آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے‘: چیف جسٹس فائز عیسیٰ

ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے۔‘ دوسری جانب بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی کو بلّے کا نشان ملے نا ملے بطور پارٹی یہ سب ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘

لائیو کوریج

  1. ’ہمارے لیے ہر شہری محترم ہے چاہے کوئی بھی ہو یا وہ کسی بھی پارٹی کا ہو‘ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔

    اعتزاز احسن کی جانب سے عدالت میں اُن کے وکیل شعیب شاہین دلائل دے رہے ہیں۔

    عدالت نے کیس کے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’لاپتہ افراد کا کیس سنجیدہ نوعیت کا ہے، عدالت کا مزاق بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، کسی کے بھی ساتھ زیادتی ہو تو اُس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ہمارے لیے ہر شہری محترم ہے چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو۔‘

    چیف جسٹس کی جانب سے کیس میں وکیل شعیب شاہین سے سوال کیا گیا کہ ’کیا آپ کی جانب سے کوئی ایسی لسٹ لگائی گئی ہے کہ کتنے لوگ لا پتہ ہیں اور کتے بازیاب ہوئے ہیں؟‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں نہیں پتہ کے کو کتنے سال سے لاپتہ ہے اور اُس وقت کس کی حکومت تھی ہم نے آخر سوال کس سے کرنا ہے، تفصیل تو ہو کون کب کہاں سے لاپتہ ہوا۔‘

    عدالت کے ان ریمارکس کے جواب میں شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں تو جواب کمشن دے گا کے کون کہاں سے کب اور کیسے لاپتہ ہوا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کمشن کے سربراہ تو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ہیں ہم تو چاہتے ہیں کے انٹرنیشنل لیول کا کمشن بنے۔‘

    عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ’کیا آپ کی جانب سے کمشن کو لکھا کہ لاپتہ افراد کی فہرست جاری کی جائے؟ اگر آپ نے ایسا کیا ہوتا تو ہمارے لیے بھی کام آسان ہو جاتا اور ہم مسئلے کے حل کا جانب جا سکتے تھے۔‘

    عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ ’ایک وفاقی وزیر اگر اپنے بل کی حفاظت نہیں کر سکتا تو وہ کسی کے حقوق کے لیے کیا کرے گا؟‘

  2. ’پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص کسی بھی عہدے پر ہوتا ہے وہ اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتا ہے‘ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔

    اعتزاز احسن کی جانب سے عدالت میں اُن کے وکیل شعیب شاہین دلائل دے رہے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ’اگر اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیں گے، یہ اس وجہ سے کہا جا رہا ہے آپ صرف ایک سیاسی جماعت کا نام استعمال کر رہے ہیں یہ درست نہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’لاپتہ افراد کیس میں درخواستوں پر تکنیکی اعتراضات نظر انداز کر دیے گئے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص کسی بھی عہدے پر ہوتا ہے وہ اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتا ہے، ہر آدمی اپنی جگہ کھڑا ہو کر کام کرے تو اچھا ہوگا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کی سابق وفاقی وزیر شیرین مزاری کی جانب سے یہ کہا گیا کہ کمیٹی کے بعد سینٹ میں جانے والا اُن کا بل غائب ہوگیا، آپ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی پر بہت بڑا الزام لگا رہے ہیں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں تو آپ کی جانب سے انھیں اس کیس میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ تو مسنگ پرسن سے ہٹ کر اب تو مسنگ بل کا کیس بن گیا ہے۔‘

    چیف جسٹس کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ ’آپ کی پٹیشن میں عمران ریاض اور ارشد شریف کا نام تو لیا گیا ہے جو یہ نہیں بتا رہے کہ انھیں کون لے گیا تھا مگر آپ کی جانب سے اُن کا نام نہیں لیا گیا جو بتا رہے ہیں کو انھیں کو لے گیا تھا۔‘

  3. سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کا آغاز

    سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں میں رہنا چاہیے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم پارلیمان کو قانون سازی کرنے کا حکم نہیں دے سکتے۔‘

    چیف جسٹس کی سربراہی میں اس تین رُکنی بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ سینیئر وکیل اعتزاز احسن سمیت متعدد درخواست گزاروں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

  4. کیا عمران خان آٹھ فروری کے انتخابات میں حصہ لے سکیں گے؟

  5. آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کیا ہے؟

    آئینِ پاکستان کے دو آرٹیکلز قانون سازوں کی اہلیت سے متعلق ہیں۔ آرٹیکل 62 اہلیت اور آرٹیکل 63 کسی شخص کو پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے نااہل قرار دیتا ہے۔

    آرٹیکل 62 کی ایک ذیلی شق 62 ون ایف کہتی ہے کہ ’کوئی شخص مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا رکن منتخب ہونے کا اہل نہیں ہو گا جب تک کہ وہ غیر منافع بخش، ایماندار، امین، عقلمند اور صالح نہ ہو۔ اور اس کے خلاف عدالت کی طرف سے کوئی اعلان نہ کیا گیا ہو۔‘

    آئین کی یہ شق کسی شخص کے ’صادق اور امین‘ ہونے کے بارے میں ہے اور چونکہ اس قانون کے تحت ملنے والی سزا کا تعین ہی نہیں کیا گیا تو یہی تصور کیا گیا کہ نااہلی تاحیات ہی ہو گی۔

    ویسے تو کسی رکن پارلیمنٹ کو ملک کے دیگر قوانین کے تحت سنگین جرائم کا مرتکب پائے جانے پر عوامی عہدہ رکھنے کیلئے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن 62 ون ایف کے تحت نااہلی زیادہ سخت ہے۔

    الیکشن ایکٹ کے تحت نااہل شخص سزا کی تاریخ سے پانچ سال بعد پارلیمنٹ میں اسکے گا۔

  6. اگر مگر میں اُلجھا پاکستان: عاصمہ شیرازی کا کالم

  7. سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کیس کی سماعت آج ہوگی

    چیف جسٹس نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے سات رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو آج سماعت کرے گا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سات رکنی لارجر بینچ کے سربراہ ہوں گے، جبکہ جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون یاف کے تحت 2017 میں عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

    سات رکنی لارجر بنچ دو جنوری کو کیس کی سماعت کرے گا۔

    گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا تھا کہ نااہلی کی مدت کے سوال والے کیسز جنوری کے آغاز پر مقرر کئے جائیں، کیس کے زیرِ التوا ہونے کو الیکشن میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

    حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی آئینی سوال والے کیس پر کم از کم پانچ رکنی بینچ ضروری ہے۔

    حکمنامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے۔

    یاد رہے کہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں تاہم پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے انھیں تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔

    امیدواروں کی حتمی فہرست 13 جنوری کو جاری ہونی ہے۔ اس سے قبل نواز شریف اور جہانگیر ترین کے حوالے سے فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ بینچ میر بادشاہ قیصرانی کیس میں تاحیات نااہلی سے متعلق نوٹس پر تشکیل دیا گیا ہے تاہم اس فیصلے کا اثر ان تمام سیاستدانوں پر ہوگا جو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیئے گئے ہیں۔

    گذشتہ ماہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسی کا اس معاملے کے دوران سماعت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے عدالتی حکمنامے کی نقل الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اس کیس میں فریق بننا چاہے تو بن سکتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کیا کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو چکا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کی اور جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئیں تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’الیکشن ایکٹ میں آرٹیکل 232 شامل کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’انتخابات سر پر ہیں اور ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہوگا۔‘

    چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ ’سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟‘

  8. چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آج لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کرے گا

    سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس آج سماعت کے لیے مقرر ہے جس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کرے گا۔

    بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہوں گے۔

    خیال رہے کہ سینیئر وکیل اعتزاز احسن سمیت متعدد درخواست گزاروں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔