ملک کی ایک بڑی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ میں خلیج ایک سازش بھی ہو سکتی ہے: بیرسٹر گوہر
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، ملک کی ایک بڑی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ میں خلیج بدقسمتی ہے اور یہ سازش بھی ہو سکتی ہے۔
نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی آئی منشور کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح 50 فیصد سینیٹرز کا بھی براہ راست انتخاب ہونا چاہیے، اس سے ہارس ٹریڈنگ کم ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بھی یہی خواہش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی اصلاحات ضروری ہیں، ایک ٹروتھ کمیشن بننا چاہیے اور یہ پاکستان کے لیے اہم ہے۔
منشور میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مدت میں ایک، ایک سال کمی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اسمبلی کی مدت پانچ سال کچھ زیادہ ہی لگتی ہے اور یہ بہتر ہوتا ہے کہ چار سال کی مدت ہو، اگر چار سال قانون سازی پر توجہ دیتے رہیں اور مقامی حکومتیں بھی ساتھ چلتی رہیں تو چار سال اسمبلی کے لیے مناسب مدت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی کا منشور دیکھا ہے اور اس کے لیے پوری ٹیم نے چھ مہینے بہت محنت کی ہے لیکن یہ بہت افسوس کی بات اور غیر آئینی طرز عمل ہے کہ ایک جماعت کو پورے انتخابی عمل سے باہر کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تمام ادارے آئین کے تابع ہونے چاہئیں، چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔
’یہ قابل شرم بات ہے کہ بلاول بھٹو آزاد امیدواروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قابلِ شرم بات ہے کہ بلاول بھٹو اپنے منشور کی بجائے آزاد امیدواروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، اس طرح تو وہ سیاست دانوں کی خرید و فروخت کی سیاست کو فروغ دینے کی بات کر رہے ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ افسوس کہ الیکشن کمیشن ہمارے خلاف چل رہا ہے، عدالتی فیصلے سے پہلے ہی انتخابی نشان الاٹ کر دییے گئے۔
انھوں نے کہا کہ آزاد امیدوار ہمارے ہیں، سب کو ٹکٹ جاری کیے اور اگلے انٹرا پارٹی الیکشن میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔