سیالکوٹ پولیس نے اپنے ایک اہلکار کی شکایت پر سابق وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اہلکار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ساتھ پولنگ سٹیشن پر بدتمیزی کی گئی اور انھیں زدو کوب کیا گیا۔
پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر امجد علی نے اپنی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ موبایل نیٹ ورک بند ہونے کی وجہ سے بروقت اطلاع نہیں دے سکا۔
پولیس اہلکار نے کہا کہ ’الیکش ڈیوٹی میں مصروف تھا جب آٹھ فروری کو یہ واقعہ پیش آیا۔ فردوس عاشق اعوان نے ساتھیوں کے ہمراہ کار سرکار میں مداخلت اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔‘
اس مقدمے کے اندراج کے بعد فردوس عاشق اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی کہ حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تا کہ سیشن کورٹ سیالکوٹ سے رجوع کر سکوں۔
فردوس عاشق اعوان کی درخواست میں سرکار اور اے ایس آئی امجد علی کو فریق بنایا گیا ہے۔
تھانہ صدر سیالکوٹ کے اے ایس آئی نے نو فروری کو مقدمہ درج کرایا تھا۔ فردوس عاشق اعوان کے خلاف درج ایف آئی آر کو بھی حفاظتی ضمانت کا حصہ بنایا گیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر اور استحکام پارٹی کی امیدوار فردوس عاشق اعوان نے معافی مانگ لی
الیکشن کمیشن نے پولیس اہلکاروں کو تھپڑ مارنے پر فردوس عاشق اعوان سے تحریری جواب طلب کر لیا۔
ممبر کے پی اکرم اللہ کی سربراہی میں دو رکنی کمیشن نے پولیس اہلکارکو تھپڑ مارنے کے کیس کی سماعت کی۔
فردوس عاشق اعوان نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ مانگتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ
جب ووٹ کاسٹ کرنے گئی تواہلکار ٹھپے لگا رہا تھا پریزائیڈنگ آفیسر سے شکایات کی تو اس نے کہا یہ میری بھی نہیں سن رہے۔
ممبر پنجاب نے پوچھا کہ اگرکوئی بات نہیں سن رہا توآپ تھپڑماریں گی؟
فردوس عاشق اعوان بولیں نہیں میں نے تھپڑ نہیں مارا۔
ممبر الیکشن کمیشن نے ویڈیو چلانے کی ہدایت کی تو فردوس عاشق اعوان نے کہا آپ ساتھ میں میری دی ہوئی وڈیوبھی چلا دیں۔
ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگرآپ کی کوئی شکایات تھیں تودرج کراتیں۔
پولیس حکام نے کہا کہ متعلقہ پولنگ سٹیشنز کے علاوہ تمام پولنگ سٹیشنز پرپُر امن پولنگ ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے فردوس عاشق سے 15 فروری تک تحریری جواب طلب کر لیا۔