’پاکستان اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے‘، پاکستانی وزیرِ خارجہ کا ایرانی ہم منصب کو پیغام

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر ایرانی حملہ ’خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور پاکستان ’اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔‘ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے کہا تھا کہ ’ایران کی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘

لائیو کوریج

  1. پاسپورٹ کی شرط کے خلاف چمن شہر میں احتجاج کا 91 واں روز: ’چمن کے لوگ مجبور ہیں کیونکہ ان سے ذرائع معاش چھین لیے گئے ہیں‘

    چمن دھرنا

    ،تصویر کا ذریعہSadiq Khan Achakzai

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان پاسپورٹ کی شرط کے خلاف بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے دونوں ممالک کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت گذشتہ 91 روز سے بند ہے۔

    پاسپورٹ کی شرط کے خلاف چمن شہر میں گذشتہ 91 روز سے دھرنا بھی دیا جار ہا ہے۔ اس دھرنے کی وجہ سے نہ صرف چمن شہر سے پرائیویٹ گاڑیاں باب دوستی کی طرف جاسکتی ہیں اور نہ ہی جو گاڑیاں دوسری جانب سے چمن شہر سے کوئٹہ یا پاکستان کے دیگر شہروں کی جانب آسکتی ہیں۔

    اس وقت دھرنے کے باعث ہزاروں چھوٹے بڑے ٹرک چمن شہر میں پھنسی ہوئی ہیں۔

    دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق خان اچکزئی نے بتایا کہ چمن سے متصل افغانستان میں واقع سرحدی منڈیوں سے چمن کے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے جس کے لیے انھیں روزانہ آمدورفت کرنی پڑتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں افراد کی روزانہ آمدورفت پاسپورٹ کے ذریعے ممکن نہیں ہے اس لیے چمن کے لوگ بطور احتجاج دھرنے پر بیٹھے ہیں اور انھوں نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت سب کچھ بند کیا ہوا ہے جبکہ ہم نے آٹھ فروری کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کرلیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ڈرائیوروں کو مشکلات کا سامنا ہے جس کا ہمیں احساس بھی ہے لیکن چمن کے لوگ مجبور ہیں کیونکہ ان سے ان کا روزگار اور ذرائع معاش چھین لیے گئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو ڈرائیور پھنسے ہوئے ہیں ان کے کھانے پینے کے اخراجات کے لیے ہم نے اقدامات کیے ہیں۔‘

    چمن دھرنا

    ،تصویر کا ذریعہSadiq Khan Achakzai

  2. پاک افغان سرحد پر پاسپورٹ اور ویزے کی پابندی لاگو، تجارتی سرگرمیاں معطل

    سرحد

    پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاسپورٹ اور ویزے کی شرط کے نفاذ کے بعد سے سرحد پر بڑی تعداد میں گاڑیاں رکی ہوئی ہیں تاہم پیدل آمدو رفت جاری ہے۔

    پاکستان کی حکومت نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان پاسپورٹ اور ویزے کی شرط پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس کے بعد سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔

    مقامی لوگوں نے طورخم سے بتایا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہیں جن میں میں زیادہ تعداد ٹرکوں اور کنٹینیرز کی ہے۔

    پاکستان کی افغان پالیسی میں گذشتہ چند ماہ کے دوران بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جن میں غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی پر عملدرآمد شروع کیا گیا اس کے علاوہ سرحد پر پاسپورٹ اور ویزے کی شرط رکھ دی گئی ہے۔

    اس سے پہلے پاک افغان سرحد کے قریب آباد قبائل کو خصوصی اجازت نامے یا مقامی شناختی کارڈ کے ذریعے سرحد کے دونوں جانب آ جا سکتے تھے۔ پاکستان حکومت نے اس سارے آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب اس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان حکومت کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان سے ان دنوں مالٹا کینو اور فروٹر کے علاوہ کیلا اور دیگر سبزیاں افغانستان جا رہی ہیں۔ سمیع اللہ خان پھلوں اور سبزیوں کے تاجر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر آئے روز پالیسیوں کی تبدیلی کی وجہ سے ان کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے اور انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    اب جب تک ٹرک کھڑے ہوں گے ہمیں اس کا کرایہ ڈاریئوروں اور دیگر عملے کی دیہاڑیاں دینا پڑیں گے اس کے علاوہ جو پھل ایک یا دو دن رک جاتا ہے وہ بہت جلد خراب ہو جاتا ہے۔

    سمیع اللہ خان نے کہا کہ ’اگر ہم کینو کا ایک ٹرک بھیجتے ہیں تو اس میں ٹرک کا کرایہ، ڈرائیور اور اس کے ساتھ ہیلپرز کے اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں اور اگر ٹرک ایک دن رک جاتا ہے تو ہر روز کے اخراجات بڑھتے جاتے ہیں اور پھل بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ گزشتہ سال انگور کی فصل جب تیار ہوئی تھی اس وقت بھی سرحد کی بندش کی وجہ سے تاجروں اور باغ کے مالکان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ گیا تھا۔‘

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ نئی پالیسی تمام سرحدی پوانٹس پر نافذ ہے جن میں ضلع خیبر میں طورخم، شمالی وزیرستان میں میں غلام خان، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا اور بلوچستان میں چمن کے علاوہ دیگر مقامات شامل ہیں۔

    پاکستان کے علاقے طور خم میں ڈرائیور نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ پاسپورٹ اور ویزے کی شرط پر عمل درآمد انتہائی مشکل ہے کیونکہ پاسپورٹ کا حصول کافی مشکل ہے اور پھر ویزہ حاصل کرنا ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے اور اس پر مہینوں لگ جاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر ویزے کی سہولت ادھر سرحد پر فراہم کر دی جائے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹرز کو سفری دستاویزات مکمل کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی گئی تھی، مہلت ختم ہونے کے بعد بارڈر پر پاسپورٹ اور ویزے کی شرط پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ادھر افغانستان کی طرف بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں سرحد پر کھڑی ہیں اور وہ پاکستان کی جانب داخل نہیں ہو سکتیں۔

    جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے مقام پر مقامی قبائل کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ ان قبائل کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کا انحصار افغانستان کے ساتھ تجارت پر ہے اور اس کی بندش سے مقامی لوگوں کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    ان مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے موجودہ پالیسی کو تسلیم نہیں کریں گے اور اس کے خلاف ان کا دھرنا جاری رہے گا۔

    سرحد پر پیمفلٹ آویزاں کیا گیا ہے کہ یکم فروری سے تمام لوکل شناختی کارڈ سے انٹری بند ہو جائے گی اور اس کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے ۔ مریض اور ایمرجنسی کی صورت میں بھی آنے والے افراد کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازمی ہوگا۔

  3. پی ٹی آئی نے لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق درخواست واپس لے لی: ’ہم عوام کی عدالت میں جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں‘

    وکیل لطیف کھوسہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف نے انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست واپس لے لی ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے یہ درخواست واپس لیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے اس درخواست کو نمٹا دیا ہے۔

    پیر کی صبح ہونے والی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انھیں یہ درخواست واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے الزام عائد کیا کہ ’الیکشن کمیشن اتنی بدنیت ہے کہ عمران خان کو جیل میں جا کر توہینِ عدالت کا نوٹس دیتے ہیں، بلکہ کمیشن کی شکایت پر عمران خان کو سزا ہوتی ہے۔ اور ہمارا انتخابی نشان عین الیکشن سے پہلے چھین لیا جاتا ہے۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ’الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کے انتخابات میں مداخلت کرے۔ 13 افراد کی شکایت پر یہ سب ہوا، جو تحریک انصاف کے ڈھائی کروڑ کارکنوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ بدقسمتی سے یہ سب عدالتی فیصلے میں سرائیت کر گیا کہ سینیئر ممبر (اکبر ایس بابر) کو الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’ہمار انتخابی نشان رات ساڑھے گیارہ بچے ختم کیا گیا۔ ہمارے امیدواروں کو آزاد تصور کر کے مختلف نشان دیے گئے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ہماری 230 مخصوص نشستیں بھی ختم کر دی گئیں۔‘

    انھوں نے کہا ’ہمارے انتخابی اتحاد کو توڑا گیا۔ الیکشن کمیشن اس قدر مستعد ہے کہ 13 جنوری کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے کہ ایک پارٹی والا دوسرا پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ اس کا مقصد تھا کہ یہ پوری تحریک انصاف کو ایک نشان نہیں دینا چاہتے تھے۔ یہ چاہتے تھے بلا یا بلے والا نہ ملے، مخصوص نشستیں نہ ملیں اور تحریک انصاف کو تِتر بتر کیا جائے۔ یہ 25 کروڑ عوام کو حق رائے دہی سے محروم کیا گیا ہے۔ ہم عوام کی عدالت میں جا رہے ہیں۔ ہمیں الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں۔‘

    پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’لیول پلیئینگ فیلڈ کی کیا بات کر رہے ہیں، آپ نے تو فیلڈ ہی چھین لی ہے۔ الیکشن کمیشن صرف انتخابی نشان لے سکتی ہے ہماری پارٹی ابھی موجود ہے۔ ہمارا ووٹ بینک ابھی موجود ہے۔‘

  4. انڈیا کی جانب سے پیاز کی برآمد پر پابندی نے پاکستان میں اس کی قیمتوں میں کیسے اضافہ کیا؟

  5. الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد پر عملدرآمد کا معاملہ: سینیٹر دلاور خان کی چیئرمین سینیٹ سے مداخلت کی اپیل

    پاکستان میں صوبہ خیبر پخوتونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر دلاور خان نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ موسم اور سکیورٹی کے خدشے کے پیشِ نطر عام انتخابات ملتوی کیے جائیں۔

    انھوں نے خط میں سینیٹ آف پاکستان کی جانب سے 5 جنوری 2024 کو منظور کی گئی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ کی واضح درخواست اور اس کے بعد قرارداد کی کاپی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیجنے کے باوجود یہ بات پریشان کن ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ ’قرارداد پیش کرنے والے کی حیثیت سے میرا پختہ یقین ہے کہ قرارداد میں بیان کردہ خدشات کو فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔ ان مسائل کے حل کے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی دکھائی نہیں دیتا ہے۔‘

    انھوں نے سینیٹ کے چیئیرمین نے کہا کہ ’ایوان کے محافظ کی حیثیت سے وہ (اس معاملے میں) مداخلت کریں۔‘

    سینیٹر دلاور خان نے لکھا کہ آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کا التوا یقینی بنائیں تاکہ پاکستان کے تمام علاقوں اور تمام سیاسی حلقوں کے لوگوں کو انتخابی عمل میں موثر شرکت میں مدد ملے۔‘

    سینیٹ
  6. تقسیم کی شکار سیاست: پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ ’ایک حقیقت‘ ہے تو سیاستدان اس معاملے پر ایک پیج پر کیوں نہیں آتے؟

  7. بینگن، چمٹا اور چارپائی جیسے سینکڑوں انتخابی نشان اور تحریک انصاف کا حل: ’اب شاہ رخ جیسی تصویر بھی بنوائیں‘

  8. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس اور سائفر کیس کی سماعتیں آج ہوں گی

    عمران خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس اور سائفر کیس کی سماعتیں آج ہوں گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل کے احاطے میں ہونے والی سماعت عام طور پر میڈیا اور عوام تک رسائی ہونی چاہیے تاہم اس کا امکان بہت کم ہے۔

    اس سے پہلے ہونے والے سماعتوں میں بھی میڈیا کو آزادانہ رسائی نہیں دی گئی بلکہ گنے چنے صحافیوں کو اجازت دی گئی تھی۔

  9. اتوار کے روز ہونے والے اہم واقعات

    سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرنے کے لیے تیسری قرارداد جمع: ’کسی موزوں تاریخ تک الیکشن ملتوی کیا جائے

    پاکستان میں آٹھ فروری کے عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں مگر اس دوران سینیٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کی غرض سے تیسری قراردار جمع کروائی گئی ہے۔ قرارداد میں میں کہا گیا ہے کہ شدید سردی اور برف باری میں صوبہ خبر پختونخوا کے شہریوں کو چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ صوبے میں ’بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد حملوں کا شدید خطرہ لاحق ہے۔‘

    سیاسی جماعتوں کے لیے خواتین امیدواروں کی پانچ فیصد نمائندگی یقینی بنانا لازم: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں، جنھیں عام انتخابات 2024 کے لیے انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے ہیں، کے لیے الیکشنز ایکٹ 2017 کی سیکشن 206 کے تحت، جنرل نشستوں پر خواتین امیدواروں کی پانچ فیصد نمائندگی کو یقینی بنانا لازمی ہے۔

    بلا نہیں رہا، اب تیر اور شیر کا مقابلہ ہوگا: بلاول بھٹو

    صوبہ بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بلا نہیں رہا، اب تیر اور شیر کا مقابلہ ہوگا، یہ کیسا شیر ہے جو گھر میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو آئندہ پانچ برسوں کے دوران بلوچستان میں کوئی ترقی نہیں ہوگی اور عوام لاوارث رہیں گے۔

    پنجاب کے ریٹرنگ آفیسر کو ’ہراساں‘ کرنے پر الیکشن کمیشن کا نوٹس

    الیکشن کمیشن نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ میڈیا سے ایک واقعہ رپورٹ ہوا ہے جس کے مطابق این اے 171 میں ایک امیدوار نے ڈی آر او کے آفس میں آر او اور ڈی آر او کو ہراساں کیا اور الیکشن کے پراسیس میں انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے موقع پر مداخلت کی۔

    صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو ذاتی حیثیت میں مکمل معلومات کے ساتھ بروز منگل کو انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کے ہمراہ الیکشن کمیشن آفس اسلام آباد میں باقائدہ سماعت کے لیے طلب کر لیا ہے تاکہ آئین اور قانون کے تحت مزید کاروائی جا سکے۔