چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران انٹرا پارٹی الیکشن کے مقدمے کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کون ہیں؟ وکیل ظفر نے کہا کہ ’بیرسٹر گوہر پارٹی کے چیئرمین ہیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’بیرسٹر گوہر کا اپنا الیکشن ہی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’کل بیرسٹر گوہر وزیراعظم بن گئے تو کیا انھیں پارٹی کے لوگ جانتے ہوں گے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ’بغیر انتخاب بڑے لوگ آ جائیں تو بڑے فیصلے بھی کریں گے، آئی ایم ایف سے معاہدہ بھی ہوسکتا ہے کرنا پڑے، لوگ اپنے منتخب افراد کو جانتے تو ہوں۔‘
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ پارٹی انتخابات کے وقت چیئرمین کون تھا؟ علی ظفر نے کہا کہ ’پارٹی انتخابات ہوئے تو چیئرمین عمران خان تھے۔‘
علی ظفر نے کہا کہ اکبر ایس بابر ممبر نہیں ہیں انھیں نکال دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ ہمیں دکھائیں ریکارڈ سے وہ ممبر نہیں ہیں۔ علی ظفر نے کہا کہ ’میں آپ کو وہ دستاویز دکھا دیتا ہوں۔‘
علی ظفر نے کہا کہ ’میرا بیان یہی ہے اکبر ایس بابر ممبر نہیں ہیں۔ مجھے ہدایات یہی ملی ہیں وہ ممبر نہیں۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’آپ کو ہدایات کون دے رہا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ ’مجھے پارٹی سربراہ ہدایات دے رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر کا نام لیے بغیر کہا کہ جنھوں نے خود دو سال پہلے پارٹی جوائن کی وہ ہدایت دے رہے ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی (عمران خان) سرٹیفکیٹ دیتے تو اور بات تھی۔‘ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’سرٹیفکیٹ پارٹی سربراہ نے دینا ہوتا ہے، سابقہ سربراہ نے نہیں۔‘
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ’سرٹیفکیٹ اسی وقت مل سکتا ہے جب انتخابات پارٹی آئین کے مطابق ہوئے ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کا آئین کہتا ہے چیئرمین کا الیکشن دو سال اور باقی عہدوں پر تین سال بعد ہوں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہاں تک تو پارٹی آئین کی خلاف ورزی ثابت ہوگئی۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’برطانیہ میں جتنے وزرا اعظم آئے وہ ایک ہی جماعت کے لوگ تھے اور اپنی ہی جماعت سے ان کو مخالفت ہوئی۔‘
جسٹس مسرت ہلالی نے تحریک انصاف کے وکیل سے پوچھا کہ ’کیا آپ نے انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی اپنی ویب سائٹ پر شائع کیے؟
انھوں نے مزید استفسار کیا کہ ’کس طرح مخصوص لوگوں کو علم ہوا کہ یہ کاغذات نامزدگی ہیں اور کب جمع کرانا ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’جس کے پاس لیپ ٹاپ ہے وہ شاید تحریک انصاف کی ویب سائٹ سرچ کر سکتا ہے۔‘ علی ظفر نے کہا کہ ’جب الیکشن ہو گیا تو کاغذات نامزدگی ہٹا دیے گئے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہماری سپریم کورٹ کی ویب سائٹ دیکھیں ہمارے تو انتخابات نہیں ہوتے۔ ہماری ویب سائٹ پر اگر ہم نوکری کا اشتہار دیتے ہیں تو موجود ہو گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’کچھ تو کاغذ کا ٹکڑا دکھا دیں کہ امیدواروں سے فیس کی یا کاغذات نامزدگی کا۔ فیس کیش میں وصول کی گئی، کونسی سیاسی جماعت کیش میں فیس وصول کرتی ہے؟‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کا الیکشن شیڈول سر آنکھوں پر اس کی تعمیل دکھا دیں۔‘
مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی پارٹی کا تو نعرہ ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بااختیار بنانا ہے، لیکن یہاں نظر نہیں آ رہا۔‘
علی ظفر نے کہا کہ ’ہم نے جو بھی غلطیاں کی اس کے لیے 20 دن کا وقت دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ الیکشن کروائیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ کورونا ہے ایک سال کا ٹائم دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تو بہادری دکھائی کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں نوٹس دیا۔ علی ظفر نے کہا کہ ’صرف ہمیں نہیں الیکشن کمیشن نے سب کو نوٹس بھیجا تھا۔
جسٹس مظہر علی نے کہا کہ جو شیڈیول پی ٹی آئی نے دیا ہے وہ عملی طور پر ممکن نہیں لگ رہا۔ اگر تو قانون کے بجائے مرضی سے فیصلے کرنے ہیں تو میں تسلیم نہیں کر سکتا۔
جسٹس مظہر نے مزید کہا کہ ’سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کسی اور پارٹی کے انتخابات پر اعتراض نہیں آیا۔
علی ظفر نے کہا کہ پارٹی الیکشن شیڈول پر اعتراض کا جواب دوں گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جج صاحب نے اعتراض نہیں سوال کیا ہے۔
’پی ٹی آئی ارکان کو ہی لیول پلیئنگ فلیلڈ نہیں ملی‘
وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’پارٹی انتخابات کا شیڈول پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’پی ٹی آئی ارکان کو ہی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی؟‘
عدالت نے کہا کہ ’انٹرا پارٹی الیکشن کا جو شیڈول پی ٹی آئی نے دیا وہ ممکن نہیں لگ رہا۔‘
وکیل علی ظفر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرپارٹی انتخابات کا سرٹیفکیٹ دینا لازمی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’بنیادی بات سرٹیفکیٹ نہیں الیکشن ہونا ہیں، سرٹیفکیٹ نہ ہونا مسئلہ نہیں الیکشن نہ ہونا مسئلہ ہے۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’پی ٹی آئی پارٹی انتخابات سے گھبرا کیوں رہی ہے؟ ہمیں کوئی دستاویزات دکھا دیں کہ انتخابات ہوئے ہیں، سرٹیفکیٹ تو الیکشن کے بغیر بھی آ سکتا ہے، اگر پی ٹی آئی کو زیادہ وقت چاہیے تو پہلے کہا تھا کہ فیصلہ معطل کرنا پڑے گا۔
چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے کہا کہ عدالت کو جو تشویش ہے پہلے اسے دور کریں، پھر گلہ نہ کیجیے گا کہ فیصلہ کیوں معطل کیا۔
وکیل علی ظفر نے کہا کہ ’عمران خان نے کس کو چیئرمین نامزد کیا وہ اگلے ہی دن اعلان کر دیا گیا۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کی نامزدگی کا لیٹر کہاں ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ عمران خان کی نامزدگی کا کوئی خط نہیں ہے میڈیا پر اعلان کیا تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے کیسے تسلیم کر لیں کہ عمران خان نے کس کو نامزد کیا تھا۔ آپ پرانے اور حامد خان بانی رکن ہیں، انھیں کیوں نہیں نامزد کیا گیا؟ چیف جسٹس کل عمران خان کہہ دیں میں نے نامزد نہیں کیا تھا پھر کیا ہوگا۔‘
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 29 نومبر کو فیڈرل الیکشن کمیشن کو نامزد کیا گیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’نیاز اللہ نیازی کیا پی ٹی ائی کے ممبر ہیں۔
علی ظفر نے جواب دیا کہ ’جی نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے سنہ 2009 سے ممبر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیاز اللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’دیکھیں ناں سب نئے نئے چہرے آ رہے ہیں، پرانے لوگ کہاں ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ عمر ایوب کے پینل کے کاغذات یکم دسمبر کو جمع ہوئے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا انتخابات میں کوئی اور پینل نہیں تھا۔ علی ظفر نے جواب دیا کہ ایک ہی پینل تھا وہ جیت گیا۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پینل میں 15 لوگ تھے جو منتخب ہوئے۔