آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس تک رسائی محدود، چیف جسٹس کی کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی تردید

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی ’بندش‘ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیا گیا ہے اور اس کا الزام چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان پر عائد کیا گیا ہے جن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے سائفر کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا

    پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خلاف دیے گئے سائفر کیس کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

    جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    سابق وزیرِ خارجہ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بیرسٹر سلمان صفدر، علی بخاری ایڈووکیٹ اور تیمور ملک نے دائر کی۔

    خیال رہے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 30 جنوری کو پاکستان کی ایک عدالت نے سائفر کیس میں 10، 10 برس کی قید کی سزا سُنائی تھی۔

  2. بریکنگ, سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس میں تقریباً 1000 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ میں کاروبار کے پہلے سیشن میں انڈیکس میں 984 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ انڈیکس 60035 پوائنٹس کی سطح تک آگیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں انتخابات کے بعد مندی کا رجحان غالب ہے جس کی وجہ حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ میں مشکلات اور مستقبل کی حکومت کے لیے مشکلات کے خدشات ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مندی کا رجحان ہے۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں جمعے کو مندی کی وجہ سے سپریم کورٹ میں آٹھ فرروی کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست ہے جسے عدالت کی جانب کی جانب سے سماعت کے لیے 19 فروری کو مقرر کر دیا گیا۔

    انھوں نے کہا مارکیٹ اس خبر کے آنے کے بعد دباو کا شکار ہوئی اور اس میں فروخت کا رجحان غالب آگیا۔ انھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت مقرر کرنے سے عدم استحکام کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں جس نے کاروبار پر منفی اثرات مرتب کیے۔

  3. ریٹائرڈ ججز کے خلاف کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار نہیں: جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا ہے کہ آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق ریٹائرڈ ججز کے خلاف کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

    سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں جسٹس (ریٹائرڈ) مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میرے استعفے کے باوجود جاری ہے، میں 10 جنوری کو مستعفی ہو چکا ہوں جب کہ صدر مملکت نے میرا استعفیٰ منظور بھی کر لیا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ میرے استعفے کی منظوری کا نوٹیفیکیشن آفیشل گزٹ میں بھی شائع ہو چکا ہے، آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق ریٹائرڈ ججز کے خلاف کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

    سابق جج نے اپنے خط میں لکھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا 12 جنوری کا حکم غیر قانونی ہے، اس معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل اپنے اختیار سے تجاوز کر رہی ہے، میں آئینی اور قانونی طور پر کونسل کی اس کارروائی کا حصہ بننے کا پابند نہیں ہوں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس (ریٹائرڈ) مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سات گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرلیے تھے جب کہ سپریم جوڈیشل کونسل آج مزید چار گواہان کے بیانات ریکارڈ کرے گی۔

    خیال رہے کہ مظاہر نقوی نے 10 جنوری کو استعفیٰ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اسی روز سپریم جوڈیشل کونسل کے جاری شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کراتے ہوئے خود پر عائد الزامات کی تردید کی تھی جب کہ اس سے ایک روز قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

  4. بریکنگ, پاکستان کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر وائٹ ہاؤس کو تشویش ہے، امریکہ

    امریکہ کے قومی سلامتی کے سٹریٹجک کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر جان کربی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر وائٹ ہاؤس کو تشویش ہے۔

    واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے تشویش ہے اور ہم نے کچھ ایسی خبریں اور اطلاعات کے بارے میں سنا ہے کہ ڈرانے دھمکانے، ووٹرز کو دبانے اور اس قسم کے واقعات پیش آئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسے معاملے کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں، بین الاقوامی مانیٹر بھی دیکھ رہے ہیں۔‘

  5. بریکنگ, آٹھ فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 19 فروری بروز پیر درخواست پر سماعت کرے گا۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں۔

    اس درخواست میں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دینے اور انتخابات کے نتیجے میں حکومت بننے کے عمل کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدلیہ کی زیر نگرانی 30 روز میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیا جائے، دھاندلی، الیکشن فراڈ کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے احکامات دئیے جائیں۔

    واضح رہے کہ یہ درخواست چند روز قبل علی خان نامی شہری کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، جس میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فریق بنایا گیا تھا۔

  6. الیکشن 2024: وہ امیدوار جنھوں نے ’خیرات کی نشست‘ ٹھکرائی اور کھلے دل سے شکست تسلیم کی

  7. تحریک انصاف کے رہنما آج دو بجے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے

    تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجا آج ایک پریس کانفرنس کریں گے جس میں وہ انتخابی دھاندلی سے متعلق ثبوت پیش کریں گے۔

    تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق یہ پریس کانفرنس دن دو بجے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہو گی۔

  8. پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے اپنا اپنا بیانیہ دفن کر دیا، ناراضگیوں کے بعد کی گفتگو کے اور معنی ہوتے ہیں: پیپلز پارٹی کا مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناراضگیوں کے بعد کی گفتگو کے اور معنی ہوتے ہیں، جب بانی پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں اجلاس ہوتے تھے تو صدارت خود مولانا فضل الرحمان کرتے تھے۔

    مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انھوں نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ اگر فیض حمید نے مولانا فضل الرحمان سے یہ کہا تھا کہ جو کچھ کرنا ہے سسٹم کے اندر رہ کر کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کی حمایت سے ہاتھ اٹھا رہے ہیں، اس کا یہ مطلب کہاں سے آگیا کہ فیض حمید عدم اعتماد کی حمایت کر رہے تھے؟

    خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید رابطے میں تھے، فیض حمید ان کے پاس آئے اور کہا جو کرنا ہے سسٹم کے اندر رہ کر کریں، جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور فیض حمید کے کہنے پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے مہر لگائی، میں خود عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے اپنا اپنا بیانیہ دفن کردیا ہے، قدرت کا قانون ہے ہر چیز اپنی اصلیت پر جاتی ہے۔

    اپنے بیان میں پی پی رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ مولانا قوم کو بتائیں کہ انہوں نے دھرنا کس کے کہنے پر شروع کیا اورپھر کس کے حکم پر ختم کیا؟ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ مولانا یہ بھی بتائیں کہ حکومت ختم ہونے کے بعد کی صورتحال میں سب سے زیادہ مستفید کون ہوا؟

  9. ’کوشش ہو گی عمر ایوب ہی وزیراعظم بنیں،‘ تحریک انصاف کا مکمل مینڈیٹ ملنے تک مضبوط اپوزیشن کرنے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن یا ایم کیو ایم کے ساتھ کسی قسم کی پاور شیئرنگ نہیں کریں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاست پاور شیئرنگ کے لیے نہیں ہے، اور اس وقت تک مضبوط اپوزیشن کریں گے جب تک ہمارا مکمل مینڈیٹ ہمارے پاس نہیں آتا۔

    جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ کہا ہے کہ آج تفصیل سے خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور ساتھ ساتھ اس بات پر بھی تفصیل سے بات ہوئی کہ وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کیسے کرنی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان سے الیکشن کے حوالے سے بات ہوئی اور انھیں بریفنگ دی گئی ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ بات بھی چلی کہ ہمیں پیشکش کی گئی ہے کہ ہم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن یا ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کوئی حکومت بنائیں، ہم نے خان صاحب کی ہدایت کے مطابق یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی پاور شیئرنگ نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس پوزیشن میں ہیں وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جلد حکومت بنائیں گے اور عدلیہ سے اسی لیے درخواست کی ہے کہ 70 حلقوں پر جلد سے جلد فیصلہ ہو۔

    وزرائے اعلیٰ کے لیے عمران خان کی جانب سے فائنل کے لیے گئے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پنجاب میں ہمارے وزیراعلیٰ کے امیدوار میاں اسلم اور بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار سالار صاحب ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ابھی صرف سپیکر کا فیصلہ ہوا ہے جہاں خان صاحب نے سپیکر کے امیدوار کے لیے عاقب اللہ کو نامزد کیا ہے، ڈپٹی اسپیکر اور سینٹرل میں سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا نام پرسوں تک آپ کے سامنے رکھیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیراعظم کے امیدوار عمر ایوب ہوں گے لیکن ہماری کوشش ہو گی کہ عمر ایوب ہی وزیراعظم بنیں تاوقتیکہ خان صاحب باہر نہیں آتے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعت جو تمام صوبوں میں ہے، جس نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں دو تہائی اکثریت لی ہے اس کو محدود کیا جا رہا ہے اور وہ سیاسی جماعت جس کی صفر ساکھ ہے، جس کی مشکل سے 20 نشستیں ہیں اس کو حکومت دی جا رہی ہے، عوام ایسے مینڈیٹ کو قبول نہیں کریں گے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے سنیچر کو مبینہ دھاندلی کے خلاف پرامن احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے اس احتجاج میں جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور جی ڈی اے سمیت تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے ہمارے مذاکرات ہوئے ہیں نہ ہوں گے، ہمارا ایک پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ ہم پاور شیئرنگ کے بجائے عوامی سیاست کرتے ہیں۔

  10. ’یہ الیکشن دھاندلی زدہ ہے،‘ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان اتفاق، دونوں کا اتحاد ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے: مریم اورنگزیب

    جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر اسد قیصر کی قیادت میں پی ٹی آئی کا ایک وفد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آیا تھا جسے خوش آمدید کہا گیا اور یہ موجودہ صورتحال میں خوش آئند ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے بیچ یہ بات ہوئی کہ ’آٹھ فروری کے الیکشن میں جو مدعہ تحریک انصاف کی طرف سے رکھا گیا یہ وہی تھا جو مولانا نے رکھا کہ ہم اس الیکشن کو مسترد کرتے ہیں، یہ دھاندلی زدہ، جعلی ہے اور عوامی مینڈیٹ نہیں۔‘

    دونوں پارٹیوں کا اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ’آٹھ فروری کا الیکشن صاف شفاف نہیں، لہذا ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ یہ غیر جانبدار الیکشن نہیں اور اس سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام نہیں آئے گا۔ اس پر دونوں کا اتفاق ہے، آگے کیا ہوگا اسے آگے پر چھوڑتے ہیں۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’عمران خان کی ہدایت پر یہ وفد مولانا سے ملاقات کے لیے آیا تھا۔

    ’ہم نے ان سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ عمران خان کی ہدایت ہے کہ تمام پارٹیاں سے الیکشن کے انعقاد اور دھاندلی پر بات کریں اور مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کرے گی۔ جمیعت نے بھی انتخابات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔‘

    دونوں جماعتیں متفق ہیں کہ ’الیکشن دھاندلی زدہ ہے۔ پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کی امانت کے ساتھ بددیانتی کی گئی۔ اسے قوم اور سیاسی پارٹیاں قبول نہیں کرتیں۔ آئندہ اسی سوچ کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کریں گے۔ اس وقت تک تحریک چلائیں گے جب تک عوام کو ان کا حق نہیں ملتا۔‘

  11. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    فنانس ڈویژن کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد 16 فروری سے نئی قیمتوں کے اطلاق کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2.73 جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.37 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    پیٹرول کی نئی قیمت 275.62 جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 287.33 فی لیٹر ہوگی۔

  12. جے یو آئی اور پی ٹی آئی میں اتحاد ہوتا نظرنہیں آرہا: مریم اورنگزیب

    پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج 2014 جیسا ہی دیکھتی ہوں۔

    نجی ٹی وی چینل آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ 9 مئی کو بھی ملک میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا تھا، پی ٹی آئی صرف احتجاج میں مہارت رکھتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ خیبرپختونخوا میں کامیاب ہوئے تو الیکشن کمیشن ٹھیک ہے، جہاں یہ ہار گئے وہاں الیکشن کمیشن ٹھیک نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انتخابات پر تحفظات ہیں تو قانونی فورم موجود ہے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان قابل احترام اور نواز شریف کے پرانے ساتھی ہیں، انھوں نے جو کہا ہے اس کا بھی احترام کرتے ہیں، مولانا صاحب نے جلاؤ گھیراؤ کی بات نہیں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سے ملنا مولانا صاحب کا حق ہے، مولانا صاحب ملک سے محبت کرتے ہیں، مجھے جے یو آئی اور پی ٹی آئی میں اتحاد ہوتا نظرنہیں آرہا۔

  13. سیالکوٹ سے تحریک انصاف کے نو منتخب ایم این اے بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسلم گھمن کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا: عمر ایوب کا الزام

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ سیالکوٹ سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ نو منتخب رکن قومی اسمبلی بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسلم گھمن کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ اسلم گھمن پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہو جائیں۔

    عمر ایوب خان نے اس مبینہ دھاندلی کے عمل اور جبری لاپتہ کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

  14. بی بی سی اردو کی نئی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید

    گذشتہ روز کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔