آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’پاکستان اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے‘، پاکستانی وزیرِ خارجہ کا ایرانی ہم منصب کو پیغام

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر ایرانی حملہ ’خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور پاکستان ’اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔‘ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے کہا تھا کہ ’ایران کی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘

لائیو کوریج

  1. کیسز کے بوجھ تلے دبی پاکستان کی عدلیہ میں ’تقسیم‘: ’وکیل صاحب آپ جھوٹے ہیں جج تو سابق وزیراعظم کا کیس سُن رہے ہیں‘

  2. ایرانی میزائل حملوں سے ہونے والے نقصان کے بارے میں تفصیلات اکھٹی کی جارہی ہیں: کمشنر مکران ڈویژن, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع پنجگور میں ایران کی جانب سے فائر کیئے جانے والے میزائل سبزکوہ کے علاقے میں گرے ہیں۔ کمشنر مکران ڈویژن سعید عمرانی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں تفصیلات اکھٹی کی جارہی ہیں تاہم اب تک وہاں دو بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

    پنجگور میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جس علاقے میں یہ میزائل گرے ہیں وہ آبادی والا علاقہ ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ سبزکوہ پنجگور شہر سے اندازاً 90 کلومیٹر دور ایران کے سرحد کے قریب واقع ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں دو بچوں کی ہلاکت کے علاوہ بعض افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    پنجگور بلوچستان کے ان پانچ اضلاع میں شامل ہے جن کی سرحدیں ایران سے لگتی ہیں۔ پنجگور انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

    پنجگور اور اس سے متصل مکران ڈویژن کے دوسرے ضلع کیچ میں پہلے بھی ایران کی جانب سے فائر کیے جانے والے میزائل اور گولے گرتے رہے ہیں جن میں ہلاکتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

  3. بریکنگ, پاکستان کی ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی اور حملے کی شدید مذمت

    پاکستان نے ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود کے اندر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے مارے گئے اور تین لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد ذرائع موجود ہونے کے باوجود یہ غیر قانونی عمل ہوا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سخت احتجاج پہلے ہی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے متعلقہ سینئر عہدیدار کے سامنے درج کرایا جا چکا ہے۔

    حکام نے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے تاکہ مذمت کی جائے۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر ایران پر عائد ہوگی۔

    دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشت گردی خطے کے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں اور دوطرفہ اعتماد اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

  4. بریکنگ, ایرانی فورسز کا پاکستان کے سرحدی گاؤں پر میزائلوں سے حملہ

    ایران کی سکیورٹی فورسز نے پاکستانی سرحد کے اندر ایک گاؤں میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا ہے تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    یہ حملہ ایسے وقت مںی ہوا ہے جب ایران وزیرِ خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے پاکستان کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ میں ہوئی۔

    اطلاعات کے مطابق چند گھنٹے قبل پاسداران انقلاب نے ایران اور پاکستان کی سرحد پر ایک گاؤں کو اپنے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاؤں میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان میں جیش العدل کے دو ہیڈ کوارٹرز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ مذکورہ حملہ جیش العدل کیمپ پر پنجگور رائفلز کے علاقے سبز کوہ، چیدگی سیکٹر میں ہوا۔

    اب تک اس حملے کے نتیجے میں 06 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سبز کوہ، چیدگی بارڈر پاکستانی سرحد (بلوچستان) کے اندر ہے۔

    پولیس کے مطابق جیش العدل ایک سنی بلوچ عسکریت پسند گروہ ہے جس کی ابتدا ایرانی صوبے سیستان بلوچستان سے ہوئی تھی۔ ایرانی سکیورٹی فورسرز کچھ عرصے سے ان کا پیچھا کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ جیش العدل سنی شدت پسند تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالماک ریگی کی گرفتاری اور پھانسی کے بعد بنائی گئی تھی، یہ گروپ 2005 میں اس وقت کے صدر احمد نژاد پر حملے سمیت متعدد دھماکوں اور حملوں میں ملوث رہا ہے یہ کارروائیاں زیادہ تر بلوچستان کے سرحدی صوبے چار باہ اور زاہدان میں کی گئی ہیں۔

    ایران کی حکومت اس گروہ کو دہشت گرد اور سعودی عرب اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں سے منسلک سمجھتی ہے اور اسے ’جیش الظلم‘ کہتی ہے۔ تاہم امریکہ، جاپان اور نیوزی لینڈ کے ساتھ مل کر اس گروپ کو دہشت گرد تسلیم کرتا ہے۔

    ایران کا الزام ہے کہ جیش العدل نے پاکستان میں پناہ گاہ بنا رکھی ہے جبکہ پاکستان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

    صوبہ سیستان و بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟

    ایران کے جنوب مشرق میں صوبہ سیستان و بلوچستان کو مسلسل سالوں میں مختلف اشاریوں کے مطابق ایران کا ’سب سے محروم‘ صوبہ کہا جاتا ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس صوبے کی تقریباً نصف آبادی غریب سمجھی جاتی ہے۔

    ایران کی محنت، بہبود اور سماجی تعاون کی وزارت غربت کے علاوہ رہائش، پانی اور توانائی، تعلیم، صحت اور مالیاتی خدمات تک رسائی کی بنیاد پر محرومی کے انڈیکس کا حساب لگاتی ہے۔ صوبہ سیستان و بلوچستان میں انڈیکس 62 فیصد ہے جو کہ ایران کے صوبوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    ایران کے صوبوں میں سیستان اور بلوچستان میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ تھی۔

    اس صوبے میں ناخواندگی کی شرح پورے ایران میں سب سے زیادہ ناخواندگی کی شرح میں سے ایک ہے۔

    ان تمام محرومیوں کے درمیان سیستان اور بلوچستان کے لیے حکومت کا رویہ سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ ہے۔ بلوچ قیدی پورے ایران میں پھانسی پانے والوں کی کل تعداد کا ایک بڑا اور غیر متناسب حصہ ہیں۔بعض صورتوں میں، یہ پھانسیاں ایران کے دوسرے خطوں میں معمول کے عدالتی طریقہ کار کے بغیر دی جاتی ہیں۔

    حالیہ برسوں میں ایران کے صوبہ سیستان اور بلوچستان میں مسلح گروہوں نے بارہا ایرانی فوجی دستوں کو نشانہ بنایا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ان گروہوں سے مناسب طور پر نمٹا نہیں ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے ملک میں اڈے ہیں۔صوبہ سیستان و بلوچستان میں ہمیشہ سے ہی نازک سکیورٹی رہی ہے، لیکن 2004 سے اسے متعدد یرغمالیوں اور قتل کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جو اب تک جاری ہے۔

  5. ڈاکٹر سید آصف حسین نئے سیکرٹری الیکشن کمیشن تعینات

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈاکٹر سید آصف حسین کو نیا سیکرٹری الیکشن کمیشن تعینات کیے جانے کا ٹوٹیفیکشین جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 6 (2) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن (آفیسرز اینڈ سرونٹس) رولز 1989ء کے رولز 8، 9 اور 11 اور دیگر تمام معاون اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ تقرری کی ہے۔

    نئے سیکرٹری الیکشن کمیشن ایک ریٹائرڈ بی ایس 22 کے افسر ہیں جو الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد میں سپیشل سیکرٹری کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

    ٹوٹیفیکیشن کے مطابق انھیں ایک سال کی مدت کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

  6. تحریک انصاف کا پلان سی بھی تیار، آٹھ فروری کو اُنھیں جھٹکا لگے گا: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کے لیے ان کی جماعت کا ’پلان سی‘ بھی تیار ہے اور پولنگ کے روز ’جھٹکا لگنے والا ہے‘۔

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سائفر مقدمے کی سماعت کے بعد کمرۂ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ’حکومت گرائے جانے کے باوجود جنرل باجوہ سے مذاکرات کیے اور جنرل باجوہ سے کہا تھا کہ صاف و شفاف الیکشن مسائل کا حل ہیں۔‘

    کمرۂ عدالت میں موجود صحافیوں میں سے ایک قاضی رضوان اور جیل کے ایک اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’لندن پلان کے تحت جمہوریت کو روندا جا رہا ہے اور انتخابی مہم شروع ہونے کے باوجود لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔‘

    ان کا دعویٰ تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انھیں کہا تھا کہ ’اچھے غلاموں کی طرح سائفر کی بات عوام میں نہ کرو، ورنہ کیسز کی بارش ہوگی۔‘ عمران خان نے یہ سوال پوچھا کہ کیا سائفر کے معاملے پر عوام کو آگاہ کرنا اور ’حکومت گرانے کی سازش کو ایکسپوز‘ کرنا غداری ہے؟

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام کے لیے صاف اور شفاف انتخابات ضروری ہیں اور ملک صرف سرمایہ کاری سے اس دلدل سے نکل سکتا ہے جو سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ نو مئی کے واقعات میں عورتوں اور بچوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں کیپیٹل ہل واقعے میں سی سی ٹی وی کی مدد سے لوگوں کو پکڑا گیا تھا۔

    انھوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس، اسلام اباد ہائی کورٹ اور جی ایچ کیو کی سی سی ٹی وی فوٹیج کس نے چوری کی؟‘ انھوں نے کہا کہ ’لوگ بے وقوف نہیں، وہ جانتے ہیں کہ فوٹیج چوری کرنے کے وسائل کس کے پاس ہیں؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم کہہ کہہ کر تھک چکے ہیں کہ نو مئی کے واقعات پر آزادانہ انکوائری کروائی جائے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کبھی فوج کے خلاف کچھ نہیں کیا اور جب مجھ پر گولیاں چلیں، ہم نے اس وقت بھی کچھ نہیں کیا۔‘

    سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ نو مئی لندن پلان کا حصہ ہے اور اس حوالے سے پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کو اغوا کر کے تشدد کیا جاتا ہے اور ’اگر وہ نہیں مانتے تو آئی سی یو پہنچ جاتے ہیں۔‘

    انھوں نے الیکشن کمیشن، پولیس اور ایف آئی اے پر ’لندن پلان‘ کا حصہ ہونے کا الزام لگایا۔ پاکستانی حکومت ماضی میں ان الزامات کی تردید کر چکی ہے۔

    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کی ’پہلے اور دوسرے درجے کی قیادت کو اڑا دیا گیا اور انتخابی نشان لے لیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے پاس ’پلان سی‘ بھی موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’آٹھ فروری کو انھیں جھٹکا لگنے والا ہے اور پبلک کو نہیں روکا جا سکتا، اسی لیے یہ ڈرے ہوئے ہیں۔‘

  7. سوشل میڈیا پر ’عدلیہ مخالف مہم‘ کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے، انٹیلیجنس اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل

    وفاق کی نگران حکومت نے سوشل میڈیا پر ’عدلیہ مخالف مہم‘ کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور انٹیلیجنس اداروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ’سپریم کورٹ کے ججز کی ساکھ متاثر کرنے والوں کا تعین کرے گی۔‘

    اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت قائم کردہ یہ جے آئی ٹی ’عدلیہ مخالف مہم اور ججز کی ساکھ متاثر کرنے والوں کا تعین کرے گی‘ جس کے ذریعے ’اعلیٰ عدلیہ کے خلاف مہم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

    جے آئی ٹی ’ملزمان کے خلاف چالان متعلقہ عدالتوں میں پیش کرے گی‘ اور ’مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔‘

    نوٹیفکیشن کے تحت ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈی جی کی سربراہی میں یہ جے آئی ٹی 15 دنوں میں ابتدائی رپورٹ وزرات داخلہ کو بھیجے گی۔

    جے آئی ٹی کی تفصیلات کے مطابق اس میں ایف آئی اے کے علاوہ آئی بی، آئی ایس آئی، ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس اور پی ٹی اے کا ایک، ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

    خیال رہے کہ منگل کو پاکستان بار کونسل کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہو رہے ہیں اور اس کی جانب سے ’عدلیہ مخالف مہم برداشت نہیں کریں گے۔ اداروں اور ججز پر تنقید کرنے کی روش کو روکنا ہو گا۔‘

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیٸرمین ہارون الرشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’(عمران خان کی جماعت) پی ٹی آئی نے نام نہاد انٹرا پارٹی الیکشن ایک گاؤں میں کروایا۔ سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی کے خلاف انتخابی نشان (بلے) سے متعلق فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔‘

    صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ’ججز کو نشانہ بنائے جانے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اداروں اور ججز پر تنقید کرنے کی روش کو روکنا ہوگا۔‘

    چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ ’اخلاقی طور پر بلے کا نشان ملنا چاہیے تھا لیکن قانونی طور پر پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائے گئے۔‘ انھوں نے ایف آئی اے سے مطالبہ کیا کہ ’چیف جسٹس پاکستان کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔‘

  8. سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو گرفتار کر لیا گیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پنجاب پولیس نے سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو گرفتار کرلیا ہے۔

    شیخ رشید کو نو مئی کو توڑ پھوڑ کے واقعات کے نتیجے میں درج ہونے والے مقدمے میں ضمانت مسترد ہونے پر حراست میں لیا گیا۔

    شیخ رشید کے خلاف تھانہ نیو ٹاون راولپنڈی میں مقدمے میں حساس ادارے کے دفتر کے علاوہ میٹرو سٹیشن کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

    شیخ رشید کے خلاف راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں بارہ مقدمات درج تھے جن میں سے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گیارہ میں ان کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی جبکہ ایک مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

  9. ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے، ہم نے سوچا ہی نہیں اس فیصلے کا پاکستان کو کیا بوجھ اٹھانا پڑے گا: بلاول

    آٹھ فروری کے عام انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے امیدواران میں ایک بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’ہم نے دوبارہ ون یونٹ بنانے اور سلیکٹڈ راج کے تسلسل کی سازش ناکام بنائی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سوچا ہی نہیں کہ جب ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے کہ ہمارے اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو کیا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔‘

    نوڈیرو میں تقریب سے خطاب کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول نے کہا کہ ’سلیکٹڈ راج کو ہم نے پہلے دن ہی پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا تھا۔ ہم تب سے آپ کی جدوجہد لڑ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی جمہوریت، 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر یقین رکھتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ان قوتوں کا مقابلہ کیا جو آپ کے حق پر ڈاکا مارنا چاہ رہے تھے۔ ہم نے ان کی ون یونٹ دوبارہ بنانے اور سلیکٹڈ راج کے تسلسل کی سازش کو ناکام کروایا۔ پیپلز پارٹی ہر دور میں آئین، جمہوری نظام کا دفاع کرتی آئی ہے۔ جیالوں نے سلیکٹڈ راج کا مقابلہ کیا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں ایک طرف معاشی بحران تو دوسری طرف معاشرے میں بحران پیدا کیا گیا، سیاست میں سیاسی بحران ہے اور امن و امان کی صورتحال کچے سے لے کر پختونخوا تک، افغانستان کے حالات کے اثرات پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔‘

    ’اس وقت کسی کو کوئی دلچسپی نہیں کہ عوام کتنے تکلیف میں ہیں۔ ان کو اندازہ نہیں اسلام آباد میں کیے گئے فیصلوں کا اثر کیا ہوتا ہے، ان فیصلوں کی وجہ سے تاریخی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت پاکستان میں ہے۔ اس کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے۔‘

    بلاول کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا معاشی بحران کبھی نہیں آیا۔ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا اثر ہر گھر تک پہنچ رہا ہے۔ جو آج سمجھتا ہے کہ ان کے مخالف کے ساتھ کچھ ہو رہا ہے، انھیں سمجھنا چاہیے کہ کل ان کے ساتھ یہی ہوگا۔ کسی کو کوئی فکر نہیں کہ سیاسی عدم استحکام کس طرح ہمارے معاشی عدم استحکام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔‘

    ملک میں بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے واقعات پر انھوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان نے دہشتگردوں کو واپس یہاں آنے کی دعوت دی گئی اور انھیں فاٹا میں آباد کیا گیا۔ ان کے مطابق جو ہتھیار اور اسلحہ ایک زمانے میں امریکہ افغانستان میں طالبان کے خلاف استعمال کر رہا تھا اب طالبان کے پاس پاکستان میں وہی ہتھیار ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’دہشتگرد تنظیمیں جنھوں نے اے پی ایس پر حملہ کیا، انھیں شہریوں نے قربانیاں دے کر ختم کیا۔ دہشتگردوں میں صلاحیت نہیں تھی کہ وہ دوبارہ سر اٹھا سکیں۔ ہم نے بطور ریاست فیصلہ کیا کہ جو قربانیاں ملک کے عوام نے دیں، اس پر سمجھوتہ کر کے انھیں دہشتگردی سے بات کی گئی، انھیں فاٹا میں آباد ہونے کی پیشکش کی گئی۔ (انھیں کہا گیا) کراچی میں بہت جگہ ہے، یہاں اپنا گھر بنائیں۔ جب ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے تب ہم نے سوچا ہی نہیں ہمارے فیصلے کے تنیجے میں پاکستان کو کیا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔‘

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا اشارہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کی وہ تصویر تھی جو اس وقت بنائی جب غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں دوبارہ طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔

    دریں اثنا بلاول نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ کرے گی۔ ’ہمارا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں، ہمارا مقابلہ کسی سیاستدان سے نہیں۔ ہمارا مقابلہ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے ہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے عمران خان یا شہباز شریف وزیر اعظم رہے تو انھوں نے اپنے حلقوں میں کیا کِیا۔ اگر آٹھ فروری کے الیکشن چوتھی بار اسی شخص کو ہم پر وزیر اعظم مسلط کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان عوام اٹھائیں گے۔۔۔ آپ نے پیپلز پارٹی کو کامیاب بنانا ہے تاکہ عوامی راج ہو، نوجوانوں کی حکومت بنے نہ کہ پرانے سیاستدانوں کی پرانی حکومت ہو۔‘

  10. تنازعات میں گِھرا مقدس شہر ایودھیا جو ’ہندو ویٹیکن‘ بننے جا رہا ہے: ’ہندو بیدار ہو گئے ہیں، آزادی کا احساس اب واضح ہو رہا ہے‘

  11. سابق وزیر اعظم عمران خان نے توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ نیب کیس میں جیل ٹرائل کو چیلنج کر دیا

    سابق وزیر اعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ نیب کیس میں جیل ٹرائل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    جیل ٹرائل کے دونوں نوٹیفکیشن کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق القادر ٹرسٹ کیس میں 14 نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جبکہ توشہ خانہ کیس میں 28 نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے اور اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے۔

    عمران خان کی جانب سے دائر دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

  12. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انڈیکس میں کاروبار کے دوران 700 پوائنٹس کی کمی ہوئی جس میں کچھ ریکوری کے بعد اب بھی انڈیکس 500 پوائنٹس منفی ہے۔ تام ابھی آج کے کاروباری دن کے اختتام میں تقریباً چار گھنٹے باقی ہیں۔ مارکیٹ میں موجودہ ہفتے کے آغاز سے منفی رجحان جاری ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں کے تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیکس میں کمی کی وجہ پاکستان کے سیاسی حالات ہیں جن میں بہتری نہیں آرہی بلکہ مسائل بڑھ رہے ہیں سرمایہ کار الیکشن کا انتظار کر رہے ہیں کہ ملک میں کیا کوئی مستحکم حکومت بن پائے گی۔ سٹاک مارکیٹ میں مندی آئی ایم ایف کی جانب سے قسط کے باوجود جاری ہے جس کے تحت پاکستان کو ستر کروڑ ڈالر ملنے ہیں۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہر یار بٹ نے کہا کہ ’مارکیٹ میں ہفتے کے آغاز سے منفی رجحان ہے جس کی بڑی وجہ پاکستان میں سیاسی حالات ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’سرمایہ کار اس وقت محتاط ہیں جس کا اندازہ آج ٹریڈنگ حجم سے لگایا جا سکتا ہے کہ چالیس کروڑ حصص کا کاروبار ہوا جب کہ کچھ دنوں پہلے جب تیزی کا رجحان تھا تو یہ ایک ارب سے زائد حصص کی خرید ص فروخت ہو رہی تھی۔‘

  13. ’بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع ہو چُکی ہے اب کوئی انتخابی نشان تبدیل نہیں ہوگا‘ الیکشن کمشن آف پاکستان

    الیکشن کمشن آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی اُمیدوار کا انتخابی نشان اب تبدیلی نہیں ہو سکتا۔

    الیکشن کمشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفسران اور ریٹرنگ افسران کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ انتخابی نشان کی تبدیلی سے اس مرحلہ پر اجتناب کریں۔

    اعلامیے کے مطابق اگر کوئی تبدیلی لازمی طور پر درکار ہو تو الیکشن کمشن آف پاکستان سے اس امر کی پیشگی اجازت لیں کیونکہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل شور ہو چُکا ہے اور ہو سکتا ہے کہ انتخابی نشان کی تبدیی ممکن نا ہوسکے۔

  14. ’کُج سانوں مرن دا شوق وی سی‘: عاصمہ شیرازی کا کالم

  15. سیاسی رائے کی بنیاد پر بڑھتی عدم برداشت اور تقسیم ہوتا معاشرہ: ’ابھی تو یہاں کُھل کر بولنے کی آزادی نہیں ہے‘

  16. جنرل باجوہ اور ڈونلڈ لو کو ایکسپوز کرنے کی سزا دی جا رہی ہے، فیصلہ سازوں کو بڑا دھچکا لگنے والا ہے: عمران خان کی صحافیوں سے گفتگو, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے پیر کے روز اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس میں مقدمے کی سماعت کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی جماعت کے انتخابی نشان بلے کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تین کی بجائے پانچ رکنی بینچ بننا چاہیے تھا۔

    بی بی سی نے اس گفتگو کے مندرجات کی تصدیق عدالت میں موجود صحافیوں کے علاوہ وہاں موجود جیل حکام سے بھی کی ہے۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی قاضی رضوان کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو صورتحال یہ سب کچھ لندن پلان کے تحت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان (عمران خان) کا الیکشن سے قبل جیل میں ہونا، پی ٹی آئی کا خاتمہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے کیس معاف ہونا سب لندن پلان کا حصہ ہے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب کچھ یہ بتانے کے لیے ہو رہا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں، توشہ خانہ ریکارڈ پر ہے کہ نواز شریف نے چھ لاکھ روپےمیں مرسیڈیز گاڑی لی، مریم نواز نے بی ایم ڈبلیو گاڑی لی مگر اُن کے سارے کیسز بند ہوئے جبکہ ہمارا ایک کیس ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ انھیں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو کو ایکسپوز کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ واحد سیاستدان ہیں جنھوں نے مسلسل 27 سال کی جدوجہد کر کے تحریک انصاف اس جگہ پہنچایا۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ فیصلہ سازوں کو عوام کے غصہ کا اندازہ نہیں ہے، سوشل میڈیا کے دور میں کوئی چیز چھپ نہیں سکتی اور یہ کہ وہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ان سب کو بڑا دھچکا لگنے والا ہے۔ عمران خان نے کہا پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے نہیں دی جا رہی مگر ان سب کو عوام کا غصہ 8 فروری کو نظر آئے گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اب تک ہونے والے اقدامات کے باوجود ان کی پارٹی اس وجہ سے مکمل ختم نہیں ہوئی کیونکہ عوام تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے 850 ٹکٹ امیدواروں کو دینے تھے مگر اُن سے مشاورت کے لیے رجسٹر کو بھی جیل نہیں آنے دیا گیا۔

    ایک سوال کے جواب میں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ بلاول کے ساتھ تحریک انصاف کا انتخابی اتحاد نہیں ہو سکتا جبکہ انھوں نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف نے جانبدار امپائرز کے بغیر کبھی میچ نہیں کھیلا، نواز شریف دو ایمپائرز کی مدد سے کھیل رہے ہیں جن میں سے ایک ایمپائر نے حال ہی میں نو بال دے دی ہے۔

  17. پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے کی کمی کا اعلان

    نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت آٹھ روپے کمی کے بعد 259.34 روپے ہو گئی ہے۔

    تاہم ڈیزل کی قیمت کو 276 روپے 21 پیسے فی لیٹر پر ہی برقرار رکھا گیا ہے اور اس قیمت میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 1.97 روپے کی کمی ہوئی ہے اور اب اس کی نئی قیمت 186.86 روپے فی لیٹر ہے۔

    لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں بھی 92 پیسے کمی کی گئی ہے، نئی قیمت 164 روپے 83 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

  18. ایچ آر سی پی کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے سے اس کے ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔

    ایک بیان میں ایچ آر سی پی نے کہا کہ اسے ’عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر شدید تحفظات ہیں جس میں عدالت نے پی ٹی آئی سے اُس کی پسند کا انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔‘

    اس نے ماضی کا حوالہ دیا کہ ’1988 میں بے نظیر بھٹو کی پٹیشن میں فاضل عدالت نے خود کہا تھا کہ سیاسی جماعت کے بنیادی حقوق میں دخل اندازی شہریوں کے حقوق میں مداخلت کے مترادف ہے جن کی وہ نمائندگی کرتی ہے، خاص طور پر اؘس وجہ سے بھی کہ انجمن سازی کی آزادی کو تحفظ دینے والے آرٹیکل 17 نے ان کی ضمانت دے رکھی ہے۔‘

    ایچ آر سی پی نے مزید کہا کہ ’سیاسی جماعت کو اُس کے انتخابی نشان سے محروم کرنے سے نہ صرف وہ انتخابات میں آزادانہ طریقے سے شریک نہیں ہوسکے گی بلکہ اُس کے ووٹرز اپنے حقؘ رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے جو اپنے نمائندے منتخب کرنے کے لیے انتخابی نشانات پر انحصار کرتے ہیں۔‘

  19. ’الیکشن کمیشن آف پاکستان آٹھ فروری کو انتخابات کے اپنے وعدے اور عزم پر قائم ہے‘ نگران وفاقی وزیر اطلاعات

    پاکستان کے نگران وفاقی وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’الیکشن کمیشن آف پاکستان، جمعرات آٹھ فروری 2024 کو انتخابات کے اپنے وعدے اور عزم پر قائم ہے۔‘

    اُن کا اپنے اس پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ’نا صرف الیکشن کمشن انتخابات کروانے کے اپنے عہد پر قائم ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی نگران حکومتیں اس ذمہ داری کو نبھانے میں الیکشن کمیشن کی ہر طرح کی انتظامی، مالی اور سلامتی کی ضروریات پوری کریں گیں۔‘

    نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی جانب سے بیان ایک ایسا وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب پاکستان کی سینٹ میں مُلک میں ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کروانے سے متعلق ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔

    اس سے قبل پاکستان میں صوبہ خیبر پخوتونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر دلاور خان نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ کر کہا کہ موسم اور سکیورٹی خدشے کے پیشِ نطر عام انتخابات ملتوی کیے جائیں۔

    انھوں نے خط میں سینیٹ آف پاکستان کی جانب سے 5 جنوری 2024 کو منظور کی گئی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ کی واضح درخواست اور اس کے بعد قرارداد کی کاپی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیجنے کے باوجود یہ بات پریشان کن ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

    سینیٹر دلاور کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’قرارداد پیش کرنے والے کی حیثیت سے میرا پختہ یقین ہے کہ قرارداد میں بیان کردہ خدشات کو فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔ ان مسائل کے حل کے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی دکھائی نہیں دیتا ہے۔‘

    انھوں نے سینیٹ کے چیئیرمین نے کہا کہ ’ایوان کے محافظ کی حیثیت سے وہ (اس معاملے میں) مداخلت کریں۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان میں آٹھ فروری کے عام انتخابات سے متعلق تیاریاں جاری ہیں مگر اس دوران سینیٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کی غرض سے تیسری قراردار جمع کروائی گئی۔

    سینیٹر ہلال الرحمان نے اپنی قرارداد میں لکھا کہ شدید سردی اور برف باری میں صوبہ خبر پختونخوا کے شہریوں کو چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ صوبے میں ’بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد حملوں کا شدید خطرہ لاحق ہے۔‘

    اس میں مزید یہ کہا گیا کہ ’عوام اور امیدواروں میں اس حوالے سے احساس محرومی اور خاص طور پر سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے امیدوار سکیورٹی مسائل سے متاثر ہو رہے ہیں۔‘

    سینیٹر ہلال نے مطالبہ کیا کہ آٹھ فروری کی بجائے ’کسی ایسی موزوں تاریخ تک‘ عام انتخابات کو ملتوی کیا جائے جو ’تمام شراکت داروں کے لیے قابل قبول ہو اور آزادانہ منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں راستے میں حائل رکاوٹوں میں مددگار ثابت ہو۔‘

    اس سے قبل 5 جنوری کو ایوان بالا کے چند سینیٹرز نے خراب موسم اور سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کی تھی۔ اس پر قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر بہر مند تنگی کو پارٹی پالیسی سے انحراف پر پیپلز پارٹی نے شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔

    اس کے بعد جمعے کو آزاد سینیٹر ہدایت اللہ نے بھی ایک قرارداد جمع کروا کر انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس قرارداد میں شمالی وزیرستان، باجوڑ اور تربت سمیت ملک بھر میں پُرتشدد واقعات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس میں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ تین ماہ کے وقفے کے بعد پُرامن الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔

  20. لیول پلیئنگ فیلڈ کی درخواست نمٹا دی گئی: ’پی ٹی آئی آپ کی عدالت میں یہ کیس نہیں لڑنا چاہتی‘

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ نہ ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔

    دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا ’ہم الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست واپس لے رہے ہیں۔ جمہوریت کی بقا کے لیے عوام کی عدالت میں جانا پسند کریں گے۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے، آپ کے 13 جنوری کے فیصلے سے ہماری 230 سے زائد نشستیں چھن گئیں، ہم آپ کی عدالت میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے لیے آئے تھے لیکن 13 جنوری کی رات 11:30 پر ایسا فیصلہ سنایا گیا جس سے پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھر گیا۔ ہم اب کیا توقع کریں کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’آپ احکامات دے سکتے ہیں۔ ہم آپ کی عدالت میں یہ کیس نہیں لڑنا چاہتے۔‘ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمارا فیصلہ ماننا ہے مانیں، نہیں ماننا تو آپ کی مرضی۔‘

    اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’آپ نے تو پی ٹی آئی کی فیلڈ ہی چھین لی، الیکشن کمیشن صرف انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے، ایک جماعت کو پارلیمان سے باہر کر کے پابندی لگائی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کے تمام امیدوار آزاد انتخابات لڑیں گے اورکنفیوژن کا شکارہوں گے۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ کو لگتا ہے انتخابات شفاف نہیں ہیں؟‘ جس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ’انتخابات بالکل غیرمنصفانہ ہیں، ہم نے عدلیہ کے لیے خون دیا، قربانیاں دیں۔‘

    چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اب آپ ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں، دوسرے کیس کی بات اس کیس میں کرنا مناسب نہیں ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں۔‘

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی، اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پرمقدمات بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ آپ کے فیصلے سے ہمیں پارلیمانی سیاست سے نکال دیا گیا۔ آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات لڑیں گے۔‘

    وکیل پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے امیدواران میں سے کسی کو ڈونگا، کسی کو گلاس دے دیا گیا۔ آپ کے پاس آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت اختیار ہیں، آپ احکامات دے سکتے ہیں۔ ہم آپ کی عدالت میں یہ کیس نہیں لڑنا چاہتے۔‘

    اس کے بعد سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔