مچھ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں نو حملہ آور ہلاک: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مچھ پر حملہ کرنے والے نو حملہ آور مارے گئے ہیں۔ جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار اور دو شہری بھی ہلاک ہوئے۔

لائیو کوریج

  1. سکیورٹی فورسز کا مچھ میں سرچ آپریشن جاری: جان اچکزئی

    بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعت جان اچکزئی نے کہا کہ دہشتگردوں نے دو، تین سمت سے راکٹ فائر کیے لیکن سکیورٹی فورسز چوکس تھے اور اُن کی کارروائی پسپا کر دی گئی۔

    سما ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ (دہشتگرد) جہاں بھی پہاڑوں میں چھپے ہیں انھیں صبح تک ختم کر دیا جائے گا۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ دہشتگردوں نے سوشل میڈیا پر آپریشن کا پروپیگنڈا کیا مگر ان کی یہ کوشش ناکام بنائی گئی۔ ’سکیورٹی اداروں نے ثابت کیا چند دہشتگرد ہماری فائر پاور اور مشین کا کوئی میچ نہیں۔‘

    جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مچھ میں سرچ آپریشن جاری ہے اور صبح تک صورتحال کلیئر ہوجائے گی۔

  2. مچھ میں ’دھماکوں اور فائرنگ کی گونج‘, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے شہر مچھ میں پیر کی شب کئی علاقہ مکینوں نے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔

    بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے بھی مچھ میں دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قریبی پہاڑوں سے چند راکٹ فائر کیے گئے۔ ایک ٹویٹ میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    مچھ سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور سماجی رہنما فاروق عزیز کرد نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایا کہ انھوں نے تین سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے ساتھ ہی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ رات گئے تک جاری رہا۔

    انھوں نے بتایا کہ ایک گولہ ان کے گھر کے قریب گرا جس سے ان کے گھر کو بھی نقصان پہنچا۔

    مچھ سے تعلق رکھنے والے ایک اور شہری قاضی فہیم نے بتایا کہ انھوں نے تین سے چار دھماکوں کی آوازیں سنیں جن کی شدت بہت زیادہ تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ انھوں نے پہلے دھماکے کی آواز نو بج کر 27 منٹ پر سنی۔ رات کے سوا 12 بجے جب ان سے رابطہ ہوا تو ان کا کہنا تھا ابھی تک فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔

    دھماکوں اور فائرنگ سے مچھ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

    اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    مچھ کوئٹہ سے اندازاً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ تاریخی مچھ جیل بھی اسی شہر میں واقع ہے۔

    مچھ درہ بولان کا علاقہ ہے جو کہ انتظامی لحاظ سے ضلع کچھی کا حصہ ہے۔ بولان کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو مسلح شورش سے متاثر رہے ہیں۔

  3. بریکنگ, سکیورٹی فورسز نے مچھ میں دہشتگردوں کے تین حملوں کو ناکام بنایا: جان اچکزئی

    صوبہ بلوچستان کے نگران وزیرِ اطلاعات جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ضلع بولان کے علاقے مچھ میں سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے تین کوآرڈینیٹڈ حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

    ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں جان اچکزئی نے کہا کہ یہ حملے اسلم اچھو گروپ سے منسلک دہشتگردوں نے کیے تاہم ان میں سکیورٹی فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی تنصیبات کو کوئی نقصان پہنچا۔

    انھوں نے کہا کہ ’دہشتگرد واپس جا چکے ہیں اور ہماری سکیورٹی فورسز متحرک ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس خطرے سے صبح تک نمٹ لیا جائے گا۔‘

    اس سے قبل ایکس پر ایک بیان میں جان اچکزئی نے کہا تھا کہ مچھ کے پہاڑی علاقے میں راکٹ فائر کرنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے تاہم اب تک کسی نقصان کی اطلاع نہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں۔

    ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے نگران وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ حالات قابو میں ہیں اور سوشل میڈیا پر کیے جانے والوں دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. سائفر کیس: اڈیالہ جیل میں تمام 25 گواہان کا جرح مکمل

    اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے دوران اعظم خان، اسد مجید اور سہیل محمود سمیت تمام 25 گواہان کا جرح مکمل ہوچکا ہے۔

    صحافی قاضی رضوان اور جیل حکام کے مطابق 25 گواہان میں سے صرف چار پر عمران خان اور شام محمود قریشی کے وکلا نے جرح کی جبکہ 21 گواہان پر جرح سٹیٹ ڈیفنس کونسل کی جانب سے کی گئی۔

    ان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں اب صرف ملزمان کے 342 کے بیان اور وکلا کے حتمی دلائل باقی ہیں۔

  5. سائفر کیس: ’آپ خاموشی سے بیٹھ جائیں ورنہ کمرۂ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا‘

    عمران خان، شاہ محمود قریشی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اڈیالہ جیل میں قائم آفیشل سیکرٹس ایکٹ عدالت میں سٹیٹ ڈیفینس کونسل کی جانب سے گواہان پر جرح جاری ہے۔

    صحافی قاضی رضوان اور جیل حکام نے سماعت کے احوال کے حوالے سے بتایا کہ جب سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان پر جرح مکمل ہوئی تو اس دوران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سٹیٹ ڈیفینس کونسلز پر اعتراض کیا۔

    اس موقع پر جج ابو الحسنات نے ریمارکس دیے کہ ’آپ خاموشی سے بیٹھ جائیں ورنہ آپ کو کمرۂ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا۔‘

    سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

    تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس نہ سننے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کے اعتراضات پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے سے کوئی انکاری نہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کیس میں رکاوٹیں آتی ہیں تو ضمانت منسوخ کی جاسکتی ہے۔ جب ملزمان جیل میں ہوں تو سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔‘

    ایک موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’جج صاحب ضمانت مل بھی گئی تو ہم نے اندر ہی رہنا ہے۔‘

    ڈیفنس کونسل کی تعیناتی پر وکیل سلمان صفدر نے اعتراض کیا کہ ’ملزم اگر دیوالیہ ہو جائے اور کہے کہ اس کے پاس پیسے نہیں تو ہی ملزم کو ڈیفینس کونسل دیا جاسکتا ہے۔‘

    ’موجودہ کیس میں ایسی کوئی بات نہیں۔ سٹیٹ ڈیفینس کونسلز کی تعیناتی بھی غلط کی گئی۔‘

    ان کا دعویٰ تھا کہ ’اہم گواہ اعظم خان پر جرح کے دوران بھی ہمارے وکلا کو جیل سے باہر روکا گیا۔‘

    عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ ’سنجیدہ کیس ہے (پھر بھی) ڈیفینس کونسلز نے ہم سے مشاورت تک نہیں کی۔‘

    پراسیکوٹر رضوان عباسی نے دلائل دیے کہ ’سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جلد ٹرائل کا کہا، رکاوٹیں آنے پر ضمانت خارج کرنے کا بھی کہا تھا۔‘

    ’(پی ٹی آئی کے وکیل) عثمان گل نے کہا تھا کہ انھیں جرح کا اختیار نہیں دیا گیا۔ ان کے وکالت نامہ میں کہاں لکھا ہے کہ یہ جرح نہیں کرسکتے۔ یہ تفویض کردہ عدالت ہے یہ کیس سننے سے انکار نہیں کر سکتی۔ عدالت ملزمان کی کیس نہ سننے کی درخواست خارج کرے اور گواہان پر جرح شروع کی جائے۔‘

    خیال رہے کہ عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے لیے عبدالرحمان اور حضرت یونس کو سٹیٹ ڈیفنس کونسل تعینات کیا تھا۔

    جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل شہباز لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا کہ دباؤ کی وجہ سے ملزمان کے وکلا کی بجائے ڈیفنس کونسل سے جرح کرائی جا رہی ہے۔ ’عمران خان کو الیکشن سے قبل سزائیں دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسے نظر ثانی میں چیلنج کیا جائے گا۔

  6. کوئٹہ میں انتخابی ریلی نکالنے پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کے خلاف مقدمات درج

    پی ٹی آئی، کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کو انتخابی ریلیاں نکالنے پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں اور کارکنوں کے خلاف تین تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    سٹی پولیس سٹیشن، گوالمنڈی پولیس سٹیشن اور جناح ٹاؤن پولیس سٹیشن میں درج مقدمات میں پولیس کا الزام ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے بغیر اجازت ریلیاں نکالیں، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی اور کارِ سرکار میں مداخلت کی۔

    پولیس کے مطابق کارکنان کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ ان کی گاڑیوں کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔

    ریلیوں کے قائدین میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواران (این اے 263 سے) سالار خان، (پی بی 43 سے) دودا خان شاہوانی، (پی بی 44 سے) ملک فیصل اور (این اے 264 سے) زین العابدین سمیت دیگر کو ان مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ تحریک انصاف نے اتوار کے روز ملک گیر احتجاج کی کال دی گئی تھی جس دوران ٹانگ اور کراچی سمیت دیگر مقامات پر کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔

  7. ’مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ سوچ کی ضرورت‘ نگران وزیر اعظم کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات

    انوار کاکڑ، ایرانی وزیر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران کو علاقائی سالمیت اور خودمختاری سمیت کئی چیلنجز درپیش ہیں جن سے باہمی اشتراک اور تعاون کے ذریعے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت نمٹنا ہو گا۔

    پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے ایران کے وزیر خارجہ امیر عبداللہیان نے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات پر زور دیتے ہوئے نگران وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    نگران وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو درپیش چیلنجزسے بالخصوص ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو باہمی اشتراک اور تعاون کے ذریعے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت نمٹنا ہو گا۔

    نگران وزیراعظم نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیتے ہوئے انھیں جلد پاکستان کے دورہ کی دعوت دی۔

  8. سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ملک میں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرنے کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں تمام مالیت کے نئے کرنسی نوٹوں کو لانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

    اس بات کا اعلان سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے صحافیوں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آج ملک میں شرح سود پر نظرِ ثانی کے لیے زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود 22 فیصد کی موجودہ سطح پر رکھنے کے فیصلے کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سٹیٹ بینک کے گورنر نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مرکزی بینک کی جانب سے ملک میں تمام مالیت کے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    انھوں نے کہا نئے نوٹوں کو بین الاقومی سکیورٹی فیورچرز کے تحت چھاپا جائے گا اور نئے نوٹوں کو رنگ ، سیریل نمبرز، ڈیزائن اور ہائی سکیورٹی فیوچرز کےساتھ متعارف کرایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا تمام نئے نوٹوں کے ڈیزائن کا فریم ورک شروع ہو چکا ہے امید ہے مارچ تک مکمل ہوگا۔

    واضح رہے پاکستان میں جعلی نوٹوں کا مسئلہ اعلیٰ سطح میں اعلیٰ سطح اجلاسوں میں زیر بحث رہا ہے گزشتہ مہینے پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں زیر گردش پانچ ہزار مالیت کے نوٹوں کا معاملہ اس وقت زیر بحث آیا، جب کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے پانج ہزار کا ایک جعلی نوٹ اجلاس میں موجود سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر کے سامنے رکھا گیا۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر بھی اس جعلی نوٹ کو نہ پہچان سکے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین کمیٹی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو صارفین سے پانچ ہزار کا جعلی نوٹ لے کر اصلی نوٹ دینے کی تجویز دی گئی تاہم ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جعلی کرنسی پاکستان نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور ’ڈالر کی جعلی کرنسی بھی چھپ رہی ہے، ایسا کوئی نظام موجود نہیں جس کے باعث جعلی کرنسی کو چھاپنے سے روکا جا سکے۔‘

  9. بریکنگ, ایرانی وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر زور

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان کی پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات میں

    پیر کو پاکستان کی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ہونے والی ملاقات میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور ساتھ ہی ایک دوسرے کی تشویش کو سمجھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پاکستان اور ایران کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کا ادراک کرتے ہوئے دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے پر زور دیا ہے۔

    آرمی چیف نے دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا اور اسے دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی مشترکہ خطرہ ہے جس سے باہمی تعاون، بہتر کوآرڈینیشن اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے نمٹنا ضروری ہے۔

    آرمی چیف نے ملاقات میں سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے پائیدار رابطے اور دستیاب مواصلاتی ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور مشترکہ خطرات کے خلاف رابطہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ملک میں فوجی رابطہ افسروں کی تعیناتی کے طریقہ کار کو جلد سے جلد فعال کرنے پر اتفاق کیا۔

    دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قریبی رابطے میں رہیں گے اور برادر ممالک کے درمیان کسی کو بھی خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان اور ایران برادرانہ پڑوسی ہیں اور دونوں ممالک کی تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔

    بیان کے مطابق ملاقات میں سرحدی علاقے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا جسے دونوں اطراف کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا گیا۔

  10. بریکنگ, پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    PSX

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے روز شدید مندی کا رجحان غالب رہا اور اس کے انڈیکس میں 1039 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی کی گئی۔

    سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغٓاز سے مندی کا رجحان دیکھا گیا اور پورے کاروباری سیشن کے دور انڈیکس منفی رہا۔ مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 62773 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جس میں گذشتہ کاروباری روز کے مقابلے میں 1039 پوائنٹس یا 1.66 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے تجزیہ کار مندی کی وجہ فروخت کے دباؤ کو قرار دیتے ہیں جو مارکیٹ میں شروع سے لے کر کاروبار کے اختتام تک جاری رہا جس کی وجہ سے انڈیکس میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    تجزیہ کار سمیع اللہ طارق نے بی بی سی سے سٹاک مارکیٹ میں مندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کاروبار میں مندی کی مختلف وجوہات رہیں جن میں معاشی اور سیاسی دونوں ہیں۔ انھوں نے معاشی وجہ پر بات کرتے ہوئے کہا آج اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود کا اعلان کیا جانا ہے اور مارکیٹ میں اس وجہ سے مندی رہی کہ کیا مرکزی بینک اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھتا ہے یا اس میں کمی کرتا ہے۔

    انھوں نے کہا مارکیٹ میں ایک غیر یقینی صورتحال برقرار تھی کیونکہ سرویز کے مطابق اس میں کمی ہونی چاہیے لیکن اسٹیٹ بینک شاید اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھے جس نے مارکیٹ میں غیریقینی صورتحال کو جنم دیا۔

    سمیع اللہ نے کہا مارکیٹ میں سرمایہ کار الیکشن کے بعد بننے والی صورتحال کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کہ کیسے حکومت بنے گی اور وہ آئی ایم ایف سے کیسے ڈیل کر پائے گا۔

    انھوں نے کہا آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی معاشی صورتحال کے لیے ضروری ہے لیکن اس کا انحصار نئی حکومت پر ہو گا کہ وہ کیسے اس پروگرام کے لیے ڈیل کرے گا۔ انھوں نے اس کے علاوہ مارکیٹ میں حصص کی قیمتیں بھی اوپر کی سطح پر موجود ہیں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کمانے کے لیے بھی فروخت کا رجحان زیادہ رہا۔

  11. بے قصور اور سرخرو ثابت ہوا، سزا دینے والے چلے گئے: نواز شریف

    Nawaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہ@pmln_org

    قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میں سرخرو اور بے قصور ثابت ہوا لیکن سزا دینے والے چلے گئے۔

    پیر کی شام لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے جان بوجھ کر سزائیں دی گئیں، میں سرخرو اور بے قصور ثابت ہوا لیکن سزا دینے والے چلے گئے، وہ جج بھی رخصت ہو گیا جس آٹھ مہینے بعد چیف جسٹس بننا تھا۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دال میں کچھ کالا تھا، ان کو پتا تھا کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے، وہ میری خلاف مقدمات پر مانیٹر بن کر بیٹھا تھا اور کہتا تھا کہ اس کے کیسز کو جلدی چلاؤ، آج وہ استعفی دے کر چلا گیا اور نواز شریف آپ کے سامنے موجود ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت ٹھوکریں کھائی ہیں اب مزید ٹھوکریں کھانےکی طاقت ہے نہ ہمت۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب میں حکومت میں تھا 20 روپے میں پانچ روٹیاں ملتی تھی آج 20 روپے کی ایک روٹی ہے، تیل آٹا گھی چینی سب سستا تھا، پیٹرول سستا تھا، وہ زمانہ کہاں چلا گیا، کون لے گیا اس زمانے کو؟ ہم اس وقت کو کیسے واپس لائیں مگر ہم اس وقت کو واپس لائیں گے۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کے گھروں کو سنوارنا ہے، ملک کو اوپر اٹھانا ہے اور سبز پاسپورٹ کی عزت کروانی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف کی چھٹی نہ کروائی جاتی تو آج نوجوان بیروزگار نہ ہوتے۔ ہم بہت پیچھے رہ گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت کے صلے میں اتنی محبت ملی ہے، آپ بتائیں اس محبت کو کیسے بھلا دوں؟ میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ سب پر قربان ہو جاؤں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں نےکچھ نہ کیا ہوتا تو آپ میری پرواہ نہ کرتے۔

    بعد ازاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ پرچی نہیں مستقبل کا فیصلہ ہے، ہم 9 مئی نہیں 28 مئی والے ہیں، اس میں پوری داستان چھپی ہے، نواز شریف کے دکھوں کی کہانی لکھیں تو سیاحی سوکھ جائے گی مگر وہ آپ لوگوں کی وجہ سے یہاں کھڑے ہیں، ان کو تکلیف ہے کہ یہاں آٹا، روٹی سب مہنگا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2017 میں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر ایک شرمناک واقعہ پیش آیا، لیکن آپ لوگوں نے ساتھ نا چھوڑا، 2018 میں جب نواز شریف کو نااہل کیا گیا تو یہاں سے ان کا ایک ورکر کھڑا ہوا اور ان کو بھی آپ لوگوں نے جتوایا تو مجھے یہاں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

  12. نفرت اور تقسیم کی سیاست ملک میں عروج پر ہے، حکومت ملی تو اس کو دفن کر کے آگے بڑھیں گے، بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ملک میں نفرت اور تقسیم کی سیاست ملک میں عروج پر ہے اور اگر آٹھ فروری کو جیت کر اقتدار میں آئے تو اس کو دفن کر کے آگے بڑھیں گے۔

    اسلام آباد میں زابسٹ یونیورسٹی میں طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں آئے تو اظہار آزادی پر قدغن نہیں لگائی جائے گی، ہم کسی صحافی پر پابندی نہیں لگائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر اقتدار میں آئے تو ہم اشرافیہ کی سبسڈی ختم کریں گے، پسماندہ طبقات کو ریلیف دینے کے لیے رقم فراہم کریں گے، حکومت ملی تو وفاق کی 17 وزارتیں بھی ختم کردیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوامی معاشی معاہدے کو میں نے ماہرین کے ساتھ مل کر خود تیار کیا ہے، ہمیں لگتا ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان واقعی خطرے میں ہے، اس مسئلے کے بارے میں پاکستانیوں کو سمجھانا ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہم جن مشکل معاشی حالات سے گزر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں، ہمیں ترقیاتی کاموں پر رقم خرچ کرنی پڑے گی، ہمارا یہ ارادہ ہے کہ ہم پاکستان کے ترقیاتی ڈھانچے کی تعمیر نو کریں اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا تمام ترقیاتی کام اس لحاظ سے کریں۔

  13. اگر اقتدار میں آئے تو جنوبی پنجاب کو منی لاہور بنا دیں گے، شہباز شریف کا راجن پور جلسے سے خطاب

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہ@pmln_org

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے راجن پور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام نے آٹھ فروری کو مسلم لیگ ن کو ووٹ دے کر اقتدار دیا تو راجن پور سمیت جنوبی پنجاب کو منی لاہور بنا دیں گے۔

    جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ حکومت چار سال تک جادو ٹونے میں لگ گئی اور عوامی کی بھلائی کا کوئی کام نہیں کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام آٹھ فروری کو مسلم لیگ ن کے بانی نواز شریف کو ووٹ دے گی تو نو مئی کے اندھیرے نو فروری کو چھٹ جائیں گے۔

    انھوں نے جلسے سے شرکا سے کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ اقتدار ملا تو وہ علاقے میں زرعی یونیورسٹی قائم کریں گے۔ جام پور کو ضلع کی حیثیت دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان کی حکومت نے رحیم یار خان میں یونیورسٹی بنائی جہاں ہزاروں طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے روزگار سکیم کے تحت گاڑیاں دی گئیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو شیر پر مہر لگائیں اور اپنے علاقے کی ترقی کو یقینی بنائیں۔

  14. بریکنگ, پاکستان اور ایران کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون فوری طور پر بحال کرنے کا فیصلہ

    ایران پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہ@MOFAPAKISTAN

    پاکستان اور ایران نے تمام شعبوں میں تعاون فوری طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پیر کے روز پاکستان کے نگران وزیرِ خارجہ جلیل احمد جیلانی کا اسلام آباد میں اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے تمام چینلز بشمول دونوں ممالک کے فوجی سربراہان کے درمیان قائم چینل کو بروئے کار لائے گئے۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا تھا کہ ’ہم نے پاکستان اور ایران کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون فوری طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ پاکستان اور ایران دہشت گردوں کو کوئی موقع نہیں دیں گے، دہشت گردوں نے ایران کوبہت نقصان پہنچایا، بارڈر پر موجود دہشت گرد دونوں ممالک کی سلامتی کےلیے خطرہ ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان اور ایران کے مشترکہ سرحدی خطے اور ایرانی اور پاکستانی علاقوں میں دہشت گرد موجود ہیں جنھیں تیسرے ملک کی مدد اور رہنمائی حاصل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر گفتگو ہوئی، بارڈر پر موجود تجارتی مراکز کو فعال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔

    ایرانی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کومشترکہ سلامتی کونقصان پہنچانے نہیں دیں گے، ایران اور پاکستان کے درمیان تعمیری اور مضبوط تعلقات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے بہت کم وقت میں موجودہ صورتحال پر قابو پایا، پاکستان، گیس پائپ لائن پر چین اور روس سے مالی مدد لے سکتا ہے، پاک-ایران گیس پائپ لائن پر جرمانے کے حوالے سے خبریں غلط ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو بہت قلیل وقت میں حل کر لیا گیا۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جس چیز کا دونوں ممالک کو سامنا کرنا پڑا، اسے بحران نہیں کہا جا سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور ایران نے مشترکہ سرحدی مارچ شروع کیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط فوجی اور تجارتی روابط ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ بالکل فطری بات تھی کہ دونوں ممالک ان حالات پر قابو پا لیں گے اور اسے پیچھے چھوڑ کر باہمی تعاون جاری رکھ پائیں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا دونوں ممالک نے وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ ہم اپنے مسائل کا جائزہ لے سکیں اور ان پر تبادلہ خیال کر سکیں۔

  15. بریکنگ, ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس: سپریم کورٹ نے اسد قیصر اور قاسم سوری کی نظرثانی درخواستیں خارج کر دیں

    قاسم سوری

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ QASIM KHAN SURI

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق کیس کے فیصلے میں سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی نظر ثانی کی درخواستیں خاری کر دی ہیں۔

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منصورعلی شاہ نے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا آپ کیس چلانا چاہتے ہیں؟

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا بخاری صاحب آپ اکیلے رہ گئے ہیں، جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا تو کیا میں بھی چلا جاؤں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا آپ اب کیا چاہتے ہیں؟ جس پر نعیم بخاری نے کہ میں چاہتا ہوں ڈپٹی سپیکر رولنگ پر عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عدالت مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، جسٹس منیب اختر کے سوالات خوش آئند لیکن خوفناک ہوتے ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا مجھے سوال پوچھ تو لینے دیں، آپ پہلے ہی ڈرا رہے ہیں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے اختیارات عام نہیں ہوتے، وہ محض افسران نہیں ہوتے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا وہ قانون دکھا دیں جس کے تحت سپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات دیے گئے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سابق سپیکرز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ آرٹیکل 69 ٹو سے آگے نہیں بڑھ پا رہے جبکہ جسٹس مندوخیل نے کہا رولنگ ہونا چاہیے تھی کہ تحریک عدم اعتماد پر کارروائی سات دن کے اندر مکمل ہو۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا یہ غلط فہمی پیدا کی گئی کہ عدلیہ پارلیمنٹ کے امور میں مداخلت نہیں کر سکتی، جہاں آئینی خلاف ورزی ہو وہاں سپریم کورٹ پارلیمنٹ کا معاملہ دیکھ سکتی ہے۔

    وکیل نعیم بخاری نے کہا آرٹیکل 69کی زیلی شق دو کے تحت سپیکر ذاتی اقدام کا جوابدہ نہیں، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا ہم نظرثانی درخواست سن رہے ہیں، یہ نکتہ کسی آزادانہ کیس میں اٹھائیں، تسلی رکھیں ڈپٹی سپیکر رولنگ فیصلہ سپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی ذات کے خلاف نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد اسد قیصر اور قاسم سوری کی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں خارج کر دیں اور کہا کہ ڈپٹی سپیکر رولنگ فیصلے کے خلاف نظرثانی کی کوئی بنیاد نہیں بنتی۔

  16. بریکنگ, فوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمات کے خلاف کیس کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیر کو سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل جانے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل پر سماعت شروع ہوئی تو جواد ایس خواجہ کے وکیل نے بینچ پر اعتراض اٹھا دیا۔

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بنچ سماعت کر رہا تھا اس بینچ میں جسٹس امین الدین خان، محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت بینچ شامل تھے۔

    اس دوران لاہور بار کے وکیل حامد خان کی کیس میں دلائل دینے کی کوشش تو جسٹس سردار طارق مسعود نے انھیں روک دیا اور کہا ’اگر ہم نے کیس سننا ہی نہیں تو دلائل نا دیں۔ ہم پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ میں کیس سے الگ ہو جاؤں۔‘

    اس کے بعد جسٹس سردار طارق نے بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی اور بینچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجوا دیا گیا۔ تین رکنی ججز کمیٹی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے لیے نیا لارجر بینچ تشکیل دے گی۔

    وکیل خواجہ احمد حسن نے کہا کہ بینچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججزکمیٹی کوبھیجا جائے۔

    یاد رہے کہ نیا بینچ بننے تک نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار افراد کا ملٹری ٹرائل جاری رہے گا۔ تاہم حکم ِ امتناعی کے ہوتے ہوئے فوجی عدالتیں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے دائر درخواستوں پر فیصلہ آنے تک مقامات کا سامنا کرنے والے شہریوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں سنا سکیں گی۔

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی معطلی برقرار رکھی ہے۔

  17. فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے سے متعلق نظرِ ثانی کی درخواستوں کی سماعت آج ہو گی

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے سے متعلق نظرِ ثانی کی درخواستوں کی سماعت جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا چھ رکنی بینچ کرے گا۔

    اس سے پہلے مستعفی ہونے والے جج جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے عام شہریوں کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

    تاہم بعد میں جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا تھا کیونکہ اس وقت پانچ رکنی بینچ کا تحریری فیصلہ نہیں آیا تھا۔

    نومئی کے واقعات کے بعد حکومت نے عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کی منظوری دی تھی حکومت کے اس اقدام کے خلاف سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جواد ایس خواجہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

    اٹارنی جنرل کے مطابق ایک سو تین سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

  18. پنجاب کے مختلف اضلاع میں انتخابی ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر جرمانے اور نوٹسز جاری

    پاکستان الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں عام انتخابات 2024 میں 10 دن رہ گئے ہیں جہاں ایک طرف انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہیں وہیں کسی بھی طرح کی بے ضابطگیوں پر نظر رکھنے والے ادارے بھی متحرک ہیں۔

    انتظامیہ پولیس اور الیکشن کمیشن سب ہی ملک بھر میں انتخابی نمائندوں اور کارکنوں کو قانون اور اصول یاد کرواتے نظر آ رہے ہیں۔

    صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں انتخابی ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر جرمانے اور نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

    کن امیدواروں کو کن وجوہات کی بند پر جرمانے اور نوٹس ہوئے:

    • این اے 142 ساہیوال امیدوار عثمان علی کوترقیاتی منصوبے کا افتتاح کرنے پر نوٹس جاری کیا گیا۔ امیدوار عثمان علی آج ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کے سامنے وضاحت کے لیے پیش ہوں گے۔
    • ڈی ایم او ملتان نے خلاف ضابطہ تشہیری مواد پر امیدواران رانا قاسم نون، عبدالقادر گیلانی اور دیگر کو نوٹسز جاری کیے۔
    • ملتان میں شاہد محمود خان اورعلی موسیٰ گیلانی سمیت 12 امیدواران کو نوٹسزجاری کیے گئے۔
    • این اے 46 اسلام آباد میں تین امیدواران کو غیر قانونی طور پر انتخابی کیمپ بنانے پر نوٹسز جاری کیے گئے۔
    • این اے 48 اسلام آباد امیدوار ملک عبدالعزیز کو بغیر اجازت کار ریلی نکالنے پر نوٹس جاری ہوا۔
    • پی پی 64 گوجرانوالہ سے امیدوار عمرفاروق ڈار اور عاصم اشرف کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔
    • پی پی 30 گجرات امیدوار عتیق الزمان ڈوگر کو اوورسائز پینا فلیکس لگانے پر نوٹس جاری ہوئے۔
    • خانیوال کے چھ امیدواران کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وارننگز جاری کی گئیں۔
    • مظفر گڑھ میں امیدوار میاں علمدارحسین کو انتخابی مہم کے لیے پبلک پراپرٹی استعمال کرنے پر نوٹس جاری ہوا۔
  19. بریکنگ, سپریم کورٹ کا صحافیوں کے خلاف نوٹسز فوری واپس لینے کا حکم: ’صحافی یا عام عوام کو بھی تنقید کرنے سے نہیں روک سکتے‘

    عدالت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے ‏چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم دیا کہ تنقید کی بنا پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیے جائیں۔

    صحافیوں کو ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹسز سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، صدر پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ عقیل افضل عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے استسفار کیا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بار کے نمائندے موجود ہیں؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا ’قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بنچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بنچ نے طے کیا کہ 184 تین کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے‘۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا ’صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے۔‘

    سماعت کے موقع پر انھوں نے کہا ’صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس سرد خانے میں چلا گیا، ہم کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے۔ ہمیں سچ بولنا چاہیے۔‘

    عدالتی فیصلوں ہر تنقید کرتے ہیں تو کریں لیکن کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ’ اگرہم سے غلطی ہوئی تو انگلی اٹھائیں۔

    ’یہاں مٹی پاؤ نظام چل رہا ہے، جب تک کسی کو قابل احتساب نہیں ٹھہرائیں گے ایسا ہوتا رہے گا۔ ‘

    چیف جسٹس نے کہا ’میں سب غلطیاں اپنے سر پر اُٹھاؤں، بالکل نہیں اُٹھائوں گا، مجھ سے غلطی ہوئی ہے تو مجھ پر اُنگلی اٹھائیں، اگر اُنگلی نہیں اٹھائی تو میری اصلاح نہیں ہو گی، تنقید کریں گے تو ہی میری اصلاح ہو گی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’‏ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا ہر صحافی جو لکھنا چاہے وہ آزادی کے ساتھ لکھ سکے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’تنقید روکنے کے سخت خلاف ہوں، آزادی صحافت آئین میں ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، ‏اگر آپ یہ سمجھ رہے کہ تنقید روک کر میرا یا سپریم کورٹ کا فائدہ کر رہے ہیں تو آپ میرا نقصان کر رہے ہیں، جن صحافیوں کے خلاف تنقید پر نوٹس جاری ہوئے ہیں انھیں فوری واپس لیا جائے۔ صحافی اگر عدالتی فیصلوں ہر تنقید کرتے ہیں تو کریں لیکن کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے۔‘

    چیف جسٹس’ نے کہا کسی بھی صحافی یا عام عوام کو بھی تنقید کرنے سے نہیں روک سکتے۔

  20. ایران کے وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے، نگران پاکستانی وزیر خارجہ اور وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے

    ایران ، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور دو روز قبل ایرانی سرحدی علاقے میں پاکستانی مزدوروں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان پیر کی علی الصبح پاکستان پہنچے ہیں۔

    خبر رساں اراے اے پی پی کے مطابق نور خان ایئربیس پہنچنے پر وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ حیات قریشی نے ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال کیا۔ ایرانی وزیر پاکستان کے نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کی دعوت پر آئے ہیں۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران وزیر خارجہ عبداللاہیان اپنے پاکستانی ہم منصب اور نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے بھی ملاقات کریں گے۔

    یہ اعلیٰ سطحی دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب دونوں ممالک نے 22 جنوری کو اپنے مشترکہ پریس بیان میں اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کے سفیر اپنے اپنے عہدوں پر واپس آئیں گے اور ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

    اس سے قبل رواں ماہ ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جس کے بعد پاکستان کی جانب سے ایران کے اندر حملہ کر کے کہا تھا کہ اس نے پاکستانی نژاد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    یاد رہے کہ سنیچر کو ایک مرتبہ پھر سنیچر کو نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے جنوب مشرقی ایران میں پاکستانی سرحد کے قریب نو پاکستانی شہریوں کو ہلاک کیا گیا جس کے بعد اتوار کو ایران نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع ہوچکی ہیں۔