پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کا معاملہ: الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت نچلی سطح تک آ جائے گی، چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کر رہا ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن لڑنے کا بنیادی حق ہر شہری اور ہر جماعت کا ہے اور اگر الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی۔
بینچ کے ایک اور رکن جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا دیگر جماعتوں کے آئین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے اتنی ہی باریکی سے دیکھا جاتا ہے جیسا تحریک انصاف کے آئین کو؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا باقی جماعتوں میں بھی بلامقابلہ انتخاب ہوتا ہے یا ایسا صرف پی ٹی آئی میں ہوا ہے؟
اس پر الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لا نے جواب دیا کہ وہ ریکارڈ دیکھ کر اس بات کا جواب دیں گے۔ انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انٹرپارٹی انتخابات نہ کروانے پر الیکشن کمیشن نے آج ہی 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کیا ہے۔
ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے پارٹی انتخابات پر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا پرانا جھگڑا چل رہا ہے۔ دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے عمر ایوب کے سیکریٹری جنرل تعینات ہونے سے متعلق بھی الیکشن کمیشن کو آگاہ نہیں کیا۔ اس پر جسٹس علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو سیکریٹری جنرل کی تبدیلی سے آگاہ کرنا ضروری ہے؟ اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت ایسا کرنا ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انٹرپارٹی انتخابات کے معاملے پر باقی جماعتوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہی کیا جا رہا ہے، کہیں پی ٹی آئی کےساتھ امتیازی سلوک تو نہیں ہو رہا؟
اس پر وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں رویہ روا رکھا جاتا ہے۔
اس کیس پر سماعت جاری ہے۔