آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے‘: چیف جسٹس فائز عیسیٰ

ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے۔‘ دوسری جانب بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی کو بلّے کا نشان ملے نا ملے بطور پارٹی یہ سب ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘

لائیو کوریج

  1. انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے پر پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کا آغاز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے پر پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کررہا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں اس تین رُکنی بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں اور دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے عدالتی حکم باوجود لیول پلیینگ فیلڈ فراہم نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست دائر کررکھی ہے۔

  2. سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ق کے سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار دے دی ہے۔

    سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ درخواست گزار کے مرنے کے بعد بہتر ہے کہ مقدمہ نہ چلائیں کیونکہ یہ معاملہ درخواست گزار کے مرنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا کیس کا کوٸی فوجداری پہلو ہے؟ اگرہے توسن لیتے ہیں۔

    وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ لواحقین کا اصرار ہے کہ مقدمے کو سن کر جعلی ڈگری کا دھبہ ختم کیا جائے۔

    پوری تعلیم میں نے محمد اختر خادم کے نام پر حاصل کی۔ وکیل کے مطابق سیاست خادم حسین کے نام سے کی، شناختی کارڈ بھی اسی نام سے بنوایا۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ درخواست گزار زندہ ہوتے تو کچھ ثابت ہوسکتا تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’مرنے کے بعد لواحقین درست نام کیسے ثابت کریں گے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ’کوٸی بیان حلفی یا دستاویزات بطور شواہد دکھا دیں، نام بدلنے کا مؤقف ہے تو ثبوت پیش کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔‘

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فاٸز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    محمد اختر خادم عرف خادم حسین 2008 میں این اے 188 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ہاٸیکورٹ نے بی اے کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا تھا درخواستگزار نے ہاٸی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ اپیل داٸر کی تھی۔

  3. کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان عمیر نیازی کی اپیل منظور

    کاغذات نامزدگی مستر کیے جانے کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان عمیر نیازی کی دو اپیلیں منظور ہو گئی ہیں۔

    یہ اپیلیں ریٹرنگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ سماعت لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں قائم اپلیٹ ٹربیونل نے کی۔

    واضح رہے کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی کے این اے 89 اور 90 میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کے خلاف اپیلوں کی سماعت اپلیٹ ٹربیونل کے جج جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے دونوں اپیلیں منظور کر لیں۔

    عمیر نیازی کی جانب سے بیرسٹر عمیر نیازی اور ایڈوکیٹ ملک جواد اصغر پیش ہوئے تھے۔ این اے 89 اور این اے 90 میانوالی کے آر اوز نے عمیر نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔

  4. جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے دوسرے شو کاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے دوسرے شو کاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف شکایات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کھلی عدالت میں آئینی درخواستیں زیر سماعت ہونے کے بعد جوڈیشل کونسل کی کارروائی بلا جواز ہے۔

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کا آخری موقع دیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف جوڈیشل کونسل کا آئندہ اجلاس اب 11 جنوری کو ہوگا۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کو ناجائز اثاثہ جات کیس میں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

    یہ شوکاز نوٹس پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلز اور وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی 10 شکایات کی روشنی میں جاری کیا گیا۔ یہ شکایات جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور ذاتی مفاد کے لیے اپنے اختیارت استعمال کرنے کے الزامات کے بارے میں تھیں۔

    جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر الزام کیا ہے؟

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائی ہیں۔

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں۔

    اس شکایت میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک ہے۔

    شکایت کے ساتھ منسلک دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ 4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا جبکہ اسے 7 کروڑ 20 لاکھ کا ڈکلیئر کیا گیا۔

    ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13 کروڑ میں اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر دیا اور بعد ازاں اسے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کا ڈکلیئر کیا۔

    ان دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4 کنال کا پلاٹ 10 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ جج نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کی مدد سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ صرف پانچ لاکھ روپے میں دلوایا جبکہ مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت اس وقت بیس لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔

    ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے دو بیٹوں کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ محض نو لاکھ روپے میں دیے گئے جبکہ مارکیٹ میں ان پلاٹ کی ویلیو تین کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

    ان دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ جج کی بیٹی کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں دس ہزار برطانوی پاؤنڈز دبئی سے ٹراسنفر کیے گئے۔

  5. جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت آج سپریم کورٹ کرے گی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والے افراد سے متعلق درخواست کی سماعت آج پھر ہوگی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ گذشتہ سماعت کے دوران غائب ہونے والے بل اور چیئرمین سینیٹ انتخابات میں گمشدہ ووٹ کا بھی تذکرہ ہوا تھا۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، پاکستان ہم سب کا ہے ملک ہے اور چیزیں ٹھیک کرنا ہوں گی ایک دوسرے پرانگلیاں اٹھانے سے نفرتیں کم نہیں ہوتیں اور ہم لاپتہ افراد کے مسئلے کو ہمیشہ کیلئے حل کرنا چاہتے ہیں۔

    ایک اور درخواست گزار خوشدل خان نے عدالت سے جبری گمشدہ افراد سے متعلق قانون سازی کا حکم دینے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے عدالت کیسے پارلیمنٹ کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ فلاں معاملے سے متعلق قانون سازی کرے؟

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’آئین کی کون سی شق عدالت کواجازت دیتی ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حکم دے۔‘ درخواست گزار اعتزازاحسن کے وکیل شعیب شاہین نے مؤقف اختیار کیا کہ لاپتہ افراد کمیشن اپنا کام نہیں کر سکا اور نہ کرسکتا ہے۔

  6. چیئرمین تحریک انصاف آج عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کریں گے، امیدواروں کے ناموں کی حتمی منظوری دیے جانے کا امکان

    پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی خان آج بانی چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کریں گے۔

    اس ملاقات میں اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والے پی ٹی آئی کے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ عمران خان سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات کی اجازت اسلام آباد ہائی کورٹ نے دے رکھی ہے۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن اور جیل کے حکام پی ٹی آئی کی قیادت کو سابق وزیر اعظم سے ملاقات کروانے سے انکار کر چکے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کی سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی موجودگی میں ان کی ملاقات عمران خان سے کروائیں۔

  7. ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘: الیکشن کمیشن کے خلاف توہین سپریم کورٹ کی درخواست پر سماعت آج ہو گی

    پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے انتخابات میں لیول پلئینگ فیلڈ نہ ملنے پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی آج سماعت کرے گا۔

    درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے سلسلے میں ان کی جماعت کو یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں، جس میں ان کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنا سر فہرست ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر مقدمے میں ضمانت ملنے کے بعد سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایک اور درخواست پر الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے میں پی ٹی آئی کے تحفظات دور کرے اور اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے ایک وفد نے اسی روز الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات بھی کی تھی۔

  8. عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن مقدمے کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے ایک رکن وزیر فواد چوہدری کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز اور نا زیبا زبان استعمال کرنے اور الیکشن کمیشن کو بدنام کرنے سے متعلق توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے رکن نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان آج اڈیالہ جیل اس مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں جائیں گے۔

    اس مقدمے کی گذشتہ تین سماعتوں کے دوران ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی اور ملزمان کے وکلا نے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی ’اوپن‘ کرنے کی استدعا کر رکھی ہے، جسے ابھی تک اس چار رکنی بینچ نے قبول نہیں کیا۔

    عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف یہ مقدمہ ڈیڑھ سال سے چل رہا ہے اور اس مقدمے میں عمران خان گرفتاری سے قبل ایک مرتبہ بھی الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے۔

  9. فتح ٹو کا تجربہ: کیا پاکستان کا نیا میزائل سسٹم انڈیا کے دفاعی نظام کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

  10. مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ سرتاج عزیز چل بسے

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ سرتاج عزیز منگل کی شام اسلام آباد میں وفات پا گئے۔

    انھوں نے پاکستان کی وزارت خزانہ اور پلاننگ کمیشن میں سینیئر عہدوں پر کام کیا۔

    پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی، نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے سوشل میڈیا پر اپنے الگ الگ پیغامات میں سابق وزیر خزانہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ان پیغامات میں انھوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کی پاکستان کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گااور وہ ایک عظیم سیاسی شخصیت اور ماہر معاشیات تھے، جنھوں نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

  11. کھانا اور کمبل سمیت دیگر اشیا کی فراہمی پر بلوچ مظاہرین اور پولیس کے درمیان مذاکرات

    اسلام آباد پریس کلب کے باہر مظاہرے میں شریک بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ منگل کو پولیس کی جانب سے انھیں امدادی سامان وصول کرنے سے روکا جا رہا تھا۔ مگر شام کو مذاکرات کے بعد اس کی اجازت دے دی گئی۔

    ان کے مطابق بلوچ مظاہرین سے یہ کہا گیا کہ کپڑے، کمبل اور کھانا سمیت دیگر سامان پولیس کی اجازت کے بغیر نہیں لایا جاسکتا۔ یہ وہ سامان ہے جو مختلف افراد رضاکارانہ طور پر مظاہرین کو روز دینے آتے ہیں۔

    ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوڈ پوائزننگ اور سکیورٹی کے خدشات کی بنیاد پر یہ ہدایت جاری کی گئی تھی۔ تاہم پولیس نے بعد ازاں اس شرط پر اس کی اجازت دی کہ ان اشیا کے حوالے سے پولیس کو آگاہ رکھا جائے گا۔

    اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ’قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنا ہرشہری کا حق ہے۔ پریس کلب کے باہر مظاہرین پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ مظاہرین سے گزارش ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔

    ’مظاہرین بار بار ہائی سکیورٹی زون داخل ہونے پر بضد ہیں اور دھمکیاں دے رہے۔ قانون سے تجاوز کرنے پر قانون حرکت میں آئے گا۔‘

    پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’مظاہرین پر تشدد کے متعلق مسلسل پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جبکہ مظاہرین پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔ اس حوالے سے ترجمان پولیس نے متعدد بار اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔‘

  12. سینیٹ کی ’فوج مخالف پروپیگنڈا کرنے‘ پر سخت سزاؤں کی تجویز: ’جو لائن سے ہٹے گا، اسے ہم دیکھ لیں گے‘

  13. تاحیات نااہل افراد کا راستہ روکیں گے، پی ٹی آئی امیدواروں سے متعلق آر او نے درست فیصلے نہیں کیے، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ جو شخص تاحیات نااہل ہیں ان کا راستہ روکیں گے، امید ہے آٹھ فروری کو الیکشن ہوں گے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن اہم عمل ہے، ایک پارٹی کو باہر کرنے سے پارلیمان کمزور اور ملکی معیشت ڈوب جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ عدلیہ سے درخواست ہے اس وقت آپ ہی کا کردار ہے، متعلقہ آر اوز نے درست فیصلے نہیں کیے، پی ٹی آئی کے 90 فیصد امیدواروں کےکاغذات مسترد ہوئے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ امید ہے کہ آٹھ فروری کو الیکشن ہوں گے، جو شخص تاحیات نااہل ہیں، ان کا راستہ روکیں گے۔

  14. بریکنگ, نااہلی مدت سے متعلق کیس کی سماعت چار جنوری تک ملتوی، ’یہ تاثر نہ لیا جائے کہ عدالت کسی مخصوص جماعت کی حمایت کر رہی ہے‘: چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت چار جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    منگل کو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ سات رکنی بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی ہیں۔

    سماعت کے دوران وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جنرل ضیا کے بارے میں تو فیصلہ آخرت میں ہو گا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آئین شکن کو سزا آخرت میں ہوگی؟ کیا ضیا الحق کو سب معاف ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ مخدوم صاحب کیا آپ کسی ایسے فریق کو جانتے ہیں جو تاحیات نا اہلی کا حامی ہو؟ شعیب شاہین کہاں گئے، شاید ان کے پاس کوئی نکتہ ہو۔

    عدالت عظمیٰ نے ویڈیو لنک پر وکلا کو دلائل سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ اس کیس میں سنجیدہ ہیں تو اسلام آباد آئیں، ہم آج اس کیس کو ملتوی کریں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے بڑے علما روز آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں۔ سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار عثمان کریم روسٹرم پر آئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کر رہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں، ایک مارشل لا ڈکٹیٹر کے خلاف الفاظ ادا کرنے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ اچھے کردار بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں، ہم بنیادی اصول قاٸم کرکے ذاتیات میں نہیں جائیں گے، ہم آج اس کیس کو ملتوی کردیں گے، ہم اس کیس کو جمعرات کو دوبارہ سنیں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے پر معاونین کی خدمات درکار ہو گی ہم میڈیا یا سوشل میڈیا کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس سے یہ تاثر نا لیا جائے کہ عدالت کسی مخصوص جماعت کی حمایت کر رہی ہے، ایک آئینی مسئلہ ہے جس کو ایک ہی بار حل کرنے جا رہے ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کوشش ہو گی کہ چار جنوری کو کیس کی سماعت مکمل بھی کر سکتے ہیں،مشاورت کے بعد عدالتی معاون بھی مقرر کر سکتے ہیں۔

  15. بریکنگ, آٸین میں ہر سزا کی مدت ہے تو نااہلی تاحیات کیسے ہوسکتی ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی ہیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ڈیکلریشن دینے کا کیا طریقہ کا ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بغیر ایف آئی آر یا مقدمے کے بھی ارٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات کی جاتی ہے۔

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں کہا لکھا ہوا ہے کہ نااہلی کی مدت کتنی ہے۔

    جسٹس منصور نے سوال کیا کہ سوال یہ ہےکہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟ کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے بدلا جاسکتا ہے؟ قتل اور غداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پرتاحیات نااہلی غیرمناسب نہیں لگتی؟

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ ایک شخص کو ایک بار سزا مل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ سزا کاٹ لینے کے بعد بھی کبھی انتخابات نہ لڑسکے؟ آٸین میں ہر سزا کی مدت ہے تو نااہلی تاحیات کیسے ہوسکتی ہے؟

    سماعت کے دوران جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال مقرر کرنے کے حق میں ہوں۔

    اس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں؟

    جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی ضیا نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں، کیا ضیاالحق کا اپنا کردار اچھا تھا؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں۔

    جس فوجی آمر نے 1985 میں آئین کو روندا ، اسی نے آرٹیکل 62اور 63 کو آئین میں شامل کیا۔ ایک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کیسے آئین میں اہلیت کا معیار مقرر کرسکتا ہے؟

    اس موقع پر جسٹس منصور نہ کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 62اور 63 پر مہر لگائی۔جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ صرف صوبوں کے مابین تنازعات پر ڈکلریٹو فیصلہ دے سکتی ہے۔

    اس موقع پر ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ پچاس سال سے قانون میں اراکین کی اہلیت کا معیار طے ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پھر اس سے پہلے کوئی باسٹھ ون ایف کے تحت نااہل کیوں نہ ہوا۔

  16. ’الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے تو وہ بھی نااہل ہو جاتے‘ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہ میں سات رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’صادق اور امین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کر سکتا، بڑے بڑے علماء روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اگر میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتا ہوں اور کوئی کہتا ہے کہ یہ اچھے کردار کے نہیں تو میں تو چیلنج نہیں کروں گا۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں، اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟ الیکشن لڑنے کے لئے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے۔‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تریسٹھ ون جی اور باسٹھ ون ایف دونوں کی تعریف ایک جیسی ہی معلومات ہوتی ہے۔ کیا کوئی شیخص حلف پر یہ بیان دے سکتا ہے۔کہ وہ اچھے کردار مالک ہے۔چیف جسٹس

    کا کہنا تھا کہ اگر اپ وضو کرتے وقت زیادہ پانی ضائع کرتے ہیں تو یہ بھی حدیث کینفی ہے۔ جو اہلیت کا سخت میعار پارلیمنٹرین کے لیے ہے وہ ہمارے لیے تو نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام میں توبہ کی گنجائش ہے۔

  17. ’اسلامی تعلیمات کا اچھا علم رکھنا بھی ایک شق ہے، پتا نہیں کتنے لوگ یہ ٹیسٹ پاس کر سکیں گے‘ عدالت

    سپریم کورٹ میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہ میں سات رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

    دورانِ سماعت وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ ’میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا۔‘

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی۔

    اٹارنی جنرل نے آئین کاارٹیکل باسٹھ ،تریسٹھ پڑھا، اٹارنی جنرل نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے اہلیت اور نااہلی کی تمام آئینی شرائط پڑھ کر سنائیں، کاغذات نامزدگی کے وقت سے باسٹھ اور تریسٹھ دونوں شرائط دیکھی جاتی ہیں، انٹری پوائنٹ پر دونوں ارٹیکل لاگو ہوتے ہیں، کچھ شقیں تو حقائق سے متعلق ہیں وہ آسان ہیں، کچھ شقیں مشکل ہیں جیسے اچھے کردار والی شق۔‘

    اس دوران عدالت کے ریمارکس کہ ’ہم کہہ سکتے ہیں، اٹارنی جنرل اچھے کردار کے ہیں؟ پر عدالت میں قہقے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اسلامی تعلیمات کا اچھا علم رکھنا بھی ایک شق ہے، پتا نہیں کتنے لوگ یہ ٹیسٹ پاس کر سکیں گے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آئین یہ بھی نہیں کہتا تھا اپ کو رکن اسمبلی بننے کے لیے گریجویٹ ہونا لازم ہے۔ بعد میں ایک ایسا قانون شاید مشرف کے زمانے میں آیا تھا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’نااہلی کی مدت کا تعین آئین میں نہیں، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ کا اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ’سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت آئین سے زیادہ اہم تصور ہو گی؟

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 63 کی تشریح کا معاملہ ہے، سنگین غداری کرتے تو الیکشن لڑ سکتا ہے جبکہ کہ سول کورٹ معمولی جرائم میں سزا یافتہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔‘

    واضح رہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کر رہا ہے۔ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ اس سات رُکنی بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہیں۔

  18. سپریم کورٹ میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق سماعت کا آغاز

    سپریم کورٹ میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق سماعت کا آغاز ہو چُکا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔ اس سات رُکنی بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہیں۔

    درخواست گزار امام بخش قیصرانی کے وکیل ثاقب جیلانی روسٹرم پر موجود ہیں۔

    اس موقع پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کی سزا پانچ سال کرنے کی قانون سازی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف تاحیات نااہلی فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیئے۔‘

    جس پر عدالت کی جانب سے اٹارنی جنرل سے سوال کیا گیا کہ ’درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟‘

    جس کے جواب میں ’درخواست گزار ثناء اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کر دی۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے۔‘

  19. سپریم کورٹ میں پی کے 91 ریٹرننگ افسر کو معطل کرنے کے معاملے پر سماعت: ’لگتا ہے ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں‘

    سپریم کورٹ میں آج پی کے 91 ریٹرننگ افسر کو پشاور ہائیکورٹ سے معطل کرنے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی۔

    سپریم کورٹ میں ہونے والی اس سماعت میں وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنگل بینچ نے27 دسمبر کو الیکشن کمیشن کو نوٹس کیے بغیر آراو کو معطل کیا، کوہاٹ کے ریٹرننگ افسر نے طبی وجوہات پر خود رخصت مانگی، پشاور ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں نئے آراو کے خلاف کچھ تحریر نہیں کیا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ’لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تاکہ انتخابات نہ ہوں۔‘

    چیف جسٹس نے شکایت گزار سے سوال کیا کہ ’آپ اپنی مرضی کا ریٹرننگ افسر لگوانا چاہتے ہیں؟ ایک ریٹرننگ افسر بیمار ہوا دوسرا لگا دیا گیا، پشاور ہائیکورٹ نے تقرری کینسل کردی، ہم آپ کو جرمانہ کیوں نہ کریں کہ نوٹس کیے بغیر ہی تقرری کینسل کر دی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’پشاور ہائیکورٹ کے جج نے نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا، یہ ہائیکورٹس سے کس قسم کے آرڈر جاری ہو رہے ہیں؟ آر او کوئی بھی ہو کیا فرق پڑے گا، بلاوجہ کی درخواستیں کیوں آرہی ہیں؟

    عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غیرقانونی یا غیرآئینی اقدام نہیں کیا، الیکشن کمیشن فوری طور پر سکروٹنی کا عمل شروع کرے۔

    عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی۔

  20. سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی، اٹارنی جنرل طلب

    سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

    آج اس معاملے میں ہونے والی سماعت کے دوران اعتزاز احسن کی جانب سے عدالت میں اُن کے وکیل شعیب شاہین نے دلائل دیے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’دُنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ لوگ اپنے لوگوں سے جنگ لڑیں۔‘

    چیف جسٹس کی جانب سے شعیب شاہین کو کہا گیا کہ ’آپ مکمل تیاری کر کے آئی ہمیں یہ بتائیں کہ کس نوعیت کے آرڈر پاس کریں تو اس مسئلے کے حل کی جانب جایا جا سکتے ہیں۔‘

    آج کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کرنے سے قبل عدالت نے کل کی سماعت میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم اب بس اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے، اس معاملے کو سیاسی نا بنائیں، جو اثر و رسوخ والے لوگ ہیں وہ خود آجائیں گے، یہاں سیاسی باتیں نا کریں، کیونکہ ہم اس بات کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اندرونی طور پر مضبوط ہوگا تو کوئی بیرونی طاقت اس کا کُچھ نہیں بگاڑ سکتی۔‘