پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاسپورٹ اور ویزے کی شرط کے نفاذ کے بعد سے سرحد پر بڑی تعداد میں گاڑیاں رکی ہوئی ہیں تاہم پیدل آمدو رفت جاری ہے۔
پاکستان کی حکومت نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان پاسپورٹ اور ویزے کی شرط پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس کے بعد سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔
مقامی لوگوں نے طورخم سے بتایا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہیں جن میں میں زیادہ تعداد ٹرکوں اور کنٹینیرز کی ہے۔
پاکستان کی افغان پالیسی میں گذشتہ چند ماہ کے دوران بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جن میں غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی پر عملدرآمد شروع کیا گیا اس کے علاوہ سرحد پر پاسپورٹ اور ویزے کی شرط رکھ دی گئی ہے۔
اس سے پہلے پاک افغان سرحد کے قریب آباد قبائل کو خصوصی اجازت نامے یا مقامی شناختی کارڈ کے ذریعے سرحد کے دونوں جانب آ جا سکتے تھے۔ پاکستان حکومت نے اس سارے آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب اس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
پاکستان حکومت کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان سے ان دنوں مالٹا کینو اور فروٹر کے علاوہ کیلا اور دیگر سبزیاں افغانستان جا رہی ہیں۔
سمیع اللہ خان پھلوں اور سبزیوں کے تاجر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر آئے روز پالیسیوں کی تبدیلی کی وجہ سے ان کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے اور انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اب جب تک ٹرک کھڑے ہوں گے ہمیں اس کا کرایہ ڈاریئوروں اور دیگر عملے کی دیہاڑیاں دینا پڑیں گے اس کے علاوہ جو پھل ایک یا دو دن رک جاتا ہے وہ بہت جلد خراب ہو جاتا ہے۔
سمیع اللہ خان نے کہا کہ ’اگر ہم کینو کا ایک ٹرک بھیجتے ہیں تو اس میں ٹرک کا کرایہ، ڈرائیور اور اس کے ساتھ ہیلپرز کے اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں اور اگر ٹرک ایک دن رک جاتا ہے تو ہر روز کے اخراجات بڑھتے جاتے ہیں اور پھل بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ گزشتہ سال انگور کی فصل جب تیار ہوئی تھی اس وقت بھی سرحد کی بندش کی وجہ سے تاجروں اور باغ کے مالکان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ گیا تھا۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ نئی پالیسی تمام سرحدی پوانٹس پر نافذ ہے جن میں ضلع خیبر میں طورخم، شمالی وزیرستان میں میں غلام خان، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا اور بلوچستان میں چمن کے علاوہ دیگر مقامات شامل ہیں۔
پاکستان کے علاقے طور خم میں ڈرائیور نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ پاسپورٹ اور ویزے کی شرط پر عمل درآمد انتہائی مشکل ہے کیونکہ پاسپورٹ کا حصول کافی مشکل ہے اور پھر ویزہ حاصل کرنا ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے اور اس پر مہینوں لگ جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر ویزے کی سہولت ادھر سرحد پر فراہم کر دی جائے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹرز کو سفری دستاویزات مکمل کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی گئی تھی، مہلت ختم ہونے کے بعد بارڈر پر پاسپورٹ اور ویزے کی شرط پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ادھر افغانستان کی طرف بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں سرحد پر کھڑی ہیں اور وہ پاکستان کی جانب داخل نہیں ہو سکتیں۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے مقام پر مقامی قبائل کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ ان قبائل کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کا انحصار افغانستان کے ساتھ تجارت پر ہے اور اس کی بندش سے مقامی لوگوں کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ان مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے موجودہ پالیسی کو تسلیم نہیں کریں گے اور اس کے خلاف ان کا دھرنا جاری رہے گا۔
سرحد پر پیمفلٹ آویزاں کیا گیا ہے کہ یکم فروری سے تمام لوکل شناختی کارڈ سے انٹری بند ہو جائے گی اور اس کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے ۔ مریض اور ایمرجنسی کی صورت میں بھی آنے والے افراد کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازمی ہوگا۔