آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سینیٹ میں ’کسی موزوں تاریخ تک‘ عام انتخابات ملتوی کرنے کے لیے تیسری قرارداد جمع

پاکستان میں آٹھ فروری کے عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں مگر اس دوران سینیٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کی غرض سے تیسری قراردار جمع کروائی گئی ہے جس میں خراب موسم اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کا معاملہ: الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت نچلی سطح تک آ جائے گی، چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کر رہا ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن لڑنے کا بنیادی حق ہر شہری اور ہر جماعت کا ہے اور اگر الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی۔

    بینچ کے ایک اور رکن جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا دیگر جماعتوں کے آئین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے اتنی ہی باریکی سے دیکھا جاتا ہے جیسا تحریک انصاف کے آئین کو؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا باقی جماعتوں میں بھی بلامقابلہ انتخاب ہوتا ہے یا ایسا صرف پی ٹی آئی میں ہوا ہے؟

    اس پر الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لا نے جواب دیا کہ وہ ریکارڈ دیکھ کر اس بات کا جواب دیں گے۔ انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انٹرپارٹی انتخابات نہ کروانے پر الیکشن کمیشن نے آج ہی 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کیا ہے۔

    ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے پارٹی انتخابات پر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا پرانا جھگڑا چل رہا ہے۔ دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے عمر ایوب کے سیکریٹری جنرل تعینات ہونے سے متعلق بھی الیکشن کمیشن کو آگاہ نہیں کیا۔ اس پر جسٹس علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو سیکریٹری جنرل کی تبدیلی سے آگاہ کرنا ضروری ہے؟ اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت ایسا کرنا ضروری ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انٹرپارٹی انتخابات کے معاملے پر باقی جماعتوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہی کیا جا رہا ہے، کہیں پی ٹی آئی کےساتھ امتیازی سلوک تو نہیں ہو رہا؟

    اس پر وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں رویہ روا رکھا جاتا ہے۔

    اس کیس پر سماعت جاری ہے۔

  2. الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں دینا چاہتا، لیکن اگر آپ کا بنتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو انتخابی نشان ملے: چیف جسٹس کے ریمارکس

    ایک مختصر وقفے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔

    بینچ کے دیگر دو اراکین میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہی جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایڈووکیٹ مخدوم علی خان جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے حامد خان اور بیرسٹر گوہر دلائل دے رہے ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکلا سے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ کیا کسی ہوٹل میں منعقد ہئے ہوئے یا کسی دفتر یا گھر میں؟ چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی کے پاس کوئی ایسا نوٹیفیکیشن موجود ہے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ پارٹی الیکشن کس جگہ ہوں گے؟

    اس پر تحریک انصاف نے آگاہ کیا کہ انٹراپارٹی انتخابات چمکنی گاؤں کے ایک گراؤنڈ میں ہوئے تھے۔ اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ انٹراپارٹی انتخابات کے انعقاد کے لیے خیبرپختونخوا کے ایک چھوٹے سے گمنام گاؤں کا انتخاب کیوں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ پر تو کچھ نہیں ہے کہ پشاور میں جس جگہ پارٹی الیکشن ہوا۔ انھوں نے استفسار کیا کہ پارٹی ارکان کو کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے؟

    اس پر پی ٹی آئی کے نیاز اللہ نیازی نے بتایا کہ واٹس ایپ کے ذریعے اراکین کو مقام کے بارے میں بتایا تھا اور لوگ پہنچے بھی اور اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی موجود ہے اور اگر عدالت اجازت دے تو اسے کمرہ عدالت میں دکھایا جا سکتا ہے۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ویڈیوز باہر جا کر چلا لیں، ہم دستاویزات پر کیس چلاتے ہیں۔‘

    اس موقع پر عدالت نے نیاز اللہ نیازی کو دلائل دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ وہ اس کیس میں وکیل نہیں بلکہ فریق ہیں اور اگر وہ مزید بات کرنا چاہتے ہیں تو پی ٹی آئی کے سینیئر وکیل حامد خان سے اجازت لے کر بات کریں۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکلا سے مزید استفسار کیا کہ گذشتہ ماہ دو دسمبر سے پہلے پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات کب ہوئے تھے؟ جس پر انھیں آگاہ کیا کہ گذشتہ انتخابات آٹھ جون 2022 کو ہوئے تھے جنھیں الیکشن کمیشن نے کالعدم قرار دیا تھا۔

    اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا حکم چیلنج ہوا تھا؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی جانب لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج ہوا تھا جو لارجر بینچ کو ریفر کیا گیا لیکن فیصلہ نہ ہو سکا۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب ایک فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو پشاور ہائی کورٹ نے اس کیس کو کیسے سن لیا؟

    جس پر بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی انتخابات کی حد تک لاہور ہائیکورٹ والا کیس غیرموثر ہو چکا ہے، اور چونکہ نئے الیکشن پشاور میں ہوئے تھے اس لیے پٹیشن بھی وہیں دائر کی گئی۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکلا کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آپ کو انتخابی نشان نہیں دینا چاہتا، لیکن اگر آپ کا بنتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو انتخابی نشان ملے۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی پورے ملک میں گرفتاریاں جاری ہیں اور انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور ہمیں پشاور کے علاوہ کہیں بھی سکیورٹی نہیں مل رہی تھی اس لیے انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں کروایا گیا۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سکیورٹی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا کیونکہ من پسند عدالتوں سے رجوع کرنے سے سسٹم خراب ہوتا ہے۔

    اس کیس پر سماعت بدستور جاری ہے۔

  3. الیکشن کمیشن نے انٹرپارٹی انتخابات نہ کروانے والی 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نےسیاسی جماعتوں کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کر دیا ہے جبکہ دو سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

    ڈی لسٹ ہونے والی پارٹیوں میں آل پاکستان مینارٹی الائنس، آل پاکستان تحریک، عوامی پارٹی پاکستان، بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی، سب کا پاکستان، نیشنل پیس کونسل پارٹی، پاکستان نیشنل مسلم لیگ، پاکستان امن پارٹی، پاکستان برابری پارٹی، مسیحی عوامی پارٹی، پاکستان قومی یکجہتی پارٹی، سنی تحریک اور نظام مصطفیٰ پارٹی شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان مسلم لیگ جناح اور جمیعت علمائے اسلام نورانی کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق ڈی لسٹ ہونے والی سیاسی جماعتوں کو متعدد بار انٹراپارٹی کروانے سے متعلق شوکاز نوٹس جاری کیے گئے مگر مذکورہ سیاسی جماعتوں نے نوٹس موصول کے بعد غیر سنجیدہ رویہ اپنایا۔

    ڈی لسٹ ہونے والی جماعتیں اب انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔

  4. بریکنگ, صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفیٰ منظور کرلیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفیٰ وزیراعظم کی ایڈوائس پر منظور کر لیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے آئین کے آرٹیکل 179 اور 206 (ایک ) کے تحت استعفیٰ دیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوایا تھا۔ صدر کو بھیجے گئے استعفے میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تھا کہ ’میں اب سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر کام نہیں کرنا چاہتا۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے آئین کے آرٹیکل 206 (1) کے تحت استعفیٰ دیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا، خط میں استعفے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    خیال رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن، سپریم کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے سینئر ترین جج تھے اور انھیں رواں سال اکتوبر میں اگلا چیف جسٹس بننا تھا۔

  5. ابھینندن ورتھمان: پاکستان کی تحویل میں انڈین پائلٹ کی موجودگی کے دوران پسِ پردہ کیا ہوتا رہا؟

  6. سپریم کورٹ: پاکستان تحریکِ انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے سے متعلق سماعت میں وقفہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہونا ہے جس کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہو گی۔

  7. پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن کے خلاف 14 شکایات ملیں اور درخواستیں دینے والے پارٹی کے ہی لوگ تھے: الیکشن کمیشن کے وکیل

    پاکستان تحریکِ انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’قانون اور آئین کے تحت قائم ادارے ایک جیسے نہیں ہوسکتے، آئین کے تحت بنا الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی اختیارات استعمال کرے گا۔ کوئی ایسا فیصلہ دکھائیں جہاں آئینی اداروں کو اپیلوں سے روکا گیا۔‘

    وکیل حامد خان نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کا انحصار آئین نہیں الیکشن ایکٹ پر ہے۔‘

    اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ کی بات مان لی تو یہ آئینی ادارے کو ختم کرنے والی بات ہوگی، کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کریں گے، الیکشن کمیشن کے وکیل کو کیس کے حقائق سے آگاہ کرنے دیں، پارٹی الیکشن کمیشن کی تقرری کی دستاویز کہاں ہے؟‘

    وکیل حامد خان نے کہا کہ ’عدالت باضابطہ نوٹس جاری کرتی تو آج دستاویزات بھی لے آتے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی خود ہائی کورٹ گئی تھی انہیں تو اپیل دائر ہونے پر حیران نہیں ہونا چاہیے تھا، الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مکمل ریکارڈ منگوا لیتے ہیں۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن کیخلاف چودہ شکایات ملیں۔ دررخواستیں دینے والے تحریک انصاف کے ہی لوگ تھے۔‘

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی کے انتخابات بلا مقابلہ ہوئے تھے؟

    اس پر وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ ’پہلے تین پینل تھے پھر اعلان ہوا کہ سب لوگ دستبردار ہوگئے اور انتخاب بلا مقابلہ ہوا۔ کسی عہدے پر کوئی مقابلہ نہیں ہوا،

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سب کا بلا مقابلہ متفق ہونا کیا عجیب اتفاق نہیں؟ ‘

  8. پی ٹی آئی کو بلے کا نشان ملنے کا مقدمہ: الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت ہی نہیں، حامد خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے؟

    وکیل حامد خان نے عدالت کو جواب دیا کہ تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔

    مخدوم علی خان نے عدالت میں بلے کا نشان واپس کرنے کا فیصلہ پڑھ کر سنا دیا۔

    تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت میں جبکہ علی ظفر لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک پر موجود ہیں۔

    وکیل حامد خان نے کہا کہ ’ہمیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔‘

    چیف جسٹسنے کہا کہ ’کیس کی فائل میں نے بھی نہیں پڑھی، ‘ اور وکیل حامد خان سے سوال کیا کہ ’آپ مقدمہ کے لیے کب تیار ہونگے؟

    اس پر وکیل حامد خان نے جواب ’پیر کو سماعت رکھ لیں۔‘

    اس موقعے پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ’کل امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’پیر تک سماعت ملتوی کرنے کے لیے ہائی کورٹ کا حکم معطل کرنا پڑے گا، ہم تو ہفتے اور اتوار کو بھی سماعت کے لیے تیار ہیں۔‘

    وکیل حامد خان نے کل تک کا وقت طلب کیا۔

    وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ تحریک انصاف کے گذشتہ پارٹی انتخابات 2017 میں ہوئے تھے، پارٹی آئین کے مطابق تحریک انصاف 2022 میں پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی، الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا۔‘

    جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ ’پی ٹی آئی کے آئین میں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا طریقہ کار کہاں درج ہے؟

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے جمال انصاری بعد میں نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بنے، چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ کوئی اور ممبر تعینات نہیں تھا، وکیل مخدوم علی خان

    پی ٹی ائی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کے وکیل کی یہ بات درست نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کی دستاویزات اور کیس کی تیاری کے لیے وقت اسی لیے مانگا تھا، الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت اور حق دعوی نہ ہونے پر بھی دلائل دوں گا۔ مناسب ہوگا پہلے حق دعویٰ اور قابل سماعت ہونے کا نکتہ سن لیں۔

    اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے پی ٹی آئی کے الیکشن کمیشن کی تشکیل قانون طور پر درست نہیں تھی۔

    اس پر پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ ’یہ بات درست نہیں الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اپیل کے قابل سماعت ہونے کا اعتراض ہے تو حامد خان پہلے آپ دلائل دیں۔

    حامد خان نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کرسکتا، ‏متاثرہ فریق نے اپیل کرنا ہوتی ہے الیکشن کمیشن نے نہیں۔ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ کوئی ادارہ اپنے فیصلے کے دفاع میں اپیل نہیں کر سکتا۔ ‘

    اس پر چیف جسٹس نے کہا ’کسٹم کلیکٹر بھی اپنے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں کرتے ہیں، قابل سماعت ہونے کا سوال تو پھر پی ٹی آئی کی ہائی کورٹ اپیل پر بھی آئے گا۔ الیکشن کمیشن اپیل نہ کرے تو اس کے فیصلے بے معنی ہوجائیں گے‘۔

    وکیل حامد خان نے کہا کہ ’متاثرہ فریق اپیل کر سکتا ہے الیکشن کمیشن نہیں، کیا ڈسٹرکٹ جج خود اپنا فیصلہ کالعدم ہونے کی خلاف اپیل کر سکتا ہے؟ ‘

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ڈسٹرکٹ جج عدلیہ کے ماتحت ہوتا ہے الیکشن کمیشن الگ آئینی ادارہ ہے، کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ ‘

  9. تحریکِ انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے کا معاملہ، سپریم کورٹ میں سماعت شروع

    پاکستان تحریکِ انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ سماعت کررہا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بنچ میں شامل پہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان اور قانونی ٹیم کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، وکیل حامد خان، وکیل شعیب شاہین کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔

  10. بریکنگ, پی ٹی آئی کو بلے کا نشان ملے گا یا نہیں؟سپریم کورٹ میں سماعت آج ہوگی

    پاکستان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کو بلے کا نشان ملے گا یا نہیں؟ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں سماعت کچھ دیر بعد ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کا عملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔

    پی ٹی آئی وکیل حامد خان اور پارٹی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

  11. پیپلز پارٹی کھوئی مقبولیت بحال کرنے کے مشن پر: وہ ’سازش‘ جس سے پنجاب کی مقبول ترین جماعت ’زوال‘ کا شکار ہوئی

  12. انتخابات 2024: آج امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست شائع کی جائے گی

    پاکستان میں عام انتخابات کے لیے تمام امیدوارآج شام تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں۔

    اس مرحلے کے بعد آج شام ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست شائع کی جائے گی۔

    انتخابی نشانات سنیچر کو الاٹ کر دیے جائیں گے جبکہ عام انتخابات کے لیے پولنگ اگلے ماہ کی آٹھ تاریخ کو ہوگی۔

  13. آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ستر کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دے دی, تنویر ملک، صحافی

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) پروگرام کے پہلے جائرے کو مکمل کرتے ہوئے ستر کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظور ی دے دی ہے۔

    پاکستان کی وزارت خزانہ کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے آج ہونے والے اجلاس میں ایس بی اے پروگرام کا پہلا ریویو کیا گیا جس کے بعد آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے ستر کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی۔

    نئی قسط کے جاری کرنے کی منظوری کے بعد اس پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی رقم 1.90 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ جولائی 2023 میں پاکستان کو 1.20 ارب ڈالر کی پہلی قسط جاری ہوئی تھی جب تیس جون کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایس بی اے معاہدہ ہوا تھا۔

  14. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن مستعفی

    سپریم کورٹ کے تین سب سے سینیئر ججز میں سے ایک جسٹس اعجاز الاحسن اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور انھوں نے اپنا استعفی صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے دوسرے جج ہیں جنھوں نے گذشتہ دو دنوں کے دوران اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ اس سے قبل جسٹس مظاہر اکبر نقوی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے استعفے میں اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی، بلکہ لکھا ہے کہ ’میں سپریم کورٹ میں مزید بطور جج اپنا کام جاری نہیں کرنا چاہتا۔‘

    انھوں نے لکھا ہے کہ ’میں نے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فرائض انجام دیے۔ میں مزید کام جاری نہیں رکھنا چاہتا۔ میں سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے مستعفی ہو رہا ہوں۔‘

    خیال رہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں چل رہی تھیں اور جسٹس اعجاز الاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے بھی رکن ہیں۔ تاہم انھوں نے جمعرات کے روز سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا کیونکہ انھوں نے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف ہونی والی کونسل کی کارروائی کے طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا۔

    جمیعت علمائے اسلام نظریاتی کے امیدوار پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمیعت علمائے اسلام نظریاتی کے رہنما اور بلوچستان اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار قاری مہراللہ پر حملے کے خلاف جمعرات کی شام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    کوئٹہ پریس کلب کے جے یو آئی نظریاتی کے زیر اہتمام مظاہرے کے شرکا نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ قاری مہراللہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 45 سے امیدوار ہیں۔

    مظاہرے کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قاری مہراللہ نے بتایا کہ وہ صبح کی نماز کے لیے مسجد سے نکل رہے تھے کہ ان پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل کو ڈائری نمبر الاٹ کر دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔

    الیکشن کمیشن کی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں کروائے تھے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لیا تھا۔

    سائفر مقدمے کے عدالتی ٹرائل کا معاملہ: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل سے متعلق حکم امتناع ختم کر دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کے عدالتی ٹرائل سے متعلق جاری کیا گیا حکم امتناع ختم کر دیا ہے۔

    عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی 14 دسمبر سے شروع کی جائے اورخصوصی عدالت نے اس مقدمے کی عدالتی کارروائیان کیمرہ ڈکلیر کردی تھی۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم اس مقدمے کو14 دسمبرپر ہی لے کر جائیں گے۔

    صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مس کنڈکٹ’ کی شکایات کا سامنے کرنے والے سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفی منظور کرلیا۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 179کے تحت منظور کیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس مظاہر اکبر علی نقوی نے صدر عارف علوی کو اپنا استعفیٰ بھجوایا تھا۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے استعفے میں خود پر عائد کردہ الزامات کو مسترد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اب سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی زیر سماعت ہے جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات عائد ہیں۔