آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس تک رسائی محدود، چیف جسٹس کی کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی تردید
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی ’بندش‘ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیا گیا ہے اور اس کا الزام چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان پر عائد کیا گیا ہے جن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
لائیو کوریج
تحریک انصاف نے سنٹرل پنجاب میں احتجاج کے مقامات کی تفصیلات شئیر کر دیں
تحریک انصاف کی احتجاج کا کال، اسلام اباد نیشنل پریس کلب کے سامنے کھدائی
تحریک انصاف کی طرف سے سنیچر کو احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف عوام سے باہر نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر اس گرین بیلٹ پر کھدائی شروع کر دی گئی ہے، جہاں عام طور پر مظاہرین اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں اور دھرنے دیتے ہیں۔
اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، ہنگامہ آرائی کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی: ترجمان اسلام آباد پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام جماعتوں کو عوامی معلوماتی پلیٹ فارمز سے دفعہ 144 کے نافذ العمل ہونے کی بابت آگاہ کیا جا چکا ہے۔
ان کے مطابق ’خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘
ترجمان کے مطابق خواتین اور 18 سال سے کم عمر بچے ایف نائن پارک اور ایف سکس کی طرف صبح دس بجے سے ایک بجے دوپہر تک جانے سے گریز کریں۔ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع پکار 15 یا آئی سی ٹی 15 ایپ پر دیں۔
واضح رہے کہ آج تحریک انصاف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
پاک افغان سرحد کی قانونی حیثیت پر من گھڑت دعوے جغرافیائی حقائق تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان کا افغان نائب وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل, سحربلوچ، بی بی سی اردو
پاکستان نے ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے افغانستان کے نائب عبوری وزیر خارجہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد کی قانونی حیثیت کے حوالے سے کسی بھی قسم کے خودغرضانہ اور من گھڑت دعوے جغرافیہ، تاریخ اور بین الاقوامی قوانین کے حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم افغانستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ عوامی سطح پر اس طرح کے اعلانات کر کے عوام کی توجہ ہٹانے کے بجائے حقیقی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کو دور کرے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریاستی تعلقات کے اصولوں کی بنیاد پر پاک افغان سرحد کے پار لوگوں اور سامان کی مکمل طور پر منظم نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ہم اس مقصد کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ افغانستان کے نائب عبوری وزیر خارجہ شیر محمد عباس استنکزئی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغانستان ڈیورنڈ لائن کو کبھی بھی سرحد تسلیم نہیں کرے گا۔
افغانستان سے سوویت یونین کے انخلا کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر لوگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیر محمد عباس نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی لائن کے دوسری طرف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان آنے کے لیے افغان عوام کو ویزے اور پاسپورٹ کا اصول ہمیں قبول نہیں، ہم نے ڈیورنڈ کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کبھی تسلیم کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ آج آدھا افغانستان الگ ہو چکا ہے اور ڈیورنڈ لائن کے دوسری طرف ہے، ڈیورنڈ وہ لکیر ہے جو انگریزوں نے افغانوں کے قلب پر کھینچی تھی اور آج ہمارا پڑوسی ملک پناہ گزینوں کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے ملک بدر کر رہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس جائیں۔
ابابیلوں کا انتظار: محمد حنیف کا کالم
بریکنگ, ن لیگ کو کانٹوں کا تاج اپنے سر سجانے کا شوق نہیں، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین پہل کریں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت بنا لیں: سعد رفیق
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی تشکیل مسلم لیگ ن کی نہیں پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’موجودہ قومی اسمبلی میں کسی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین پہل کریں، پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت بنا لیں، ہم مبارکباد پیش کریں گے۔
’مسلم لیگ ن کو کانٹوں کا یہ تاج اپنے سر پر سجانے کا کوئی شوق نہیں۔‘
خیال رہے کہ الیکشن کے اگلے روز یعنی نو فروری کو ن لیگ کے سربراہ نواز شریف کی جانب سے لاہور میں ایک تقریر میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ن لیگ وفاق میں حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں سے رابطے کرے گی، جبکہ دو روز قبل چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر شہباز شریف اور آصف زرداری سمیت دیگر جماعتوں کی سربراہان کی موجودگی میں وفاق میں مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
تاہم بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں یہ کہا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی ن لیگ کے وزیرِ اعظم کے امیدوار کو ووٹ دے گی لیکن کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔
اس سے قبل اج ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’خدا کرے مسلم لیگ ن یہ فیصلہ کر لے کہ جس کو مرکز میں اکثریت دلائی گئی اسی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا جائے، اس سے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی منصوبہ بندی ناکام ہو سکتی ہے۔‘
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے بھی دو روز قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ مرکز اور پنجاب میں حکومت بنا لیں گے اور گذشتہ روز ان کی جانب سے پنجاب اور مرکز میں وزیرِاعلیٰ اور وزیرِ اعظم کے ناموں کے لیے بھی امیدوار نامزد کر دیے گئے تھے۔
تاہم آج پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سیف نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی وفاق اور پنجاب میں اپوزیشن میں بیٹھے گی۔
’خان صاحب نے کہا کہ اقتدار میں آ کر ہم کوئی سیاسی انتقام نہیں لیں گے‘: پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان
پی ٹی آئی نے وفاق اور پنجاب میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے: پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سیف
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف نے قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے وفاق اور پنجاب میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم عمران خان کی ہدایت پر سیاسی جماعتوں سے رابطے کررہے ہیں اور ان کی ہدایت پر مرکز اور پنجاب میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
خیال رہے کہ دو روز قبل پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور گذشتہ روز ان کی جانب سے وزیرِ اعظم اور پنجاب اسمبلی میں وزیرِ اعلٰی کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔
اسلام آباد میں تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں کی ملاقات ہوئی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ہدایت پر قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی گئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں ہم آہنگی اورمفاہمت ہو۔
انھوں نے کہا کہ ’فارم 45 ثبوت ہے کہ ہمارے امیدوارجیتے ہیں مگر فارم 47 میں نتائج تبدیل کیے گئے، مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی نے بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
’ہر پانچ سال بعد الیکشن ہوتے ہیں اور متنازع ہو جاتے ہیں، انتخابات کا مقصد فوت ہو گیا ہے۔‘
چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں، کل عوام پورے ملک میں پرامن احتجاج کے لیے نکلے: پی ٹی آئی
جنرل فیض کا نام غلطی سے لیا، جو اپنے حلف کا احترام نہیں کرتے ان کی بات کی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں: مولانا فضل الرحمان
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جنرل فیض کا نام میری زبان پر غلطی سے آ گیا، وہ وہاں نہیں تھے تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں سنہ 2018 کے انتخابات کی دھاندلی کا ذمہ دار جنرل فیض اور جنرل باجوہ کو سمجھتا ہوں۔‘
انھوں نے ’جی ٹی وی‘ کے پروگرام میں اینکر غریدہ فاروقی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’جب ملک کو سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا سامنا رہا اور پھر جب دفاعی عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی تو انھیں (فوج کو) بھی ادراک ہوا اور انھوں نے سنبھالا دینے کے لیے سیاست دانوں کے ساتھ رابطے کیے تھے۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے ایک نجی ٹی وی چینل پر یہ یہ الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے کہنے پر لائی گئی تھی۔
اس کے بعد سے آج پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے۔
میزبان غریدہ فاروقی نے سوال کیا کہ جنرل باجوہ کی طرف سے ذرائع سے اس بارے میں خبر آئی ہے کہ وہ آپ کے کل کے بیان کر تردید کرتے ہیں اور اس بارے میں حلف اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے جواب میں کہا کہ ’یہ ہم سے کیسے حلف کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیا فوج کے ہاں اپنے حلف کا احترام ہے، کیا جرنیلوں کے ہاں حلف کا احترام ہے۔ کیا جب وہ کمیشن لیتے (فوج میں) تو وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے؟ کیا وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرتے اور اپنا حلف نہیں توڑتے، تو اگر آج کوئی ہمیں کہتا ہے کہ ہم حلف اٹھائیں تو اس کی کیا اہمیت ہو گی میری نظر میں۔‘
ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ اس حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کریں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’تحقیقات کون کرے گا؟ مجھے پاکستان کے کسی بھی ادارے بشمول عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہر موڑ پر رہا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ نہ ہو۔‘
پی ٹی آئی کے وفد سے ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا ’تحریکِ انصاف کے شدید اختلافات کے باوجود جب وہ یہاں آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا اور پورے ملک میں جمیعت کے کارکنوں کو ان کے بارے میں کوئی غیر محتاط گفتگو کرنے سے روک دیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا کارکن یہ سمجھتا ہے کہ اگر مولانا فضل رحمان کو گالی دی ہے تو وہ اس کو دی گئی ہے، اس لیے ہمیں تمام کارکنوں کے جذبات کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
ڈیموکریسی انڈیکس 2023: پاکستان کا شمار ’آمرانہ نظام‘ والے ممالک میں، جمہوریت میں مزید تنزلی کی وجوہات کیا ہیں؟
پاکستان میں گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافہ: ’اب 40 لاکھ روپے سے اوپر کی تمام کاریں ’لگژری‘ تصور ہوں گی‘
مولانا نے ان تمام سیاسی جماعتوں کی توہین کی جو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں: ملک احمد خان
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد خان نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان پر الزام عائد کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے گذشتہ روز الزام عائد کر کے ان تمام سیاسی جماعتوں کی توہین کی جو عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے جا رہے تھے۔
خیال رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گذشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے کہنے پر تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عدم اعتماد کی تحریک پیپلز پارٹی چلا رہی تھی، جنرل ریٹائرڈ فیض حمید میرے پاس آئے اور کہا سسٹم کے اندر رہ کر آپ جو کرنا چاہیں ہمیں اعتراض نہیں ہو گا لیکن سسٹم سے باہر جا کر نہیں، میں نے اس سے انکار کر دیا تھا لیکن پھر جب پی ٹی آئی کے لوگ، ایم کیو ایم اور بی اے پی ٹوٹ کر آئی تو انھوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس اکثریت ہے۔‘
ملک احمد خان کہتے ہیں کہ ’سنہ 2021 کے اوائل میری پاکستان تحریکِ انصاف کے کچھ رہنماؤں سے بات ہوئی جن کا یہ خیال تھا کہ اس وقت میں تو پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم عوام کے سامنے جا کر شرمندہ ہوں۔
’جب مُجھے یہ سب صورت حال کا علم ہوا تو میں نے یہ معاملہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے سامنے رکھی اور بتایا کے پی ٹی آئی کے تو اپنے لوگوں کا عمران خان کے خلاف ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’9 مئی کے واقعات پر مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف بہت سخت تھا، بعض دفعہ تو مجھے ان کے بیٹے مولانا اسد محمود کی گفتگو سے خوف آتا تھا۔‘
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’جب بانی پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جا رہی تھی تو جنرل (ر) قمر باجوہ نے مخالفت کی تھی، قمر باجوہ نے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد نہ لاؤ، قمر باجوہ نے سیاسی جماعتوں سے کہا تھا کہ تحریک واپس لیں تو الیکشن ہوجائیں گے لیکن فضل الرحمٰن نے قمر باجوہ کی تجویز مسترد کر دی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد اگر قمر باجوہ نے کروائی تو فضل الرحمٰن نے واپس لینے کا کیوں کہا؟
ملک احمد خان نے فضل الرحمٰن کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی کے کہنے پر تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن نے تو قمر باجوہ سے کہا تھا تحریک عدم اعتماد سے کیوں منع کر رہے ہیں، مولانا نے کہا تھا کہ جنرل صاحب آپ ہمیں دستبردار کرنے کے لیے کیسے کہہ سکتے ہیں؟‘
ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ’یہ میٹنگ 26 مارچ 2023 کو ہوئی تھی جس کا میں آپ کو احوال سنا رہا ہوں، یہ تحریک عدم اعتمارد کسی کے کہنے پر نہیں لائی گئی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مولانا نے تو اُن تمام سیاسی جماعتوں کی توہین کی ہے کہ جنھوں نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی ملک کے خلاف سازش کر رہی ہے یہ مجھے مولانا کی تقریر سے پتہ چلا، ہر سیاسی عمل کے نتائج ہوتے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن کی وہ تقریریں یاد ہیں جب وہ بانی پی ٹی آئی کے دھرنے کے وقت کرتے تھے، کچھ قوتیں ملک میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔‘
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان جاری، انڈیکس میں 1147 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز بھی مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کاروباری دن کے اختتام پر 100 انڈیکس میں 1147 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ انڈیکس 60 ہزار پوائنٹس کی سطح سے نیچے آ گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں انتخابات کے بعد سے مندی کا رجحان غالب ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ میں مشکلات اور مستقبل کی حکومت کے لیے مشکلات کے خدشات ہیں۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں جمعے کو مندی کی وجہ سے سپریم کورٹ میں آٹھ فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست ہے جسے عدالت کی جانب کی جانب سے سماعت کے لیے 19 فروری کو مقرر کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام بھی صورتحال کو گھمبیر بنا رہا ہے۔
انھوں نے کہا مارکیٹ اس خبر کے آنے کے بعد دباو کا شکار ہوئی اور اس میں فروخت کا رجحان غالب آ گیا۔ انھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت مقرر کرنے سے عدم استحکام کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں جس نے کاروبار پر منفی اثرات مرتب کیے۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا جام شورو ٹول پلازہ پر مبینہ دھاندلی پر احتجاج اور دھرنا: ’سندھ کے لوگوں کا مینڈیٹ چوری کیا گیا‘
سندھ پنجاب سرحد پر جی ڈی اے کا مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف دھرنا۔ جی ڈی آے کے رہنما لیاقت جتوئی نے سابق صرر پر الزام لگایا کہ ’آصف علی زرداری نے ایسا کون سا کار نامہ کیا ہے کہ انھیں چوتھی مرتبہ سندھ دیا گیا ہے۔‘
اُنھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ اُنھوں نے انتخابات میں دھاندلی کی ہے اور سندھ کے لوگوں کا مینڈیٹ چوری کیا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ جب تک سندھ کو حقوق نہیں ملتے ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔‘
اسی موقع پر سابق رکُن قومی اسمبلی سائرہ بانو نے بھی خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’اپنے حق کی جنگ خود لڑنا پڑے گی۔‘ انھوں نے بھی مُلک میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا کہ ’سندھ میں یوس محسوس ہوتا ہے کہ جہاں جے ڈی آئی کے لوگوں کا ووٹ بینک ہے وہاں اور جہاں پی پی پی کا ووٹ بینک ہے وہاں دونوں علاقوں میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے، یو لگتا ہے کہ ہمارا علاقہ کسی اور سیارے پر ہے۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس: ’یہ الیکشن دھاندلی کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا‘
اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی رہنما اور عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستانی قوم کو خراجِ تحسین پیش کرتو ہو کہ انھوں نے جن حالات میں 8 فروری کو گھروں سے نکل کر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا ہے وہ لازوال ہے اور اُس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘
اُنھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’رات 10 بجے تک جتنے پولنگ سٹیشنز کے نتائج آئے اُن کے مطابق میں جیت رہا تھا، یہ محض انتخابی فراڈ نہیں بلکہ جمہوریت پر حملہ ہے۔‘
پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رؤف حسن نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’قومی اور صوبائی اسمبلی میں جو ووٹ ڈالے گئے اُن میں بہت بڑا فرق ہے، فارم 45 کے مطابق جو آزاد اُمیدوار جیتے تھے وہ فارم 47 میں ہارے ہوئے ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ الیکشن دھاندلی کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔‘
اسی موقع پر رحانہ ڈار نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سیالکوٹ میں ایک ماں کو نہیں بلکہ عمران خان کو ووٹ دیے۔ انھوں نے سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک گھریلو خاتون تھی میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر میرے گھر پر خواجہ آصف کے کہنے پر جو حملہ کروایا گیا اور مُجھ پر جو تشدد ہوا میں نے اُس کے بعد سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔‘
اس سے قبل لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’اب بھی عام انتخابات کے بعد سامنے آنے والے نتائج پر اگر کسی فردِ واحد یا کسی بھی سیاسی جماعت کو اعتراض ہے تو اُس کے لیے انھیں الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہے۔‘
’اگر کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی نتائج پر کوئی بھی اعتراض ہے تو وہ الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے‘ مریم اورنگزیب
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنماؤں مریم اورنگزیب اور عطااللہ تارڑ نے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف پر یہ الزام لگایا کہ ’انتخابات کے فوراً بعد ہی میڈیا پر جعلی فارم 45 چلوائے گئے۔‘
پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہا کہ ’اب بھی عام انتخابات کے بعد سامنے آنے والے نتائج پر اگر کسی فردِ واحد یا کسی بھی سیاسی جماعت کو اعتراض ہے تو اُس کے لیے انھیں الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہے۔‘
پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما عطااللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے الیکشن کو متنازع بنا کر جمہوریت ڈی ریل کرنے کی کوشش کی ہے، ایک ہی اُمدوار کے دو دو نتائج میڈیا پر چلائے گئے۔‘
بریکنگ, عمران خان نے سائفر اور توشہ خانہ کیسز میں سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کر دیں
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سائفر گمشدگی اور توشہ خانہ کیسز میں سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر دی ہیں۔
یہ اپیلیں پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سید علی ظفر کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ ان اپیلیوں میں توشہ خانہ اور سائفر کیس کی کارروائی میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کے جیل ٹرائل کے دوران سپیشل جج اور نیب کی جانب سے دیے گئے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔
بیرسٹر ظفر نے موقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ دونوں کو دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا گیا جہاں عدالتیں نہ صرف غیر منصفانہ اور غیر مناسب جلد بازی سے کارروائی کر رہی تھیں بلکہ منصفانہ ٹرائل اور مناسب عمل کے بنیادی حق کو بھی نظر انداز کر رہی تھیں۔
دائر اپیلیوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو احتساب عدالت اور خصوصی جج نے غلط سزا سنائی ہے۔ ان کی آزادی کو آئین پاکستان 1973 کے تحت فراہم کردہ ان کے بنیادی حقوق سے پامال کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد ہر لحاظ سے ناقص ہیں اور انھیں مبینہ الزامات سے جوڑنے میں ناکام ہیں۔
اپیلیوں میں کہا گیا ہے کہ نیب حکام اور سپیشل جج دونوں نے اپنے اپنے فیصلے سناتے ہوئے متاثرہ افراد کے ساتھ شدید ناانصافی کی ہے کیونکہ سب سے پہلے دونوں کیسز کی سماعت دو سے تین ہفتوں میں مکمل ہوئی۔ دوسری بات یہ کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو کھلی عدالت میں ٹرائل کرنے کا حکم دیا تھا۔
تیسرا یہ کہ فیصلے غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں کیونکہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے آئین کے آرٹیکل دس کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے جب ان کے مقدمات کی سماعت عجلت میں مکمل کی گئی تھی۔
بیرسٹر ظفر کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا کہ جیل ٹرائل کے دوران عمران خان اور ان کی اہلیہ دونوں کو استغاثہ کے گواہوں (جن میں سب سے اہم گواہان سمیت دیگر اہم ترین گواہان) سے جرح کرنے کے حق کے طور پر ثبوت اور دفاع پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
دائر درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب حکام اور سپیشل جج نے توشہ خانہ اور سائفر کیسز کے جیل ٹرائلز میں دیے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں الزامات سے بری کیا جائے اور ان کی سزا معطل کی جائے۔
بریکنگ, سندھ میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سیاسی جماعتوں کی احتجاج کی کال, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی
جمعے کے روز سندھ میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے، قوم پرست جماعتوں اور مسلم لیگ فنکشنل سمیت دیگر جماعتوں پر مشتمل گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی جانب سے صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں احتجاجی دھرنا دیا جارہا ہے، جس میں کارکنوں بلخصوص پیر پگارا کی حر جماعت کے مریدین کی ایک بڑ تعداد پہنچ گئی ہے۔
یہ دھرنا ایم نائن پر جام شورو کے مقام پر دیا گیا ہے جہاں سے انڈس ہائی وے اور سپر ہائی وے کی جانب سڑکیں نکلتی ہیں اور آس پاس چار جامعات واقع ہیں جن میں آج تدریسی عمل معطل رہا۔
اس احتجاج کو پیر پگارہ پیر صبغت اللہ شاہ بھی خطاب کریں گے۔
سیاسی اتحاد کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ، خیرپور، سانگھڑ، نوابشاہ، دادو، حیدرآباد اور ٹنڈو محمد خان وہ دیگر اضلاع میں الیکشن کے روز مبینہ دھاندلی کی گئی ہے۔
جی ڈی اے کے سیکریٹری اطلاعات سردار رحیم کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ہے کہ انتخابات کو کالعدم قرار دیکر نئے انتخابات کرائے جائیں تاکہ حقیقی نمائندگی سامنے آسکے، ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات پر کیا پیش رفت ہوتی ہے حکومت مفاہمت کرتی ہے یا ہٹ دھرمی اس بنیاد پر اس احتجاج کو طول دیا جائیگا۔
سردار رحیم کے مطابق وہ تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جے یو آئی سے بھی رابطے میں ہیں ایک مشترکہ لائہ عمل بنانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب جمعیت علما اسلام کی جانب سے بھی آج کموں شہید کے مقام سندھ اور پنجاب بارڈر کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا، اس کے علاوہ کشمور اور سکھر موٹر وے پر بھی غیر اعلانیے مدت تک دھرنا دیا جائے گا۔
تجزیہ نگار فیاض نائچ کہتے ہیں کہ تقریباً دس گیارہ سال کے وقفے کے بعد پیر پگارا عوامی سیاسی عمل میں شریک ہو رہے ہیں 2012 میں سندھ میں بلدیاتی نظام کے خلاف جب تحریک چلائی گئی تو اس وقت بھی انھوں نے قیادت کی تھی اور اسی مقام پر جلسہ کیا گیا تھا۔
ان کی عوامی رابطہ مہم 2013 تک کے انتخابات تک جاری رہی اس کے بعد وہ متحرک سیاسی منظر سے پیچھے چلے گئے اور اس دوران 2018 اور 2024 میں انھوں نے گوشہ نشینی اختیار رکھی۔
جی ڈی اے میں جے یو آئی اور مسلم لیگ ن شامل نہیں رہیں تاہم انھوں نے انتخابات میں ایک دوسرے کو سپورٹ کیا تھا۔