آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پشاور ہائی کورٹ کا ’بلے کے حق میں‘ فیصلہ الیکشن کمیشن کے اختیارات پر حملہ ہے: شہباز شریف

کراچی میں صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جس میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ اڈیو لیکس پر وزارت دفاع نے ہائی کورٹ میں جواب جمع کروا دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی مبینہ اڈیو لیکس منظر عام پر آنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست پر وزارت دفاع نے اپنے جواب جمع کروا دیا ہے۔

    وزارت دفاع کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ میں سمارٹ فونز سے آڈیو ریکارڈنگ کے متعدد سستے ٹولز دستیاب ہیں جنھیں کوئی بھی خرید سکتا ہے۔

    اس جواب میں کہا گیا ہے کہ کچھ پلیٹ فارمز بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز دیتے ہیں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے اس معاملے میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کو تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

    وزارت دفاع کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے اور پیکا ایکٹ سنہ 2016 کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے۔

    وزارت دفاع کے اس جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہےکہ اس معاملے پر مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں۔

    جواب میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے۔

  2. لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست دائر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔

    اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے تحریک انصاف نے پی ٹی آئی امیدواروں اور رہنماوں کو حراساں کیے جانے اور ان کی گرفتاریوں سے روکنے کی استدعا کی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنے 22 دسمبر کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

    یاد رہے کہ تحریک انصاف کی ایک درخواست پر گزشتہ ہفتے دوران سماعت سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن دی تھی کہ ’بظاہر تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی جا رہی ہے، الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالہ کرے۔‘

    منگل کے روز دائر درخواست میں کہا گیا کہ ’عدالتی احکامات کے باوجود پی ٹی آئی امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے روکا گیا ہے۔‘

    درخواست کے مطابق ’صوبائی الیکشن کمشنر کے متعدد خطوط لکھے لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، عدالتی حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔پی ٹی آئی امیدواروں کو ریلیوں اور جلسوں کی اجازت دی جائے۔‘

    درخواست میں چاروں چیف سیکرٹریز، آئی جیز، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری الیکشن کمیشن کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے توہین عدالت کی درخواست پر فوری سماعت کرنے کی بھی استدعا کر دی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کی درخواست کی سماعت میں اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے۔ انتخابات جمہوری اصولوں کے مطابق کرائے جائیں جو اثر و رسوخ اور جبر سے پاک ہوں۔ الیکشن کمیشن یقینی بنائے تمام جماعتوں کو انتخابی عمل میں مساوی مواقع ملیں۔‘

    سپریم کورٹ کے حکم کے بعد تحریک انصاف کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن میں جا کر وہاں حکام سے ملاقات کی اور اپنے تحفظات سے انھیں آگاہ کیا تھا۔

  3. بریکنگ, پشاور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کی ’بلے‘ کا نشان واپس لیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت جاری

    پشاور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت شروع ہو گئی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر علی گوہر دلائل پیش کر رہے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے فیصلے کا اختیار ہی نہیں ہے، قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کو تمام تر دستاویز فراہم کر دیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کا پہلا بڑا نقصان یہ ہوا کہ پی ٹی آئی کو بلا نشان نہیں مل سکے گا، اس فیصلے سے پی ٹی آئی آٹھ فروری کے انتخابات میں حصہ بھی نہیں لے سکے گی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ ’الیکشن کمشن کا آرڈر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ حالات ایسے پیدا کیے جا رہے ہے کہ جس میں لگتا ہے کہ اب ہم سیاسی جماعت کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔‘

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں لہٰذا تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر سوال اٹھانا ہی غلط تھا، بلے کا نشان لینا بھی غلط ہے، اسے واپس کیا جائے، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرکے بلے کا نشان بحال کیا جائے۔

    خیال رہے کہ 22 دسمبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور پاکستان تحریک انصاف سے بلّے کا نشان واپس لے لیا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے 23 نومبر 2023 کو دیے گئے فیصلے میں کی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا اوہ وہ پی ٹی آئی کے 2019 کے آئین، الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشنز کرانے میں ناکام رہیں۔

  4. چٹان عورتوں کی زنانہ وار تحریک: عاصمہ شیرازی کا کالم

  5. پاکستان مسلم لیگ ن کا انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹس دینے کے لیے 16واں اجلاس آج لاہور میں ہوگا

    4 دن کے وقفے کے بعد آج پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے اجلاسات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گا جس میں پارٹی کی جانب سے اپنے انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹس دینے کی حتمی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

    آج یہ اپنی پارٹی کا اس سلسلہ میں ہونے والا پارلیمانی بورڈ کا 16واں اجلاس ہے۔

    آج لاہور ڈویژن کے تین اضلاع قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کے انٹرویوز کئے جائیں گے۔ اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی نشستوں اور صوبہ خیبرپختونخوا کے کچھ اضلاع سے ٹکٹ کے خواہشمند اُمیدواروں کے بھی آج ہی انٹرویوز کئے جائیں گے۔

    آج قومی اسمبلی کی 13 جبکہ صوبائی اسمبلی کی 23 نشستوں کے لیے اُمیدواروں کے انٹرویو ہوں گے۔

    اجلاس کی صدارت قائد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف مشترکہ طور پر کرینگے، تاہم اجلاس میں چیف آرگنائزر مریم نواز اور مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ، مسلم لیگ ن صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر امیر مقام سمیت دیگر سینئر رہنما شریک ہوں گے۔

    جبکہ پاکستان مُسلم لیگ میں چیئرمین الیکشن سیل سینیٹر اسحاق ڈار بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    اس سے پہلے پارلیمانی بورڈ سرگودھا، راولپنڈی، ملتان، ساہیوال، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز کے علاوہ صوبہ بلوچستان، صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز کے انتخابی امیدواروں سمیت خواتین و اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستوں پر امیدواروں کے ناموں پر غور کر چکا ہے

  6. سابق وزیرِ اعظم اور سابق وزیر خارجہ کے خلاف سائفر مقدمے کے سماعت آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوگی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہورہی ہے۔

    پراسیکوٹرز کی طرف سے مزید تین گواہان کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پراسیکوٹرز کی طرف سے اب تک چھے گواہان کو عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے اور ان پر ملزمان کے وکلا کی طرف سے ان پر جرح کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے۔

    خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذالقرنین اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔ خصوصی عدالت نے سائفر مقدمے کی سماعت ان کیمرہ ڈکلیر کر رکھا ہے اس سے قبل اس مقدمے کی صرف تین سماعتیں اوپن کورٹ میں ہوئی تھیں جس میں مخصوص عوام اور چند مخصوص صحافیوں کو راولپنڈی اڈیالہ جیل میں قائم اس خصوصی عدالت میں جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 22 دسمبر کو سائفر مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلی تھیں۔

    سپریم کورٹ سے اس مقدمے میں ضمانت ملنے کے باوجود جیل سے رہا نہیں ہو سکیں گے کیونکہ وہ ایک سو 90 ملین پاؤنڈ اور القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار ہیں جبکہ دوسرے ملزم شاہ محمود قریشی کے وکلا کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کسی اور مقدمے میں نامزد نہیں ہیں اور ان کے بقول سابق وزیر خارجہ کے خلاف ماضی میں جتنے بھی مقدمات تھے ان میں وہ ضمانت پر ہیں۔

  7. خیبرپختونخوا کا وہ علاقہ جہاں غیر قانونی طور پر پانی سے سونا نکالنے کا کام کیا جاتا ہے

  8. ’انتخابی نشان بلّے کی آفر ہوئی مگر قبول نہیں کی‘ پرویز خٹک

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارلیمنٹیرینز کے سربراہ پرویز خٹک نے کی جانب سے یا بیان سامنے آیا تھا کہ انھیں بلّے کے نشان کی آفر ہوئی تھی لیکن انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

    سابق وزیرِ دفاع کی جانب سے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن نے کسی کو بھی انتخابی نشان ’بلّے‘ کی پیشکش نہیں کی۔

    پرویز خٹک کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا منشور تیار ہوچکا ہے، چند دنوں میں پیش کریں گے، الیکشن مہم جاری ہے اور ہم محنت کررہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے بلے کے نشان کی آفر ہوئی تھی لیکن میں نے انکار کردیا،‘ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں یہ آفر کس نے کی۔

    الیکشن کمشن کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کی طرف سے کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی۔‘

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر پاکستان تحریک انصاف سے بلّے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔

    اس سے قبل الیکشن کمیشن نے آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کی رجسٹریشن ختم کردی تھی اور انتخابی نشان عقاب بھی واپس لے لیا تھا جو کہ استحکام پاکستان پارٹی کو الاٹ کردیا گیا ہے۔

  9. پی ٹی آئی کا بلّے کے نشان کی واپسی کے لیے آج پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا امکان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کو غیر آئینی قرار دینے اور بیٹ (بلّے) کے نشان کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو کل گزشتہ روز چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے سلسلے میں آج (منگل کے روز) ممکنہ طور پر پی ٹی آئی کے وکلا پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن نے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ پی ٹی آئی کے داخلی انتخابات کالعدم قرار دیے تھے جس میں بیرسٹر گوہر علی خان باآسانی پارٹی کے نئے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔

    الیکشن کمیشن نے 11 صفحات پر مشتمل اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے 23 نومبر 2023 کے حکم پر عمل نہیں کیا اور پی ٹی آئی کے موجودہ آئین 2019، الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی۔

    پارٹی نے اس فیصلے کو ’لندن پلان‘ کا حصہ اور ’پی ٹی آئی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی گھناؤنی اور شرمناک کوشش‘ قرار دیا تھا۔

  10. گزشتہ روز کی اہم خبریں

    • الیکشن کمیشن کے احکامات پر گزشتہ روز آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان اور ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا اور وزیر اعظم آفس کی جانب سے اس کا باقائدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی اسلام آباد کے خلاف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شکایات پر دونوں کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
    • الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عام انتخابات میں حصہ لینے والوں کے اعداد و شمار کی فہرست جاری کی جس کے مطابق آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے جنرل اور مخصوص نشستوں پر الیکشن میں حصہ لینے کے لیے 28 ہزار 626 اُمیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے 7242 مرد امیدواروں جبکہ 471 خواتین امیدواروں نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
    • پی ٹی آئی کے رہنما اور وکیل شیر افضل مروت نے گزشتہ روز بی بی سی کو بتایا تھا کہ پنجاب میں ان کی جماعت کو کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امیدواروں کو آر او کے دفتر جانے نہیں دیا جا رہا تھا اور جنھوں نے جانے کی ہمت کی انھیں اٹھا لیا گیا۔‘ ان کے مطابق ’ہم نے 99 فیصد کاغذات نامزدگی وکلا سے ذریعے بھیجے۔‘
    • الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد گزشتہ روز سے ان کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے جو 30 دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ تین جنوری کو کاغذات کی منظوری اور مسترد ہونے پر اپیلیں دائر ہو سکیں گی۔