آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نگران حکومت کا بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی رہائی کا دعویٰ، خواتین کو زبردستی کوئٹہ بھیجنے کی اطلاعات

نگران حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی مارچ میں شامل تمام گرفتار خواتین اور جن افراد کی شناخت ہو چکی ہے، انھیں رہا کر دیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اہلکار خواتین کو زبردستی بسوں میں دھکیل کر واپس کوئٹہ بھیج رہے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’سابق وزیر اعظم نواز شریف این اے 15 مانسہرہ سے انتخابات میں حصہ لیں گے، جبکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز ہوں گی‘ کیپٹن (ر) محمد صفدر

    مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر نے بدھ کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں سے کلین چٹ ملنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف خیبر پختونخوا کے حلقہ این اے 15 (مانسہرہ) سے قومی اسمبلی کی نشست سے الیکشن لڑیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ نواز شریف این اے 15 مانسہرہ ٹو سے ہمارے اُمیدوار ہوں گے۔ کیپٹن (ر) صفدر نے مانسہرہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے وزیر اعظم بنیں گے تاکہ صوبے کی محرومیوں کو دور کیا جا سکے۔

    کیپٹن (ر) محمد صفدر کا مریم نواز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’وہ (مریم نواز) قومی اور صوبائی اسمبلی دونوں کے لیے انتخابات میں حصہ لیں گی اور آنے والے وقت میں وہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہوں گی۔

    انھوں نے اپنے الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم لیگ کے سنئیر رہنما امیر مقام خیبرپختونخوا کے آئندہ دور میں وزیراعلیٰ ہوں گے۔

    اس سے قبل این اے 15 مانسہرہ سے الیکشن لڑنے والے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا تھا کہ وہ اس بار انتخابات میں حصہ اس لیے نہیں لینا چاہتے کیونکہ وہ سینیٹر بننا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں سینیٹ کے ٹکٹ کے لیے پارٹی کی پیشکش کو کبھی مسترد نہیں کروں گا۔

  2. ماہ رنگ بلوچ: ’ریاست یاد رکھے ہم گرفتاریوں اور تشدد سے کمزور ہوں گے اور نہ ہی جدوجہد سے پیچھے ہٹیں گے‘

  3. بلوچ یکجہتی مارچ: ’گرفتار مظاہرین کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی بڑے پیمانے پر پولیس کے ہاتھوں گرفتاریوں کے بعد ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ تربت سے اسلام آباد پہنچنے والے مظاہرین سے رات گئے مذاکرات ہوئے جس میں انھیں آگاہ کیا گیا کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے باعث قانونی طور پر وہ اسلام آباد میں احتجاج یا اجتماع نہیں کر سکتے لہٰذا وہ ترنول کے قریب جگہ پر دھرنا دے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں تاہم مظاہرین نے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ان مذاکرات سے منسلک انتظامیہ کے افسر کا دعویٰ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کے خلاف آپریشن اس وقت شروع کیا جب مرکزی مارچ سے کچھ آگے موجود مظاہرین کے ایک گروہ، جن کی تعداد دو سو کے قریب تھی، نے پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاؤس جانے کی کوشش کی جس پر انھیں ایوب چوک کے قریب روکا گیا۔

    انتظامیہ اور پولیس کے مطابق مظاہرین کے اس گروہ میں زیادہ تر بلوچ طلبا تھے جو اسلام آباد اور راولپنڈی کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

  4. بلوچ یکجہتی مارچ: مظاہرین کو پیش قدمی سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا

    نامہ نگار بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی پیش قدمی کو اسلام آباد کے ایوب چوک میں روکنے کے لیے پولیس نے مظاہرین پر واٹر کینن کے علاوہ آنسو گیس کا بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے سیکٹر ایف سکس کے مکینوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    مظاہرین پر آنسو گیس شیلنگ کا دفاع کرتے ہوئے مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ اس وقت رات بج چکا تھا اور انھیں معلوم نہیں تھا کہ کتنے مظاہرین ہیں کیونکہ مظاہرین ٹولیوں کی صورت میں مختلف علاقوں میں موجود تھی اس لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر آتشین اسلحے کے استعمال کے دعوؤں میں صداقت نہیں کیونکہ مظاہرین کو روکنے کے لیے جو فورس تعینات کی گئی تھی اس کے پاسآنسو گیس کے شیل اور ڈنڈوں کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔

  5. بلوچ یکجہتی مارچ: ’ہم گرفتاریوں اور تشدد سے کمزور نہیں ہوں گے‘

    بلوچ یکجہتی مارچ کی قیادت کرنے والوں میں سے ایک ماہ رنگ بلوچ نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ انھیں اسلام آباد پولیس نے دیگر خواتین کے ہمراہ گرفتار کر لیا ہے۔

    انھوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’مجھے اسلام آباد پولیس نے کئی خواتین اور مردوں کے ساتھ گرفتار کیا ہے لیکن ریاست کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم آپ کو شکست دیں گے۔‘

    انھوں نے ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ’اس وقت ہم پولیس کے قید میں ہیں۔ ہمارے درجنوں نوجوان انھوں (اسلام آباد پولیس) نے ہم سے پہلے گرفتار کیے ہیں اور عورتوں سمیت کئی نوجوان شدید زخمی ہیں۔ لیکن یہ ریاست یاد رکھے ہم گرفتاریوں اور تشدد سے نہ کمزور ہوں گے اور نہ ہی جدوجہد سے پیچھے ہٹیں گے۔‘

  6. بلوچ یکجہتی مارچ: تربت سے اسلام آباد پہنچنے والے مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج، درجنوں گرفتار, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    لاپتہ افراد کی بازیابی، ماورائے عدالت کارروائیوں کے خاتمے اور بالاچ بلوچ کی ہلاکت پر جوڈیشل انکوائری کے مطالبات کے ساتھ بلوچستان کے علاقے تربت سے وفاقی دارالحکومت اسلام پہنچنے والے بلوچ یکجہتی مارچ کے متعدد شرکا کو اسلام آباد پولیس نے رات گئے گرفتار کر لیا ہے۔ شرکا کی جانب سے پولیس پر ’پُرامن مظاہرین‘ پر تشدد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے ایک افسر کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 226 مظاہرین بشمول خواتین کو چونگی نمبر 26 اور نیشنل پریس کلب کے باہر ہونے والی پولیس کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار شدہ افراد کو تھانہ آبپارہ، تھانہ کوہسار، تھانہ سیکرٹریٹ اور تھانہ مارگلہ منتقل کیا گیا ہے جبکہ خواتین مظاہرین کو ویمن پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا ہے۔

    مارچ کے متعدد شرکا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے پرامن مظاہرین، جو اسلام آباد میں واقع نیشل پریس کلب جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے، پر لاٹھی چارج کیا اور شدید سردی کے موسم میں اُن پر واٹر کینن کی مدد سے پانی پھینکا گیا۔

    یاد رہے کہ اس مظاہروں کا تازہ سلسلہ تربت میں بالاچ بلوچ نامی نوجوان کے مبینہ ماورائے قتل کے واقعے کے بعد 6 دسمبر سے شروع کیا گیا تھا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ بالاچ کو دوران حراست ہلاک کیا گیا، تاہم حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔ سی ٹی ڈی بلوچستان نے اپنے ایک اعلامیے میں اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بالاچ ایک مقابلے کے دوران مارا گیا۔

    بالاچ کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت پر احتجاج کے بعد ناصرف سی ٹی ڈی کے چار اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔اس واقعے کے خلاف بلوچستان کے شہر تربت میں کچھ عرصہ احتجاج کے بعد یہ مارچ چھ دسمبر کو تربت سے اسلام آباد پہنچنے کے لیے روانہ ہوا تھا۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کو مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، بالاچ بلوچ پر سی ٹی ڈی نے جو الزامات لگائے تھے ان کو واپس لیا جائے، بالاچ بلوچ کے قتل کا جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور بلوچستان کے لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس کے خلاف ماورائے عدالت کارروائی کرنے کے بجائے اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    تاہم سرکاری حکام کی جانب سے زیر حراست افراد کے قتل جیسے سنگین الزامات کو متعدد مرتبہ مسترد کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی کا کہنا ہے کہ بالاچ بلوچ کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے تھا اور انھوں نے تخریب کاری کے 11واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا تھا۔

  7. ریڈ زون میں مظاہرین کے داخلے کی کوشش ناکام بنا دی گئی: اسلام آباد پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد میں واقع ایوب چوک کے راستے سے مظاہرین نے ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کی ہے جس کو ناکام بنا دیا گیا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ’مظاہرین میں متعدد نقاب پوش اور ڈنڈا بردار موجود ہیں جن کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا تاکہ کسی قسم کی بدامنی کا خدشہ نہ ہو۔‘

    ’مظاہرین کو ہائی سکیورٹی زون میں داخلے سے روکنے کےلیے غیر مہلک طریقہ اختیار کیا جارہا ہے۔ طاقت کے استعمال سے مکمل گریز کیا گیا ہے۔‘

    پولیس کے مطابق’مظاہرین کا تعلق ایڈوانس گروپ سے ہے۔ اس گروہ میں اسلام آباد کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبا شامل ہیں۔‘

    ترجمان کے مطابق ’بزرگوں ،عورتوں اور بچوں سے گذارش ہے کہ پرتشدد ہجوم کا حصہ نہ بنیں اور کسی کے بہکاوے میں مت آئیں اور کسی بھی ایمرجنسی میں پکار 15 یا آئی سی ٹی 15 ایپ پر اطلاع دیں۔‘

  8. ’26 نمبر چونگی سے موٹر وے آمدورفت متبادل راستے سے کھول دی گئی‘

    اسلام آباد پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 26 نمبر چونگی سے موٹر وے آمدورفت متبادل راستے سے کھول دی گئی ہے۔

    بیان کےمطابق ’مسافروں سے گذارش ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد پولیس سے تعاون کریں۔‘

  9. بلوچ یکجہتی مارچ کو اسلام آباد پریس کلب جانے سے روک دیا گیا، شرکا کا چونگی نمبر 26 پر دھرنا, محمد کاظم/ ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    بلوچستان کے علاقے تربت سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی مارچ کو اسلام آباد پہنچنے پرنیشنل پریس کلب کی جانب جانے سے روک دیا گیا جس کے بعد مارچ کے شرکا نے اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ کے نزدیک چونگی نمبر 26 پر دھرنا دے دیا ہے۔

    یہ مارچ تربت میں مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے چھ دسمبر کو تربت سے روانہ ہوا تھا۔

    لانگ مارچ کے شرکا خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے بدھ کی شام اسلام آباد پہنچے تھے ۔

    لانگ مارچ کے قائدین میں شامل گلزار دوست بلوچ نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ پہلے انھیں پولیس نے اسلام آباد ٹول پلازہ پر روک دیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ٹول پلازہ روکنے کے بعد ان کو چھوڑ دیا گیا لیکن ابھی وہ بمشکل ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے نہیں کرپائے تھے کہ ان کو دوبارہ روک دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد پریس کلب جانا چاہتے ہیں لیکن پولیس ان کو پریس کلب کی جانب نہیں جانے دے رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کو پولیس اہلکاروں نے ہرطرف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج پر امن ہے اور مارچ کے شرکا چاہتے ہیں کہ انھیں اسلام آبا د پریس کلب جانے دیا جائے۔

    مارچ کی قیادت کرنے والی سمی بلوچ نے بی بی سی کے ریاض سہیل کو بتایا کہ پشاور سے آتے ہوئے اسلام آباد ٹول پلازہ پر 26 نمبر چونگی کے مقام پرانھیں روکا گیا ہے۔

    سمی بلوچ نے کہا کہ ’اس وقت چاروں اطراف میں پولیس اہلکار ہیں جبکہ پولیس کی وین پہنچ چکی ہیں تاہم کوئی افسر بات کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہے جبکہ جو اہلکار موجود ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اوپر سے حکم ہے کہ انھیں اسلام آباد داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔‘سمی بلوچ کے مطابق وہ شام چھ بجے سے یہاں موجود ہیں آس پاس میں گاڑیاں بھی جام ہوچکی ہیں لیکن آگے نہیں جانے دیا جارہا ہے۔

    ’ہمارے ساتھ بزرگ اور خواتین بھی ہیں سردی بھی شدید ہیں بشمکل کچھ کمبلوں کا انتظام کیا ہے جبکہ کسی چائے پانی کا انتظام بھی موجود نہیں ہے۔‘

    دوسری جانب یکجہتی مارچ کے رہنما مہربان بلوچ نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ ’وفاق کا پریس کلب ہم بلوچ شہریوں کے لیے بند نہیں ہوسکتا۔

    واضح رہے کہ لانگ مارچ کے شرکا میں تربت میں مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کے لواحقین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ شامل ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

  10. ’شادی سے انکار پر‘ بیٹی کے قتل کا الزام، اٹلی میں پاکستانی نژاد والدین کو عمر قید کی سزا

  11. بلوچستان کے عسکریت پسند کمانڈر میر سرفراز بنگلزئی کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ عسکریت پسندی ترک کرنے کا اعلان, محمد کاظم بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے عسکریت پسند کمانڈر میر سرفراز بنگلزئی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ عسکریت پسندی ترک کرنے کا اعلان کیا ہے-

    بُدھ کو بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی اور وزیر داخلہ میر زبیر جمالی کے ہمراہ سول سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’وہ اپنے 70 ساتھیوں کے ہمراہ قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں-‘

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ امن و استحکام ہماری اولین ترجیح ہے،بی این اے کے سربراہ سرفراز بنگلزئی عرف مرید بلوچ کا ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنا پاکستان اور بلوچستان کے لئے خوش آئند پیشرفت ہے۔

    اس موقع پر میر سرفراز بنگلزئی کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے اسپلنجی سے ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ سنہ 1991 سے سنہ 2009 تک محکمہ خوراک میں ملازم تھے اور ایک اچھی اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ تاہم سنہ 2009 میں وہ چند لوگوں کے بہکاوے میں آ کر مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اورانھوں نے اپنے دو بیٹوں سمیت متعدد ساتھیوں کی قربانی دی-

    ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اردگرد نظرڈالی تو دیکھا کہ اس جدوجہد کے نام پر چند لوگ تھے جو عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے جبکہ بعض عناصر بھتہ خوری، منشیات فروشی اور اپنے لوگوں کے قتل میں ملوث تھے۔

    سرفراز بنگلزئی نے بتایا کہ انھوں نے یہ دیکھا کہ بلوچوں کو مروانے کے علاوہ ان کا خون کروایا جارہا ہے، جس میں ان کے بقول انڈیا کا ہاتھ تھا اور بعض دیگر ہمسایہ ممالک بھی اس میں ملوث ہیں-

    ان کا کہنا تھا کہ صرف آواران کے ضلع میں سنہ 2014 میں ایک ہی تنظیم نے 150 بے گناہ بلوچوں کا خون اس لیے کیا کہ انھوں نے بھتہ دینے سے انکار کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ہم نے دیکھا کہ یہاں قوم اور سرزمین کے لیے جنگ نہیں ہو رہی ہے بلکہ چند لوگوں کے ذاتی مفاد کے لیے سب ہو رہا ہے۔ ’اس لیے ہم نے مسلح جدوجہد ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں-‘

  12. ’آپ کی کھڑکی سے میرا صحن نظر آتا ہے۔۔۔‘ وہ شہری جسے اپنے گھر کی کھڑکی کھولنے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑا

  13. فواد چوہدری کا جہلم سے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے جہلم سے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ احتساب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد فواد چوہدری نے کاغذات نامزدگی پر دستخط کر دیے ہیں جبکہ اپنے انتخابی امور کو سر انجام دینے کے لیے اپنے بھائی فراز احمد کو مختار خاص مقرر کر دیا ہے۔

    احتساب عدالت میں پیشی کے دوران سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے جیل کے اندر سے الیکشن لڑنے کے حوالے مناسب احکامات کے لیے درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا کہ ’میں جوڈیشل کسٹڈی پر سنٹرل اڈیالہ جیل میں ہوں، الیکشن کے امیدوار کے لیے الیکشن کمیشن میں کاغذات جمع کروانے ہیں اس حوالے سے سٹام پیپر کے اجرا اور دیگر امور کے لیے اپنے بھائی فراز احمد کو پاور آف اٹارنی مقرر کرنا چاہتا ہوں۔‘

    عدالت نے فواد چوہدری کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کے کاغذات نامزدگی پر درخواست کی اجازت دی، جس کے بعد کمرہ عدالت میں فواد چوہدری نے سٹامپ پیپرز اور دوسرے کاغذات پر دستخط کیے۔

    فواد چوہدری نے کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہلم کی دونوں سیٹوں سے الیکشن لڑوں گا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو نامزد نہیں کیا اگر الیکشن نہ لڑسکا تو گھر کے بڑے چودہدری شہباز ہیں، وہی فیصلہ کریں گے۔

    انھوں نے واضح کیا کہ ان کی اہلیہ حبا فواد چوہدری اور بھائی فیصل چوہدری ایڈووکیٹ صرف ان کی الیکشن مہم چلائیں گے۔

  14. ’سکندر اعظم کے دور کی سڑک‘ کشادہ کرنے پر فواد چوہدری نیب کے حوالے

    احتساب عدالت اسلام آباد نے پنڈ دادن خان اور جہلم دو رویہ سڑک کی تعمیر کی زمین خریداری میں خرد برد سے متعلق کیس میں فواد چوہدری کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ نیب کی جانب سے اڈیالہ جیل سے گرفتار فواد چوہدری کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کہ دس نومبر 2023 کو جہلم للہ روڈ کی انکوائری شروع کی تھی لیکن فواد چوہدری نے شامل تفتیش ہونے سے انکار کر دیا اور پھر 19 دسمبر کو وارنٹ کی تعمیل کرائی گئی ہے۔

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فواد چوہدری نے بطور وفاقی وزیر دباؤ ڈال کر کام کرایا اور منصوبے کا پی سی ون تیار کرایا اور ٹھیکے دار سے بھی معاملات کرائے۔

    نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ انکوائری مکمل کرنی ہے، تفتیش اور ریکارڈ بھی حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور شامل تفتیش کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

    نیب نے استدعا کی کہ یہ پہلا جسمانی ریمانڈ ہے لہٰذا چودہ دن کا ریمانڈ دیا جائے۔

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ہم سنہ 2016 سے آپ کے پاس پیش ہو رہے ہیں، ڈیڈھ دو ماہ سے اڈیالہ جیل میں ہوں۔ اینٹی کرپشن کے ریمانڈ بھی بھگتے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ کل پہلی بار وارنٹ سے الزامات کا علم ہوا۔ انھوں نے کہا کہ پراسیکیوشن سے تفتیش میں تعاون نہ کرنے کی بات جھوٹ ہے، میں جیل میں تھا۔

    ان کے مطابق ’سیاست میں دباؤ کی سمجھ نہیں آئی اور میری پوری سیاست عوامی خدمت ہے۔ اگر ہسپتال، سڑک فراہم نہیں کر سکیں تو سیاست کا کیا فائدہ ہے؟‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’ایف ڈبلیو او کے ڈی جی میجر جنرل ہیں، دوسرا نیس پاک اور چیف انجینیئر وغیرہ ہوں گے جو ملزمان میں نہیں ہوں گے۔ مجھے بطور شریک ملزم گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن مرکزی ملزم تو ہیں ہی نہیں۔‘

    ان کے مطابق پرائیویٹ کنٹریکٹر کو کنٹریکٹ دلوایا لیکن کام تو ایف ڈبلیو او نے ہی کیا ہے۔ اگر ایف ڈبلیو او اور نیس پاک کے کام پر اعتراض کریں تو کیا ہوگا۔ اس سڑک پر سات ارب خرچ ہو چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’سڑک پر میری گاڑی نہیں چلنی عوام کی سہولت کے لیے ہے۔‘

    اس موقع پر وکیل صفائی فیصل چوہدری نے کہا کہ استغاثہ نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی رقم وصول کرنی ہے؟ جنھوں نے منصوبہ منظور کیا کیا وہ ملزم ہیں؟

    پرجماسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ آٹھ کنال اراضی اسی وقت خریدی اور ملزم کے نام منتقل ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ملزم پر 50 لاکھ کا الزام ہے۔

    فیصل چوہدری نے کہا کہ سنہ 2022 کا پراجیکٹ ہے اور زمین سنہ 2019 میں خریدی گئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ سکندر اعظم کے زمانے کی سڑک ہے، جو کشادہ کی گئی ہے۔

    تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے پہلے فیصلہ محفوظ کیا اور پھر فواد چوہدری کو دس روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

  15. کیا عمران خان جیل سے الیکشن لڑ سکیں گے اور ماضی میں کن سیاستدانوں نے ایسا کیا؟

  16. آئی ایس آئی اور آئی بی سمیت کسی ادارے یا ایجنسی کو آڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں دی: وفاقی حکومت, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی یا ایف آئی اے اور آئی بی سمیت کسی دوسری سرکاری ادارے یا ایجنسی کو آڈیو ٹیپ کرنے کی اجازت نہیں دی اور اگر کوئی حکومتی ایجنسی بلااجازت اس نوعیت کی ریکارڈنگز کر رہی ہے تو وہ غیر قانونی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے یہ مؤقف سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے درمیان ہونے والی مبینہ ٹیلفونک گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردہ ایک درخواست پر سماعت کے دوران اپنایا۔

    اس کیس کی سماعت کرنے والے جج جسٹس بابر ستار نے اٹارنی جنرل کے اس بیان پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی حکومتی نمائندہ آتا ہے وہ کہتا ہے کہ آڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں، تو سوال یہ ہے کہ پھر ایسا کون اور کیوں کر رہا ہے؟ جسٹس ستار کا مزید کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت نے عدالت کو نہیں بتایا تو پھر عدالت نیشنل اور انٹرنیشنل عدالتی معاون مقرر کرے گی تاکہ یہ پتہ لگایا جائے کہ ریکارڈنگ کون اور کیوں کر رہا ہے۔

    کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور اعوان نے وزیر اعظم آفس کی رپورٹ پیش کی اور کہا وزیراعظم آفس کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی، ایف آئی اے اور آئی بی سمیت کسی ادارے یا ایجنسی کو آڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے کو پہلے دیکھنا ہے کہ کس نے کال ریکارڈ کی، عدالتی احکامات کے بعد ایف آئی اے ٹیلی کام کمپنیوں کو اس ضمن میں مراسلے لکھ رہا ہے۔ انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف آئی اے کو اُن آئی پی ایڈریسز تک رسائی چاہیے ہو گی۔ اٹارنی جنرل نے بتایا آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رپورٹ لینی پڑے گی تب ہی اس ضمن میں تحقیقات آگے بڑھ سکتی ہیں۔

    اس موقع پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ آئی ایس آئی کہہ رہی ہے کہ آڈیو کہاں سے لیک ہوئی اس کے سورس کا پتہ نہیں چل سکتا۔ عدالت نے پیمرا کے نمائندے سے استفسار کیا کہ انھوں نے آڈیو لیکس نشر کرنے والے ٹی وی چینلز کے خلاف کیا کارروائی کی؟ کیا آپ مؤثر طریقے سے بطور ریگولیٹر کام کر رہے ہیں؟

    اس پر پیمرا کے حکام نے بتایا کہ پرائیویٹ آڈیو لیک کو ٹی وی چینلز نشر نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ معاملہ کونسل آف کمپلینٹ کو بھیجا ہے وہ فیصلہ کریں گے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس بابر ستار نے کہا کیا آپ نے ٹی وی چینلز کو کسی اور کیس میں فوری ہدایات جاری کی ہیں؟

    نہوں نے پیمرا کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ فوری طور پر ایکشن نہیں لے سکتے اور یہ کہ معاملہ پیمرا کونسل آف کمپلینٹ کے پاس جائے گا۔ عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا ایک دفعہ نہیں پورا دن ٹی وی چینلز پر وہ آڈیو لیکس چلتی رہی ہیں۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ٹی وی چینلز ضابطہ اخلاق سے متعلق سیینئر صحافیوں کو بھی عدالتی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    جسٹس بابر ستار نے دوران سماعت عدالتی معاون اعتزاز احسن کو مخاطب کر کے کہا ایک طرف فریڈم آف انفارمیشن اور دوسری طرف پرائیویسی کا معاملہ ہے، کیسے بیلنس ہونا چاہیے، آپ بتائیں کیسے اس کیس کو اب آگے بڑھایا جائے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سیلف ریگولیشنز ہونی چاہییں، یہاں تو آئین پر عمل نہیں کیا جاتا، آئین نے 90 دن میں الیکشن کا کہا عمل نہیں ہوا۔

    عدالت نے پی ٹی اے، ایف آئی اے سمیت دیگر فریقین کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

  17. پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کی نئی حکمت عملی کتنی خطرناک ہے اور کیا طالبان سے ’دوبارہ مذاکرات‘ میں مولانا فضل الرحمان کی ممکنہ موجودگی مسئلے کو حل کر پائے گی؟

  18. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ اور ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں ضمانت بعد از گرفتاری کی سماعت بھی اڈیالہ جیل میں ہو گی۔ سابق خاتون اول بشری بی بی بھی اسی مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت بھی آج اڈیالہ جیل میں ہو گی۔

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ایف آئی اے کے درخواست پر سائفر مقدمے میں ہونے والی کارروائی کو ان کیمرہ ڈکلیر کیا ہوا ہے۔ پراسیکوشن کی جانب سے آج مزید تین گواہوں کو پیش کیا جائے گا جن میں سےدو کا تعلق وزارت خارجہ سے ہے۔

    اس مقدمے میں پراسیکوشن کے 28 گواہان ہیں تاہم پراسیکوٹر ذوالفقار نقوی کے مطابق اس مقدمے میں اٹھارہ گواہان پیش کیے جائیں گے۔ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے اس مقدمے کی سماعت ایک ماہ میں مکمل کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے

    دوسری جانب عمران خان نےسائفر مقدمے کی عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب اج سابق وزیر اعظم کی درخواست پر سماعت کریں گےعدالت نے اس ضمن میں ایف آئی اے اور اس مقدمے کے مدعی اور سابق سیکرٹریداخلہ کو نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کی سربراہی میں ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جیل میں ہونے والے ٹرائل اور مقدمے میں ہونے والی کارروائی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ عدالت کو ازسر عدالتی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر دوبارہ عدالتی کارروائی کے دوران بھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

  19. بریکنگ, نیب نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر کر دیا

    قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصافعمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف احتساب عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس دائر کردیا ہے۔

    نیب ریفرنس کے مطابق وزارت عظمیٰ کے دوران بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو 108 تحائف ملے اور انھوں نے 58 تحائف کم مالیت ظاہر کر کے 14 کروڑ روپے میں اپنے پاس رکھ لیے جس کی وجہ سے ملزمان توشہ خانہ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے

    نیب پراسیکیوٹر سہیل عارف نے تفتیشی افسران کے ہمراہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف احتساب عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس دائر کیا۔

    ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ 108 میں سے بانی پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی نے 14 کروڑ روپے مالیت کے 58 تحائف اپنے پاس رکھے۔ تحائف کم مالیت ظاہر کرکے اپنے پاس رکھے گئے۔اس ریفرنس کے دوران تفتیش معلوم ہوا کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو سعودی ولی عہد سے جیولری سیٹ تحفے میں ملا جو توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کروایا۔ سعودی ولی عہد سے ملنے والا جیولری سیٹ انتہائی کم رقم کے عوض رکھا گیا۔ بشریٰ بی بی، بانی پی ٹی آئی نے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے جیولری سیٹ کی من پسند قیمت لگوائی۔

    توشہ خانہ قوانین کے مطابق تمام تحائف توشہ خانہ میں رپورٹ کرنے لازم ہیں، جیولری سیٹ ملٹری سیکرٹری کے ذریعے توشہ خانہ میں رپورٹ تو ہوا لیکن جمع نہیں کروایاگیا۔

    ریفرنس کے مطابق ملزمان تحائف توشہ خانہ میں جمع کروانے کے پابند تھے تاہم انھوں نے ایسا نہ کر کے توشہ خانہ قوانین کی خلاف وزری کی۔

    نیب کے ایک اہلکار کے مطابق جیولری سیٹ کی قیمت کا تخمینہ لگانے والے صہیب عباسی وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ دباؤ میں آکر جیولری سیٹ کی کم قیمت لگائی۔

    واضح رہے کہاس ریفرنس کی تیاری میں صہیب عباسی کی خدمات پرائیوٹ طور پر لی گئی تھیں

    دوسری طرف توشہ خانہ کیس میں بشری بی بی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی اور اسی مقدمے میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر ہیںعدالت نے گزشتہ سماعت پر عمران خان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کردی تھی

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو آج احتساب عدالت میںپیش کیے جانے کا امکان ہےفواد چوہدری کے خلاف پینڈ دادن خان میں سفری کی تعمیر میں دیے گئے ٹھیکے میں مبینہ طور پر کرپشن کا الزام ہے۔

  20. لاہور بار کا ملک میں بروقت انتخابات یقینی بنانے کا مطالبہ

    لاہور بار نے بھی ملک میں بروقت انتخابات یقینی بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    لاہور بار کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے یکساں موقع فراہم کیے جائیں، ملک میں الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنا کر کسی بھی بحران یا غیر یقینی صورتحال سے بچا جاسکتا ہے۔

    لاہور بار نے مزید کہا کہ آٹھ فروری 2024ء کو منصفانہ صاف اور غیر جانبدار انداز میں الیکشن کروایا جائے، چیف الیکشن کمشنر کی تبدیلی دیگر تضادات کی افواہوں کے ذریعے عام انتخابات کے التواء کی خبریں ملک کے خلاف سنگین سازش ہیں۔