بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ مچھ کے علاقے سے پانچ ایسے افراد کی لاشیں بھی سول ہسپتال کوئٹہ لائی گئی ہیں جن کو پہلے ہی جبری طورپر لاپتہ کیا گیا تھا۔
تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان جان محمد اچکزئی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سول ہسپتال میں مچھ سے جن افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں ان کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے تھا اور وہ مچھ میں حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مارے گئے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنمائوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’ان افراد کا ماورائے عدالت کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ بھی مچھ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ان میں سے بشیر احمد مری اور ارمان مری کو دو جولائی 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ان میں سے ایک لاش صوبیدار ولد گلزار خان کی ہے جنہیں ہرنائی بازار سے نو ستمبر 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا جن کے لواحقین نے اسلام آباد دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’چوتھی لاش شکیل احمد کی ہے جن کا تعلق ضلع خضدار کے علاقے زہری سے تھا جن کے خاندان کے مطابق انھیں چار جون 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور ان کے جبری گمشدگی کے تمام تر ثبوت موجود ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’پانچویں شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے کیونکہ ان کے چہرے کو بہت زیادہ مسخ کیا گیا ہے۔ شبہ ہے کہ وہ بھی لاپتہ افراد میں شامل تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ مسلح لڑائی لڑ رہے ہیں ان کے لیے کبھی بھی لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاج نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں موجود ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ریاست سمجھتی ہے کہ بلوچستان میں مسلح کارروائیوں کو جواز بنا کر جبری گمشدگی کے شکار افراد کا ماورائے آئین و قانون قتل کرکے ایک جھوٹے بیانیے کے ذریعے اس مسئلے کو متنازعہ کیا جائے لیکن ہم ریاست پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کو ماروائے عدالت قتل کرنے پر ہم کسی بھی صورت خاموشی اختیار نہیں کریں گے۔
دریں اثنا بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’مچھ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے تسلیم کیا ہے وہ کالعدم بی ایل اے کے ارکان تھے۔‘
ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’انڈین آقائوں کی جانب سے سازشوں کا جال بے نقاب ہونے سے ان کا خونی کھیل ساری دنیا کے علم میں آ چکا ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ماہ رنگ بلوچ اب مبینہ طور پر اس پر پردہ ڈالنے کے لیے ماورائے عدالت قتل کا الزام گھڑ رہی ہے۔‘