بلوچستان میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکوں میں 27 ہلاک: ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ رکھی جائے، چیف الیکشن کمشنر

بلوچستان کے ضلع پشین میں آزاد امیدوار سابق وزیر اسفندیار کاکڑ جبکہ قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار مولانا واسع کے انتخابی دفاتر کے باہر ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دریں اثنا چیف الیکشن کمیشن نے چاروں صوبوں کے حکام کو سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. دھماکے کے بعد پشین ہسپتال کے باہر کے مناظر

    تصویر

    بلوچستان کے شہر پشین میں آزاد امیدوار کے انتخابی دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    تصویر

    دھماکے کے بعد ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کو پشین کے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال پہنچایا گیا ہے جہاں لواحقین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

    تصویر
  2. بریکنگ, قلعہ سیف اللہ: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ضلعی دفتر کے باہر دھماکہ

    تصویر

    بلوچستان کے شہر پشین میں آزاد امیدوار کے انتخابی دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ضلعی دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔

    ایس پی قلعہ سیف اللہ اختر اچکزئی نے اس حملے میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ اس سے قبل نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قلعہ سیف اللہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد کی ہلاکت کا بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں جمیعت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا عبد الواسع محفوظ رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ دھماکہ جے یو آئی (ف) کے قلعہ سیف اللہ بازار میں واقع ضلعی دفتر کے باہر ہوا ہے۔ یہی دفتر جماعت کے رہنما مولانا عبدالوسع اپنے انتخابی دفتر کے طور پر بھی استعمال کر رہے تھے۔

    مولانا واسع پی بی 3 سے جے یو آئی کے نامزد امیدوار ہیں۔

    نگراں وفاقی وزیر داخلہ ڈاکٹر گوہر اعجاز کی قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علما اسلام ف کے دفتر کے باہر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے شرپسند افراد افرا تفری پھیلانا چاہتے ہیں اور عوام کو حق رائے دہی کے استعمال سے روکنا چاہتے ہیں۔

    پشین اور قلعہ سیف اللہ متصل اضلاع ہیں اور ان دونوں اضلاع کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔

  3. بریکنگ, پشین میں آزاد امیدوار کے الیکشن دفتر کے باہر دھماکہ: 18 افراد ہلاک، 30 زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے خانوزئی میں ایک انتخابی امیدوار کے الیکشن دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک جبکہ 30 زخمی ہو گئے ہیں۔

    فی الحال دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

    تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال خانوزئی کے ایم ایس ڈاکٹر حبیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس دھماکے کے بعد ہسپتال میں 14 افراد کی لاشیں اور 30 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے چار مزید افراد کی لاشیں کوئٹہ کے سِول ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔

    کوئٹہ میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 47 پشین سے آزاد امیدوار اسفندیار کاکڑ کے انتخابی دفتر کے باہر ہوا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد انتخابی دفتر کے باہرموجود تھی۔

    زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ لیویز فورس کے اہلکار دھماکے کی شدت کے باعث مزید ہلاکتوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ بیشتر زخمی بُری طرح مجروح ہوئے ہیں۔

    خانوزئی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً شمال مشرق میں 40 سے زائد کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    اگرچہ ضلع پشین کے بعض دیگر علاقوں مین پہلے بھی بم دھماکوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں لیکن خانوزئی کے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے۔

  4. عام انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں، سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور انتخابی مواد کی ترسیل جاری

    ICT

    ،تصویر کا ذریعہICT Police

    پاکستان بھر میں اس وقت عام انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ پولنگ سٹیشنز کے لیے سکیورٹی اور سامان کی ترسیل جاری ہے۔

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے افسران و جوان پولنگ سٹیشنز پر پہنچ گئے ہیں اور پولنگ سٹیشنز پر تعینات اہلکار رات وہیں قیام کریں گے۔

    ICT

    ،تصویر کا ذریعہICT Police

    ترجمان کے مطابق اسلام آباد پولیس کے 6500 اہلکاروں کے ساتھ 1000 ایف سی، 1500 رینجرز اور فوج کے جوان فرائض سر انجام دیں گے۔

    ترجمان کے مطابق انتخابات کے حوالے سے مرکزی کنٹرول روم سیف سٹی میں قائم کیا گیا ہے۔

    ICT

    ،تصویر کا ذریعہICT Police

    ان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ کار کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی صورت خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ترجمان نے وضاحت کی کہ اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ اور ہلڑ بازی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا ہے کہ انتخابات کی کوریج کرنے والے صحافیوں اور غیرملکی مبصرین اور مشاہداتی ٹیموں کو ان کے فرائض کی انجام دہی میں مدد فراہم کی جائے گی۔

  5. ’الیکشن مینجمنٹ سسٹم‘ کا عملہ کہاں بیٹھ کر مانیٹرنگ کرتا ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  6. عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں کل 90675 پولنگ سٹیشن قائم

    عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں کل 90675 پولنگ سٹیشن قائم کیے ہیں۔ پولنگ بوتھ کی تعداد دو لاکھ چھتر ہزار تین سو اٹھانویں بنتی ہے۔ ان پولنگ سٹیشنز میں سے 25321 مردوں کے لیے جبکہ خواتین کے لیے قائم کیے گئے پولنگ سٹیشنز کی تعداد 23952 بنتی ہے۔ کمبائنڈ یا مشترکہ پولنگ سٹیشنز کی تعداد 41403 بنتی ہے۔

    الیکشن کمیشن نے ان تمام پولنگ سٹیشنز اور پولنگ بوتھ کے لیے عملے، سکیورٹی اور ضروری سامان کی ترسیل یقینی بنانی ہے۔

    ECP

    ،تصویر کا ذریعہECP

  7. ’مجھے بنی گالا سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے‘: بشری بی بی کی درخواست پر سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ انھیں ان کی بنی گالا رہائش گاہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے۔

    خیال رہے کہ نکاح کیس میں گرفتاری کے بعد بشریٰ بی بی کو بنی گالا رہائش گاہ میں رکھا گیا ہے اور اسے سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد انھیں سیاسی رہنماؤں کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    بشریٰ بی بی کی درخواست پر ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے اعتراضات عائد کیے ہیں۔ آج عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ اس درخواست کو اعتراضات سمیت سننا ہے یا پہلے اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

    31 جنوری کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی اور وہ جب سرنڈر کرنے کے لیے اڈیالہ جیل پہنچیں تو انھیں خواتین قیدیوں کی بیرک میں منتقل کرنے کی بجائے ویٹنگ روم میں بٹھائے رکھا اور نو گھنٹے انتظار کروانے کے بعد جیل کی انتظامیہ نے انھیں بتایا کہ انھیں بنی گالہ میں منتقل کیا جا رہا ہے اور ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

    بشریٰ بی بی کی طرف سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی جانب سے ایسی کوئی درخواست جیل حکام کو نہیں دی گئی تھی اور وہ قید کی مدت جیل کے اندر کی گزارنے کو تیار ہیں۔

  8. پاکستان کی نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن عام انتخابات کے دوران بلا تعطل انٹرنیٹ تک محفوظ رسائی یقینی بنائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

    Internet

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستانی حکام سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کے دوران ملک بھر کے تمام شہریوں کے لیے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن پلیٹ فارم تک رسائی کو یقینی بنائیں۔

    یہ مطالبہ نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز کے ایک بیان کے جواب میں سامنے آئی ہے۔ انھوں نے جمعرات کے انتخابات کے دوران انٹرنیٹ میں خلل پڑنے اور بند ہونے کے امکان کو تسلیم کیا ہے۔

    نگراں وزیراعظم اور چیف الیکشن کمشنر کے نام بھیجے گئے خط کی ایک کاپی ایمنسٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کو بھی بھیجی ہے۔

    خط کے مطابق سرکاری اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کے عوام اہم قومی واقعات کے دوران خاص طور پر بلا روک ٹوک، محفوظ اور مفت انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کر سکیں۔

    انٹرنیٹ تک سنہ 20024 کے عام انتخابات کے دوران بھی بلا تعطل رسائی ممکن بنائی جائے۔

    خط کے مطابق یہ مطالبہ کیپ اٹ اوپن نامی اتحاد کی طرف سے کیا جا رہا ہے جس میں 105 سے 300 سے زیادہ انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل ہیں جو انٹرنیٹ تک رسائی کے حق کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔ اس اتحاد کے مطابق آزادی اظہار رائے کے ذریعے سے ہی عام انتخابات صاف اور شفاف بنائے جا سکتے ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں نے وزیراعظم اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتخابی مدت کے دوران انٹرنیٹ کی مکمل رسائی اور سوشل میڈیا کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کریں۔

    انٹرنیٹ تک رسائی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اہلیت شہریوں کے لیے جمہوری عمل میں حصہ لینے کے لیے ضروری ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اس کے شراکت دار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انتخابات کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی میں رکاوٹیں نہ صرف جمہوری عمل کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ یہ شہریوں کی اہم معلومات تک رسائی اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار میں بھی رکاوٹ ہے۔

  9. الیکشن 2024: انتخابی مہم کا وقت ختم

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اور آزاد امیدواروں کی انتخابی مہم کا وقت رات بارہ بجے ختم ہو چکا ہے۔

    الیکشن کے ضابطہِ اخلاق کے مطابق اب سیاسی رہنما اور امیدوار جلسے، کارنر میٹنگز نہیں کر سکتے۔

    پاکستان میں قومی اسمبلی کی 266 اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 593 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

    قومی اسمبلی کے لیے5121 امیدواروں ( 4800 مرد اور 312 خواتین، دو خواجہ سرا ) کے درمیان مقابلہ ہوگا جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے12695 امیدواروں میدان میں ہیں

    پاکستان بھر میں بارہ کروڑ 85 لاکھ 50 ہزار 760 افراد الیکشن میں اپنے نمائندہ منتخب کریں گے۔

    پنجاب میں رجسٹرڈ رائے دہندگان کی سب سے زیادہ ہے جو سات کروڑ 32 لاکھ سات ہزار 896 ہے۔ اس کے بعد سندھ میں دو کروڑ انہتر لاکھ 94ہزار 769، خیبر پختونخوا میں دو کروڑ 19 لاکھ 28 ہزار ایک سو انیس، بلوچستان میں 53 لاکھ 71 ہزار 947 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 لاکھ 83 ہزار 29 ہے۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے بھی پولنگ کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ چاروں صوبوں میں نوے ہزار چھ سو پچھتر پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتخامات کیے گئے ہیں۔ پر امن انتخابات یقینی بنانے کے لیے حسّاس پولنگ سٹیشن پر سکیورٹی کے لیے فوج بھی طلب کی گئی ہے۔

  10. بلوچستان: مختلف علاقوں میں منگل کو بھی امیدواروں کے گھروں اور انتخابات سے متعلق تنصیبات پر حملے, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں منگل کے روز بھی امیدواروں کے گھروں اور عام انتخابات سے متعلق تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

    ایران سے متصل ضلع پنجگور کے ہیڈکوارٹر میں نامعلوم افراد نے پیپلزپارٹی کے بلوچستان اسمبلی کی نشست سے امیدوار آغا شاہ حسین کے گھر پر دستی بم سے حملہ کیا۔

    پنجگور پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دستی بم امیدوار کے گھر کے مہمان خانے کے قریب چار دیواری کے اندر گرکر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پنجگور سے متصل ضلع کیچ میں بلیدہ کے علاقے مہناز میں نامعلوم افراد نے نواز لیگ کے قومی اسمبلی کی امیدوار اسلم بلیدی کے گھر پر بھی دستی بم سے حملہ کیا۔

    تربت میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس سے قبل تربت میں نامعلوم افراد کے حملے میں اسلم بلیدی زخمی ہوئے تھے۔

    خاران کے علاقے جوزان میں سرکاری اسکول پر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔ خاران میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس اسکول میں عام انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

    ادھر کوئٹہ شہر میں نامعلوم افراد نے سریاب کے علاقے کلی احمد خانزئی میں گورنمنٹ اسکول پر دستی بم سے حملہ کیا۔ سریاب پولیس کے مطابق دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    کلی احمد خانزئی کے اس سکول میں بھی عام انتخابات کے لیے پولنگ سٹیشن قائم کیا گیا تھا۔

    ایران سے متصل ضلع واشک میں نادرا کے دفتر کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم پریس کلب اور قرب و جوار کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    بلوچستان میں گذشتہ ایک ہفتے سے زائد کے عرصے سے امیدواروں کے دفاتر، گھروں اور انتخابی سرگرمیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان حملوں میں زیادہ تر پیپلز پارٹی کے دفاتر اور گھر نشانہ بنے۔

  11. بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل منتقلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    bushra bibi

    ،تصویر کا ذریعہHum Tv

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور انھوں نے استدعا کی ہے کہ سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں اڈیالہ جیل ہی منتقل کر دیا جائے۔

    اکتیس جنوری کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی اور وہ جب سرنڈر کرنے کے لیے اڈیالہ جیل پہنچیں تو انھیں خواتین قیدیوں کی بیرک میں منتقل کرنے کی بجائے ویٹنگ روم میں بٹھائے رکھا اور نو گھنٹے انتظار کروانے کے بعد جیل کی انتظامیہ نے انھیں بتایا کہ انھیں بنی گالہ میں منتقل کیا جا رہا ہے اور ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

    بشریٰ بی بی کی طرف سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی جانب سے ایسی کوئی درخواست جیل حکام کو نہیں دی گئی تھی اور وہ قید کی مدت جیل کے اندر کی گزارنے کو تیار ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ خود کو بنی گالہ میں محفوظ نہیں سمجھتیں کیونکہ بنی گالہ جس کو سب جیل قرار دیا گیا ہے، وہاں پر ایسے افراد گھوم رہے ہوتے ہیں جن کو درخواست گزار نہیں جانتیں اور ان کی وجہ سے وہ خود کو اس سب جیل میں غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

    سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کا ارٹیکل 25 تمام پاکستانیوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور درخواست گزار کے ساتھ اس طرح کا امتیازی سلوک ان سیاسی کارکنوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے جو عام جیلوں میں رہ رہے ہیں۔

    بشریٰ بی بی نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت 31 جنوری کا ارڈر جس میں بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیتے ہوئے انھیں (بشری بی بی) کو منتقل کیا گیا تھا، کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کرے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 31 جنوری کو توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 14، 14 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

  12. 20985 پولنگ سٹیشنز حساس قرار، پولیس اور فوج تعینات رہے گی: نگراں وزیر داخلہ

    Press Conference

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ صاف و شفاف الیکشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، 20 ہزار 985 پولنگ سٹیشنز حساس ہیں، معمول کے پولنگ سٹیشنز پربھی سکیورٹی کے کڑے انتظامات ہوں گے۔

    اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کو غیرمستحکم کرنے والی قوتوں سے خطرہ ہے، سکیورٹی کے لیے پولیس اور آرمڈ فورسز موجود ہیں۔‘

    گوہر اعجاز کے مطابق قومی اسمبلی کے 266 حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں، لاکھوں ریلیاں نکلیں مگر دہشتگردی کے بہت ہی کم واقعات رونما ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کوشش ہے کہ تمام پاکستانی آزادی سے حق رائے دہی استعمال کریں۔

    گوہر اعجاز نے کہا کہ سندھ میں ایسی صورتحال نظر نہیں آئی کہ سیاسی جماعتوں میں دشمنی ہو، بلوچستان میں پولنگ سٹیشنز کے درمیان کافی فاصلہ ہے، صوبے میں تمام امیدوار ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    گوہر اعجاز نے کہا کہ نگران سیٹ ایپ نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہیں، کوشش ہے کہ انتخابی عمل میں کوئی جانی نقصان نہ ہو اور تمام پاکستانی آزادی سے حق رائے دہی استعمال کریں۔

  13. الیکشن کمیشن کس پارٹی میں تفریق نہ کرے، نہ ایسا ظاہر کرے کہ وہ کسی ایک جماعت کا ہے: پیپلز پارٹی

    رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمان نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی پارٹی مین تفریق نہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن مستونگ سے لے کر یہاں تک جو پیپلز پارٹی پر حملے ہورہے ہیں ان کا نوٹس لے۔

    ان کے مطابق لاہور میں این اے 127 میں ہمارے دفتر پر حملہ ہوا۔ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور دھونس دھمکی کے ساتھ الیکشن نہیں ہوتے۔

    خیال رہے کہ لاہور کے اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو خود انتخابات لڑ رہے ہیں۔

    شیری رحمان کے مطابق پیپلز پارٹی ایسے ہتھکنڈوں سے کبھی نہیں ڈری لاہور کسی کی ملکیت اور جاگیر نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان بھی کسی کی جاگیر نہیں ہے لوگوں کو ووٹوں کا حق دیں یہ ان کا قانونی حق ہے، یہ الیکشن ہے، چناؤ ہے، یہ دنگل نہیں ہے۔

    شیری رحمان کے مطابق ’ہم نے شہادتیں دیں ہیں ہم ڈرتے نہیں ہیں، ہم نفرت اور سیاست کی تقسیم نہیں چاہتے۔ آپ تنقید کریں یہ الیکشن کا حسن ہے لیکن دھمکیاں مت دیں یہ کسی کو زیب نہیں دیتا۔

    ان کے مطابق ’ہم نے لاہور پر توجہ دی یے تو اس سے ڈریں مت سب کو ووٹ حق دیں یہ جنگ نہیں ہے خون خرابہ مت کریں۔‘

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’نوجوان پیپلز پارٹی کو ووٹ کرنا چاہتے ہیں تو ان کو یہ حق دیں، غریب لوگوں کا دل پیپلز پارٹی کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ لوگوں کو مشتعل مت کریں۔ ایسا نہ کریں کہ لاہور کا ماحول خراب کریں۔ ہم دھمکی نہیں دے رہے ہیں، پیار سے مائل ہوں گے تو اچھی بات ہے۔

    الیکشن کمیشن اس بات کا نوٹس لے ایسا نہ ظاہر کرے کہ الیکشن کمیشن کسی ایک جماعت کا ہے۔

  14. ’فون کالز کر کے کہتے ہیں کہ اگر جلسہ کیا تو آپ کے خلاف پرچہ ہو جائے گا‘ رہنما تحریک انصاف کا عدالت میں بیان

    اسلام آباد ہائیکورٹ تحریکِ انصاف کے نامزد امیدواروں کی انتخابی مہم کی اجازت اور ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے۔

    شعیب شاہین اور علی بخاری ایڈووکیٹ کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت چیف جسٹس عامر فاروق تحریکِ انصاف کے نامزد امیدواروں کی درخواستوں پر سماعت کی ہے۔

    شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ ’پولیس ہمارے سپورٹرز کو اٹھا کر کہتی ہے کہ پی ٹی آئی سے الگ ہو جاؤ۔ ہمارے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ کسی اور جماعت میں شامل ہو جاؤ۔

    شعیب شاہین نے کہا کہ ’فون کالز کر کے کہتے ہیں کہ اگر جلسہ کیا تو آپ کے خلاف پرچہ ہو جائے گا۔‘

    شعیب شاہین نے کہا کہ ’جو الیکشن کمپین اور جلسے ہونے تھے وہ تو ہو گئے آج آخری دن ہے۔

    علی بخاری نے کہا کہ ’ہمارے پولنگ ایجنٹس کو کالز کر کے ڈرایا جا رہا ہے۔ شعیب شاہین نے کہا کہ ’اگر اسلام آباد کی ماڈل پولیس یہ طرزعمل اختیار کرے گی تو پھر کیا امیج جائے گا۔‘

    وکیل الیکشن کمیشن الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ’الیکشن کمیشن کے پاس جتنی درخواستیں آئیں اُسی دن کارروائی ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ کمیشن نے ’آئی جی اسلام آباد کو معاملہ دیکھنے کا حکم دیا۔‘

    ایس ایس پی آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ 112 امیدواروں میں سے صرف دو کی جانب سے ایسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس پر مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جن کے ساتھ مسئلہ ہوا ہے ان کی ہی شکایات آنی ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی امیدواروں اور کارکنوں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اس مقدمے کی سماعت کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق نے احکامات جاری کیے کہ دانستہ طور پر لوگوں کو اٹھانا بالکل بھی مناسب بات نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے پولیس افسر سے کہا کہ ’آپ ذمہ دار افسر ہیں اس لیے آپ کو طلب کیا ہے۔ دوسری صورت میں ہم آئی جی اور سیکریٹری داخلہ کو طلب کریں گے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صاف اور شفاف انتخابات کرانے ہیں۔ آپ ان تمام چیزوں کو اپنے اختیارات کے تحت کیوں نہیں دیکھ رہے؟

    عدالت نے امیدواروں کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  15. عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اور دیگر ملزمان کے خلاف نو مئی کے مقدمات پر سماعت اڈیالہ جیل میں جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے خلاف نومئی کے واقعات سے متعلق درج مقدمات کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جاری ہے۔

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اعجاز آصف ان مقدمات کی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے ان مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جن پر ان کے وکلا نے دلائل دے دیے ہیں جبکہ آج ان مقدمات کے پراسیکوٹر دلائل دیں گے۔

    ان درخواستوں پر فیصلہ آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد ملزمان پر ان مقدمات میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    ان مقدمات میں ساڑھے تین سو سے زائد نامزد ملزمان ہیں جن میں سے کچھ ضمانت پر ہیں پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں صداقت عباسی اور واثق قیوم نے ان مقدمات کی تفتیش کے سلسلے میں پولیس کو بیان دیا ہے، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نو مئی کو جی ایچ کیو سمیت دیگر عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی لال حویلی میں کی گئی تھی۔

  16. انتخابات کے موقع پر موبائل فون اور انٹرنیٹ بند کرنے کی کوئی گائیڈ لائن نہیں دی گئی، سکیورٹی سنجیدہ مسئلہ ہے: مرتضیٰ سولنگی

    موبائل، انٹرنیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر حکومت کی طرف سے موبائل فون اور انٹرنیٹ بند کرنے کی کوئی گائیڈ لائن نہیں دی گئی، اگر کسی جگہ امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو وہاں کی مقامی انتظامیہ صورتحال کا خود جائزہ لے کر فیصلہ کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال غیر معمولی حل کا تقاضا کرتی ہے لیکن ابھی تک ایسی کوئی غیر معمولی صورتحال موجود نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں، فیک نیوز اور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے جبکہ سیکورٹی سنجیدہ مسئلہ ہے، دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے پاکستان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔

    ان کے مطابق کابل میں افغان طالبان کی عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، صرف گذشتہ برس دہشت گردی کے تقریباً 1500 واقعات ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ مقامی، غیر ملکی صحافیوں اور مبصرین کی سہولت کے لیے وزارت اطلاعات نے ایک آن لائن ہیلپ لائن قائم کی ہے۔

  17. ’پاکستان میں انڈیا کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی میں اب شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘: آرمی چیف عاصم منیر

    COAS

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’پاکستان میں انڈیا کی سرپرستی میں ہونے والی ریاستی دہشت گردی میں اب پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے یہ بات پیر کے روز مظفر آباد کے قریب ساریاں سیکٹر میں کنٹرول لائن کے ساتھ اگلے مورچوں میں تعینات جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    آرمی چیف نے کہا کہ ’عالمی قوانین اور اقدار کے برخلاف ایسی کارروائیاں معمول بنتی جا رہی ہیں اور اب دنیا کے کئی ممالک انڈیا کو کھلم کھلا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، جنھوں نے دنیا کے سامنے اس کے نام نہاد دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔‘

    جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ایسی تمام کارروائیوں کو بے نقاب کرتا رہے گا اور اپنے شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے گا۔

  18. ’جس نے مجھے نکالا تھا آج وہ خود استعفیٰ دے کر گھر چلا گیا، دال میں کچھ کالا ہے‘: نواز شریف

    MNS

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images/ SCP

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلی بار سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے سینیئر جج جسٹس اعجازالحسن سے متعلق بات کی ہے۔ پیر کو مری میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’دال میں کچھ کالا ہے، چور کی داڑھی میں تنکا ہے، آٹھ مہینے بعد چیف جسٹس بننے والا استعفیٰ دے کر چلا گیا۔‘

    واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الحسن سپریم کورٹ کے اس بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بعد میں جسٹس اعجاز الحسن کو نواز شریف کے خلاف قائم پانامہ ریفرنسز کے لیے مانیٹرنگ جج بھی بنایا۔

    سابق وزیراعظم نے جلسے میں کہا کہ ’نوازشریف کو نکالنے والا تاحیات نااہل ہوچکا ہے اور نوازشریف عوام کے سامنے کھڑا ہے، جس نے مجھے نکالا تھا آج وہ خود استعفیٰ دے کر گھر چلا گیا۔‘

    نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ عمران خان کی نااہلی اور سزا قدرت کا جواب ہے۔

  19. ’پانچ لاپتہ افراد کی لاشیں بھی سول ہسپتال کوئٹہ لائی گئیں‘ ماہ رنگ بلوچ کا دعویٰ، حکومتِ بلوچستان کی تردید, ’ان افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں ان کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے تھا‘: حکومت بلوچستان کے ترجمان جان محمد اچکزئی

    mahrung

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Mahrung Baloch

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ مچھ کے علاقے سے پانچ ایسے افراد کی لاشیں بھی سول ہسپتال کوئٹہ لائی گئی ہیں جن کو پہلے ہی جبری طورپر لاپتہ کیا گیا تھا۔

    تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان جان محمد اچکزئی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سول ہسپتال میں مچھ سے جن افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں ان کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے تھا اور وہ مچھ میں حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مارے گئے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنمائوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’ان افراد کا ماورائے عدالت کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ بھی مچھ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ان میں سے بشیر احمد مری اور ارمان مری کو دو جولائی 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’ان میں سے ایک لاش صوبیدار ولد گلزار خان کی ہے جنہیں ہرنائی بازار سے نو ستمبر 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا جن کے لواحقین نے اسلام آباد دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’چوتھی لاش شکیل احمد کی ہے جن کا تعلق ضلع خضدار کے علاقے زہری سے تھا جن کے خاندان کے مطابق انھیں چار جون 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور ان کے جبری گمشدگی کے تمام تر ثبوت موجود ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انھوں نے بتایا کہ ’پانچویں شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے کیونکہ ان کے چہرے کو بہت زیادہ مسخ کیا گیا ہے۔ شبہ ہے کہ وہ بھی لاپتہ افراد میں شامل تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ مسلح لڑائی لڑ رہے ہیں ان کے لیے کبھی بھی لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاج نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں موجود ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ریاست سمجھتی ہے کہ بلوچستان میں مسلح کارروائیوں کو جواز بنا کر جبری گمشدگی کے شکار افراد کا ماورائے آئین و قانون قتل کرکے ایک جھوٹے بیانیے کے ذریعے اس مسئلے کو متنازعہ کیا جائے لیکن ہم ریاست پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کو ماروائے عدالت قتل کرنے پر ہم کسی بھی صورت خاموشی اختیار نہیں کریں گے۔

    دریں اثنا بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’مچھ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے تسلیم کیا ہے وہ کالعدم بی ایل اے کے ارکان تھے۔‘

    ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’انڈین آقائوں کی جانب سے سازشوں کا جال بے نقاب ہونے سے ان کا خونی کھیل ساری دنیا کے علم میں آ چکا ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ماہ رنگ بلوچ اب مبینہ طور پر اس پر پردہ ڈالنے کے لیے ماورائے عدالت قتل کا الزام گھڑ رہی ہے۔‘

  20. بلوچستان میں بیلٹ پیپرز ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچائے گئے: الیکشن کمشنر بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث اس کے متعدد علاقوں میں بیلٹ پیپرز کو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچایا گیا ہے۔

    الیکشن کمشنر بلوچستان محمد فرید آفریدی کے ایک بیان کے مطابق بلوچستان کے تمام اضلاع میں بیلٹ پیپرز کی فضائی و زمینی راستوں کے ذریعے ترسیل مکمل کر دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان کے جن علاقوں کو فضائی راستے سے بیلیٹ پیپرز کی ترسیل کی گئی ہے ان میں زیادہ تر علاقے مکران ڈویژن کے ہیں۔

    ’مکران ڈویژن کے تینوں اضلاع گوادر، پنجگور اور کیچ کے علاوہ رخشاں ڈویژن کے دو اضلاع خاران اور واشک میں بھی بیلٹ پیپرز کو ایئر لفٹ کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’پیپرز ہیلی کاپٹر اور سی ون تھرٹی کے ذریعہ بھجوائے گئے۔ الیکشن کمشنر بلوچستان کے مطابق بلوچستان سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کرنے کے بعد بذریعہ سڑک بھی کافی علاقوں میں ان کی ترسیل کی گئی۔‘