کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو، کوئٹہ
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے باہر خواتین نے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے کے شرکا نے الزام عائد کیا کہ کوئٹہ سے پارٹی کے سربراہ عبدالخالق ہزارہ اور قادر علی نائل کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کیا گیا۔
کوئٹہ شہر میں ڈپٹی کمشنر جو کہ ضلع کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی تین اور بلوچستان اسمبلی کی 9 نشستوں کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر تھے کے دفتر کے قریب مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا۔ اس احتجاجی کیمپ میں نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں نے دھرنا دیا۔
نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کیچ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جمیعت العلماء اسلام، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام بلوچستان کے مختلف علاقوں احتجاج کیا گیا۔
احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کے علاوہ بلوچستان میں اہم قومی شاہراہیں بھی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بند رہیں۔