آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انتخابات میں شکست: امیر جماعت اسلامی سراج الحق عہدے سے مستعفی، جہانگیر ترین کا سیاست چھوڑنے کا اعلان

‏سراج الحق نے جماعت اسلامی کے امیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’محنت اور کوشش کے باوجود کامیابی نہین دلا سکا، الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی امارت سے استعفی دے دیا ہے۔‘ دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین نے بھی عام انتخابات 2024 میں شکست کے بعد پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. عام انتخابات میں بلوچستان سے کوئی خاتون امیدوار عام نشستوں پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    عام انتخابات میں بلوچستان سے کوئی خاتون امیدوار عام نشستوں پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔

    بلوچستان سے عام انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی عام نشستوں پرمجموعی طور پر 52 خواتین امیدوار تھیں۔

    ان میں سے 14 خواتین قومی اسمبلی اور 38 بلوچستان اسمبلی کی عام نشستوں پر میدان میں تھیں، جہاں ان میں سے کوئی خاتون کسی عام نشست پر کامیاب نہیں ہوسکی۔

    وہاں الیکشن کمیشن کے مطابق خواتین امیدواروں کو ووٹ پڑنے کی شرح بھی انتہائی کم رہی۔

    عام نشستوں پر انتخاب لڑنے والی معروف خواتین میں زبیدہ جلال، راحت جمالی اور ثنا درانی بھی شامل تھیں۔ زبیدہ جلال اور راحت جمالی پہلے بھی عام نشستوں پر کامیابی حاصل کرتی رہی ہیں۔

  2. وسیم قادر کی ’گھر واپسی‘: تحریک انصاف اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو کسی دوسری جماعت میں شمولیت سے روک سکتی ہے؟

  3. اسلام آباد کی تینوں نشستوں پر امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    ‏الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کی تینوں نشستوں پر امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    این اے 46 سے ن لیگ کے انجم عقیل خان اور این اے 47 سے طارق فضل چوہدری جبکہ این اے 48 سے ن لیگ کے حمایت یافتہ راجہ خرم نواز کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔

  4. ’صوبائی اسمبلی کی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں‘

    جماعت اسلامی کے رہنما نعیم الرحمان نے اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے ہی کہا تھا جو جیتے اسے جیتنے دو جو ہارے اسے ہارنے دو، میری جیتی ہوئی سیٹ پر فارم 45 کے مطابق پی ٹی آئی جیتی ہے۔ لہذا اپنے ضمیر اور اپنی جماعت کی اخلاقی روایات کے مطابق اپنی صوبائی اسمبلی کی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمیں ہماری ساری جیتی ہوئی سیٹیں واپس کی جائیں۔‘

  5. فردوس عاشق اعوان نے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے پر معافی مانگ لی، الیکشن کمیشن نے جواب طلب کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سیالکوٹ پولیس نے اپنے ایک اہلکار کی شکایت پر سابق وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کیا ہے۔

    پولیس اہلکار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ساتھ پولنگ سٹیشن پر بدتمیزی کی گئی اور انھیں زدو کوب کیا گیا۔

    پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر امجد علی نے اپنی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ موبایل نیٹ ورک بند ہونے کی وجہ سے بروقت اطلاع نہیں دے سکا۔

    پولیس اہلکار نے کہا کہ ’الیکش ڈیوٹی میں مصروف تھا جب آٹھ فروری کو یہ واقعہ پیش آیا۔ فردوس عاشق اعوان نے ساتھیوں کے ہمراہ کار سرکار میں مداخلت اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔‘

    اس مقدمے کے اندراج کے بعد فردوس عاشق اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی کہ حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تا کہ سیشن کورٹ سیالکوٹ سے رجوع کر سکوں۔

    فردوس عاشق اعوان کی درخواست میں سرکار اور اے ایس آئی امجد علی کو فریق بنایا گیا ہے۔

    تھانہ صدر سیالکوٹ کے اے ایس آئی نے نو فروری کو مقدمہ درج کرایا تھا۔ فردوس عاشق اعوان کے خلاف درج ایف آئی آر کو بھی حفاظتی ضمانت کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    سابق وفاقی وزیر اور استحکام پارٹی کی امیدوار فردوس عاشق اعوان نے معافی مانگ لی

    الیکشن کمیشن نے پولیس اہلکاروں کو تھپڑ مارنے پر فردوس عاشق اعوان سے تحریری جواب طلب کر لیا۔

    ممبر کے پی اکرم اللہ کی سربراہی میں دو رکنی کمیشن نے پولیس اہلکارکو تھپڑ مارنے کے کیس کی سماعت کی۔

    فردوس عاشق اعوان نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ مانگتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جب ووٹ کاسٹ کرنے گئی تواہلکار ٹھپے لگا رہا تھا پریزائیڈنگ آفیسر سے شکایات کی تو اس نے کہا یہ میری بھی نہیں سن رہے۔

    ممبر پنجاب نے پوچھا کہ اگرکوئی بات نہیں سن رہا توآپ تھپڑماریں گی؟

    فردوس عاشق اعوان بولیں نہیں میں نے تھپڑ نہیں مارا۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے ویڈیو چلانے کی ہدایت کی تو فردوس عاشق اعوان نے کہا آپ ساتھ میں میری دی ہوئی وڈیوبھی چلا دیں۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگرآپ کی کوئی شکایات تھیں تودرج کراتیں۔

    پولیس حکام نے کہا کہ متعلقہ پولنگ سٹیشنز کے علاوہ تمام پولنگ سٹیشنز پرپُر امن پولنگ ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے فردوس عاشق سے 15 فروری تک تحریری جواب طلب کر لیا۔

  6. پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن سے دو روز میں جواب طلب کر لیا

    پشاور ہائیکورٹ نے انتخابی نتائج میں مبینہ تبدیلی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے دو روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔

    یہ درخواستیں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 28 اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں پی کے 72، 73، 74، 75، 78، 79 اور 82 کے نتائج کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔

    درخواستگزاروں میں تیمور جھگڑا، کامران بنگش، محمود جان، ارباب جہانداد، محمد عاصم، علی زمان، شہاب خان اور ساجد نواز شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماوں کی درخواستوں پر جسٹس شکیل احمد اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی۔

    درخواستگزاروں کے وکلا کے کہنا تھا کہ ’ہم پہلے جیت گئے تھے لیکن آر او نے نتائج تبدیل کرکے ہروا دیا۔ فارم 45 میں نتائج ہمارے حق میں تھے، فارم 47 میں تبدیل کردیے گئے۔ فارم 45 اور 47 میں ووٹ میں ہزاروں کا فرق ہے۔

    وکیل کے مطابق حتمی نتائج کا اعلان تمام امیدواروں کی موجودگی میں ضروری ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے بیشتر حلقوں کے فارم 49 جاری کردیے ہیں۔

    وکیل کے مطابق جب آر اوز نے دفاتر بند کردیے تو مجبوراً ہم نے دوبارہ گنتی کے لیے درخواستیں دروازے پر چسپاں کردیں۔

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’رولز کے مطابق آپ کے کیس میں دوبارہ گنتی نہیں ہوسکتی۔ فارم 49 جاری ہوچکا ہے پھر تو ہم اس کو معطل نہیں کرسکتے۔‘

    جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ ’ہائیکورٹ کے پاس فارم 49 معطلی کا اختیار نہیں ہے۔

    وکیل نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن نے یہ سب کیسے کیا، جواب طلب کیا جائے۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کامیابی سے متعلق گزیٹڈ نوٹیفیکیشن جاری نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    کامیاب ہونے والے امیدواروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمات قابل سماعت نہیں ہیں، ان میں الیکشن کمیشن حکم دے چکا ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کیوں جلدی میں ہیں، الیکشن کمیشن کا جواب آنے دیں۔‘

    عدالت نے الیکشن کمیشن سے دو روز میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ’نتائج روکنے سے متعلق حکم امتناعی کی استدعا پر بعد میں فیصلہ کرتے ہیں۔‘

  7. پیپلز پارٹی آج حکومت سازی پر مسلم لیگ ن کی تجاویز پر غور کرے گی

    پیپلز پارٹی حکومت سازی سے متعلق مسلم لیگ ن کی تجاویز پر آج اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں غور کرے گی۔

    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے گذشتہ روز کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ونوں جماعتوں کے قائدین نے ’ملک کو سیاسی استحکام سے ہمکنار کرنے کے لیے سیاسی تعاون پر اتفاق کیا۔

    ’دونوں جماعتوں کے قائدین نے اس بات پر بھی اصولی اتفاق کیا کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں گے۔ ملاقات میں دونوں جماعتوں نے صورتحال پر مشاورت کی اور تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘

    اس میں مزید کہا گیا کہ ’پی پی پی قیادت کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن کی تجاویز کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سامنے رکھیں گے۔

    ’دونوں جماعتوں کے قائدین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی اکثریت نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے‘

  8. انتخابات کے بعد سیاسی صورتحال: سٹاک مارکیٹ میں 1850 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور اب تک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 1850 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ہفتے کے آغاز پر سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی انداز میں ہوا اور اس کے بعد کاروبار میں مندی کا رجحان غالب رہا۔ مارکیٹ میں اس وقت فروخت کا رجحان غالب ہے اور مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری سے زیادہ ان کی فروخت کی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز (یعنی انتخابات سے اگلے روز) مارکیٹ میں 1200 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی اور سوموار کے روز اس میں مزید کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    اب تک انڈیکس میں مجموعی طور پر 1850 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار مارکیٹ میں مندی کی وجہ انتخابات کے بعد سیاسی غیر یقینی کے مزید بڑھنے کے خدشات کو قرار دیتے ہیں۔

    تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق مارکیٹ میں مندی کی وجہ سیاسی کے ساتھ ساتھ معاشی بھی ہے۔ انھوں نے کہا اگلی حکومت مخلوط ہو گی جس پر فی الحال ایک غیر یقینی صورتحال ہے۔ انھوں نے کہا اسی طرح توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر بھی مندی کی ایک وجہ ہے۔

    سہیل کے مطابق ماضی میں 2008, 2013 اور 2018 کے انتخابات کے دوسرے دن سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی۔

  9. انتخابی شکایات پر بینچز تشکیل: الیکشن کمیشن, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    الیکشن کمیشن میں انتخابی شکایات پر سماعت کے لیے بینچز تشکیل دیے گئے ہیں۔

    کمیشن کے مطابق اب تک 67 انتخابی شکایات دائر ہو چکی ہیں جن کی سماعت کے لیے دو بینچ تشکیل دیے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 29 درخواستوں پر سماعت کرے گا جبکہ بلوچستان اور سندھ کے ارکان 38 درخواستوں کی سماعت کریں گے۔

  10. لاہور ہائیکورٹ: مریم نواز اور علیم خان کی کامیابیوں کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    تحریک انصاف کی جانب سے نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، عبدالعلیم خان، خواجہ آصف، عطا اللہ تارڑ، سیف الملکوک کھوکھر سمیت 20 حلقوں سے کامیاب مسلم لیگ ن یا اس کے اتحادیوں کے امیدواروں کے نتائج کو لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے آج سماعت کر رہے ہیں۔

    الیکشن 2024 کے دوران آر اوز کے فیصلوں کے خلاف درخواستوں پر عدالت نے مریم نواز کے حلقے این اے 119 اور علیم خان کے حلقے این اے 117 پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔ جبکہ عمر اسلم خان کی درخواست کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوایا گیا۔

    این اے 119 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار شہزاد فاروق کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’‏مریم نواز فارم 45 کے مطابق ہار چکی ہیں۔۔۔ ‏ریٹرنگ افسر نے مبینہ طور پر مریم نواز کو فاتح قرار دیا۔‘ انھوں نے استدعا کی کہ عدالت ’فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے۔‘

    مریم نواز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ این اے 128 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ‏سلمان اکرم راجہ کے الیکشن میں چار سو افراد کا کلیش ہوا۔ ’‏الیکشن کے مسائل حل کرنے کے لیے قانون (الیکشن ایکٹ) میں تبدیلی کی گئی۔

    ’کوئی ایسی شکایت نہیں جس کا فیصلہ نہ کیا گیا ہو۔ ‏الیکشن کمیشن کا آئینی اداری ہے۔ ‏زیادتی کے ازالہ کے لیے الیکشن کمیشن کو شکایت سننے کا پابند کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’‏جو شکایت پہلے آئیں گی اسے الیکشن کمیشن پہلے سن رہا ہے۔ ‏الیکشن کمیشن شکایات کو ترتیب کے ساتھ سن رہا ہے۔‘

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے اس معاملے میں استفسار کیا کہ ’‏اگر نتائج کی بلڈنگ فارم 45 کی فاؤنڈیشن پر نہیں ہے تو کیسے قائم رہ سکتی ہے، بھلے فارم 47 یا فارم 49 جاری کر دیا جائے؟‘

  11. عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور نتائج بدلنے کے الزامات: الیکشن فراڈ کیا ہے اور اس سے جمہوریت کو کیا خطرہ ہوتا ہے؟

  12. ’آپ ایک ایسے شخص کے لیے وزارت عظمیٰ کا راستہ ہموار کر رہے ہیں جس کو عوام نے مسترد کیا، کون اُن کو یہ راستہ دکھا رہا ہے‘

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت کا کسی ادارے سے کوئی جھگڑا نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک، جمہوریت اور معیشت کی خاطر آگے بڑھا جائے۔

    نجی ٹی وی چینل ’ہم نیوز‘ کے اینکر سمر عباس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گوہر خان کا کہنا تھا کہ ’ہم تو سب کو کہتے ہیں کہ اپنا اپنا آئینی کردار ادا کریں، ہم اپنا آئینی کردار ادا کر رہے ہیں، ہمارا کسی کے ساتھ جھگڑا نہیں ہے، ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ سیزفائر ہونا چاہیے، آگے بڑھیں، ملک، جمہوریت اور معیشت کی خاطر آگے بڑھیں۔‘

    اداروں کے ساتھ بات چیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس سارے عمل کے وِکٹم (متاثرہ) ہیں، عوامی مینڈیٹ ہمارے پاس آ گیا ہے، مگر ہمیں دوبارہ وِکٹم بنایا گیا اور ہمارا مینڈیٹ لے کر کسی اور کو دے دیا گیا۔ اس کو مینڈیٹ دیا گیا جو ڈیل کی باتیں کرتا رہا اور جس کو عوام نے مسترد کیا، اُس کے لیے آپ دوبارہ راستہ بنا کر کہہ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم بنیں۔ ان کے پاس 50 سیٹیں بھی نہیں تھیں کہ انھوں نے وکٹری سپیچ کر دی۔ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں، کون ان کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، کون ان کو یہ راستہ دکھا رہا ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ملک اور معیشت کی خاطر وہ پارلیمان میں تمام جماعتوں کے ساتھ ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیں۔

  13. انتخابات کے نتائج اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوئے: نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ نگران حکومت نے پُرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری پوری کی ہے اور انتخابات کے نتائج اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کے مطابق مرتضیٰ سولنگی نے یہ بات نجی ٹی وی چینل (جی ٹی وی) کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

    وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کے روز شہریوں، پولنگ عملے اور پولنگ سٹیشنوں کو درپیش خطرات کی وجہ سے موبائل سروس بند کی گئی جس کی وضاحت وزارت داخلہ کر چکی ہے۔ ’ہمارے لیے شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا زیادہ اہم تھا۔ شہریوں، پولنگ سٹاف، پولنگ سٹیشنوں کو خطرات لاحق تھے، شہریوں کی نقل و حمل کو محفوظ بنانا ہمارے لیے ضروری تھا۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ الیکشن کے عمل اور الیکشن کی تاریخ پر ہمیشہ تنازعات رہے ہیں، سنہ 2018 اور سنہ 2013کے انتخابات پر بھی تنازعات تھے۔

    انھوں نے کہا کہ نگران حکومت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد میں ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ ’ہم نے پرامن شفاف انتخابات کرانے کی ذمہ داری پوری کی ہے۔ انتخابات کے نتائج اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ’آئین اور قانون کے تحت انتقال اقتدار کا طریقہ کار موجود ہے، انتخابات کے سرکاری نتائج متعلقہ اسمبلیوں تک پہنچیں گے تو موجودہ سپیکرز اسمبلیوں کا اجلاس بلائیں گے، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ جب حلف اٹھائیں گے تو نگران حکومتیں تحلیل ہو جائیں گی۔‘

  14. بریکنگ, شہباز زرداری کی ملاقات، پیپلز پارٹی کا سیاسی تعاون جاری رکھنے اور مسلم لیگ ن کی تجاویز کو سی ای سی میں لے جانے کا فیصلہ

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان حکومت سازی سے متعلق ہونے والی ملاقات میں دونوں پارٹیوں نے سیاسی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔

    اتوار کی شام لاہور میں بلاول ہاؤس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی قیادت میں لیگی وفد کی ملاقات پیپلز پارٹی کی قیادت سے ہوئی۔

    ملاقات میں دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد سیاسی صورتحال پر مشاورت کی اور حکومت سازی سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں سیاس تعاون پر اصولی اتفاق رائے کیا گیا ہے۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    دونوں جماعتوں کی قیادت نے ملک کو سیاسی استحکام سے ہم کنار کرنے کے لیے سیاسی تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق رہنماؤں نے کہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں گے۔

    پیپلز پارٹی کی قیادت نے مسلم لیگ ن کی تجاویز کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سامنے رکھنے کا کہا ہے۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے وفد میں شہباز شریف، اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر، خواجہ سعد رفیق، ملک احمد خان، مریم اورنگزیب اور شزا فاطمہ شامل تھیں۔

  15. بلوچستان میں ’باپ‘ کو دھچکا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی نشستوں میں اضافہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    سنہ 2018 کے عام انتخابات کے مقابلے میں سنہ 2024 میں بلوچستان سے جے یو آئی کے سوا پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں نواز لیگ کو بلوچستان اسمبلی کی صرف ایک نشست حاصل کرنے میں کامیابی ملی تھی جبکہ پیپلز پارٹی ایک نشست بھی حاصل نہیں کرسکی تھی۔

    تاہم مبصرین کے مطابق عام انتخابات سے قبل ’الیکٹیبلز‘ کی دونوں جماعتوں میں جانے سے صورتحال تبدیل ہو گئی جس کے باعث دونوں جماعتوں کو بلوچستان سے بھی زیادہ نشستیں مل گئیں۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان (باپ) سے سب سے بڑی پارٹی کے طورپرابھر کر سامنے آئی تھی لیکن الیکٹیبلز کے جانے سے وہ حالیہ انتخابات میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔

    حالیہ عام انتخابات میں بلوچستان سے نواز لیگ کوقومی اسمبلی کی چار اور صوبائی اسمبلی کی 10 نشستیں ملیں۔ جمیعت العلما اسلام اور پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی دو دو اور بلوچستان اسمبلی کی 11 ،11 نشستیں ملیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی قومی اسمبلی کی صرف ایک جبکہ صوبائی اسمبلی کی چار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکی۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں نیشنل پارٹی کو کوئی نشست نہیں ملی تھی لیکن حالیہ انتخابات میں نیشنل پارٹی قومی اسمبلی کی ایک اور بلوچستان اسمبلی کی تین نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی سنہ 2018 کے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت تھی لیکن سنہ 2024 میں اسے قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیابی ملی۔

    تینوں نشستوں پر پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل ہی کامیاب ہوئے جبکہ ان کے سوا پارٹی کے کسی امیدوار کو کامیاب قرار نہیں دیا گیا۔

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو سنہ 2018 کے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کی صرف ایک نشست ملی تھی لیکن حالیہ انتخابات میں پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیاب ہوئے لیکن پارٹی کا کوئی اور امیدوار کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

    عوامی نیشنل پارٹی کو بلوچستان اسمبلی کی دونشستیں ملیں جبکہ سنہ 2018 میں اسے تین عام نشستیں ملی تھیں۔ آزاد حیثیت سے بلوچستان سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر دو جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر چھ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

    نئی قوم پرست جماعت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کو قومی اسمبلی کی ایک نشست ملی جبکہ بی این پی عوامی، حق دو تحریک اور جماعت اسلامی بلوچستان اسمبلی کی ایک ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

  16. حکومت سازی پر تبادلہ خیال کے لیے مسلم لیگ ن کا وفد بلاول ہاؤس پہنچ گیا

    پاکستان مسلم لیگ ن کا وفد پیپلز پارٹی سے حکومت سازی سے متعلق تبادلہ خیال کرنے کے لیے لاہور میں بلاول ہاؤس پہنچ گیا ہے۔

    مسلم لیگ ن کے وفد میں پارٹی صدر شہباز شریف، احسن اقبال، سعد رفیق، رانا تنویر، اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق اور ملک احمد خان شامل ہیں۔م

    سلم لیگ کا وفد سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو سے حکومت سازی کے معاملات پر بات چیت کرے گا۔

  17. لاہور سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ کامیاب اُمیدوار وسیم قادر کا مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان

    مُلک میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات میں لاہور سے این اے 121 سے کامیاب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری لاہور وسیم قادر نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار وسیم قادر نے این اے 121 میں مسلم لیگ ن کے رہنما روحیل اصغر کو شکست دی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی ہے کہ جس میں لاہور سے کامیاب ہونے والے وسیم قادر مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ کہ رہے ہیں کہ وہ اپنے گھر واپس آگئے ہیں۔‘

    ایکس پر جاری ویڈیو میں وسیم قادر نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔اُن کا کہنا تھا کہ انھوں نے حلقے کے عوام اور دوستوں کی مشاورت سے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس موقع پر مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے وسیم قادر کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کا اور انھیں مبارک باد دی۔

  18. راولپنڈی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پی ٹی آئی کارکُنان کا مظاہرہ، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال, کیرولائن ڈیویز، بی بی سی نیوز

    مُلک میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد سامنے آنے والے نتائج پر مُلک کے متعدد شہروں میں ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے ساتھ مظاہروں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

    ایسا ہی ایک مظاہراہ وفاقی دارلحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں ہوا۔ راولپنڈی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے قریب آج بعد دوپہر پاکستان تحریکِ انصاف کے چند سو حامی جمع ہوئے اور احتجاج کرنے کی کوشش کی۔

    پولیس انتظامیہ نے راولپنڈی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب جانے والی سڑک کو دونوں اطراف سے خاردار تاروں اور ٹرک کی مدد سے بند کردیا تھا۔ انتظامیہ نے مظاہرین کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے نہیں دیا۔

    پنجاب پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کا اطلاق مُلک میں عام انتخابات سے قبل کیا گیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا یہ 12 فروری تک نافذ العمل ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے دفتر کے قریب مظاہرین تقریبا 90 منٹ تک نعرے بازی کرتے رہے اور سڑک کو بلاک کیے رکھا۔ اس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

  19. وسعت اللہ خان کا کالم ’بات سے بات‘: ووٹ کو نہ سہی خود کو ہی عزت دے دو

  20. الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں این اے 47،46 اور 48 کے آر اوز کو انتخابی نتائج کا حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    این اے 48 اسلام آباد سے آزاد امیدوار مصطفی نواز کھوکھر نے نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا اور کہا کہ انتخابی نتائج کے شروع ہوتے ہی پولنگ ایجنٹس اور میڈیا کے نمائندوں کو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال دیا تھا۔ انھوں نے درخواست میں کہا کہ فارم 47 کے مطابق آزاد امیدوار علی محمد بخاری این اے 48 سے 70 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہو رہے تھے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی محمد بخاری نے کہا کہ انھوں نے ای سی پی کو فارم پینتالیس سمیت ثبوت فراہم کیے کہ کیسے نتائج کو مبینہ طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ ان سمیت پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ دیگر امیدواروں کی برتری ہزاروں ووٹوں سے تھی جس کے ثبوت کے طور پر ان کے پاس فارم 47 موجود ہیں۔

    علی بخاری نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ ریٹرننگ افسر کے حتمی نتائج سے قبل انھیں رسائی نہیں دی اور یہ کہ وہ الیکشن ایکٹ سیکشن 8 کے تحت ریلیف مانگ رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 92 اور 95 کے تحت حتمی نتائج کی تیاری یعنی فارم 47 کے وقت تمام امیدواروں یا ان کے ایجنٹس کی ذاتی طور پر موجودگی ضروری ہے۔

    الیکشن کمیشن نے سماعت کے بعد تینوں حلقوں کے متعلقہ آر اوز سے وضاحت طلب کرتے ہوئے ختمی نتائج کا نوٹی فکیشن جاری کرنے سے روک دیا ہے۔

    دوسری جانب این اے 15 مانسہرہ میں نتائج میں مبینہ تبدیلی سے متعلق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے آر او کو این اے 15 کا حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روک دیا۔

    سماعت چیف الیکشن کمیشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ نے کی۔ نواز شریف کے وکیل نے دعوی کیا کہ انھیں این اے 15 مانسہرہ کے 125 پولنگ سٹیشنز کے فارم 47 نہیں ملے اور الزام لگایا کہ پریزائڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا تھا۔ انھوں نے این اے 15مانسہرہ کا حتمی نوٹیفیکیشن روکنے کی استدعا کی تھی۔