سینیٹ میں ’کسی موزوں تاریخ تک‘ عام انتخابات ملتوی کرنے کے لیے تیسری قرارداد جمع

پاکستان میں آٹھ فروری کے عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں مگر اس دوران سینیٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کی غرض سے تیسری قراردار جمع کروائی گئی ہے جس میں خراب موسم اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہا تو شاید انٹرا پارٹی الیکشن کا سلسلہ ختم ہو جائے گا: چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہا تو شاید انٹرا پارٹی الیکشن کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ میں اپنے جواب الجواب یعنی تحریک انصاف سمیت دیگر فریقین کے جواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے انتخابات نہ کروانے پر 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کردیا ہے۔‘

    یہ جواب انھوں نے عدالت کی طرف سے اس استفسار پر دیا کہ پی ٹی آئی والے الزام لگا رہے ہیں کہ ان کی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

  2. پارٹی انتخابات درست نہ ہوں تو انتخابی نشان نہیں مل سکتا: وکیل اکبر ایس بابر

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی اراکین میں سے ایک اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخـابات سے متعلق دلائل دینا شروع کر دیے ہیں۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کا سنہ 1999 کا آئین ریکارڈ پر موجود ہے۔

    احمد حسن کے مطابق پی ٹی آئی آئین ساز کمیٹی کے کئی ارکان غیرفعال ہیں یا پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔

    ان کے مطابق آئین ساز کمیٹی کے چیئرمین حامد خان صرف ابھی موجود ہیں۔ بانی ارکان میں عارف علوی اور اکبر بابر بھی شامل ہیں۔

    وکیل احمد حسن نے کہا کہ ’پارٹی بنی تو بلے کے نشان کے لیے عمران خان نے اکبر بابر کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا کہا۔

    ان کے مطابق اکبر بابر کو پارٹی کے خلاف بیانات پر شوکاز جاری کیا گیا تھا۔

    احمد حسن نے عدالت کو بتایا کہ اکبر بابر کو شوکاز نوٹس 2019 میں جاری کیا گیا تھا جبکہ اسلام آباد ہاہیکورٹ قرار دے چکی ہے کہ اکبر بابر پی ٹی آئی کے ممبر ہیں۔ اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اکبر بابر کی رکنیت کا اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ ان کے مطابق پارٹی انتخابات درست نہ ہوں تو انتخابی نشان نہیں مل سکتا۔

  3. ‏ایسے الیکشن کو کون مانے گا، جس میں ایک پاپولر پارٹی کو باہر کر دیا جائے: حامد خـان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Hamid Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق مقدمے میں اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے وکیل حامد خان نے کہا کہ ‏سپریم کورٹ کو فیصلہ کرتے وقت دیکھنا ہو گا اس کے اثرات کیا ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو ڈرامائی الفاظ ہیں، اگر یہ چودہ لوگ الیکشن لڑتے تو ووٹرز کے حقوق کیسے متاثر ہوتے؟

    حامد خان نے کہا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر ہی نہیں ہیں تو الیکشن کیسے لڑتے۔

    چیف جسسٹس نے کہا کہ آپ نے خود مانا تھا کہ اکبر بابر بانی رکن ہیں۔ حامد خان نے کہا کہ بانی رکن اپنی پارٹی کے خلاف کیسے عدالتوں میں جا سکتا ہے۔

    حامد خان کے مطابق اکبر بابر کو شوکاز جاری کیا گیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ شوکاز نوٹس دکھا دیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فوزیہ قصوری بھی پارٹی میں ہیں یا چلی گئیں؟

    حامد خان نے کہا کہ اکبر بابر کا پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج نہیں ہے۔

    ان کے مطابق تین دن پہلے ایک بانی ممبر ایم کیو ایم میں شامل ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیا بانی ممبر ہمیشہ ہی رکن رہ سکتا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں کیس انتخابی نشان کا ہے اندرونی طریقہ کار کا نہیں۔ حامد خان کے مطابق پارٹی اگر کسی کو ممبر نہ مانے تو اس کا کام ہے خود کو عدالت میں رکن ثابت کرے۔

    حامد خان مقبول سیاسی جماعت کو الیکشن سے باہر کرنے سے ووٹرز کے حقوق متاثر ہوں گے۔

    حامد خان نے عدالت سے کہا کہ آپ کے سامنے جو معاملہ نہیں، آپ کے سامنے سوال ہے انتخانی نشان ملنا چاہیے یا نہیں۔

    حامد خان نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن انٹراپارٹی انتخابات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔

    جسٹس نے حامد خان کو دلائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

    حامد خان نے کہا کہ الیکشن لڑنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چودہ درخواست گزار بھی یہی حق مانگ رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیسے پارٹی کے اندرونی معاملے میں مداخلت کر سکتا ہے۔

    حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو کیوں انتخابات سے باہر رکھنا چاہتا ہے۔ حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کروڑوں ووٹرز کو حق سے کیسے محروم کر سکتا ہے۔

    حامد خان نے کہا کہ ‏ایسے الیکشن کو کون مانے گا، جس میں ایک پاپولر پارٹی کو الیکشن سے باہر کر دیا جائے۔

  4. آپ جلدی کریں ہم ابھی فیصلہ کریں گے: چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا حامد خان سے مکالمہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    HamidKhan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ‏پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔ اس وقت عدالت میں پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان دلائل دے رہے ہیں اور سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے انھیں بیرسٹر گوہر کے ساتھ ان کے گھر جانے اور اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے تحریری رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ‏چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر کے گھر پر پولیس ریڈ کی رپورٹ طلب کرلی۔

    بیرسٹر گوہر نے عدالتی حکم پر اطمینان کا اظہار کردیا۔ آئی جی اسلام آباد روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’یہ سنجیدہ عمل ہے، کیا آپ جانتے ہیں جو ہوا۔

    آئی جی اکبر ناصر خان نے کہا کہ پولیس ان کے گھر گئی ہے۔ پولیس کی ایک پارٹی نے ان کے گھر میں ریڈ کیا۔ ان کے مطابق جب پولیس کو پتا چلا کہ یہ بیرسٹر صاحب کا گھر ہے تو وہ واپس آ گئی۔

    چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ آپ ذاتی طور پر جائیے ہر شہری کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ ان کی اہلیہ اور جس سے معلومات لینی ہو لے کر تحریری رپورٹ دیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر بیر سٹر گوہر مطمئن نہ ہوں تو آگاہ کیجیے گا۔ بیرسٹر گوہر نے عدالتی حکم پر اعتماد کا اظہار کیا۔

    حامد خان نے کہا کہ تاثر ہے کسی کو کوئی کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ ہمارے کارکنان کو حراساں کیا جا رہا تھا۔

    حراساں کرنے کی وجہ سے ہی پشاور میں انتخابات کروائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حراساں کیا جا رہا تو پھر آپ سکیورٹی کو خط نہ لکھتے، آپ چپکے سے انتخابات کروا دیتے۔

    حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ہدف پی ٹی آئی کا بلے کا نشان ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ لاہور میں کیس زیر سماعت تھا تو پشاور ہائیکورٹ کیوں گئے۔

    حامد خان نے کہا کہ دونوں کیسز الگ ہیں۔ الیکشن کمیشن ادارہ ہے۔ متاثرہ فریق کیسے ہوسکتا ہے۔

    حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اپیل ناقابل سماعت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا آرٹیکل 185 میں اپیل دائر کرنے کے لیے متاثرہ فریق کا ذکر موجود ہے؟

    حامد خان نے جواب دیا کہ اپیل کے لیے متاثرہ فریق کا لفظ موجود نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کو تحلیل کردے تو کیا ادارہ اپیل نہیں کر سکے گا؟ کمیشن کے کسی رکن کو ہٹایا جائے تو کیا کمیشن اپیل نہیں کر سکتا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ اگر کسی رکن کی تعیناتی غیرقانونی ہونے کا ہو تو الگ بات ہے۔ حامد خان نے کہا کہ ’معلومات تک رسائی کے متعلق فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت درخواست گزار نہیں ہوسکتی، جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آپ سے متعلقہ نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ سات بجے تک الیکشن کمیشن نے انتحابی نشان دینے کا وقت بڑھا دیا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ آپ کے لیے اچھی خبر ہو، بُری بھی ہوسکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے حامد خان سے کہا کہ ’آپ جلدی کریں ہم ابھی فیصلہ کریں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ میں درخواست دائر نہیں کر سکتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف کیسز ہوسکتے ہیں تو وہ اپنا دفاع کیوں نہیں کر سکتے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ خود اپیل کرے تو بات مختلف ہوگی۔

    حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے استدعا دلائل کے آخر میں کروں گا۔ چیف جسٹس کی حامد خان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دلائل جلدی مکمل کریں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں۔ حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے بااختیار ہونے میں کوئی دو رائے نہیں۔ ان کے مطابق یہ اختیارات مختلف حالات کے مطابق دیے گئے ہیں۔ حامد خان نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کےساتھ دوہرا معیار اپنایا۔‘

    حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کسی دوسری جماعت کے انتخابات کی اس طرح سکروٹنی نہیں کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جن کی سکروٹنی نہیں ہوئی، انھیں فریق بناتے اور الگ الگ کیس کرتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کا وجود ہی الیکشن کمیشن نے ختم کر دیا ہے؟

    حامد خان نے کہا کہ درخواست گزاروں نے خود دستاویزات لگائی ہیں۔ دو جماعتوں کی جہاں بلامقابلہ انتخاب ہوا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ان جماعتوں کے خلاف کوئی شکایت آئی یا کمیشن سوموٹو لیتا؟

    حامد خان نے کہا کہ شکایت کنندہ تو ہمارے ملک میں مل ہی جاتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس وجیہ الدین نے بھی انتخابات کرائے تھے بہت شور پڑ گیا تھا۔ حامد خان نے کہا کہ سال 2011/12 کا پارٹی الیکشن میں نے کرایا تھا، وجیہ الدین ٹربیونل تھے۔

    حامد خان نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات اندرونی معاملہ ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا۔

  5. الیکشن کمیشن کے پاس انتخابی نشان واپس لینے کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں ہے: چیف جسٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے انٹرا پارٹی انتخـابات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ میں درخواست پارٹی کی جانب سے نہیں دی گئی۔ درخواست گزار پی ٹی آئی کے ضلعی صدر ہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ’ریکارڈ کے مطابق ہائی کورٹ نے لکھا کہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے؟‘

    علی ظفر نے کہا ’دوبارہ انتخابات کا الیکشن کمیشن کا حکم چیلنج کیا لیکن اس پر عمل بھی کر دیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں فل بینچ بنا ہوا تھا، اس لیے وہاں سے رجوع کیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ دوسرا الیکشن پشاور میں ہوا وہ بھی الیکشن کمیشن نے نہیں مانا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاہور میں معاملہ چل رہا تھا تو پشاور کیوں گئے جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں ابھی تک درخواست زیرالتوا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ کل آپ کو غلط معلومات دی گئیں کہ میں نے التوا مانگا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب میں پہنچا تو بینچ پہلے ہی تحلیل ہوچکا تھا، بینچ لگتا تو درخواست غیرمؤثر ہونے پر واپس لے لیتا۔‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اگر دو ہائی کورٹس بیک وقت کیس سننے کے لیے بااختیار ہوں تو کسی سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہائیکورٹ میں مقدمہ زیرالتوا ہو تو دوسری کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ ایک جگہ سے سٹے نہ ملے تو دوسری ہائیکورٹ چلے جاؤ، اگر کے پی کا صوبائی الیکشن ٹھیک نہ ہوتا تو پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنا بنتا تھا۔‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’بیرسٹر گوہرالیکشن کمیشن کے حکم سے متاثرہ فریق ہیں، انھیں پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟

    علی ظفر نے کہا کہ نام نہاد شکایت کنندگان بھی لاہور ہائیکورٹ میں فریق نہیں تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا لاہور ہاہیکورٹ کے پاس دائرہ اختیار نہیں تھا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا کہ کس عدالت سے رجوع کرنا ہے کس سے نہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر لاہور ہائیکورٹ پی ٹی آئی کا سابقہ الیکشن درست قرار دے دے تو کیا ہوگا؟

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ عمران خان دوبارہ چیئرمین بن جائیں تو ہم سے زیادہ خوش کوئی نہیں ہوگا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو ہٹانے کا نوٹس جاری کیا تھا اس وجہ سے چئیرمین تبدیل کیا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن چیئرمین کو ہٹا سکتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس چیلنج کر رکھا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ عمران خان ازخود بحال ہوجائیں گے یا چیئرمین کا دوبارہ الیکشن ہوگا؟

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے مستعفی ہونے پر چیئرمین کا الیکشن دوبارہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے 175 سیاسی جماعتوں میں سے کسی اور کے پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کیے۔‘

    علی ظفر کے مطابق ہمایوں اختر کیس میں الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ ہم پارٹی انتخابات کیس میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ سنہ 2009 کا ہے، کیا اس وقت اور آج کے قانون میں فرق نہیں ہے؟

    وکیل نے کہا کہ قانون میں کوئی فرق نہیں آیا۔ جج نے مزید استفسار کیا کہ جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ سیاسی جماعتوں کے سنہ 2002 کے آرڈیننس کے تحت ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ ’نئے قانون میں بھی دفعات وہی ہیں، ق لیگ میں بھی پارٹی انتخابات درست نہ ہونے کا سوال تھا۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو چیمبر میں بلا لیا۔

    علی ظفر نے کہا کہ اسد عمر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل تھے، اسد عمر کو اٹھا لیا گیا، جس کے بعد انھوں نے پارٹی عہدہ چھوڑ دیا۔

    علی ظفر کے مطابق اسد عمر کے مستعفی ہونے کے بعد ڈپٹی سیکریٹری جنرل عمر ایوب کو سیکرٹری جنرل بنایا گیا۔

    ان کے مطابق اسد عمر نے پہلے عہدہ بعد میں پارٹی چھوڑی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اسد عمر نے نو مئی واقعات کی وجہ سے پارٹی چھوڑی۔ سارے مسئلے آپ کی پارٹی کےساتھ کیوں ہو رہے ہیں؟

    علی ظفر نے کہا کہ ایک بندے کو کاغذات نامزدگی نہ ملنے پر پارٹی کو الیکشن سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن نے ٹرائل کرنا ہے تو ہمیں شواہد پیش کرنے کا موقع بھی دیتا۔

    علی ظفر کے مطابق کسی اور جماعت کے ساتھ یہ رویہ نہیں، جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔ وکیل پی ٹی آئی کے مطابق اگر الیکشن نہ کراتے تو الیکشن کمیشن کا پوچھنا بنتا تھا۔

    علی ظفر نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن کو ٹربیونل بننے کا اختیار کہاں سے مل گیا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں مسئلہ ہو تو کہاں رجوع کیا جا سکتا ہے؟ علی ظفرنے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے کہ سول کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

    علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات نہیں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کو غلط قرار دیا ہے اور الیکشن کمیشن نے عہدیداران کے بلامقابلہ انتخاب پر اعتراض نہیں کیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پشاور ہائی کورٹ میں تحریک انصاف نے انتخابات درست قرار دینے کی استدعا نہیں کی تھی۔ الیکشن درست ہو تو نشان کا مسئلہ خود حل ہو جائے گا۔

    علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کا حکم ہی کالعدم ہو گیا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس انتخابی نشان واپس لینے کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سوچ کر جواب دینا چاہیں تو مخدوم علی خان کے بعد دوبارہ سن لیں گے۔

  6. یہ ایک معمول کی کارروائی تھی، بیرسٹر گوہر علی کے گھر پر پولیس اشتہاریوں کی تلاش میں پہنچی تھی: اسلام آباد پولیس کی وضاحت

    اسلام آباد پولیس نے بیرسٹر گوہر کے گھر جانے کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق جب انھیں یہ پتا چلا کہ یہ گھر چیئرمین تحریک انصاف کا ہے تو وہ وہاں سے واپس آ گئی۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ ’ابھی اطلاع ملی ہے کہ بیرسٹر گوہر کے گھر پولیس پہنچی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    پولیس ایک اطلاع پر اشتہاریوں کی تلاش میں ایک گھر پہنچی۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر بیرسٹر گوہر کا ہے۔ اور پولیس واپس آگئی۔ نہ ہی کسی پر کسی قسم کا تشدد کیا گیا اور نہ ہی کوئی دستاویزات اٹھائی گئیں ہیں ۔ یہ ایک معمول کی کارروائی تھی۔ مزید تحقیقات عمل میں لائی جارہی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  7. حالات بہت سنگین ہیں، عدالت کو گھر پر حملے کی تفصیلات بتانا چاہتا ہوں: بیرسٹر گوہر سپریم کورٹ واپس آ گئے

    ‏چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان سپریم کورٹ واپس آ کر عدالت کو بتایا کہ انھیں کسی پر اعتماد نہیں ہے وہ اپنے گھر پر حملے کی تفصیلات عدالت کو بتانا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کہا کہ ’سر میرے گھر چار ڈالے گئے ہیں حالات خراب ہیں۔‘

    جب بیرسٹر گوہر عدالت واپس پہنچے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’گوہر صاحب کیا پوزیشن ہے؟‘ بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ ’حالات بہت سنگین ہیں۔

    چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایات دیں کہ ’ابھی معاملے کو طے کریں۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سے بات ہوئی ہے، وہ معلوم کر رہے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر کو بات کرنے سے روک دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بتائیں اگر بات نہ سنی جائے تو عدالت کو آگاہ کریں۔

    چیف جسٹس نے چیئرمین پی ٹی آئی سے کہا کہ ’پلیز یہاں بات نہ کریں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہہ دیا ہے وہ معاملہ دیکھ رہے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’اب تو حد سے بھی تجاوز ہوگیا ہے۔ کسی پر اعتماد نہیں ہے، عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا۔‘ چیف جسٹس بولے ’ہم ایس ایچ او تو نہیں ہیں۔‘

  8. ابھی خبر آئی ہے کہ میرے گھر میں چار ڈالے آئے، بیٹے اور بھتیجے پر تشدد کیا گیا: بیرسٹر گوہر سپریم کورٹ سے روانہ, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے عدالت کو بتایا کہ ’ابھی خبر آئی ہے کہ میرے گھر میں چار (ویگو) ڈالے آئے تھے۔‘

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’میرے بیٹے اور بھتیجے کو مارا گیا ہے اور سارے کاغذات لے کر چلے گئے ہیں۔‘

    بیرسٹر گوہر چیف جسٹس کی بات سنے بغیر کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے تھا، اگر ایسا ہوا ہے. اس معاملے کو ذرا دیکھیں۔‘

  9. پی ٹی آئی نے الیکشن کیوں نہیں کرایا، آخر مسئلہ کیا تھا: چیف جسٹس کے استفسار پر پی ٹی آئی کے وکیل نے ن لیگ کے انتخابات کا نوٹیفکیشن دکھا دیا

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے جو پینل سامنے آئے ان کی تفصیلات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

    وکیل علی ظفر کے مطابق اکبر ایس بابر جب آئے تو وقت ختم ہوچکا تھا، اکبر بابر نے آج تک اپنا پینل ہی نہیں دیا کہ وہ کہاں سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔ اکبر ایس بابر الیکشن لڑنا چاہتے تو ہمیں اعتراض نہ ہوتا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’پارٹی آئین میں کہاں لکھا ہے کہ الیکشن اکیلا شخص نہیں لڑ سکتا۔‘

    علی ظفر نے کہا کہ پارٹی آئین میں پینل انتخابات کا ذکر ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق چیئرمین کا انتخاب ہو ہی ووٹ کے ذریعے سکتا ہے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ’کوئی مدمقابل نہ ہو تو انتخاب بلا مقابلہ تصور ہو گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پارٹی آئین میں کہیں بلامقابلہ انتخاب کا نہیں لکھا۔‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’ووٹنگ ہوتی ہی تب ہے جب ایک سے زیادہ امیدوار ہوں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’اگر چیئرمین کے واحد امیدوار کو ہی لوگ پسند نہ کرتے ہوں تو کیا ہو گا۔ اس طرح تو آپ آمریت کی جانب جا رہے ہیں۔ اگر ایک ووٹ بھی نہ ملے تو سینیٹر بھی منتخب نہیں ہوسکتا۔

    علی ظفر نے کہا کہ ’میں بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوا تھا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’چیئرمین، سیکریٹری جنرل سمیت سب لوگ ایسے ہی آگئے یہ تو سلیکشن ہو گئی۔‘

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کیوں نہیں کرایا آخر مسئلہ کیا تھا۔

    علی ظفر نے مسلم لیگ ن کے بلا مقابلہ انتخابات کا نوٹیفکیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ میں بھی سب بلا مقابلہ انتخابات ہوئے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ بلامقابلہ انتخابات پارٹیوں میں ہوتے رہتے ہیں، اس پر تبصرہ نہیں کرینگے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اے این پی کے ضلعی صدور بھی بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے مگر اے این پی کو آج جرمانہ کر کے پارٹی انتخابات جنرل الیکشن کے بعد کرانے کا کہا گیا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’معاملہ فنڈنگ کا بھی سنہ 2014 سے پڑا ہے، جو آپ چلنے نہیں دیتے، ملک چلانے والے کون ہوتے ہیں، عوام کو پتا ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی انتخابات میں کسی نے ووٹ نہیں ڈالا۔ علی ظفر نے کہا کہ مد مقابل کوئی نہیں تھا اس لیے ووٹنگ نہیں ہوئی تھی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا کے دوران بھی انتخابات ہوسکتے تھے، اگر کوئی پینل نہ سامنے آتا تو ایسے ہی بلامقابلہ الیکشن ہوجاتے۔

    علی ظفر نے جواب دیا کہ ماضی کو واپس کیا جا سکتا تو ضرور کر دیتے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے سنہ 2021 میں انتخابی نشان واپس لینے کا خط لکھا تھا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ پرانے لوگوں کو ساتھ رکھیں تو انھیں تجربہ ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’اکبر ایس بابر کی دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی کے بارہ بانی ارکان تھے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’پی ٹی آئی نے شاید بعد میں آئین بدل لیا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو ثابت ہوگیا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی ممبر تھے۔ چیف جسٹس نے علی ظفر سے کہا کہ اکبر بابر کو پارٹی سے نکالنے کی دستاویزات دکھا دیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’پی ٹی آئی پر کوئی باہر سے تو نہیں حملہ کر رہا ناں۔‘

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’چیئرمین بننے کا حق حامد خان کا زیادہ ہے یا بیرسٹر گوہر کا؟‘

    ‏چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بلامقابلہ انتخاب کیسے ہوا؟

    علی ظفر نے جواب دیا کہ ن لیگ میں مریم نواز سمیت سب بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بڑے عہدوں پرلوگ بلا مقابلہ ہو جاتے ہیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ اے این پی کے ضلعی صدور بھی بلا مقابلہ بنے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کا معاملہ پرانا ہے، مقابلے میں کوئی نہیں تھا پھر بھی ووٹنگ کیوں نہ ہوئی؟‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کے جائزے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو فنڈنگ کا جائزہ لینے کا بھی اختیار نہیں؟

    علی ظفر نے کہا کہ فنڈنگ کا معاملہ مختلف ہے اس کی سکروٹنی الیکشن کمیشن کر سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سکروٹنی کا اختیار الیکشن کمشین کو آئین نہیں قانون میں دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس نکتے پر آپ کیوں نہیں کہتے کہ سول کورٹ کا اختیار ہے۔ فنڈنگ کے ذرائع کے حوالے سے الیکشن ایکٹ بالکل واضح ہے۔

  10. انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے شادی ہال سمیت کوئی بھی جگہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا: وکیل تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے سریم کورٹ کو بتایا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے انھیں شادی ہال سمیت کوئی بھی اپنی جگہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ جہاں الیکشن ہوا کیا وہاں آپ کا دفتر ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’جس گرائونڈ میں الیکشن ہوا وہ ہمارے دفتر کے ساتھ ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کو دلائل کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا؟ علی ظفر نے کہا کہ کوشش کروں گا ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کر لوں۔

  11. نئے لوگوں کی شمولیت شکوک پیدا کرتی ہے، بااثر افراد جماعت پر قبضہ کر لیتے ہیں: چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’نئے لوگوں کی شمولیت شکوک پیدا کرتی ہے، بااثر افراد جماعت پر قبضہ کر لیتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے یہ ریمارکس تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کی طرف سے تحریک انصاف کے رہنما نیاز اللہ نیازی کے ذکر کے دوران دیے۔ یہ سنتے ہیں نیازاللہ نیازی نے چیف جسٹس سے کہا کہ یہ باتیں نہ کریں نئے چہرے کیسے آئے۔ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’آپ میری تذلیل کر رہے ہیں، آپ نے میرے بیٹے کے وکالت لائسنس انٹرویو میں بھی پی ٹی آئی سے متعلق سوالات کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں تین سال تک آپ کے سامنے پیش ہوتا رہا ہوں۔ مجھے علم ہے میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ ’کیا ہم انھیں نوٹس جاری کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم تو سوال سمجھنے کے لیے پوچھتے ہیں، اگر ایسا رویہ رکھنا ہے تو ہم کیس ہی نہیں سنتے۔ مجھے معلوم ہی نہیں کہ ان کا کوئی بیٹا بھی ہے۔ اگر اپ الزام لگا کر اداروں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔

    چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر سے کہا کہ ’اگر ایسے کرنا ہے تو ہم اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔‘ علی ظفر نے نیاز اللہ نیازی کے رویے پر عدالت سے معافی مانگ لی۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ’لگتا ہے تحریک انصاف دستاویزات کے معاملے میں کافی کمزور ہے، ہم جو دستاویزات مانگتے ہیں آپ کے پاس ہوتی ہی نہیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ ’میں معذرت چاہتا ہوں۔‘

  12. بیرسٹر گوہر کا اپنا الیکشن ہی سوالیہ نشان بن گیا ہے: چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGohar Ali Khan

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران انٹرا پارٹی الیکشن کے مقدمے کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کون ہیں؟ وکیل ظفر نے کہا کہ ’بیرسٹر گوہر پارٹی کے چیئرمین ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’بیرسٹر گوہر کا اپنا الیکشن ہی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’کل بیرسٹر گوہر وزیراعظم بن گئے تو کیا انھیں پارٹی کے لوگ جانتے ہوں گے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ’بغیر انتخاب بڑے لوگ آ جائیں تو بڑے فیصلے بھی کریں گے، آئی ایم ایف سے معاہدہ بھی ہوسکتا ہے کرنا پڑے، لوگ اپنے منتخب افراد کو جانتے تو ہوں۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ پارٹی انتخابات کے وقت چیئرمین کون تھا؟ علی ظفر نے کہا کہ ’پارٹی انتخابات ہوئے تو چیئرمین عمران خان تھے۔‘

    علی ظفر نے کہا کہ اکبر ایس بابر ممبر نہیں ہیں انھیں نکال دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ ہمیں دکھائیں ریکارڈ سے وہ ممبر نہیں ہیں۔ علی ظفر نے کہا کہ ’میں آپ کو وہ دستاویز دکھا دیتا ہوں۔‘

    علی ظفر نے کہا کہ ’میرا بیان یہی ہے اکبر ایس بابر ممبر نہیں ہیں۔ مجھے ہدایات یہی ملی ہیں وہ ممبر نہیں۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’آپ کو ہدایات کون دے رہا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ ’مجھے پارٹی سربراہ ہدایات دے رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر کا نام لیے بغیر کہا کہ جنھوں نے خود دو سال پہلے پارٹی جوائن کی وہ ہدایت دے رہے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی (عمران خان) سرٹیفکیٹ دیتے تو اور بات تھی۔‘ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’سرٹیفکیٹ پارٹی سربراہ نے دینا ہوتا ہے، سابقہ سربراہ نے نہیں۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ’سرٹیفکیٹ اسی وقت مل سکتا ہے جب انتخابات پارٹی آئین کے مطابق ہوئے ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کا آئین کہتا ہے چیئرمین کا الیکشن دو سال اور باقی عہدوں پر تین سال بعد ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہاں تک تو پارٹی آئین کی خلاف ورزی ثابت ہوگئی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’برطانیہ میں جتنے وزرا اعظم آئے وہ ایک ہی جماعت کے لوگ تھے اور اپنی ہی جماعت سے ان کو مخالفت ہوئی۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے تحریک انصاف کے وکیل سے پوچھا کہ ’کیا آپ نے انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی اپنی ویب سائٹ پر شائع کیے؟

    انھوں نے مزید استفسار کیا کہ ’کس طرح مخصوص لوگوں کو علم ہوا کہ یہ کاغذات نامزدگی ہیں اور کب جمع کرانا ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’جس کے پاس لیپ ٹاپ ہے وہ شاید تحریک انصاف کی ویب سائٹ سرچ کر سکتا ہے۔‘ علی ظفر نے کہا کہ ’جب الیکشن ہو گیا تو کاغذات نامزدگی ہٹا دیے گئے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہماری سپریم کورٹ کی ویب سائٹ دیکھیں ہمارے تو انتخابات نہیں ہوتے۔ ہماری ویب سائٹ پر اگر ہم نوکری کا اشتہار دیتے ہیں تو موجود ہو گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’کچھ تو کاغذ کا ٹکڑا دکھا دیں کہ امیدواروں سے فیس کی یا کاغذات نامزدگی کا۔ فیس کیش میں وصول کی گئی، کونسی سیاسی جماعت کیش میں فیس وصول کرتی ہے؟‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کا الیکشن شیڈول سر آنکھوں پر اس کی تعمیل دکھا دیں۔‘

    مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی پارٹی کا تو نعرہ ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بااختیار بنانا ہے، لیکن یہاں نظر نہیں آ رہا۔‘

    علی ظفر نے کہا کہ ’ہم نے جو بھی غلطیاں کی اس کے لیے 20 دن کا وقت دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ الیکشن کروائیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ کورونا ہے ایک سال کا ٹائم دیا جائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تو بہادری دکھائی کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں نوٹس دیا۔ علی ظفر نے کہا کہ ’صرف ہمیں نہیں الیکشن کمیشن نے سب کو نوٹس بھیجا تھا۔

    جسٹس مظہر علی نے کہا کہ جو شیڈیول پی ٹی آئی نے دیا ہے وہ عملی طور پر ممکن نہیں لگ رہا۔ اگر تو قانون کے بجائے مرضی سے فیصلے کرنے ہیں تو میں تسلیم نہیں کر سکتا۔

    جسٹس مظہر نے مزید کہا کہ ’سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کسی اور پارٹی کے انتخابات پر اعتراض نہیں آیا۔

    علی ظفر نے کہا کہ پارٹی الیکشن شیڈول پر اعتراض کا جواب دوں گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جج صاحب نے اعتراض نہیں سوال کیا ہے۔

    ’پی ٹی آئی ارکان کو ہی لیول پلیئنگ فلیلڈ نہیں ملی‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’پارٹی انتخابات کا شیڈول پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’پی ٹی آئی ارکان کو ہی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی؟‘

    عدالت نے کہا کہ ’انٹرا پارٹی الیکشن کا جو شیڈول پی ٹی آئی نے دیا وہ ممکن نہیں لگ رہا۔‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرپارٹی انتخابات کا سرٹیفکیٹ دینا لازمی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’بنیادی بات سرٹیفکیٹ نہیں الیکشن ہونا ہیں، سرٹیفکیٹ نہ ہونا مسئلہ نہیں الیکشن نہ ہونا مسئلہ ہے۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’پی ٹی آئی پارٹی انتخابات سے گھبرا کیوں رہی ہے؟ ہمیں کوئی دستاویزات دکھا دیں کہ انتخابات ہوئے ہیں، سرٹیفکیٹ تو الیکشن کے بغیر بھی آ سکتا ہے، اگر پی ٹی آئی کو زیادہ وقت چاہیے تو پہلے کہا تھا کہ فیصلہ معطل کرنا پڑے گا۔

    چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے کہا کہ عدالت کو جو تشویش ہے پہلے اسے دور کریں، پھر گلہ نہ کیجیے گا کہ فیصلہ کیوں معطل کیا۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’عمران خان نے کس کو چیئرمین نامزد کیا وہ اگلے ہی دن اعلان کر دیا گیا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کی نامزدگی کا لیٹر کہاں ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ عمران خان کی نامزدگی کا کوئی خط نہیں ہے میڈیا پر اعلان کیا تھا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے کیسے تسلیم کر لیں کہ عمران خان نے کس کو نامزد کیا تھا۔ آپ پرانے اور حامد خان بانی رکن ہیں، انھیں کیوں نہیں نامزد کیا گیا؟ چیف جسٹس کل عمران خان کہہ دیں میں نے نامزد نہیں کیا تھا پھر کیا ہوگا۔‘

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 29 نومبر کو فیڈرل الیکشن کمیشن کو نامزد کیا گیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’نیاز اللہ نیازی کیا پی ٹی ائی کے ممبر ہیں۔

    علی ظفر نے جواب دیا کہ ’جی نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے سنہ 2009 سے ممبر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیاز اللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’دیکھیں ناں سب نئے نئے چہرے آ رہے ہیں، پرانے لوگ کہاں ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ عمر ایوب کے پینل کے کاغذات یکم دسمبر کو جمع ہوئے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا انتخابات میں کوئی اور پینل نہیں تھا۔ علی ظفر نے جواب دیا کہ ایک ہی پینل تھا وہ جیت گیا۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پینل میں 15 لوگ تھے جو منتخب ہوئے۔

  13. الیکشن کمیشن کا ایک ہی دکھڑا ہے کہ پارٹی انتخابات کروا لو: چیف جسٹس کا تحریک انصاف کے وکیل سے مکالمہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’یا اپ تسلیم کر لیں جمہوریت چاہیے یا نہیں؟ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ گھر میں جمہوریت چاہیے باہر نہیں چاہیے، آپ کو سیاست چاہیے، جمہوریت نہیں چاہیے، سیاست تو ہے ہی جمہوریت۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کا ایک ہی دُکھڑا ہے کہ پارٹی انتخابات کرا لو۔‘ تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’پارٹی الیکشن کرائے لیکن وہ الیکشن کمیشن مانے نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ 14 درخواست گزاروں کو الیکشن کیوں نہیں لڑنے دیا۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’کسی کو اعتراض ہے تو سول کورٹ چلا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں چاہے وہ گھر کے اندر ہو یا باہر ہو۔‘

    علی ظفر نے کہا کہ ’کوئی پٹواری انٹراپارٹی انتخابات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ اسے اختیار نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کہتے ہیں کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر الیکشن کمیشن دو لاکھ جرمانہ کر سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی آپ کہتے ہیں باقی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں۔

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق ہر سیاسی جماعت نے پارٹی انتخابات کے سات دن میں سرٹیفکیٹ دینا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ ’کوئی پارٹی الیکشن کرائے بغیر سرٹیفکیٹ دے تو کیا الیکشن کمیشن کچھ نہیں کر سکتا؟

    علی ظفرنے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں پارٹی انتخابات کی شفافیت کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ’سرٹیفکیٹ پارٹی آئین کے مطابق انتخابات سے مشروط ہے۔‘

    علی ظفر نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کو انٹراپارٹی انتخابات کی سکروٹنی کا اختیار نہیں ہے۔‘ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ’اصل مسئلہ ہی دائرہ اختیار کا بنا ہوا ہے۔‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن دو لاکھ روپے تک جرمانہ کر سکتا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’پی ٹی آئی انتخابات کروا کر جرمانے کی سٹیج سے تو آگے نکل چکی ہے۔‘

  14. انتخابات باقاعدہ طریقہِ کار سے کرائے ہیں تو انتخابی نشان ہر صورت ملنا چاہیے: چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ’کیا پی ٹی آئی نے اپنا جاری کردہ شیڈیول فالو کیا تھا؟ کیا انتخابات شفاف تھے، کچھ واضح تھا کہ کون الیکشن لڑ سکتا ہے کون نہیں؟ آپ لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں اپنے ارکان کو بھی تو لیول پلیئنگ فیلڈ دینی ہوگی، الیکشن کمیشن نے ازخود تو کارروائی نہیں کی شکایات ملنے پر کارروائی کی۔‘

    وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ ’الیکشن کمیشن نے ایسی کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی، تمام سوالات کے جواب دستاویزات کے ساتھ دوں گا۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہناتھا ’آج کل ہر کوئی اسٹبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرتا ہے، اصل نام فوج ہے، ہمیں کھل پر اور مکمل بات کرنی چاہیے، میں آئینی اداروں کی عزت کرتا ہوں۔‘

    چیف جسٹس نےکہا یہ انتخابی نشان کیا ہوتا ہے ہمیں معلوم ہے،اگر ایوب کے دور کے بعد کی بات کریں تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی ایک تاریخ ہے، پیپلزپارٹی سے ماضی میں تلوار کا نشان واپس لیا گیا، پھر پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین بنی،ایک اور سیاسی جماعت مسلم لیگ نے ابھی ایسا ہی وقت دیکھا،لیکن اس وقت حکومت میں کون تھا یہ بھی دیکھنا ہے،آج کی اور تب کی صورتحال میں بہت فرق ہے، تب سپریم کورٹ کے ججز نے پی سے او کے تحت حلف اٹھایا تھا، آج تحریک انصاف کے مخالفین حکومت میں نہیں ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’بنیادی بات یہ ہے کہ پارٹی میں الیکشن ہوا ہے یا نہیں، اکبر بابر کو الیکشن لڑنے دیتے سپورٹ نہ ہوتی تو ہار جاتے، پی ٹی آئی کے بانی جیل میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، کل وہ باہر آ کر کہ دیں کہ یہ عہدیدار کون ہیں تو کیا ہوگا؟ پی ٹی آئی کو اپنے ساڑھے آٹھ لاکھ ممبران پر اعتماد کیوں نہیں ہے؟‘

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ ’بنیادی نکتہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے اگر وہ ہی نہ ہوا تو باقی چیزیں خود ختم ہو جائیں گی۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’انتخابات باقاعدہ طریقہِ کار سے کرائے ہیں تو انتخابی نشان ہر صورت ملنا چاہیے، انتخابات کی پیچیدگیوں میں نہ جائیں۔ بس اتنا بتا دیں کہ کیا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں تمام پارٹی اراکین کو یکساں موقع ملا یا نہیں۔‘ الیکشن کمیشن کو ایک کاغذ کا ٹکرا دکھا کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ لو انتخابات کرا دیے۔ یہ دیکھنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن مروجہ طریقہ کار سے ہوئے یا نہیں۔‘

  15. نہ تو آئین اور نہ ہی الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کے جائزہ کی اجازت دیتے ہیں: وکیل علی ظفر

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہget

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کا معاملہ زیرِ سماعت ہے۔ سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ سماعت کررہا ہے، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں۔

    وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ’پشاور ہائی کورٹ نے بہترین فیصلہ لکھا ہے۔‘

    بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا آج پارٹی ٹکٹ جمع کرانے کا آخری دن ہے، وقت کی قلت ہے اس لیے جلدی دلائل مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا ’ہمارے پاس بھی وقت کم ہے کیونکہ فیصلہ بھی لکھنا ہے‘۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ’دو سوالات ہیں کہ کیا عدالتی دائرہ اختیار تھا یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی الیکشن کی چھان بین کا اختیار ہے یا نہیں۔‘

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’نہ تو آئین اور نہ ہی الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کے جائزہ کی اجازت دیتے ہیں،انتخابی نشان انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے نہیں روکا جاسکتا، آرٹیکل 17 دو طرح سیاسی جماعتیں بنانے کا اختیار دیتا ہے، سپریم کورٹ بھی آرٹیکل 17 دو کی تفصیلی تشریح کر چکی ہے۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’انتخابات ایک انتخابی نشان کے ساتھ لڑنا سیاسی جماعت کے حقوق میں شامل ہے، سیاسی جماعت کو انٹراپارٹی انتخابات کی بنیاد پر انتخابی نشان سے محروم کرنا آرٹیکل 17 دو کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے، الیکشن کمیشن نے بلے کا نشان چھین کر بظاہر بدنیتی کی ہے۔ الیکشن کمشین عدالت نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کیساتھ جانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی سلوک کیا۔بنیادی سوال سیاسی جماعت اور اس کے ارکان ہے اس لیے شفاف ٹرائل کے بغیر کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن عدالت نہیں جو شفاف ٹرائل کا حق دے سکے۔ الیکشن کمیشن میں کوئی ٹرائل ہوا ہی نہیں۔‘

    وکیل علی ظفر کا مزید کہنا تھا ’ پی ٹی آئی کے کسی رکن نے انٹرپارٹی انتخابات چیلنج نہیں کیے، انٹراپارٹی انتخابات صرف سول کورٹ میں ہی چیلنج ہوسکتے تھے، الیکشن کمیشن کے پاس سوموٹو اختیار نہیں کہ خود فیصلہ بھی کرے اور اپیلیں بھی۔انٹرا پارٹی انتخابات جماعت کے آئین کے مطابق کرائے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے پہلے 2022 میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جو الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیے۔ الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انتخابات کرانے کا حکم دیا۔ خدشہ تھا پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر نہ کر دیا جائے اس لیے عملدرآمد کیا۔ سپریم کورٹ اسی دوران آٹھ فروری کو انتخابات کا حکم دے چکی تھی۔‘ انھوں نے کہا ’دو دسمبر کو پی ٹی آئی نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے، الیکشن کمشین میں پارٹی انتخابات کیخلاف 14 درخواستیں دائر ہوئیں، لیکن ہمارا بنیادی موقف تھا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اپنے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جواب دیا۔ جواب ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیکر انتخابی نشان واپس لے لیا۔‘

    وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا ’الیکشن کمشین کے حکم نامہ میں تسلیم شدہ ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کسی بے ضابطگی کا ذکر نہیں کیا، الیکشن کمیشن نے فیصلے کی جو وجوہات دی ہیں وہ عجیب ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست کہا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی غلط قرار دی۔ الیکشن کمیشن نے کہا تعیناتی درست نہیں اس لیے انتخابات تسلیم کریں گے نہ ہی نشان دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا ’کل مخدوم علی خان نے تکنیکی نوعیت کے اعتراضات کیے تھے، مخدوم علی خان کا نکتہ پارٹی کے اندر جمہوریت کا تھا۔‘ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ’ جمہوریت ملک کیساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہونی چاہیے، بنیادی سوال جمہوریت کا ہے پارٹی آئین پر مکمل عملدرآمد کا نہیں، کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انتخابات ہوئے ہیں، اکبر بابر بانی رکن تھے وہ پسند نہیں تو الگ بات لیکن ان کی رکنیت تو تھی، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزار پارٹی رکن نہیں تھے، اکبر بابر نے اگر استعفی دیا یا دوسری پارٹی میں گئے تو وہ بھی دکھا دیں،الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی۔‘

    چیف جسٹس نے مزید کہا ’الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اس وقت نوٹس کیا جب وہ حکومت میں تھی، الیکشن ایکٹ کی آئینی حیثیت پر تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ کسی نے چیلنج نہیں کیا، الیکشن ایکٹ کو ہم بھی چیلنج نہیں کر رہے۔‘

  16. مستعفی ہونے کے باوجود بدعنوانی کے الزام میں سپریم کورٹ کے جج کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟

  17. الیکشن 2024: پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا

    Bat

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات 2024 کے لیے پاکستان بھر میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اپنے امیدوارں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ کچھ شہروں کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے چند حلقوں سے ابھی امیدواروں کا نام فائنل نہیں کیا گیا ہے۔

    آئیے ایک نظر دوڑاتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے کس طرح کے امیدواروں کا انتخاب کیا ہے؟

    لاہور

    لاہور میں قومی اسمبلی کے 14 حلقوں میں سے دس حلقوں پر امیدواروں کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ چار حلقوں سے امیدواروں کا اعلان ہونا باقی ہے۔

    این اے 118 سے عالیہ حمزہ، این اے 121 سے وسیم قادر، این اے 122 سے سردار لطیف کھوسہ، این اے 123 سے افضل عظیم ایڈووکیٹ، این اے 124 سے ضمیر ایڈووکیٹ، این اے 126 سے کرامت کھوکھر، این اے 127 سے ظہیر عباس کھوکھر، این اے 128 سے وکیل سلمان اکرم راجہ، این اے 129 سے میاں اظہر جبکہ این اے 123 سے ڈاکٹر یاسمین راشد کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

    لاہور کے حلقوں این اے 117، این اے 119، این اے 120 اور این اے 125 پر امیدواروں کا اعلان ہونا باقی ہے۔

    راولپنڈی

    ضلع راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے چھ حلقوں کے لیے نامزد امیدواروں میں سیمابیہ طاہر، راجہ بشارت، شہریار ریاض، تیمور مسعود، کرنل اجمل صابر اور طارق عزیز بھٹی شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ شیخ رشید اور ان کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کے مقابلے میں بھی تحریک انصاف نے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔

    مری سے میجر لطاسب ستی کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    دارالحکومت اسلام آباد

    اسلام آباد کے تین حلقوں سے ایڈوکیٹ شعیب شاہین، ایڈوکیٹ علی بخاری اور عامر مغل کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    فیصل آباد

    فیصل آباد میں قومی اسبملی کے سات حلقوں کے لیے علی افضل ساہی، رائے حیدر کھرل، افتخار رسول گھمن، ملک عمر فاروق، ڈاکٹر ناصر جٹ، علی سرفراز اور صاحبزادہ حامد رضا کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    فیصل آباد کے تین حلقوں سے ابھی امیدواروں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    گوجرانوالہ

    گوجرانوالہ کے قومی اسمبلی کے پانچ حلقوں میں سے چار حلقوں میں سے فی الحال امیدواروں کا انتخاب نہیں ہو سکا ہے جبکہ این اے 81 گوجرانوالہ سے بلال اعجاز کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    سیالکوٹ

    سیالکوٹ میں قومی اسمبلی کے پانچ میں سے چار حلقوں پر مبشر اعوان ایڈووکیٹ، ریحانہ امتیاز ڈار، امجد علی باجوہ اور علی اسجد ملک کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    چکوال

    چکوال میں قومی اسمبلی کے دو حلقوں پر صحافی ایاز امیر اور محمد رومان احمد کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    میانوالی، بھکر

    میانوالی کے قومی اسمبلی کے دو حلقوں پر جمال احسن خان اور عمیر خان نیازی کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں جبکہ بھکر سے ثنااللہ مستی خیل اور علی عباس بخاری پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے۔

    جھنگ، ننکانہ صاحب

    جھنگ میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں پر شیخ وقاص اکرم، صاحبزادہ محبوب سلطان اور صاحبزادہ احمد سلطان کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    ننکانہ صاحب کے دو میں سے ایک حلقے پر فی الحال ٹکٹ کا فیصلہ نہیں ہو سکا جبکہ این اے 112 ننکانہ صاحب سے سابق وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    بہاولپور، مظفر گڑھ

    بہاولپور میں قومی اسمبلی کے پانچ حلقوں پر کنول شوذب، بشارت رندھاوا، ملک محمود احمد اور سمیع اللہ چوہدری کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    مظفر گڑھ میں قومی اسمبلی کے چار حلقوں پر جمشید دستی، معظم جتوئی، داؤد جتوئی اور حمیرہ احمد خان کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    جہلم

    جہلم کے دو حلقوں کے لیے حسن عدیل ایڈووکیٹ اور غلام مصطفیٰ کندوال کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    ملتان

    ملتان کے قومی اسمبلی کے چھ حلقوں کے لیے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یا اُن کی بیٹی مہر بانو قریشی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے بیٹے زین قریشی بھی این اے 150 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے۔

    بیرسٹر تیمور ملک اور ملک عامر ڈوگر کو بھی ملتان کے حلقوں سے ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا

    صوبائی دارالحکومت پشاور میں قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر ساجد نواز خان، ارباب عامر ایوب، شاندانہ گلزار، ارباب شیر علی اور آصف خان کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    کوہاٹ

    کوہاٹ سے شہریار آفریدی کو تحریک انصاف نے اپنا امیدوار برائے این اے 35 نامزد کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل رہنما شیر افضل مروت کو این اے 41 لکی مروت سے پی ٹی آئی کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بونیر کے حلقے این اے دس سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ عمر ایوب خان ہری پور سے جبکہ اسد قیصر اور شہرام تراکئی صوابی سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے۔

    مردان میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر تحریک انصاف نے علی محمد خان، محمد عاطف اور مجاہد خان کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر علی امین گنڈا پور، بادشاہ خان اور شعیب خان میانخیل کو نامزد کیا گیا ہے۔

    سندھ

    سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی کے مختلف اضلاع سے پی ٹی آئی نے علیم عادل شیخ، حارث میو، فہیم خان، سیف الرحمان، عالمگیر خان، ظہور محسود ایڈووکیٹ، حلیم عادل شیخ، یاسر بلوچ، خرم شیرزمان، دعویٰ خان، شجاعت علی خان ایڈووکیٹ، عطااللہ خان، بیرسٹر عزیر غوری، ارسلان خالد اور ریاض حیدر کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    سکھر میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر ستار چاچڑ اور گوہر کھوسو پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے۔

    بلوچستان

    کوئٹہ میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر پی ٹی آئی نے سیف اللہ کاکڑ، سالار خان کاکڑ اور زین العابدین خلجی کو ٹکٹ جاری کیے ہیں۔

    پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی چند نشستوں پر فی الحال اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے۔

  18. 2024 کے عام انتخابات: مسلم لیگ ن نے پنجاب میں کہاں سے کسے میدان میں اتارا ہے؟

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں 8 فروری کو عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنے امیدواروں کی تفصیلات شائع کر دی ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف قصور سے بھی انتخابی میدان میں اتریں گے۔ پارٹی نے انھیں این اے 132 سے ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔ شہباز شریف صوبائی اسمبلی کے حلقے 164 سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

    ن لیگ نے این اے 96 فیصل آباد سے نواب شیر وسیر کو ٹکٹ دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس حلقے سے طلال چوہدری بھی ٹکٹ کے امیدوار تھے۔

    این اے 171 سے مخدوم معین الدین علی کو ٹکٹ ملا۔ این اے 50 سے جاوید اختر انتخابی مہم چلائیں گے۔

    سابق وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ کو این اے 164 سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔ این اے 154 سے عبدالرحمان خان کانجو کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ این اے 155 سے صدیق بلوچ پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ن لیگ نے این اے 139 سے احمد رضا مانیکا کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

    این اے 115 سے میاں جاوید لطیف انتخابات میں حصہ لیں گے۔ این اے 102 سے عابد شیر علی انتخابی میدان میں اتریں گے۔ پرویز مشرف کے دور میں وزیر داخلہ رہنے والے مخدوم فیصل حیات این اے او 108 اور پی پی 125 سے ن لیگ کے امیدوار ہوں گے۔

    مسلم لیگ کے لاہور سے صوبائی اور قومی اسملبی کے امیدوار

    مسلم ن لیگ نے الیکشن کے لیے لاہور سے پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ حمزہ شہباز این اے 118 جبکہ مریم نواز این اے 119 سے الیکشن لڑیں گی۔

    ایاز صادق این اے 120، روحیل اصغر این اے 121 ، این اے 122 سے سعد رفیق، این اے 123 سے شہباز شریف ، این اے 124 سے رانا مبشر، این اے 125 سے افضل کھوکھر اور این اے 126 سے ملک سیف الملوک کھوکھر ن لیگ کےامیدوار ہوں گے۔

    این اے 127 سےعطا تارڑ، این اے 129 سے میاں نعمان کو ٹکٹ ملا جبکہ این اے 130 سے مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف الیکشن لڑیں گے۔ خیال رہے کہ نواز شریف مانسہرہ کے حلقے 115 سے بھی انتخابات لڑ رہے ہیں۔

    ن لیگ نے لاہور سے صوبائی اسمبلی کے لیے بھی پارٹی امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے، جس میں پی پی 145سے سمیع اللہ، 146سے غزالی سلیم بٹ کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    پی پی 147 سے حمزہ شہباز، پی پی 148 سے مجتبیٰ شجاع الرحمان، پی پی 170 سے رانا احسن شرافت، پی پی 168سے فیصل ایوب، پی پی 161 سے عمرسہیل ضیا، پی پی 169 سے ملک خالد پرویزکھوکھر کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

    پی پی 171 سے ملک اشتیاق احمد، پی پی 172 سے رانامشہود، پی پی 173 سے میاں مرغوب، 174سے بلال یاسین، 162 سے شہبازعلی کھوکھر، پی پی 164 سےشہبازشریف، پی پی 165 سے شہزاد نذیر الیکشن لڑیں گے۔

    اس کے علاوہ پی پی 166سے محمد انس محمود، پی پی 167 سے عرفان شفیع کھوکھر، پی پی 168 سے فیصل ایوب، پی پی 161 سے عمرسہیل ضیا بٹ، پی پی 169 سے ملک خالد پرویز کھوکھر اور 171 سے ملک اشتیاق احمد کو امیدوارنامزد کیا گا ہے۔

    پی پی 172 سے رانامشہود، پی پی 173 سے میاں مرغوب، 174 سے بلال یاسین اور 162 سے شہبازعلی کھوکھر الیکشن لڑیں گے۔

    ڈیرہ غازی خان کے حلقے 177 سے سیدہ شیر بانو بخاری ن لیگ کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیں گی۔ این اے 186 اور پی پی 290 سے سردار اویس احمد خان لغاری کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    گجرات ڈویژن سے کس کس کو چنا گیا؟

    این اے 162 سے چوہدری عابد رضا کو ٹکٹ ملا جبکہ این اے 63 سے نوابزادہ غضنفر علی گل ن لیگ کے امیدوار ہوں گے۔

    حافظ آباد ضلع کے حلقے این اے 67 سے سائرہ افضل تارڑ ن لیگ کی امیدوار ہوں گی۔ سیالکوٹ کے حلقے این اے 71 سے سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

    این اے 73 سے نوشین افتخار جبکہ نارووال کے حلقے این اے 76 اور پی پی 54 سے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کو ٹکٹ جاری ہوا۔ گوجرانوالہ سے این اے 77 سے چوہدری محمد بشیر ورک انتخابات میں حصہ لیں گے۔

    جہلم سے حلقہ این اے 60 سے بلال اظہر کیانی اور این اے 61 سے فرخ الطاف کو ن لیگ نے ٹکٹ جاری کیے ہیں۔

    راولپنڈی ڈویژن سے ن لیگ کے امیدواران

    اٹک کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 49 سے شیخ آفتاب احمد کو ٹکٹ جاری کیا گیا جبکہ راولپنڈی سے این اے 52 سے راجہ جاوید اخلاص، این اے 53 سے راجہ قمرالاسلام، این اے 55 سے ملک ابرار احمد، این اے 56 سے محمد حنیف عباسی کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    چکوال کے حلقے این اے 58 سے میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال کو ٹکٹ دیا گیا جبکہ این اے 59 سے تحریک انصاف چھوڑنے والے سابق رکن اسمبلی سردار غلام عباس کو ن لیگ کا ٹکٹ دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کے حلقے این اے 46 سے انجم عقیل خان جبکہ این اے 47 سے طارق فضل چوہدری کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

  19. ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض کے اثاثے منجمد، مگر باپ بیٹے کے نام پر سائیکل نہ کار اور نہ ہی اپنا کوئی گھر

  20. انتخابی نشان کیس پر سماعت کل تک ملتوی: ’اگر انٹرپارٹی انتخابات درست قرار پائے تو بلے سمیت پی ٹی آئی کو سب ملے گا،‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کو کل (سنیچر) صبح دس بجے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات درست قرار پائے تو انھیں بلے کے انتخابی نشان سمیت سب کچھ ملے گا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔ جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایڈووکیٹ مخدوم علی خان جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے حامد خان اور بیرسٹر گوہر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہقانون کہتا ہے کہ پہلے قانونی انداز میں پارٹی الیکشن کروائیں، انتحابی نشان بعد کی بات ہے۔

    سپریم کورٹ نے فریقین کی رضا مندی کے بعد اس کیس کی سماعت کل صبح دس بجے تک ملتوی کر دی ہے۔