آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جیل ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ: ’احتساب عدالت کے جج اہم کیس چھوڑ کر دو کیسوں کی سماعت کے لیے روزانہ اڈیالہ جاتے ہیں‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے 190 ملین پاؤنڈز اور توشہ خانہ نیب ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ دوسری جانب نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے میں پراسیکیوٹر کے فرائض سرانجام دینے والے شاہ خاور کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تعینات کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سابق وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ضمانت کی دو درخواستیں دائر

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ضمانت کی دو درخواستیں دائر کر دی ہیں۔

    ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں عمران خان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔ بانی تحریک انصاف نے اب احتساب عدالت کا فیصلہ کلعدم قرار دینے کی استدعا کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک ضمانت منظور کی جائے۔

    احتساب عدالت نے دونوں مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کر دی تھی۔ سابق وزیرِ اعظم کی جانب سے اسلام آباد ہایی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب، تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مزید یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقدمات سیاسی انتقام اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔

  2. اسلام آباد پریس کلب کے سامنے سے دھرنہ دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست تنقید کے بعد واپس لے لی گئی

    اسلام آباد نیشنل پریس کلب کی جانب سے گذشتہ روز اسلام آباد کی انتظامیہ کو ایک درخواست دی گئی۔ اس درخواست میں نیشنل پریس کلب کا موقف تھا کہ پریس کلب کے باہر دھرنے پر بیٹھے بلوچ مظاہرین کو پریس کلب کے سامنے سے ہٹا کر کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔

    نیشنل پریس کلب کے مینیجر کامران شاہد کی جانب سے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں انتظامیہ کو جمع کروائی جانے والی اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ’پریس کلب کا ذریعہ آمدن یہاں ہونے والی پریس کانفرنسز اور سیمینارز ہیں تاہم گذشتہ دو ماہ سے بلوچ افراد کے احتجاج کی وجہ سے بند راستوں سے ناصرف ہمارے ممبران کو آمد و رفت میں مُشکلات کا سامنا ہے بلکہ سکیورٹی کی وجہ سے یہاں دیگر پروگرامز بھی نہیں ہو رہے۔‘

    تاہم نیشنل پریس کلب کو اپنی اس درخواست پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اسی میں بلوچ یکجہتی مارچ کی سربراہی کرنے والی ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے بھی ایکس پر اپنے ایک بیان میں اسلام آباد پریس کلب کی جانب سے انتظامیہ کو دی جانے والی اس درخواست پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’کُجا یہ کہ ان صحافتی اداروں کو اُن مظلوم لوگوں کی آوازوں کو بلند کرنے میں مددد کی جانی چاہیے یہ ہمیں خاموش کروانے اور نیشنل پریس کلب کے سامنے سے ہٹانے کی کوشش میں ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل کے بعد گزشتہ روز ہی شام گئے اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے منیجر کامران شاہد نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو دی جانے والی اپنی درخواست یہ کہتے ہوئے وااپس لینے کا تحریری بیان جاری کیا کہ ’اُن کی درخواست اور مظاہرین کو نیشنل پریس کلب کے سامنے سے ہٹانے کے معاملے میں انتظامیہ کو لکھے جانے والے خط کو توڑ مروڑ اور غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا۔‘

  3. ’ہم کوئی آزاد ہیں؟‘ عاصمہ شیرازی کا کالم

  4. سپریم کورٹ میں آج سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوگی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں آج سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کرے گا۔

    لارجر بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل کے معاملے میں سپریم کورٹ نے مقدمے کے فریقین کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

    اس سے قبل گزشتہ روز سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے سپریم کورٹ میں اپنا تحریری جواب جمع کروایا تھا جس میں انھوں نے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کے شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    اسی معاملے میں سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی نے بھی سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا ہے۔ سابق چیف جسٹس انور کانسی نے بھی شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    آئی ایس آئی کے سابق اہلکار برگیڈیئر (ر) عرفان رامے نے بھی اپنے تحریری جواب میں شوکت عزیز صدیقی کے الزامات اور ملاقات کی تردید کی ہے۔

    یہ معاملہ ہے کیا؟

    شوکت صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ان کے برطرفی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ شوکت صدیقی کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں جولائی 2018 میں کی جانے والی ایک تقریر کے باعث برطرف کیا گیا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اس اپیل پر 14 دسمبر کو پہلی سماعت کی تھی جو کہ سپریم کورٹ سے براہ راست نشر کی گئی تھی۔ اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی،جسٹس عرفان سعادت بھی شامل ہیں۔

  5. پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی جانب سے تین سو یونٹس تک مفت بجلی فراہم کرنے کے انتخابی وعدے معاشی طور پر قابلِ عمل ہیں؟

  6. ’گھر پر پی ٹی آئی کا جھنڈا لگانے پر‘ تلخی: پشاور میں باپ نے قطر پلٹ بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، پولیس

  7. شوکت صدیقی برطرفی کیس: ’کبھی نہیں کہا کہ اگر نواز شریف کو سزا نہ ہوئی تو دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی،‘ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے سپریم کورٹ میں اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے۔

    تحریری جواب میں جنرل (ر) فیض حمید نے عدلیہ پر اثرانداز ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں کی گئی اپنی تقریر اور جوڈیشل کونسل کے سامنے دیے گئے بیان میں کسی مبینہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا۔

    فیض حمید نے اپنے جواب میں مزید کہا ہے کہ اُن کا شوکت عزیز صدیقی سے کبھی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ ان سے ملے اور نہ ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیلوں پر کوئی بات ہوئی۔ تحریری جواب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے سابق جج کو کبھی یہ نہیں کہا کہ اگر نواز شریف کو سزا نہ ہوئی تو اُن کی دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔

    تحریری جواب میں فیض حمید نے مزید کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں اور یہ بعد میں آنے والے خیالات کے مترادف ہیں۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 15 دسمبر 2023 کو شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید، سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کاسی، سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ارباب عارف سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان سے اس معاملے پر جواب طلب کیے تھے۔

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کاسی نے بھی اپنے تحریری جواب میں شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کی تردید کی ہے۔

    آئی ایس آئی کے سابق اہلکار برگیڈیئر (ر) عرفان رامے نے بھی اپنے تحریری جواب میں شوکت عزیز صدیقی کے الزامات اور ملاقات کی تردید کی ہے۔

    شوکت صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ان کے برطرفی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ شوکت صدیقی کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں جولائی 2018 میں کی جانے والی ایک تقریر کے باعث برطرف کیا گیا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اس اپیل پر 14 دسمبر کو پہلی سماعت کی تھی جو کہ سپریم کورٹ سے براہ راست نشر کی گئی تھی۔ اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی،جسٹس عرفان سعادت بھی شامل ہیں۔

  8. حکومت پاکستان کی دعوت پر ایرانی وزیر خارجہ 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کریں گے: وزارت خارجہ

    پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ حسین عبداللہ رواں ماہ 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس دورے کا اعلان گذشتہ ہفتے دونوں ممالک میں پیدا ہونے والی غیرمتوقع کشیدگی میں واضح کمی کا اشارہ ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے دونوں ممالک میں کشیدگی کا آغاز ایران کی جانب سے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر پر حملے سے ہوا تھا۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے ایران کے سرحدی گاؤں میں حملہ کرتے ہوئے بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے منسلک شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ان واقعات کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔

    پیر کو وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ایران اور پاکستانی وزارئے خارجہ کے درمیان دوبارہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں یہ اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک کے سفیر 26 جنوری تک اپنے اپنے عہدوں پر واپس لوٹ سکتے ہیں۔

    وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کی دعوت پر ایران کے وزیر خارجہ 29 جنوری کو پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔

  9. ’میں آپ کی بات ماننے سے انکار کرتا ہوں، میڈیا سے بات ضرور کروں گا‘: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سائفر مقدمے کی سماعت کے اختتام پر سابق وزیر اعظم عمران خان اور اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کے درمیان اُس وقت تلخ کلامی ہو گئی جب سپریٹنڈنٹ نے عمران خان کو میڈیا سے گفتگو کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ ’میڈیا یہاں سماعت کی کوریج کے لیے آتا ہے، سیاسی گفتگو کی کوریج کے لیے نہیں۔‘

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت پیر کی دوپہر ہوئی۔ اس موقع پر موجود صحافی قاضی رضوان اور ایک جیل اہلکار کے مطابق اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کا اوپن ٹرائل ہے اور میڈیا سے گفتگو کرنا اُن کا حق ہے، جس سے انھیں کوئی نہیں روک سکتا۔

    رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے جیل سپریٹنڈنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کی بات ماننے سے انکار کرتا ہوں، میں تو میڈیا سے بات ضرور کروں گا۔‘

    اس کے بعد عمران خان نے کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو غلام بنایا جا رہا ہے مگر آئندہ ماہ ہونے والا الیکشن آزادی کا الیکشن ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب ہی آزادی ہوتا ہے اور ان کی تمام تر جدوجہد قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ چند لوگ اس ملک میں قانون کی بالادستی نہیں ہونے دیں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی حکومت کو ساڑھے تین سال تک ’سلیکٹڈ‘ کہا گیا مگر آج جو کچھ چل رہا ہے وہ ’مدر آف آل سلیکشن‘ ہے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے تمام کیسز ختم کر دیے گئے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن اور انتظامیہ ن لیگ کی مدد کر رہے ہیں۔

    صحافی رضوان قاضی کے مطابق سابق وزیراعظم مزید گفتگو کرنا چاہ رہے تھے مگر اس موقع پر جیل حکام نے صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا۔

    پیر کے روز اس مقدمے میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے چار گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کروا چکے ہیں، جن میں سابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود بھی شامل ہیں۔

    اس طرح مجموعی طور پر اب تک اس مقدمے میں 19 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔

    صحافی رضوان قاضی اور جیل اہلکار کے مطابق پیر کے روز اڈیالہ جیل میں مقدمے کی سماعت کے دوران سابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی اُس بات سے کہ انھوں نے بنی گالہ میں عمران خان کو سائفر پر بریفنگ دی تھی، اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بطور سیکریٹری خارجہ ریٹائرمنٹ تک سائفر کی کاپی وزارت خارجہ کو موصول نہیں ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ سابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود ستمبر 2022 میں اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔ سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں کے مطابق سماعت کے دوران گواہوں کے بیان قلمبند کرنے کے دوران پراسیکیوٹر کی جانب سے بار بار مداخلت پر سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعتراض کیا

    عدالت میں بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سابق سیکریٹری خارجہ دیانتدار آدمی ہیں اور وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ انھوں نے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ آپ کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ نے ایسے ہی کرناہے تو لکھا ہوا فیصلہ لے آئیں اور سُنا دیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن کو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کروانے کے دوران مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ شاہ محمود قریشی کے اعتراض پر جج نے پراسیکیوٹر رضوان عباسی کو مداخلت سے روک دیا۔

  10. وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ممکنہ شدت پسندی کا خطرہ، تین بڑے تعلیمی ادارے بند, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    اسلام آباد کے متعدد تعلیمی اداروں کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    سکیورٹی الرٹ حساس اداروں کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر بند ہونے والے تعلیمی اداروں میں ائیر یونیورسٹی، نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی اور بحریہ یونیورسٹی شامل ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس تھریٹ کی روشنی میں اسلام آباد میں سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے اور تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو اپنے اپنے علاقوں میں گشت بڑھانے اور سب ڈویثزن پولیس افسران کو پیٹرولنگ کی نگرانی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    سویلین خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظمیوں کے خلاف ملک میں ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں ان تنظیموں کی جانب سے ممکنہ حملوں کا خطرہ تو موجود تھا لیکنپاکستان کی طرف سے ایران میں کالعدم تنظیم بلوچ لیبریشن آرمی اور اس کی ہم خیال جماعتوں کے ٹھکانوں پر مزائیل حملے کے بعد حملے کے امکانات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جس کو کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

  11. عراق، شام اور پاکستان کی سرحدوں میں میزائل حملے، طاقت کا اظہار یا ایران کی دفاعی حکمتِ عملی

  12. فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کے معاملے پر سماعت آج ہوگی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    وفاقی حکومت کی فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کی درخواست پر سماعت آج ہوگی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔

    سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    جنوری کے تیسرے ہفتے میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مکمل کر کے سپریم کورٹ میں جمع کروانی تھی۔ اسی کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے مقرر وقت میں توسیع کیلئے سپریم کورٹ سے براہ راست رجوع کیا تھا۔

    سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی تاریخ پر کمیشن رپورٹ کو حتمی شکل نہیں دے سکتا۔‘ اسی سلسلے میں درخواست میں مقررہ وقت میں توسیع کی استدعا کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس کمیشن نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی طلب کیا تھا۔ لیکن وہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور انھوں نے اپنا تحریری جواب جمع کروایا جس میں انھوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ ایک مذہبی جماعت کی طرف سے فیض آباد دھرنے میں ان کا کوئی کردار تھا اور اس کے علاوہ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ اس وقت کی حکومت کے کہنے پر ہی مظاہرین کے ساتھ مزاکرات کیے تھے۔

    تحریک لبیک اور حکومت کی طرف سے مزاکرات پر دستخط اس وقت کے ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے دستخط کیے تھے۔

    فیض آباد دھرنا کیس ہے کیا؟

    یاد رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا تھا۔

    جس کے بعد حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے پر دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

    سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرناسے متعلق از خودنوٹس پر فیصلہ سناتے ہوئے وزارت دفاع سے سکیورٹی فورسز کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں مداخلت کی ہے

    اس وقت کی حکومت اور مختلف اداروں نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں تاہم جسٹس قاضی فائز عیسی کے بطور چیف جسٹس عہدہ سنبھالنے کے بعد نظر ثانی کی یہ اپیلیں واپس لے لی گئی تھیں اور حکومت نےفیض آباد دھرنے کی تحقیقات کے لیے اختر شاہ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا۔

  13. موروثی سیاست: پاکستان کی سیاست پر چند خاندانوں ہی کا راج کیوں ہے؟

  14. پشارو صدر میں قائم شاپنگ سنٹر میں آتشزدگی، آگ بجھانے کا عمل جاری: ریسکیو 1122

    پشاور کے علاقے صدر میں قائم موبائل پلازہ میں آگ بجھانے کا عمل جاری ہے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق اس وقت 130 سے زیادہ فائر فائٹرز اور 26 فائر ٹرک، 4 واٹر بروزرز، 4 ایمبولینسز آگ بجھانے کے عمل میں مصروف ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق آگ بجھانے کے لئے پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ اور خیبر سے فائر ویکلز اور فائر فائٹرز کو اس آپریشن میں حصہ لینے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق پشاور کے علاقے صدر میں موبائل سنٹر میں موجود بیٹریوں، یو پی ایس اور موبائل ایکسسیریز پھٹنے سے آگ کی شدت بڑھی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پلازے میں لگنے والی آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے موبائل سنٹر کے عقب میں واقعگھروں سے لوگوں کو نکال لیا گیا ہے۔

  15. ’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا گیا تو کبھی وسیم اکرم پلس، ہم پاکستان کو ان ’نالائقوں‘ کے حوالے نہیں کر سکتے‘: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا جاتا تو کبھی وسیم اکرم پلس مسلط کیا جاتا ہے، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے، پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جو وعدہ پورا کر کے دکھاتی ہے۔‘

    لاہور میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ہم پر طنز کرتے ہیں آپ کی تعداد کم ہے، آپ لاہور کیوں آئے ہیں، ان کو سمجھائیں کہ لاہور میرا بھی شہر ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں لاہور کی سرزمین پر کھڑے ہو سب کو پیغام دیتا ہوں حالات ضرور مشکل ہیں، مہنگائی بڑھ رہی ہے، معاشی بحران ہے، سیاسی اور جمہوری بحران ہیں لیکن عوام مایوس نہ ہوں۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جو نفرت کی سیاست کر رہے ہیں اس سے ملک تقسیم ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ملک کو سیاسی بحران سے نکالیں گے، دہشت گرد پھر سر اٹھا رہے ہیں ان کا سر میں خود کچلوں گا۔‘

  16. الیکشن ملتوی کرنے کی کوشش کی مخالفت کریں گے، التوا ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا، شہباز شریف

    مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’الیکشن میں صرف 18 دن باقی رہ گئے ہیں، اس وقت الیکشن کا التوا پاکستان اور جمہوریت کے لیے بہت نقصان دہ ہو گا۔‘

    جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں انٹرویو کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’چیلنجز اپنی جگہ ضرور موجود ہیں اور بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سیاست دانوں کی جانب سے التوا کی بات میں وزن ہے لیکن اس وقت الیکشن کا التوا بہت نقصان دہ ہو گا۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن کو ملتوی کرنے کی کسی بھی کوشش کی مسلم لیگ نواز مخالفت کرے گی۔

    ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ ’نو مئی کو فوج کیخلاف ایک سازش ہوئی جس میں صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ فوج اور عدلیہ میں موجود ان کے حواری بھی شامل تھے، باقاعدہ ایک پلان تھا۔‘