یہ صفحہ اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ الیکشن 2024 کی کوریج کے لیے یہاں کلک کریں۔
بلوچستان کے ضلع پشین میں آزاد امیدوار سابق وزیر اسفندیار کاکڑ جبکہ قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار مولانا واسع کے انتخابی دفاتر کے باہر ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دریں اثنا چیف الیکشن کمیشن نے چاروں صوبوں کے حکام کو سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ الیکشن 2024 کی کوریج کے لیے یہاں کلک کریں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں دستی بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔
پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ ایک خاتون اور ایک بچے کی لاشیں لائی گئی ہیں۔ جبکہ اب تک انھیں مبینہ حملہ آور کی لاش موصول نہیں ہوئی۔
نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کی جانب سے گلشن اقبال کے قریب لیموں گوٹھ میں دھماکے کی مذمت کی گئی ہے۔
انھوں نے اس حوالے سے رپورٹ طلب کی ہے اور آئی جی و دیگر متعلقہ اداروں کو سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واضح کیا ہے کہ جمعرات کو ملک بھر میں عام انتخابات کے موقع پر انٹرنیٹ کی سہولت حاصل رہے گی اور کہیں بھی انٹرنیٹ کی بندش نہیں ہوگی۔
الیکشن 2024 اور انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) نے وضاحت کی ہے کہ حکومت پاکستان الیکشن کے دن انٹرنیٹ بند نہیں کرے گی۔
پی ٹی اے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انتخابات کے دن انٹرنیٹ کی سہولت صارفین کو میسر ہو گی اور انٹرنیٹ بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواستوں کی وصولی کے لیے ہفتہ 10 فروری اور اتوار 11 فروری کو کھلا رہے گا۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق الیکشن کمیشن نے امیدواروں اور عوام الناس کے لیے دوبارہ گنتی کے حوالے سے درخواستیں جمع کرانے کےلیے ضروری ایس او پیز بھی جاری کر دیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ 10 اور 11 فروری 2024 کو کھلا رہے گا اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواستیں صبح 8:30 سے شام 4:30 تک وصول کی جائیں گی۔ ان درخواستوں پر الیکشن کمیشن میں سماعت 10 فروری اور 11 فروری (ہفتہ اور اتوار) کو بھی ہو گی۔ پٹیشن جمع کرانے کے لیے ضروری ہدایات ایس او پیز الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔
ایس او پیز کے چیدہ چیدہ نکات کے مطابق پٹیشنز کی کاپیاں معہ مکمل تفصیل جمع کروانی ہوں گی۔ جس پر دائر کرنے کی تاریخ ہو گی۔ درخواست دہند گان درخواست کی سافٹ کاپی (پی ڈی ایف) میں مہیا کرے گا اور ساتھ ہی جو بھی اسکے پاس ثبوت ہونگے وہ بھی یو ایس بی میں دے گا اور درخواست کے ساتھ منسلک کرے گا۔
اگر کسی وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی جارہی ہو تو در خواست کے ہمراہ وکالت نامہ بھی لگایا جائے اور ایڈووکیٹ کا کارڈ و دیگر رابطہ نمبر موجود ہوں۔ صرف مقررہ تاریخ اور وقت پر وصول شد و درخواستیں الیکشن کمیشن کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہوں گی۔
پولیس حکام کے مطابق کراچی میں دستی بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے شخص پولیس سب انسپیکٹر رحمان میرانی کے بیٹے تھے۔ جبکہ گلشن اقبال میں ہونے والے اس دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد اب دو بتائی جا رہی ہے۔
ایس ایچ او مبینہ ٹاؤن تھانے کی جانب سے اس کی تصدیق کی گئی ہے۔
ادھر ایس ایس پی عرفان بہادر کا کہنا ہے کہ دستی بم کہاں سے لایا گیا اور کدھر لے کر جایا جا رہا تھا، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ دھماکے میں سب انسپیکٹر کا بیٹا ہلاک ہوا جس کا کرمنل رکارڈ چیک کیا جا رہا ہے جبکہ اس حوالے سے مزید معلومات جمع کی جا رہی ہے۔
عرفان بہادر کا کہنا تھا کہ دھماکے میں ایک بچہ بھی ہلاک ہوا جو دکان میں موجود تھا۔
کراچی کے ڈی آئی جی ایسٹ غلام اظفر مہیسر کا کہنا ہے کہ گلشن اقبال کے علاقے حاجی لیموں خان گوٹھ میں دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا ٹاک کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم گرنیڈ لے کر باہر نکل رہا تھا جو مبینہ طور پر اس کے ہاتھ میں پھٹا۔
تاحال کسی گروہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دریں اثنا ایس ایس پی ایسٹ عرفان بہادر نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ ’دہشت گرد دستی بم لے کر جا رہا تھا۔ دستی بم دہشت گرد کے ہاتھ میں پھٹ گیا (اور) دہشتگرد موقع پر ہلاک ہوگیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’دہشت گرد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ دہشت گرد کا ٹارگٹ کیا تھا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔‘
پولیس حکام کے مطابق رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے جبکہ بم ڈسپوزل سکواڈ کو موقع پر طلب کر لیا گیا۔
آٹھ فروری کو پاکستان میں عام انتخابات کی وجہ سے وزارت خارجہ نے سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پاک ایران اور پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ’انتخابات کے دوران سکیورٹی کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے لیے ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ، کارگو اور پیدل آنے جانے والوں کے لیے بند رہے گی، نارمل آپریشنز نو فروری کو شروع کر دیے جائیں گے۔‘
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی 'بار بار خلاف ورزی' کرنے پر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 سے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لینے والے دانیال عزیز کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق دانیال عزیز کے خلاف کیس کی سماعت 10 فروری کو ہو گی اور الیکشن میں ان کی کامیابی کی صورت میں اُن کی جیت کا نوٹیفکیشن روک لیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر نارووال کی رپورٹ کی روشنی میں کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دانیال عزیز بار بار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ڈسٹرکٹ مانیٹنگ افسر کے جاری کردہ نوٹس کا نہ جواب دیتے ہیں اور نہ حاضر ہوتے ہیں۔'
الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر دانیال عزیز پر 50 ہزار روپے جُرمانہ بھی کیا تھا جو انھوں نے اب تک ادا نہیں کیا۔
واضح رہے دانیال عزیز کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے لیکن ان کی جماعت نے انھیں انتخابات لڑنے کے لیے ٹکٹ نہیں جاری کیا تھا جس کے سبب وہ انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔
اس سے قبل انتخابی ٹکٹ کے معاملے پر دانیال عزیز اور ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کے درمیان تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔
احسن اقبال نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 میں ہی واقع پنجاب کے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 54 سے بھی کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے تمام پولنگ سٹیشنز میں داخل ہونے والے تمام افراد کو مکمل جانچ پڑتال کے بعد داخل ہونے دیا جائے گا جن میں پولیس سمیت تمام اداروں کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’اگر کوئی پولیس یا کسی بھی دوسرے ادارے کے علامتی لباس میں ہوگا تو اسے بھی تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔‘
شہری سکیورٹی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’اسلام آباد پولیس کے 2000 سے زائد اہلکار سرکاری اور غیر سرکاری گاڑیوں میں گشت کریں گے، جن کی شناخت کے لیے ان کی گاڑیوں پر پاکستان کے جھنڈے آویزاں کئے گئے ہیں۔‘
اسلام آباد پولیس اور دیگر اداروں کی گاڑیوں پر بھی پاکستان کے جھنڈے آویزاں کیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے بہاؤ میں ایمبولینس، آگ بجھانے والی گاڑیاں اور دیگر ایمرجنسی سروسز کی گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی۔
شہریوں کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’سفر کرتے ہوئے سخت پڑتال کے عمل کی وجہ سے اضافی وقت رکھ کر گھر سے نکلیں۔ شہری کسی بھی ایمرجنسی کے متعلق پکار 15 یا آئی سی ٹی 15 ایپ پر اطلاع دیں۔‘
الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا میں بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ اور سائز کے حوالے سے چلنے والی ویڈیو کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیلٹ پیپرز ماضی کی طرح اردو حروف تہجی کی ترتیب سے ہی پرنٹ کیے گئے ہیں۔
بدھ کو الیکشن کمیشن سے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ اور سائز سے متعلق چلنے والی ایک وڈیو گمراہ کن ہے۔
واضح رہے کہ ہمیشہ سے امیدواران کی تعداد کے لحاظ سے بیلٹ پیپر سنگل، ڈبل اور ٹرپل کالم اور اردو حروف تہجی کی ترتیب میں پرنٹ کیا جاتا ہے اور اس دفعہ بھی اسی ترتیب سے پرنٹ کیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں انتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر، رہائش گاہوں اور انتخابی قافلوں پر شدید کے حوالے سے شویش کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ (آج) کو بلوچستان میں انتخابی دفاتر کے باہر دو جان لیوا حملے ہوئے جن میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے اکاؤنٹ میں لکھا کہ وہ انتخابات سے قبل تشدد، مظاہروں اور اجتماعات پر پابندیوں کے بارے میں فکر مند ہے۔ اس میں لکھا گیا کہ پارٹی کارکنوں اور امیدواروں کو ہراساں اور گرفتارکیا جا رہا ہے، میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندیاں ہیں اور مخالفین کے متعلق مقدمات بغیر کسی لیگل طریقے پر عمل کیے بنائے جا رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نگران حکومت پر زور دیا کہ وہ انتخابات کے دوران اور بعد میں انسانی حقوق کی اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کو یقینی بنائے۔
ادارے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے انٹرنیٹ تک بلا تعطل رسائی کو یقینی بنایا جائے، میڈیا پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے، لوگوں کے اکٹھا ہونے اور احتجاج کرنے پر تمام پابندیوں کو اٹھایا جائے۔
’پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے تحت تمام سیاسی مخالفین کے منصفانہ ٹرائل کیے جائیں اورسیاسی کارکنوں اور امیدواروں پر ٹارگٹڈ حملوں کی تحقیقات ہوں، اور سزائے موت کا سہارا لیے بغیر مشتبہ مجرموں کا منصفانہ ٹرائل کیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہAmnesty International
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں پولنگ سٹیشنز پر انتخابی سامان کی ترسیل کا عمل جاری ہے۔
ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفس کے اعلان کے مطابق شام 5 بجے تک تمام پولنگ سٹیشنز میں سامان کی ترسیل مکمل کر لی جائے گی۔
ڈی آر او آفس کے مطابق این اے 46 اور این اے 48 میں انتخابات کے لیے سامان کی تقسیم مکمل کر لی گئی ہے جبکہ این اے 47 میں 80 فیصد سامان کی تقسیم کی دی گئی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے شہر میں سکیورٹی ایمبر لیول کر دی گئی ہے۔
حفاظتی اقدامات کے پیش نظر داخلی اور خارجی راستوں پر سخت پڑتال کا عمل جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نے چاروں صوبوں کے انتظامی سربراہان اور پولیس حکام سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے اور انھیں ہدایت دی ہے کہ وہ سکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھیں۔
الیکشن کمشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے ووٹرز اور پولنگ سٹیشنز پر تعینات انتخابی عملے کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو کہا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ `اگر الیکشن کمشن سے کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو لازماً آگاہ کریں۔`
نگراں وزیر داخلہ سندھ برگیڈئیر ریٹائرڈ حارث نواز نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران پولنگ سٹیشن کے اندر پولیس یا سکیورٹی اہلکار نہیں ہوں گے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’پولنگ بوتھ کے اندر، پولنگ سٹیشن کے اندر کمرے میں کوئی پولیس اہلکار یا رینجرز یا ملٹری اہلکار نہیں جائیں گے۔ یہ مکمل طور پر پریزائیڈنگ افسر کی ذمہ داری ہو گی۔ ہاں وہ جس کو بلانا چاہیں بلا سکتے ہیں۔‘
نگراں وزیر داخلہ سندھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس علاقے میں کوئی امن و امان کا خطرہ ہوا تو وہاں انٹرنیٹ سروس بند ہو سکتی ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ سندھ میں ابھی ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ انتخابات میں پولنگ بوتھ میں رینجرز کے اہلکاروں کی موجودگی کی شکایت ملی تھی۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دفتر کے باہر دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
انھوں نے قیمتی جانوں کے نقصان پر متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گرد پاکستانی قوم کو خوف زدہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے عزم کو کمزور کرسکتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی بلوچستان میں یکے بعد دیگرے دو دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔
تحریک انصاف کی ایک پریس ریلیز میں زخمیوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے مطالبے کے ساتھ ان کی جلد اور مکمل شفایابی کیلئے دعا کی گئی ہے۔
ترجمان تحریک انصاف کہا کہ پولنگ سے ایک روز قبل بلوچستان کے دو علاقوں میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے واقعات انتہائی افسوسناک اور باعثِ تشویش ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شر پسند عناصر انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو نشانہ بنا کربد امنی اور انتشار کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں اور عام انتخابات سے قبل بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والا اضافہ نگران حکومتوں کی مسلسل مجرمانہ ناکامی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انھوں نے سوال کیا کہ وفاقی اور صوبائی نگران حکومت جواب دے کہ بلوچستان میں سکیورٹی ہائی الرٹ کے باجود انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو تحفظ فراہم کیوں نہیں کیا جا رہا؟
ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور امن عامہ کے ذمہ دار ادارے دہشت گردی کے واقعات کا فوری نوٹس لیں اور پولنگ کے روز شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

بلوچستان کے نگراں وزیرِ اطلاعات جان اچکزئی نے بلوچستان میں ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
بدھ کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو ضرورت محسوس ہوئی تو زخمی افراد کو علاج کے لیے کراچی یا دیگر شہروں میں بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
جان اچکزئی نے پریس کانفرنس کے دوران صوبے میں ہونے والے دہشتگری کے واقعات کی ذمہ داری انڈیا پر عائد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنے شہدا کا بدلہ لیں گے اور انڈیا کے دہشتگردی کے اس ایجنڈے کو نیست و نابود کریں گے۔'
واضح رہے بلوچستان کے دو اضلاع میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق پشین میں دھماکہ آزاد امیدوار اسفندیار کاکڑ کے دفتر کے باہر ہوا جس میں 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
صوبے میں ہونے والا دوسرا بم دھماکہ قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علما اسلام کے انتخابی امیدوار کے دفتر کے باہر ہوا۔ قلعہ سیف اللہ کے سپرنٹینڈنٹ آف پولیس اختر اچکزئی کے مطابق اس دھماکے میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاکستان کے نگراں وزیرِ داخلہ گوہر اعجاز نے بلوچستان میں انتخابات سے ایک دن قبل ہونے والے دو بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا نہتے شہریوں پر وار انتہائی بزدلانہ فعل ہے۔
جمعرات کو جاری ایک بیان میں نگراں وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ 'الیکشن سے پہلے شرپسند افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں اور عوام کو اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال سے روکنا چاہتے ہیں۔'
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت دشمن کے مزموم عزائم کو کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
دوسری جانب پاکستان کے الیکشن کمیشن نے بھی پشین اور قلعہ سیف اللہ میں ہونے والے دھماکوں کا نوٹس لے لیا ہے اور صوبائی چیف سیکریٹری اور آئی جی سے فوری رپورٹس طلب کر لی ہیں۔
واضح رہے بلوچستان کے دو اضلاع میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق پشین میں دھماکہ آزاد امیدوار اسفندیار کاکڑ کے دفتر کے باہر ہوا جس میں 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
صوبے میں ہونے والا دوسرا بم دھماکہ قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علما اسلام کے انتخابی امیدوار کے دفتر کے باہر ہوا۔ قلعہ سیف اللہ کے سپرنٹینڈنٹ آف پولیس اختر اچکزئی کے مطابق اس دھماکے میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں عام انتخابات سے ایک روز قبل دو دھماکوں میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
بلوچستان میں حکام کے مطابق پشین میں دھماکہ آزاد امیدوار اسفندیار کاکڑ کے دفتر کے باہر ہوا جس میں 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
صوبے میں ہونے والا دوسرا بم دھماکہ قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علما اسلام کے انتخابی امیدوار کے دفتر کے باہر ہوا۔ قلعہ سیف اللہ کے سپرنٹینڈنٹ آف پولیس اختر اچکزئی کے مطابق اس دھماکے میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اختر اچکزئی کا کہنا تھا کہ عام اتنخابات سے قبل ہونے والے دھماکوں کے سبب صوبے میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں۔
بلوچستان کے نگراں وزیرِ اطلاعات جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ آج ہونے والے دھماکوں کے باوجود صوبے میں عام انتخابات کے شیڈول پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور جمعرات کو ہی انتخابت ہوں گے۔
پشین اور قلعہ سیف اللہ متصل اضلاع ہیں اور ان دونوں اضلاع کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
ان دھماکوں کی ذمہ داری اب تک کسی بھی گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔ اس سے قبل بھی رواں مہینے بلوچستان میں انتخابی سرگرمیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
پچھلے ہفتے بلوچستان کے ہی ضلع سبّی میں پاکستان تحریکِ انصاف کی ایک ریلی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سبّی میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی تھی۔
کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ شہر بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ’ٹراما سینٹرز اور ایمرجنسی وارڈز کے گرد خاردار تاریں لگائی گئی ہیں۔ عام شہری ان مقامات میں داخل نہیں ہوسکتے۔ سب سے تعاون کی گزارش ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام