آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بلوچستان میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکوں میں 27 ہلاک: ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ رکھی جائے، چیف الیکشن کمشنر

بلوچستان کے ضلع پشین میں آزاد امیدوار سابق وزیر اسفندیار کاکڑ جبکہ قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار مولانا واسع کے انتخابی دفاتر کے باہر ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دریں اثنا چیف الیکشن کمیشن نے چاروں صوبوں کے حکام کو سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’بغیر اجازت جلسہ اور توڑ پھوڑ‘ کرنے پر کرک میں تحریک انصاف کے تقریباً 3000 کارکنان کے خلاف مقدمہ درج, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں جھڑپ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں پولیس کے مطابق تین ہزار کے لگ بھگ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ضلع پولیس افسر وقاص خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی نے جلسے کے لیے کوئی اجازت نہیں لی تھی اور وہاں تعینات پولیس اہلکاروں پر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پتھراؤ کیا، جس سے 12 ٹرکوں کے شیشے اور انجن توڑ دیے گئے ہیں اور دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں مقامی قائدین کے علاوہ ایک درجن سے زیادہ معلوم اور تین ہزار سے زیادہ دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کا مؤقف ہے کہ انھوں نے جلسے کے انعقاد کے لیے درخواست دی تھی لیکن ان سے درخواست وصول نہیں کی جا رہی تھی اور اس کے علاوہ اب انتخابات سے چند دن باقی ہیں۔ دیگر تمام جماعتوں کے جلسے منعقد ہو رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دی جا رہی اور ان کے جلسوں پر پولیس تعینات کر دی جاتی ہے ۔

    یہ واقعہ گذشتہ روز ضلع کرک کے علاقے تخت نصرتی میں پیش آیا، جہاں پاکستان تحریک انصاف پی کے 98 میں ورکرز کنونشن تھا۔

    اس کنونشن سے پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت کا خطاب میں متوقع تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے صبح سے جلسہ گاہ میں پہنچ گئی تھی، جہاں ان کے کارکن ریلیوں کی شکل میں آ رہے تھے۔

    پولیس نے کارکنوں پر آنسو گیس کے گولے پھینکے ہیں اور فائرنگ کی ہے جس سے ان کے کارکن شدید زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس افسر وقاص خان کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ میں موجود لوگوں نے پولیس گاڑی پر فائر کیا ہے لیکن جب ان سے کہا گیا کہ کارکن تو پی ٹی آئی کے زحمی ہوئے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ اپنے کارکنوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔

    یہاں ایسی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر آئی ہیں جس میں پولیس کو فائرنگ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو پتھراؤ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    مقامی لوگوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے لوگ مختلف علاقوں سے ریلیوں کی شکل میں جلسہ گاہ پہنچ رہے تھے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تھا جس کے بعد پولیس وہاں سے چلی گئی تھی اور جلسہ منعقد کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ روز کرک میں جمعیت علما اسلام ف کا جلسہ تھا جہاں مولانا فضل الرحمان نے خطاب کیا ہے۔

    اس جلسے کی حفاظت کے لیے پولیس تعینات تھی۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ جمعیت نے اس جلسے کی اجازت لی تھی ۔ ان سے جب پوچھا کہ جب ایک جماعت کو اجازت دی جا رہی ہے تو دوسری جماعت کو اجازت کیوں نہیں دی جا رہی اس پر ان کا کہنا تھا کہ اجازت دینا یا نہ دینا ان کا کام نہیں ہے یہ مقامی انتظامیہ فیصلہ کرتی ہے۔

  2. جسٹس اطہر من اللہ کو لندن میں ہراساں کرنے کا واقعہ، پی ٹی آئی کی مذمت

    پاکستان تحریک انصاف نے لندن میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کو ہراساں کرنے والے واقعے کی مذمت کی ہے۔ لندن میں پی ٹی آئی کے عہدیداروں کے مطابق اس واقعے میں ملوث افراد پارٹی کی نمائندگی نہیں کرتے۔

    واضح رہے کہ سنیچر کی رات جسٹس اطہر من اللہ کو لندن کی گلیوں میں ہراساں اور تنگ کیے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

    ان ویڈیوز میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ کو چند افراد کا ایک گروپ ایک کار میں لے گیا جبکہ دوسرے لوگ ان پر چیخ رہے تھے۔ ہراساں کرنے والوں نے تحریک انصاف کی حمایت اور فوج کے خلاف نعرے لگائے۔

    جسٹس اطہر من اللہ سنیچر کو لندن سکول آف اکنامکس میں ’فیوچر آف پاکستان کانفرنس‘ کے مہمانوں میں شامل تھے۔

    تحریک انصاف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’پی ٹی آئی برطانیہ معزز جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی شدید مذمت کرتی ہے۔ وہ افراد جنھوں نے یہ کیا وہ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی پی ٹی آئی برطانیہ ایسے کسی رویے کی توثیق کرتی ہے۔‘

    پی ٹی آئی کے عہدیدار جہانزیب خان سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ بات ہمارے علم میں آئی ہے کہ کچھ ایسے بدنام افراد ہیں جنھیں لندن میں ن لیگ کے ہمدرد کچھ صحافی اکثر پی ٹی آئی کے حامیوں کے نام سے پکارتے ہیں۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ وہ صحافی ’دراصل خود مسلم لیگ ن کے کچھ صحافیوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صحافی جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جس میں یہ افراد شامل ہوتے ہیں، تاکہ جب بھی پاکستان سے کوئی حکومتی اہلکار لندن کا دورہ کرے تو ہنگامہ برپا کیا جائے۔‘ جہانزیب خان نے کہا کہ ’وہ ایسا ویڈیو بنانے اور پی ٹی آئی پر الزام لگانے کے لیے کرتے ہیں، اور پی ٹی آئی کے خلاف اپنے منفی بیانیے کو مزید پھیلاتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور پی ٹی آئی کے حقیقی حامیوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج صرف پی ٹی آئی برطانیہ اور اس کی علاقائی باڈیز کی آفیشل کال کے تحت ہوتے ہیں۔‘

  3. شیخ رشید کی عمران خان کی تصویر کے ساتھ مہم، دونوں حلقوں سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں سے مد مقابل بھی

    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس وقت شیخ رشید نو مئی کے واقعات میں مبینہ کردار کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا سے عمران خان کی تصاویر کے ساتھ انتخابات میں کامیابی کی دعا بھی مانگی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ شیخ رشید راولپنڈی کے جن دو حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں وہاں دونوں حلقوں سے ہی تحریک انصاف نے اپنے امیدوار بھی میدان میں اتارے ہیں۔

    خیال رہے کہ عدالت پیش کے موقع پر شیخ رشید نے عمران خان زندہ بعد کے نعرے بھی لگائے۔

  4. اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت کے بغیر پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات ممکن نہیں: الہان عمر

    امریکہ میں ایوانِ نمائندگان کی رکن الہان عمر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جب سے ان کے ساتھیوں اور انھوں نے گذشتہ نومبر میں پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائی ہے اس کے بعد سے حالات مزید خراب ہی ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب حزب اختلاف کی ایک جماعت پر مقدمات قائم کیے جا رہے ہوں تو ایسے میں صاف اور شفاف انتخابات کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

  5. ڈیرہ اسماعیل خان: پولیس سٹیشن پر شدت پسندوں کے حملے میں 10 پولیس اہلکار ہلاک، 6 زخمی

    ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع ایک تھانے کی عمارت پر رات گئے ہونے والے شدت پسندوں کے حملے میں 10 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 6 زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ حملہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے تین دن قبل ہوا ہے۔ علاقے کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کے عزیز اللہ خان کو ہلاک ہونے والے دس پولیس اہلکاروں کی ایک فہرست بھیجتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) ارشد حسین شاہ نے پولیس تھانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نگراں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ’اس طرح کے بزدلانہ واقعات سے پولیس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور پوری قوم پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے صوبائی پولیس سربراہ اختر حیات گنڈاپور نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’30 سے زائد دہشت گردوں نے چودھوان تھانے کو تین اطراف سے گھیرے میں لے کر حملہ کیا اور فائرنگ کا تبادلہ ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔‘

    اختر گنڈاپور نے اے ایف پی کو مزید بتایا کہ ’حملہ آوروں نے پیر کی علی الصبح حملے کے دوران پولیس سٹیشن کا کنٹرول تھوڑی دیر کے لیے اپنے قبضے میں بھی لے لیا تھا۔‘

    درابن کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی پی او) ملک انیس الحسن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’عمارت میں داخل ہونے کے بعد عسکریت پسندوں نے فائرنگ بھی کی اور دستی بموں کا استعمال بھی کیا جس سے پولیس کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔‘

    اس علاقے کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انیس الحسن نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیر اللہ خان کو بتایا کہ حملہ آوروں نے سنائپر گن سے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تھانے میں حملے کے وقت 30 سے زیادہ اہلکار موجود تھے جن میں سے پانچ کی ڈیوٹی تھانے کی چھت پر تھی اور پانچ اہلکار تھانے کے اندر موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ حملہ آؤروں نے قریب عمارت سے تھانے پر حملہ کیا۔

    چودھوان گاؤں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ انتہائی پسماندہ علاقہ ہے۔

    تحصیل درابن کوہ سلیمان کے ساتھ واقع ہے اور چودھوان کے ساتھ بھی چھوٹا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ اس گاؤں میں پولیس تھانہ آبادی سے قدرے دور ہے جہاں اتوار اور پیر کی درمیانی شب نامعلوم شدت پسندوں نے حملہ کیا۔

    خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں گذشتہ دو برسوں کے دوران شدت پسندوں کے حملوں، سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    گذشتہ سال 12 دسمبر کو نامعلوم افراد نے تھانہ درابن کی عمارت پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا تھا اور پھر شدید فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 23 سکیودٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس تھانے کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک عمارت میں مقیم تھے۔ اس کے علاوہ درابن چودھوان کلاچی سمیت ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

  6. عمران خان کے خلاف نکاح کیس پر عدالتی فیصلہ: ’میں واضح طور پر اس کی مذمت کرتا ہوں، ہمیں سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے‘

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف نکاح کیس کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اتنا آگے نہیں جانا چاہیے۔

    پاکستان کی ایک مقامی عدالت نے 3 فروری کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نکاح کیس میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی۔

    گذشتہ روز حیدرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے عمران خان کے خلاف عدالتی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں آگے نہیں جانا چاہیے۔

    نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کو ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’میں اس فیصلے کی مذمت کرتا ہوں ہمیں سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے۔‘

    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ’میرے لیے مشکل ہے کہ میں اس کی کوئی حمایت کروں۔‘

    بلاول بھٹو نے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی کڑی تنقید کی۔ بلاول نے کہا کہ جن سیاسی جماعتوں سے ہمارا مقابلہ ہے ان کو عوام اچھی طرح سے جانتی ہے، حیدرآباد کے عوام نفرت اور تقسیم کی سیاست سے واقف ہیں، پیپلزپارٹی ایسی سیاست کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وفاق میں صرف ایک سیاسی جماعت ہے جو نفرت کی سیاست کررہی ہے، سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اب سیاست میں انتقامی سیاست کی جارہی ہے۔

  7. الیکشن 2024: کن سیاسی جماعتوں نے پانچ فیصد خواتین امیدواروں کا قانونی تقاضہ پورا نہیں کیا؟, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    آٹھ فروری کے عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی ایک بڑی تعداد نے خواتین کو عام نشستوں پر ٹکٹ دینے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے ہیں۔

    اس بات کا انکشاف عورت فائونڈیشن کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق ہر سیاسی جماعت کے لیے عام نشستوں پر خواتین کو پانچ فیصد ٹکٹ دینا ضروری ہے۔

    عورت فائونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی 266 عام نشستوں پر خواتین کو پانچ فیصد ٹکٹ دینے سے متعلق قانونی تقاضے ایم کیو ایم اور نواز لیگ نے پورے کیے۔ قومی اسمبلی کی عام نشستوں پر آٹھ بڑی جماعتوں میں سے خواتین کو سب سے زیادہ ایم کیو ایم (9.59 فیصد) اور نواز لیگ (7.9 فیصد) نے ٹکٹ دیے۔ خیال رہے کہ اس فہرست میں تحریک انصاف کا نام شامل نہیں۔

    جمیعت علمائے اسلام (ف)، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور تحریک لبیک پاکستان نے قومی اسمبلی کی عام نشستوں پر خواتین کو پانچ فیصد ٹکٹ بھی نہیں دیے۔

    عورت فاؤنڈیشن نے اس ضمن میں الیکشن کمیشن میں شکایت بھی درج کرائی ہے۔

    بلوچستان اسمبلی کی 51 عام نشستوں پر بی این پی اور جماعت اسلامی نے قانون تقاضے پورے کیے۔ بی این پی نے بلوچستان اسمبلی کی عام نشستوں پر خواتین کو 5.6 اور جماعت اسلامی نے 5 فیصد ٹکٹ جاری کیے۔

    نواز لیگ، پیپلزپارٹی، ٹی ایل پی اور جے یو آئی ف نے بلوچستان اسمبلی کی عام نشستوں پر خواتین کو پانچ فیصد سے کم جبکہ ایم کیو ایم، اے این پی اور ٹی ایل پی نے کوئی ٹکٹ جاری نہیں کیا۔

    پنجاب اسمبلی کے لیے پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور جے یو آئی ف نے خواتین کو ٹکٹ دینے کے قانونی تقاضا پورے کیے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی عام نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی نے خواتین کو 50 فیصد ٹکٹ جاری کیے۔ واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے مجموعی طور پر پنجاب اسمبلی کی عام نشستوں میں سے چار پر امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جن میں سے دو مرد اور دو خواتین امیدواروں کو دیے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں جے یو آئی ف نے عام نشستوں پر خواتین کو 5.8 جبکہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے 6.1 فیصد ٹکٹ جاری کیے۔ نواز لیگ نے پنجاب اسمبلی کی عام نشستوں پر خواتین کو 1.4، پیپلز پارٹی نے 4.6 فیصد، جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی نے پانچ فیصد سے کم جبکہ ایم کیو ایم نے کسی خاتون کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔

    سندھ اسمبلی کے لیے خواتین کو عام ٹکٹوں کے اجرا کے حوالے سے ایم کیو ایم، ٹی ایل پی اور عوامی نیشنل پارٹی نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔ سندھ اسمبلی کے لیے نواز لیگ نے خواتین کو 14 فیصد، جے یو آئی ف نے 15 اعشاریہ 7 فیصد، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے 11 اعشاریہ 7 فیصد، جماعت اسلامی نے 6.1 فیصد اور پیپلز پارٹی نے 5.4 فیصد ٹکٹ جاری کیے۔

    سندھ اسمبلی کے لیے ایم کیو ایم اور ٹی ایل پی نے 5 فیصد سے کم ٹکٹ دِیے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے خواتین کو عام نشستوں پر کوئی ٹکٹ نہیں دیا۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی کے لیے قومی وطن پارٹی نے عام نشستوں پر خواتین کو 10 فیصد، پی ٹی آئی پارلیمینٹرینز نے قریب ساڑھے آٹھ فیصد، ٹی ایل پی نے 6.3 فیصد، عوامی نیشنل پارٹی نے 5.6 اور پیپلز پارٹی نے 5.6 فیصد ٹکٹ جاری کیے۔

    خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی، جے یو آئی ف اور نواز لیگ نے خواتین کو پانچ فیصد سے کم جبکہ ایم کیو ایم نے کوئی ٹکٹ جاری نہیں کیا۔

  8. لاہور میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی ’خلاف ورزی‘: مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو نوٹسز جاری

    الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کرتے ہوئے این اے 127 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار عطا اللہ تارڑ اور پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار مصباح الرحمن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے پانچ فروری کو طلب کیا ہے۔

    دفتر صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کے احکامات پر لاہور میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی۔ ن لیگی امیدوار این اے 127 لاہور عطا تارڑ اور پیپلز پارٹی امیدوار پی پی 160 میاں مصباح الرحمن کو نوٹسز جاری۔

    ’لاہور میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مابین مبینہ ووٹوں کی خرید و فروخت اور الیکشن دفتر پر حملے کے تناظر میں نوٹسز جاری کیے گئے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے دونوں امیدواران کو 5 فروری کو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ طلب کر لیا۔‘

    ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے ایک دوسرے پیغام میں کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے این اے 127 لاہور واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی طرف سے رپورٹ جمع کروانے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔

    ’صوبائی حکومت پنجاب کی طرف سے رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لاہور کو فوری ایکشن لینے اور رپورٹ جمع کرانے کی ہدایات جاری۔‘

    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اِن امیدواروں کی جانب سے ایک دوسرے پر ووٹوں کی خرید و فروخت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بی بی سی ان دعوؤں سے متعلق گردش کرنے والی ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  9. بلوچستان کے حساس علاقوں میں انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر محدود رکھی جائے گی: جان اچکزئی, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے کہا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں حساس پولنگ سٹیشنز پر انٹرنیٹ سروس کو عارضی طور پر محدود رکھا جائے گا۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’اس بات کا خدشہ ہے کہ دہشتگرد فیس بک، ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے دیگر ذرائع کو مواصلاتی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔‘

    ’خطرے کو کم سے کم رکھنے کے لیے ان علاقوں بشمول تربت، مچھ اور چمن میں انتخابات کے انعقاد تک انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کر دیا جائے گا۔

  10. الیکشن کمیشن: ’چیلنجز کے باوجود آٹھ فروری کے لیے تمام بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل‘

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کے لیے ملک کے تمام 859 انتخابی حلقوں کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام تینوں سرکاری پریس اداروں میں مکمل کر لیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں کمیشن نے کہا کہ وہ حلقے جہاں بیلٹ پیپرز کی عدالتی فیصلوں کے مطابق دوبارہ چھپائی کرانا پڑی، ان حلقوں میں بھی بلیٹ پیپرز کی چھپائی کا کام بروقت مکمل کر لیا گیا ہے اور اب پورے ملک میں بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا عمل شروع ہے جو پیر تک مکمل کر لیا جائے گا

    کمیشن کے ترجمان کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں 22 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے اور ان کی طباعت پر 800 ٹن سپیشل سکیورٹی کاغذ استعمال ہوا تھا۔ تاہم 2024 کے عام انتخابات کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں اور ان کی چھپائی پر 2,170 ٹن کاغذ استعمال ہوا ہے جس کی بڑی وجہ انتخابی حلقوں میں امیدواروں کی بڑھی ہوئی تعداد ہے جو کہ 2018 کے انتخابات کے مقابلے میں ڈیڑھ سو گنا زیادہ ہے۔

    کمیشن کے ترجمان کے مطابق بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کے عمل کے دوران مختلف مراحل میں کئی چیلنجز سامنے آئے جن میں عدالتی مقدمات اور امیدواروں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ’تاہم کمیشن نے محدود وقت اور چیلنجز کے باوجود اپنی ذمہ داری پوری کی۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام بروقت مکمل کر کے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ 8 فروری کے انتخابات میں تمام ووٹرز اپنا حق رائے ہی استعمال کر سکیں۔‘

  11. میئر کراچی مرتضی وہاب کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 49 ہزار روپے کا جرمانہ

    الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میئر کراچی مرتضی وہاب پر 49 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

    ایک بیان میں دفتر صوبائی الیکشن کمشنر سندھ نے کہا کہ ’میئر کراچی مرتضی وہاب ضابطہ اخلاق کی شق نمبر 18 اور 41 کے مرتکب ہیں۔

    ’ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کراچی سینٹرل نے عدم پیشی پر جرمانہ عائد کیا۔‘

  12. بلوچستان: تین امیدواروں کے گھروں، انتخابی دفاتر پر حملے, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عام انتخابات میں حصہ لینے والے تین مزید امیدواروں کے گھروں اور انتخابی دفاتر کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک حملہ کیچ کے علاقے تمپ میں بلوچستان اسمبلی کی نشست سے پیپلز پارٹی کے امیدوار میر اصغر رند کے گھر پر کیا گیا۔

    تربت میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دستی بم کے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تربت شہر میں نامعلوم افراد نے پیپلز پارٹی کے رہنما برکت بلوچ کے گھر پر فائرنگ کی۔

    تربت پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تربت سے متصل ضلع پنجگور کے ہیڈکوارٹر میں نامعلوم افراد نے نیشل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی کی نشست سے امیدوار حاجی اسلام کے گھر پر دستی بم پھینکا۔ رابطہ کرنے پر پنجگور پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دستی بم کے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا-

    ادھر خاران شہر میں قومی اسمبلی کی نشست سے آزاد امیدورار سردار چنگیز خان ساسولی کے انتخابی دفتر کے قریب دو زوردار دھماکہ ہوئے۔ خاران پولیس نے دونوں دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دھماکہ دفتر کے قریب نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ دستی بم کے حملے کی وجہ سے ہوا۔ ان دھماکوں میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔

    خاران سے متصل ضلع نوشکی کے ہیڈکوارٹر میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے قریب بھی زوردار دھماکہ ہوا۔ نوشکی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس دھماکے میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔

    بلوچستان کے بلوچ آبادی والے مختلف علاقوں میں گذشتہ چار پانچ روز کے دوران امیدواروں کے گھروں اور دفاتر کے علاوہ انتخابات سے متعلق سرگرمیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    ان میں سے زیادہ تر حملے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی دفاتر اور گھروں پر ہوئے۔

  13. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید

    گذشتہ دنوں کی خبروں کے لیے اس لنک کو کلک کریں۔