یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا گیا تو کبھی وسیم اکرم پلس، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے‘: بلاول بھٹو
لاہور میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’جو نفرت کی سیاست کر رہے ہیں اس سے ملک تقسیم ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرے گی۔‘
لائیو کوریج
’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا گیا تو کبھی وسیم اکرم پلس، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے‘: بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا جاتا تو کبھی وسیم اکرم پلس مسلط کیا جاتا ہے، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے، پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جو وعدہ پورا کر کے دکھاتی ہے۔‘
لاہور میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ہم پر طنز کرتے ہیں آپ کی تعداد کم ہے، آپ لاہور کیوں آئے ہیں، ان کو سمجھائیں کہ لاہور میرا بھی شہر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں لاہور کی سرزمین پر کھڑے ہو سب کو پیغام دیتا ہوں حالات ضرور مشکل ہیں، مہنگائی بڑھ رہی ہے، معاشی بحران ہے، سیاسی اور جمہوری بحران ہیں لیکن عوام مایوس نہ ہوں۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جو نفرت کی سیاست کر رہے ہیں اس سے ملک تقسیم ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ملک کو سیاسی بحران سے نکالیں گے، دہشت گرد پھر سر اٹھا رہے ہیں ان کا سر میں خود کچلوں گا۔‘
پاکستان ایران کشیدگی: ’دعا ہے سرحد بند نہ ہو، ہماری روزی روٹی یہیں سے آتی ہے‘
انکل آپ الیکشن میں بیٹھیں گے یا پھر لیٹیں گے؟: وسعت اللہ خان کا کالم
الیکشن ملتوی کرنے کی کوشش کی مخالفت کریں گے، التوا ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا، شہباز شریف
مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’الیکشن میں صرف 18 دن باقی رہ گئے ہیں، اس وقت الیکشن کا التوا پاکستان اور جمہوریت کے لیے بہت نقصان دہ ہو گا۔‘
جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں انٹرویو کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’چیلنجز اپنی جگہ ضرور موجود ہیں اور بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سیاست دانوں کی جانب سے التوا کی بات میں وزن ہے لیکن اس وقت الیکشن کا التوا بہت نقصان دہ ہو گا۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن کو ملتوی کرنے کی کسی بھی کوشش کی مسلم لیگ نواز مخالفت کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ ’نو مئی کو فوج کیخلاف ایک سازش ہوئی جس میں صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ فوج اور عدلیہ میں موجود ان کے حواری بھی شامل تھے، باقاعدہ ایک پلان تھا۔‘
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم ’افغان ٹرانس جینڈر‘: ’میری ماں نے کہا کہ اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو یہاں سے چلے جاؤ‘
سیاسی نظام پر عدم اعتماد یا سوشل میڈیا پر مہم: پاکستان بھر میں ماضی کے برعکس انتخابی گہما گہمی میں کمی کیوں؟
نہ برف نہ بارش اُداس جنوری: پاکستان اور انڈیا کے پہاڑی علاقوں میں خشک موسمِ سرما، ’اس کی مثال نہیں ملتی‘
سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا تقریباً ایک سو شکایات ججز کو رائے کے لیے بھجوا دی ہیں: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا ہے کہ معلومات ایک مؤثر ہتھیار ہے، عوام تک معلومات کو پہنچانا اچھا اقدام ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں کی ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ’عدلیہ کا ہدف ایک ہی ہونا چاہیے، اچھے ججز تعینات کریں، ساتھی ججز کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں یہ سوچیں کہ دیگر ججز بھی آپ کا ہاتھ بٹانے آئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چار برس تک فل کورٹ میٹنگ نہیں کی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ معلومات سے ہی احتساب کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ہماری کوشش ہے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کیسز نمٹائیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری مرضی نہیں کہ آپ کو معلومات دیں یا نہ دیں، معلومات کا آپ تک پہنچنا آپ کا حق بن چکا ہے۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ آئین کے شق 19 میں آزادی صحافت کا ذکر ہے، ایک شہری نے تفصیلات مانگیں ہیں کہ آپ کی عدالت میں کتنے ملازمین ہیں؟ شہری کو جواب نہیں ملا تو وہ کمیشن چلا گیا، تو ہم خود کیوں نہ عوام کو بتائیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ہم نے اپنا احتساب خود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کی سہ ماہی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سہ ماہی رپورٹ میں اہم فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کتنے کیسز دائر ہوئے اور کتنے کیسز کا فیصلہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے پیسے سے چلنے والا ہر ادارہ عوام کا ہے، عوامی ٹیکس سے چلنے والے ہر ادارے سے متعلق معلومات شہریوں کو ملنی چاہیے، اہم کیسز کو براہ راست دکھا رہے ہیں تاکہ شہری سمجھ سکیں اور وہ سوال کر سکیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہم نے خود کو احتساب کے لیے آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے، ہم سپریم کورٹ کا سامنے والا حصہ پبلک کے لیے کھول رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی نے مجھے کہا تھا کہ آپ اپنا حال دل صحافیوں کو نا سنایے گا، ذرا سی بات ہر زاویے سے لکھیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’سچائی میں ہی نجات ہے، ہم سے اتفاق کریں نا کریں لیکن سچ پر ہم سب ساتھ ہونے چاہیں۔‘
شعیب ملک اور ثنا جاوید کی ’شادی‘ کی خبر: ’میں پانی پی رہی تھی جو سانس کی نالی میں چلا گیا‘
جب کوئی سیاسی لیڈر کمزور ہوتا ہے اسے عدالتی سزا سے پہلے ہی سزا دی جا چکی ہوتی ہے: جسٹس اطہر من اللہ
سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے ’جب کوئی سیاسی لیڈر کمزور ہوتا ہے اسے عدالتی سزا سے پہلے ہی سزا دی جا چکی ہوتی ہے۔‘
سپریم کورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جج کو آزاد ہونا چاہیے، جج پر جتنی تنقید ہو وہ اثر نہ لے، کوئی جج تنقید کا اثر لے گا تو وہ حلف کی خلاف ورزی کرے گا۔ ان کے مطابق عدلیہ کو گھبرانا نہیں چاہیے، نہ خائف ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے، بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ’کسی جج کو یہ کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ کسی آزادی اظہار رائے یا کسی کورٹ رپورٹر کو اس کی رائے سے روکے۔ 75 برس سے سچ چھپاتے چھپاتے یہ وقت آگیا۔‘
جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ وقت کے ساتھ سچائی خود سامنے آتی ہے، ہمیں اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہیے کہ کہاں جا رہے ہیں، ہم مرضی کے فیصلے، مرضی کی گفتگو چاہتے ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پاکستان کی آدھی تاریخ آمریت میں گزری، آغاز سے آزادی اظہار رائے پر قدغنیں لگیں۔
انھوں نے کہا کہ ڈکٹیٹرشپ میں آزادی اظہار رائے ممکن نہیں، اظہار رائے کے لیے صحافیوں کا کلیدی کردار رہا، کورٹ رپورٹرز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ عدلیہ پر تنقید دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ تنقید کہ جب الزام لگایا جاتا ہے کہ کوئی دانستہ فیصلے ہو رہے ہیں، ایک وہ تنقید ہے جسے میں پسند نہیں کرتا کہ ریلیف کیوں ملا، تنقید ہر کوئی کرے لیکن عدلیہ پر اعتماد بھی کرے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اظہار رائے بہت بڑی چیز ہے، اسے دبانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، ریاستیں اظہار رائے کو قابو نہیں کرسکتیں۔
انھوں نے کہا کہ 1971 میں مغربی پاکستان کے لوگوں کو مختلف تصویر دکھائی گئی، 75 سال تک سب کو پتا تھا سچ کیا ہے لیکن اسے دبایا گیا، ہم سچ کو دباتے دباتے کہاں پہنچ گئے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمیں اپنی تاریخ سے سیکھنا ہوگا، اظہار رائے پہچانا جاتا تو ملک دولخت نہ ہوتا، نہ لیڈر پھانسی چڑھتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ حل صرف آئین پر عمل میں ہی ہے، آئین پر عمل کرکے ہم عظیم قوم بن سکتے ہیں۔
پاکستان کے خطے میں ’برادر اسلامی ممالک‘ سے تلخ ہوتے تعلقات: کیا پاکستان علاقائی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے؟
بریکنگ, قومی سلامتی کونسل کا اجلاس: ’ایران اور پاکستان بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل پر قابو پا سکیں گے‘, شہزاد ملک بی بی سی اردو
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت آج وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا، جس میں قومی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا۔
اس اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میٹنگ میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا کہ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کے انعقاد کے عالمی اصولوں کے مطابق دونوں ممالک باہمی طور پر بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے چھوٹی موٹی رکاوٹوں پر قابو پا سکیں گے اور اپنے تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی راہ ہموار کریں گے۔
اجلاس میں نگراں وزرائے دفاع، خارجہ امور، خزانہ اور اطلاعات، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف نیول سٹاف اور چیف آف ائیر سٹاف کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فورم نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایران ایک ہمسایہ اور برادر مسلم ملک ہونے کے ناتے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ متعدد مواصلاتی ذرائع کو علاقائی امن اور استحکام کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے باہمی طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
اعلامیے کے مطابق فورم نے صورتحال کا بھرپور جائزہ لیا اور پاکستان کی خودمختاری کی بلا اشتعال اور غیر قانونی خلاف ورزی کے خلاف افواج پاکستان کے پیشہ ورانہ، انشانکن اور متناسب ردعمل کو سراہا۔
اجلاس کے دوران شرکا کو پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال اور خطے میں مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اس کے اثرات کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
فورم نے ’آپریشن مارگ بار سرمچار‘ کا بھی جائزہ لیا، جسے ایران کے اندر غیر حکومتی جگہوں پر مقیم پاکستانی نژاد بلوچ دہشت گردوں کے خلاف کامیابی سے انجام دیا گیا۔
سرحدوں کی صورتحال کے بارے میں اپ ڈیٹ اور قومی خودمختاری کی مزید خلاف ورزی کا جامع جواب دینے کے لیے ضروری مکمل تیاریوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق فورم نے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت قطعی طور پر ناقابل تسخیر اور مقدس ہے اور کسی کی طرف سے کسی بھی بہانے اسے پامال کرنے کی کوشش کا ریاست کی پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
اجلاس نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے عزم کو متاثر کیا۔
کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ دہشت گردی کی لعنت سے اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
فورم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان کو دہشت گردی کی اس لعنت سے کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
’کرنل صاحب میں بول رہا ہوں‘: عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں جیل میں ہونے والی سماعت کا احوال, شہزاد ملک بی بی سی اردو
سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کے خلاف راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی سماعت ہوئی۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی قاضی رضوان اور جیل حکام کے مطابق سماعت کے اس موقع پر عمران خان بھی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ فرد جرم میں لکھی قانونی اصطلاحات وکیل ہی سمجھا سکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ وکیل کی غیر موجودگی میں چارج قبول ہی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ویسے بھی یہ مقدمہ جھوٹ ہے۔
قاضی رضوان کے مطابق عمران خان نے جج محمد بشیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اور یہ سب کچھ خلائی مخلوق کرنل صاحب جو دیکھ رہے ہیں وہ کرا رہے ہیں۔‘
جیل اہلکار کے مطابق عمران خان نے عدالت میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کے سامنے ہاتھ ہلا کر اونچی آواز میں کہاکہ کرنل صاحب! عمران بول رہا ہوں۔ ان کے مطابق عمران خان کے بیان پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔
اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی پر ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں وکیل کی تبدیلی کی وجہ سے فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی۔
اس سماعت میں بشریٰ بی بی عدالت پیش ہوئیں۔
ملزمان کی جانب سے لطیف کھوسہ، شہباز کھوسہ، عثمان گل، سلمان اکرم راجہ،نیب کی جانب سے امجد پرویز، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں وکلا تبدیلی کی درخواست دائرکرتے ہوئے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی نئی وکلا ٹیم میں بیرسٹر علی ظفر، سکندر ذوالقرنین اور عثمان گل شامل ہیں۔
وکلا کی اس نئی ٹیم میں شامل عثمان گل ایڈووکیٹ نے کہا کہ عمران خان کے نئے وکیل علی ظفرموجود نہیں ہیں ان کی عدم موجودگی کے باعث فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی۔
عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فرد جرم کی کارروائی 24 جنوری تک مؤخر کردی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں قائم عدالت میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں سکیورٹی فورسز کی نوے فیصد فیملی ان کی جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل انتخابات ہیں اور بندوقوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف انتخابی مہم چلانے کے لیے نکلے ہیں، مگر وہ بتائیں کہ گذشتہ 16 ماہ کس کی حکومت تھی، 16 ماہ میں معیشت کا بیڑا غرق کر دیا گیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت نے گروتھ ریٹ 6.7 فیصد پر چھوڑا تھا جبکہ مہنگائی کی شرح 12.4 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 38 فیصد ہو گئی ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی سے وابستہ نیوز چینل کا ایرانی حملے کی ڈرون فوٹیج جاری کرنے کا دعویٰ
ایران کے سرکاری ٹی وی سے وابستہ نیوز چینل آئی آر آئی این این نے ایک مختصر ویڈیو کلپ نشر کیا ہے جس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے یہ ویڈیو بنائی ہے اور اس میں جو مقام دکھایا گیا ہے وہ پاکستانی سرزمین پر عسکریت پسند گروپ جیش العدل کا ایک اڈہ ہے۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اس ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور پاکستان کی سرحد کے قریب اس اڈے کو پاکستان کی حدود میں 16 جنوری کو ایرانی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
آئی آر آئی این این کی جانب سے 18 جنوری کو نشر کی جانے والی اس ویڈیو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فوٹیج ایران کے پاسداران انقلاب کے ڈرونز سے ریکارڈ کی گئی تھی۔
آئی آر آئی این این نے اس ویڈیو سے متعلق مزید یہ بھی دعویٰ کیا ہے ’ایران میں جیش العدل کے حملوں کے تسلسل کا مطلب یہ ہے کہ ’ان سے لڑنے کے لئے پاکستان کی کوششیں کافی نہیں تھیں۔‘
جیش العدل ایک مسلح گروہ ہے جو ایران کے سیستان بلوچستان میں سرگرم ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ حال ہی میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنے حملوں میں تیزی لانے والے اس گروپ کے پاکستان میں خفیہ ٹھکانے ہیں۔
پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا رابطہ: سفارتی تعلقات بحال کرنے پر غور
پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کی صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک بار پھر ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے باہمی اعتماد اور تعاون پر بات کی۔ انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی معاملات میں قریبی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انھوں دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے سفارتی تعلقات بحال کرنے پر بھی بات چیت کی۔
ایران اور پاکستان نے ایک دوسرے کی سرزمین کا تقدس اور خود مختاری کو اولین رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے تعاون پر زور دیا۔
پاک ایران تعلقات میں اُتار چڑھاؤ: سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کرنے والا ملک اب اس پر حملہ آور کیوں ہوا؟
پاکسان کسی قسم کی کشیدگی میں کوئی دلچسپی یا اس کی خواہش نہیں رکھتا: نگران وزیر خارجہ کی ترک ہم منصب سے فون پر گفتگو
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ترکی کے وزیر خارجہ خاقان فیدان کے مابین ٹیلفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان جاری پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ترک ہم منصب کو پاکستان کے تناظر اور حالیہ پیشرفت سے آگاہ کیا۔
نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ آپریشن مرگ بر سرمچار کا مقصد ایران کے اندر دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانا تھا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کسی قسم کی کشیدگی میں کوئی دلچسپی یا اس کی خواہش نہیں رکھتا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس نگران وزیراعظم کی صدارت میں شروع, شہزاد ملک بی بی سی اردو
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی سربراہی میں وزیراعظم ہاؤس میں جاری ہے۔
چیئرمین جوائینٹ چیفس آف سٹاف ساحر شمشاد مرزا کے علاوہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ایئرفورس اور نیول چیفس بھی شریک ہیں۔
نگراں وزیر خارجہ کے علاوہ خفیہ اداروں کے سربراہان بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں طلب کیا گیا ہے۔
نگران وزیر خارجہ قومی سلامتی کمیٹی کے ارکان کو ایرانی ہم منصب سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے علاوہ دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کریں گے۔
اس اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں اور سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد نگراں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا، جس میں قومی سلامتی کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں کی توثیق متوقع ہے۔
لیول پلیئنگ اور انتقام کے الزام لگاتے ہوں، کیا نواز شریف نے جعلی انتخابات کروانے کا کہا تھا: مریم نواز
پاکستان مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز نے جمعے کو خانیوال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ اور انتقام کے الزامات لگاتے ہو کیا نواز شریف نے کہا تھا کہ جعلی سائفر لہراؤ، اپنی جماعت کے اندر جعلی انتخابات کرواؤ اور پولیس پر پتھراؤ کرو۔
مریم نواز نے کہا کہ آؤ پہلے مقابلہ کرو، میدان چھوڑ کر بھاگتے کیوں ہو۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف تین بار ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، ان کے سینے میں کئی راز دفن ہیں مگر انھوں نے ایک راز بھی افشاں نہیں کیا۔
ان کے مطابق جب نواز شریف کو نکالا تو وہ چپ کر گھر چلے گئے اور عوام کے پاس چلے گئے۔