہے‘

    تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے ایکس کی بندش کی مذمت کی ہے۔

    ایکس پر ایک پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ معلومات تک رسائی اور اظہار رائے کی آزادی آئینی حقوق ہیں۔