آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پشاور ہائی کورٹ کا ’بلے کے حق میں‘ فیصلہ الیکشن کمیشن کے اختیارات پر حملہ ہے: شہباز شریف

کراچی میں صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جس میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کینیڈا کا ’سٹارٹ اپ ویزا پروگرام‘ کیا ہے اور اس کے لیے کن شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

  2. آئین چیف جسٹس کو یکطرفہ مقدمات کے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیتا: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تفصیلی فیصلے میں یہ قرار دیا کہ ایکٹ سے پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کو نیچا نہیں دکھایا، نہ ہی عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہوئی بلکہ عدلیہ مضبوط اور زیادہ خودمختار ہوئی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ سے ’انصاف تک رسائی میں آسانی آئی۔‘

    چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا 22 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں لکھا کہ ’پارلیمنٹ سپریم کورٹ کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ پارلیمنٹ کے بنائے گئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں کسی طور بھی آئینی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔‘

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی ہر شق کا انتہائی احتیاط کے ساتھ جائزہ لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے آٹھ جون کو کہا کہ کیس جولائی میں سماعت کے لیے مقرر ہو گا مگر جولائی اور اگست کے دو ماہ تک کیس سماعت کے لیے مقرر ہی نہ ہو سکا۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا، سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے کیس سنا لیکن رجسٹرار آفس کے اعتراضات کا معاملہ زیر غور ہی نہیں لایا گیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان نے چیف جسٹس پاکستان کو فرد واحد کی حیثیت سے یہ حق نہیں دیا کہ وہ اکیلے فیصلہ کرے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کو سات اختیارات دیے گئے ہیں، شفاف ٹرائل کے اصول کے تحت عدالتیں آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے کی پابند ہیں، ہر جج حلف کے تحت قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔

    جسٹس فائز عیسیٰ نے فیصلے میں تحریر کیا کہ سپریم کورٹ چیف جسٹس پاکستان اور دیگر ججز پر مشتمل ہے، آئین چیف جسٹس پاکستان کو یکطرفہ مقدمات کے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیتا، چیف جسٹس پاکستان کی دانش آئین کا متبادل نہیں ہوسکتی، نہ ہی چیف جسٹس پاکستان اپنی رائے دیگر ججز پر تھوپ سکتے ہیں۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین و قانون میں ماسٹر آف روسٹر کی کوئی اصطلاح نہیں، جمہوریت کی بنیاد پر قائم آئین میں ماسٹر کا لفظ تضحیک آمیز ہے، ماسٹر کا لفظ غلامی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کی کی آئین میں ممانعت ہے اور یہ شرعی اصولوں کے خلاف ہے، شرعی اصول بھی ایک سے زائد افراد کے درمیان ہونے والے معاملے میں مشاورت لازمی قرار دیتے ہیں، اسلام اور پوری دنیا میں کسی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق حاصل ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے تحریر کیا کہ اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنا دراصل دوسروں کو اہمیت نہ دینے کے مترادف ہے، عدلیہ کی ساکھ متاثر ہونے سے ملک اور عوام کو ہمیشہ نقصان ہوتا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ دیگر عدالتوں پر لاگو ہوتا ہے مگر خود سپریم کورٹ پر نہیں، سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کو چھوٹے بینچز کے فیصلوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور آئینی روایات کو قانون کی طرز پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

  3. مینوپاز: خواتین کو تنہا نہ چھوڑیں

  4. انڈیا میں خواتین کو برہنہ پریڈ کروانے کے بڑھتے واقعات: ’خاتون کا جسم ہی ہمیشہ میدانِ جنگ کیوں بنتا ہے‘

  5. ایک جیل سے نکلنے کے لیے جبکہ دوسرا جیل جانے سے بچنے کے لیے الیکشن لڑنا چاہتا ہے: بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفین آج بھی نفرت اور تقسیم کی سیاست کر رہے ہیں اور ان میں سے ایک اس لیے الیکشن لڑنا چاہ رہا ہے تاکہ وہ جیل سے نکل سکے اور دوسرا اس لیے الیکشن لڑ رہا ہے تاکہ جیل جانے سے بچ سکے۔

    سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی 16ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج پاکستانی عوام کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ کون جیل میں ہے اور کون وہاں جانے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ وہ فقط مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو ڈیل کرتے ہیں اور اپنے مخالفین کے کاغذات نامزدگی چھینتے ہیں، ہم کھل کر اور ڈٹ کر الیکشن لڑتے ہیں۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ ’دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ آئیں الیکشن لڑیں۔ پہلے یہ کسی اور کے کندھوں پر سیاست کرتے تھے اور آج بھی کچھ لوگ دوسروں کے کندھوں پر سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ طاقت کا سرچشمہ صرف اور صرف عوام ہے اور جب تمام سیاسی جماعتیں یہ بات مان جائیں گی تب ہی یہ ملک ترقی کرے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ 16 برس پہلے چند لوگوں نے سوچا کہ وہ بینظیر بھٹو کو مار کر کے پیپلز پارٹی کو ختم کر دیں گے مگر آج اس جماعت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اُن قوتوں کی خام خیال تھی۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کسی شخصیت یا کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے بلکہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت سے ہے جو آج پاکستان میں اپنے عروج پر ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ پر تنقید کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ ’ہم نے 18 ماہ ان لوگوں کے ساتھ حکومت کی اور خارجہ سطح پر کام کر کے دکھایا، مگر دوسری جانب لوگوں کی جمہوریت کو مضبوط کرنے، معیشت کو درست کرنے، مہنگائی کم کرنے اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ چنانچہ اب ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ان کا اور ہمارا راستہ اب الگ الگ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر عوام نے پیپلز پارٹی کو منتخب کیا تو ہم دس نکاتی ایجنڈے پر کام کریں گے:

    • اپنے پانچ سالہ دور میں ہم ہر پاکستانی کی تنخواہ کو دگنا کریں گے
    • 300 یونٹس تک بجلی مفت فراہم کریں گے
    • غریبوں کو 30 لاکھ گھر بنا کر دیں گے
    • کسانوں کے لیے ’ہاری کارڈ‘ کا اجرا کیا جائے گا جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ بڑھائیں گے
    • ’بھوک مٹاؤ پروگرام‘ شروع کیا جائے گا
    • ہر بچے کی تعلیم تک رسائی یقینی بنائی جائے گی
    • نوجوانوں کو ’یوتھ کارڈ‘ کے ذریعے مالی مدد دیں گے
    • ملک بھر میں مفت علاج کا نظام بنایا جائے گا
  6. سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں تقریباً 1700 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ کے انڈیکس میں 1693 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اس کا انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 60863 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    مارکیٹ میں بدھ کے روز تیزی کے رجحان نے منگل کے روز مندی کے منفی اثرات کو کافی حد تک زائل کیا جب اس کا انڈیکس ایک دن میں ملکی تاریخ میں پہلی بار پچیس پوائنٹس سے زائد گِر گیا تھا۔

    سٹاک مارکیٹ میں بدھ کے روز تیزی کے رجحان کی بڑی وجہ گذشتہ روز مندی کے بعد حصص کی پر کشش قیمتیں تھیں جس میں سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری کی گئی۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار ثنا توفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کے روز مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ گذشتہ روز مارکیٹ تکنیکی تصحیح کی وجہ سے نیچے گئی تھی اور آج اس بنیاد پر اوپر کی جانب گامزن رہی کیونکہ حصص کی قیمتیں کافی نیچی آ گئی تھیں۔

    انھوں نے بتایا اس کے ساتھ مارکیٹ کے سرمایہ کار آنے والے دنوں میں کمپنیوں کی جانب سے اچھے مالیاتی نتائج کی توقع کر رہے ہیں جس نے مارکیٹ کو اوپر اٹھایا۔ اسی طرح سرمایہ کار جنوری میں آئی ایم ایف کی قسط کے آنے پر بھی معیشت میں بہتری کی امید کر رہے ہیں تاہم آج مارکیٹ میں ہونے والی تیزی کی سب سے بڑی وجہ حصص کی قیمتوں کا پرکشش ہونا تھا جو گذشتہ روز کی تاریخی مندی کے بعد سرمایہ کاروں کے نزدیک سرمایہ کاری کے لیے بہترین آپشن تھیں۔

  7. ’میں نے قوم کی ترجمانی کی ہے، میں بے گناہ ہوں۔۔۔‘ شاہ محمود قریشی کی اڈیالہ جیل سے دوبارہ گرفتاری کا منظر

    بدھ کو جب اڈیالہ جیل سے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تو یہ ایک غیر معمولی منظر تھا۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے سائفر کیس میں انھیں ضمانت ملنے کے بعد ان کے پہلے تھری ایم پی او یعنی نقض امن کے خدشے کے تحت گرفتاری کے آرڈر جاری کیے گئے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ راولپنڈی پولیس کے مطابق شاہ محمود قریشی تھانہ آر اے بازار میں درج نو مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں نامزد ہیں اور انھیں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق انھیں آئندہ دنوں انسداد دہشتگردی عدالت پیش کیا جائے گا۔

    اڈیالہ جیل کے باہر موجود شاہ محمود قریشی کی بیٹی نے اس واقعے کی تین ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں انھیں میڈیا کے نمائندوں کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’آپ ادھر تک آجائیں۔ (پولیس اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے) آپ انھیں یہاں آنے سے نہیں روک سکتے۔‘

    پہلی ویڈیو میں شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ’سپریم کورٹ کے تین ججز نے مجھے (سائفر کیس میں) ضمانت دی ہے۔۔۔ میں آپ کو سپریم کورٹ میں لے کر جاؤں گا، اگر آپ نے غیر قانونی حرکت کی۔‘

    میڈیا کے نمائندے شاہ محمود قریشی کو آگے آنے کا کہتے ہیں تو ان کی بیٹی جواب دیتی ہے کہ وہ آگے آئیں گے تو انھیں پکڑ لیں گے۔

    شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ’یہ مجھے دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی ضمانت کا آرڈر آنے کے بعد ’انھوں نے تھری ایم پی او کے تحت (نقضِ امن) میری گرفتاری کے آرڈر جاری کر دیے اور گرفتار کر کے نظر بند کر لیا۔‘

    شاہ محمود قریشی مزید اپنی بات کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ اچانک ایک پولیس اہلکار ان کے پاس آ کر کہتا ہے ’آ جائیں آپ، آ جائیں۔‘

    سابق وزیر خارجہ انھیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر مزید پولیس اہلکار وہاں آ کر انھیں گھسیٹ کر پولیس وین میں لے جاتے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ’تمیز سے۔‘

    پولیس وین میں بیٹھنے سے قبل قریشی کہتے ہیں کہ ’ظلم، ناانصافی، سپریم کورٹ کے حکم کا مذاق۔ انھوں نے مجھے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا۔ میں نے قوم کی ترجمانی کی ہے۔ میں بے گناہ ہوں۔ مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

  8. مُلک میں شدید دھند کی وجہ سے پی آئی اے کی درجنوں پروازیں متاثر

    پاکستان کے میدانی علاقوں میں پڑنے والی شدید دُھند کی وجہ سے پی آئی اے کی متعدد پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔

    پی آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’لاہور، ملتان اور سیالکوٹ سے آپریٹ ہونے والی پروازیں دھند کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کم حد نگاہ اور دھند میں شدت کے باعث فضائی آپریشن میں دشواری کا سامنا ہے، اور پروازوں میں تاخیر کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ’تمام مسافروں سے گزارش ہے کہ ائیرپورٹ کیلئے نکلنے سے قبل اپنی پرواز کے بارے میں معلومات پی آئی اے کال سینٹر سے حاصل کریں۔

  9. ’مجھے انجینیئرنگ کی تعلیم اس لیے چھوڑنی پڑی کیونکہ میں روزانہ کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا‘

  10. ’بلوچ مظاہرین کو دشموں کی طرح ٹریٹ نا کریں‘ اسلام آباد ہائی کورٹ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    بلوچ مظاہرین کی گرفتاریوں اور احتجاج کا حق دینے سے روکنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے اسلام آباد کے مجسٹریٹ کو آج ہی 34 زیرِ حراست افراد کی شناخت پریڈ کا عمل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آرپیشنز کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نے آرڈر دیا کہ ان مظاہرین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو آپ گود میں بیٹھاتے ہیں کسی کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ آئے ہیں ان کو بیٹھنے دیں۔ انھوں نے ایس ایس پی آپریشنز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے ہاتھ کچھ نہیں تو سیکرٹری داخلہ کو بلا لیتے ہیں۔‘

    عدالت نے اسلام آباد پولس کے حکام سے کہا کہ ’ان بلوچ مظاہرین کو دشمنوں کی طرح ٹریٹ نہ کریں۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریڈ زون میں کسی بھی احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کا ذکر کیے بغیر کہا کہ ’ماضی میں کیا اسلام آباد میں مظاہرین کو ریڈ زون میں بھی پیمپر نہیں کہا جاتا رہا؟‘ انھوں نے کہا کہ ’کچھ مظاہرین کو احکامات پر پولیس کی جانب سے تحفظ دیا جاتا ہے۔‘

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بلوچ مظاہرین نے تنصیبات پر حملہ کیا؟ جس پر ایس ایس پی آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ جو 34 بلوچ گرفتار ہیں ان کی شناخت پریڈ مجسٹریٹ کو کرنی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل عطا اللہ کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین کی گرفتاری اور رہائی سے متعلق آئی جی اسلام آباد کے بیانات میں تضادات ہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی کے بیانات پر رپورٹ طلب کی جائے جس پر جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیے کہ ’اس ملک میں ضمانت کے احکامات کے باوجود ضمانت نہیں ہوتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب برصغیر پر انگریز وں کی حکومت تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ بلوچ کو عزت دو اور وہ آپ کے لیے کچھ بھی کرے گا۔‘ عدالت کو بتایا گیا کہ تقریبا سبھی رہا ہو گئے ہیں سوائے انکے جن کی کوئی شناخت نہیں ہے۔ عدالت نے اس درخواست پر مذید کارروائی 29 دسمبر تک ملتوی کردی۔

  11. شاہ محمود قریشی کو راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ حراست میں لے لیا

    سائفر کیس میں رہائی کے بعد پنجاب پولیس نے شاہ محمود قریشی کو تھانہ آرے بازار اور تھانہ صدر بیرونی میں درج مقدمات میں نامزد ملزم ہونے پر دوبارہ حراست میں لے لیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کی تفتیش کے لیے ملزم کو حراست میں رکھنا ضروری ہے۔

    منگل کے روز سائفر مقدمہ میں متعلقہ عدالت کی طرف سے جاری ہونے والی روبکار کے بعد اُن کی رہائی کے احکامات جاری کیے گیے تھے، تاہم راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے شاہ محمود قریشی کو نقصِ امن کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کئے۔

    رہائی کے موقع پر جب سابق وزیر خارجہ کو راولپنڈی پولیس نے دوبارہ حراست میں لیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ بے گُناہ ہیں اور انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  12. راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں آج عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہینِ الیکشن کمشن کی سماعت ہوگی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے کے مقدمے کی سماعت آج راولپنڈی کی اڈایالہ جیل میں ہو گی۔

    نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار ارکان اڈیالہ جیل میں جاکر اس مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھائیں گے اور الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق آج اُن ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    اڈیالہ جیل میں توہین عدالت سے متعلق اب تک دو سماعتیں ہوچکی ہیں تاہم ان دونوں سماعتوں میں فواد چوہدری کے وکیل کی جانب سے التوا کی درخواستیں کی گئیں جو قبول کرلی گئیں۔

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ الیکشن کمیشن میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے چل رہا ہے۔ عمران خان اس مقدمے میں ایک مرتبہ بھی کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے جبکہ فواد چوہدری دو مرتبہ اس مقدمے کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ہیں۔

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو ملزم کو اس مقدمے میں کمیشن میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وزارتِ داخلہ نے عمران خان کو کمیشن کے سامنے پیش کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے چار ارکان اس مقدمے کی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل جارہے ہیں۔

    اس مقدمے میں تیسرے ملزم اسد عمر الیکشن کمیشن سے غیر مشروطمعافی مانگ چکے ہیں۔

  13. سابق وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوگی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔

    اس مقدمے کے پراسیکوٹر ذوالفقار نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان کے وکلا کی جانب سے اس مقدمے کی سماعت میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں اور وہ روزانہ کی بنیاد پر متعدد درخواستیں عدالت میں دائر کردیتے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر وقت ان درخواستوں کی سماعت میں ہی گزر جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب تک ملزمان کے وکلا کی جانب سے جتنی بھی درخواستیں متعقلہ عدالت میں دائر کی جاچکی ہیں ان تمام درخواستوں کو مسترد کیا گیا ہے۔

    ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس مقدمے میں 25 گواہوں کے اگزامینیشن انچیف یعنی بیانات قلمبند کروا چُکے ہیں جن میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید، سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وکلا صفائی کی جانب سے جن استغاثہ کے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں ان پر جرح کا عمل مکمل ہونا ہے جس میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

    دوسری جانب ملزمان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھیں اس مقدمے کے حوالے سے ضروری دستاویزات کی عدم فراہمی کے علاوہ اس مقدمے کے اندراج کے حوالے سے اٹھائے گئے قانونی نکات کی وجہ سے وہ درخواستیں دائر کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ درخواستیں دائر کرنا ان کا قانونی حق ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سائفر کے مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرچکی ہے اور متعقلہ عدالت نے دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی کی رہائی کی روبکار جاری کی تھی تاہم راولپنڈی کی انتظامیہ نے خدشہ نقض امن کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے اور ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ شاہ محمود قریشی نو مئی کے واقعات میں ملوث ہیں اس سے ان سے اس ضمن میں تفتیش کرنا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے اس ارڈر کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

  14. پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کا سرٹیفیکیٹ اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں تحریک انصاف کے بلے کے انتخابی نشان کو بحال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات کا سرٹیفیکیٹ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو تحریک انصاف کے انٹرپارٹی انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے فوری سماعت کی استدعا کی تھی۔

    اس ضمن میں پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر منگل کی دوپہر فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کیا تھا۔ مختصر فیصلے کے بعد منگل کی رات پشاور ہائیکورٹ نے آج ہونے والی سماعت کا تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے دوران سماعت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین کے مطابق ہوئے یا نہیں اس بارے میں فیصلہ کرنے کا قانونی اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں تھا تاہم الیکشن کمیشن کے نمائندے نے اس مؤقف کو تسلیم نہ کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کمیشن کا اس ضمن میں فیصلہ کرنے کا اختیار آئین اور قانون کے عین مطابق ہے۔

    تحریری حکمنامے کے مطابق فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد 8 فروری کو ہونا ہے جبکہ انتخابی نشان الاٹ کرنے کی آخری تاریخ 13 جنوری ہے اور چونکہ ایک جماعت کو اس کے نشان سے محروم کیا گیا ہے چنانچہ وہ لوگ جو اس جماعت کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں ان کا حق متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

    تحریری حکمنامے میں پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ اس کیس کی آئندہ سماعت (جو کہ نو جنوری کو ہو گی) تک معطل کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    یاد رہے کہ عدالت نے واضح کیا تھا کہ موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد نو جنوری سے اس کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کا ڈویژنل بینچ کرے گا۔

  15. ریاض الجنہ جانے کی حد مقرر: ’میرے شوہر کو تو جانے دیا مگر میں روضہ رسول دیکھے بغیر واپس آ گئی‘

  16. سٹاک مارکیٹ میں 2500 پوائنٹس کی تاریخی کمی، وجوہات آخر کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز ملکی تاریخ میں تاریخی کمی دیکھی گئی جب سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 2534 پوائنٹس تک گر گیا۔

    ملک کی سٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں یہ ایک دن میں سب سے بڑی کمی ہے جس کے بعد اس کا انڈیکس 60 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے نیچے گر کر59171 پوائنٹس کی سطح تک گیا۔

    واضح رہے کہ دسمبر کے مہینے کے شروع میں سٹاک مارکیٹ 66427 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گئی تھی جو ملکی تاریخ میں سٹاک مارکیٹ کی بلند ترین سطح تھی تاہم اس کے بعد مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا اور سٹاک مارکیٹ کےانڈیکس میں اب تک 11 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی۔

    سٹاک مارکیٹ میں کئی روز سے جاری مندی کے بارے میں اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ ملکی معاشی اور سیاسی منظر نامے پر موجودہ حالات کے علاوہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے بعد ہونے والی تیکنیکی تصیح ہے اور اس کے علاوہ مارکیٹ میں آخری ہفتے کی وجہ سے ادھار کے سودوں کی سیٹلمنٹ (future contracts) کا فیکٹر بھی ہے۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہر یار بٹ نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے معاہدے کے بعد اس کی قسط میں ہونے والی تاخیر نے مارکیٹ میں منفی رجحان کو جنم دیا کیونکہ اب کرسمس کی چھٹیوں کے بعد اگلے مہینے قسط کے جاری ہونے کا امکان ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سرمایہ کار الیکشن کے بعد کی صورتحال کے بارے میں بھی تحفظات کا شکار ہیں کیونکہ موجودہ نگران حکومت جس معاشی ایجنڈے پر گامزن ہے کیا انتخابات کے بعد آنے والی حکومت اسے جاری رکھے گی؟

    شہریار بٹ نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ دسمبر کا آخری ہفتہ ہے جو رول اور ویک ہوتا ہے جس میں مستبقل کے سودوں کی سیٹلمنٹ کرنا ہوتی ہے یا انھیں جنوری میں لے جانا ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا اس بار مارکیٹ میں بدلہ فنانسگ 35 ارب روپے کی ہے جو شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ ہے ورنہ عموماً آٹھ سے دس ارب ہوتی ہے۔

    انھوں نے اس کی سیٹلمنٹ کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان پیدا ہوا ۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا مارکیٹ میں بہت زیادہ تیزی آئی تھی جس کے بعد مارکیٹ میں تینیکی تصحیح آئی ہے۔

    سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار سمیع اللہ طارق نے مارکیٹ میں بہت زیادہ مندی کی وجہ سے عام آدمی پر منفی اثرات کے بارے کہا کہ براہ راست تو اس مندی کی وجہ سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے تاہم سٹاک مارکیٹ میں چھوٹے سرمایہ کار بھی ہوتے ہیں جو ڈے ٹریڈنگ کے ذریعے آمدنی کماتے ہیں جو اس مندی سے متاثر ہوئے ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ویسے ان کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں فعال دو لاکھ سرمایہ کاروں میں چھوٹے سرمایہ کاروں کی تعداد 20 ہزار ہے۔

  17. اگلی تاریخ تک ہم اس بلے کے نشان پر الیکشن لڑ سکتے ہیں: بیرسٹر علی ظفر

    پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کے انتخابی نشان ’بلے‘ پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرنے کے بعد تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نےعدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر بلند کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ بلے کا ہمارا انتخابی نشان جو ہم سے چھین لیا گیا تھا آج عدالت نے اس آرڈر کو معطل کر دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ہمارا انتخابی نشان پہمیں واپس کیا جائے اور اگلی تاریخ تک ہم اس بلے کے نشان پر الیکشن لڑ سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ صرف عدالت نے ہمارا انتخابی نشان ہی نہیں دلایا بلکہ 25 کروڑ عوام کا اعتماد بحال کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ایسا لگ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس میں ایک منصف بن کر نہیں مخالف بن کر فیصلہ دیا۔

    اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہماری ترجیح فہرست کو بھی ہولڈ کر لیا تھا۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق الیکشن کمیشن کو عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہمارا نوٹیفکیشن ویب سائٹ پر واپس چڑھایا جائے۔

  18. پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔

    پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالتی چھٹیوں کے اختتام کے بعد پشاور ہائیکورٹ کا ڈویژنل بینچ اس کیس پر مزید سماعت کے بعد فیصلے سنائے گا تاہم کیس پر حتمی فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل رہے گا۔

    اس سے قبل پشاور ہائیکورٹ میں اس کیس کی سماعت جسٹس کامران حیات نے کی تھی اور فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے۔

    ابتدائی تفصیلات کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا ہے کہ چونکہ انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا تھا اور الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان سے متعلق فیصلہ اس کے بعد جاری کیا ہے، اسی لیے اس فیصلے کو فی الوقت معطل قرار دیا جاتا ہے۔

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ نے عدالت کے روبرو استدعا کی کہ ’عارضی ریلیف دینے سے لگے گا کہ حتمی فیصلہ بھی دے دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ’ایک آرڈر سے پارٹی کو انتخابات سے نکال دیا گیا۔ کل اگر عدالت کسی فیصلے پر پہنچ جائے تو پھر پانی سر سے اوپر گزر چکا ہوگا تو کیا پھر الیکشن کمیشن دوبارہ انتخابات کرائے گا۔‘

    جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر اس کے لیے ڈویژنل بنچ تشکیل دیا جائے، یہ ڈویژنل بنچ کا کیس ہے۔ الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے اور ان کے پاس اختیار ہے۔

    جسٹس کامران حیات کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر پارٹی کو ختم کرے تو ایسی صورت میں سپریم کورٹ جانا ہوگا۔

    عدالت نے ریمارکس دئے کہ ’پی ٹی آئی نے تو سارے کاغذات جمع کیے اور آپ نے جماعتوں کی فہرست میں شامل کیا۔اگر کاغذات نہ دیتے اور الیکشن کمیشن نے ختم کیا ہوتا تو تب سپریم کورٹ جاتےیہ کہاں لکھا ہے کہ ایک پارٹی انتخابات کرائے اور تفصیل فراہم کرنے کے بعد الیکشن کمیشن اسے تسلیم نہ کرے۔

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’ یہ کیس چیف جسٹس کو بھیج دیں تاکہ وہ کل ہی ڈویژنل بنچ تشکیل دے دیں۔‘

    جس پر جسٹس کامران حیات نے ریمارکس دیے کہ ’چیف جسٹس ہیں نہیں تو کیسے فیصلہ کریں گے۔‘

    پشاور ہائیکورٹ میں دورانِ سماعت پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر علی گوہر نے اس درخواست پر دلائل دیے تھے جن میں استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کا پہلا بڑا نقصان یہ ہو گا کہ کہ پی ٹی آئی کو بلا نشان نہیں مل سکے گا جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی آٹھ فروری کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی۔

  19. راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کے احکامات جاری کردیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر روالپنڈی نے سٹی چیف پولیس افسر راولپنڈی کی طرف سے ملنے والی ہدایات کی روشنی میں جاری کیے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی کی نظر بندی سے متعلق جاری کیے گئے احکامات میں لکھا گیا ہے کہ وہ نو مئی کے واقعات میں ملوث ہیں اور ان کی نظر بندی کے احکامات تھری ایم پی او، جو کہ خدشہ نقض امن کے ذمرے میں آتا ہے، کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ نے سائفر کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انھیں10، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ شاہ محمود قریشی کے وکلا نے متعلقہ عدالت میں ضمانتی مچلکے جمع کروائے جس کی بعد عدالت نے سابق وزیر خارجہ کو ضمانت پر رہا کرنے سے متعلق روبکار جاری کردی۔

    سابق وزیر خارجہ گزشتہ چار ماہ سے سائفر کے مقدمے میں جیل میں بند تھے۔ شاہ محمود قریشی کے وکلا کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خارجہ کسی اور مقدمے میں نامزد ملزم نہیں ہیں کیونکہ ان کے خلاف ماضی میں جتنے بھی مقدمات بنے ان سب میں وہ ضمانت پر ہیں۔

  20. ’نیب، ایف بی آر اور دیگر اداروں کی رپورٹس آنے پر کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کی خبریں من گھڑت ہیں‘

    الیکشن کمیشن نے اپنے اعلامیے میں بعض ٹی وی چینلوں پر ترجمان پنجاب الیکشن کمیشن سے منسوب خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے نیب، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کی رپورٹس آنے کے بعد امیدواران کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ’یہ خبر من گھڑت ہے۔ کمیشن نے ایسا کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق پنجاب الیکشن کمشنر کے دفتر سے میڈیا کو بتایا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کا عمل 30 دسمبر تک جاری رہے گا جس کے بعد منظور شدہ کاغذات نامزدگی کے حامل امیدواروں کی فہرست آویزاں کر دی جائے گی۔