نگران حکومت کا بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی رہائی کا دعویٰ، خواتین کو زبردستی کوئٹہ بھیجنے کی اطلاعات

نگران حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی مارچ میں شامل تمام گرفتار خواتین اور جن افراد کی شناخت ہو چکی ہے، انھیں رہا کر دیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اہلکار خواتین کو زبردستی بسوں میں دھکیل کر واپس کوئٹہ بھیج رہے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار: الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان کے لیے نااہل قرار دے دیا

  2. بلوچ یکجہتی مارچ میں شامل جن افراد کی شناخت ہوئی انھیں رہا کر دیا گیا: نگران حکومت

    نگران حکومت

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    نگران حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی مارچ میں شامل تمام گرفتار خواتین اور جن افراد کی شناخت ہو چکی ہے، انھیں رہا کر دیا گیا ہے تاہم جن کی شناخت نہیں ہوئی وہ تحویل میں ہیں، ان کے حوالے سے جمعے کو عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔

    ان خیالات کا اظہار نگران وفاقی وزرا مرتضیٰ سولنگی، فواد حسن فواد اور جمال شاہ نے جمعرات کو اسلام آباد انتظامیہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ’وزیراعظم نے مظاہرین سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے مظاہرین سے ملاقات کی، حکومت کی طرف سے فواد حسن فواد نے مظاہرین سے مذاکرات کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی فوری رہائی کے لیے کمیٹی نے اقدامات اٹھائے جبکہ مظاہرین کے دیرینہ مسائل کے حوالے سے کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر اور کمیٹی کے رکن فواد حسن فواد نے کہا کہ بلوچستان سے آئے مظاہرین کو ایچ نائن اور پھر ایف نائن پارک میں جگہ دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جو لوگ بلوچستان سے آئے، ان کی طرف سے کوئی شر انگیزی نہیں کی گئی، وہ پرامن تھے لیکن کچھ مقامی نقاب پوش افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی اور پتھراؤ کیا۔‘

    اسی دوران وزیراعظم سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی رابطہ کیا اور اس مسئلہ کو فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ کمیٹی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، گرفتار تمام خواتین اور جن افراد کی شناخت ہو گئی تھی، انھیں فوری طور پر رہا کر دیا گیا، صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے آئی جی پولیس اسلام آباد سے کہا ہے کہ وہ گرفتار افراد کی شناخت کا عمل مکمل کریں۔ ان افراد کی تعداد بہت کم ہے، 90 فیصد سے زیادہ گرفتار مرد رہا ہو چکے ہیں۔‘

  3. کوئٹہ یکجہتی مارچ کے شرکا کو بلوچستان واپس بھیجنے کی اطلاعات

    سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ یکجہتی مارچ کی رہا کی جانے والی خواتین کو اہلکار زبردستی بسوں میں دھکیل کر واپس کوئٹہ کی طرف لے جا رہے ہیں۔

    حکام نے ابھی تک اس متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پولیس اہلکار ان خواتین مظاہرین کو کوئٹہ بھجوانے سے متعلق کوئی واضح موقف تو نہیں دے رہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ان خواتین کی ضمانتیں ہو چکی ہیں اور پولیس اور انتظامیہ کے پاس انھیں ٹھہرانے کی جگہ بھی نہیں ہے، اس لیے انھیں کسی دوسری جگہ، جو بلوچستان میں بھی ہو سکتی ہے، میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

  4. اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان میں مظاہرے, محمد کاظم بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Quetta

    ،تصویر کا ذریعہْBBC

    اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام لانگ مارچ کے شرکا کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ بعض مقامات پر شاہراہوں کو بند بھی کیا گیا۔

    کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام سریاب روڈ سے ریلی نکالی گئی، جس کے شرکا شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے ’یونٹی چوک‘ کے مقام پر پہنچ گئے اور وہاں دھرنا دیا۔ شدید سردی میں یونٹی چوک پر یہ دھرنا رات سات بجے تک جاری رہا۔

    شہر میں اس دھرنے کی وجہ سے ریڈ زون کے گردونواح میں ٹریفک کی روانی بُری طرح سے متاثر ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا-

    Gwadar

    ادھر گوادر میں حق دو تحریک کے زیر اہتمام بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ کے شرکا کی گرفتاری اور ان پر تشدد کے خلاف ایک ریلی نکالی گئی جو کہ ملا فاضل چوک پر مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی۔

    ریلی کے شرکا سے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان اور حسین واڈیلہ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

    ان دو شہروں کے علاوہ بلوچستان کے متعدد دیگر شہروں میں مظاہرے کیے گئے جبکہ بعض علاقوں میں قومی شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔

  5. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد، نااہلی برقرار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

    عدالت نے کہا قانون میں سزا معطلی کے آرڈر میں نظر ثانی یا ترمیم کی گنجائش نہیں ہے۔ سزا معطلی درخواست دائر کرتے وقت الیکشن کمیشن کا نااہلی نوٹیفکیشن موجود تھا مگرسزا معطلی کی درخواست میں فیصلہ معطل کرنے کی استدعا ہی نہیں کی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی سزا معطلی کے فیصلے میں ترمیم کر کے ٹرائل کورٹ کا آرڈر معطل کرنے کی استدعا مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا۔

    عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں سزا اور سزا کا فیصلہ معطل کرنے میں فرق بیان کیا ہے، جس کے مطابق سزا کا فیصلہ معطل کرنے کے لیے واضح استدعا کے ساتھ غیر معمولی حالات بیان کرنا ضروری ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے سزا معطلی کی درخواست میں ایسی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔ عدالت نے لکھا کہ عمران خان نے سزا معطلی کی درخواست میں فیصلہ معطل کرنے کی استدعا ہی نہیں کی تھی۔

    سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ سزا معطلی سے فیصلہ معطل نہیں ہوتا۔

    عدالتی حکم میں ترمیم کی بنیادی وجہ بظاہر آٹھ اگست کے الیکشن کمیشن کا نااہلی کا نوٹیفکیشن ہے۔

    عدالت کے علم میں آیا ہے کہ عمران خان نے نااہلی نوٹیفکیشن کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جس پر عدالت نے نوٹس بھی جاری کررکھے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے روبرو سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کا نااہلی نوٹیفکیشن موجود تھا مگر اس کے باوجود سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران کوئی بحث نہیں کی گئی۔

    ضابطہ فوجداری کی سیکشن 426 کے تحت سزا معطلی کی استدعا کی گئی، جسے عدالت نے منظور کیا اور اب ضابطہ فوجداری کی سیکشن 561 سے کے تحت سزا کا فیصلہ معطل کرنے کا غیر معمولی ریلیف مانگا جا رہا ہے۔

  6. گورنر بلوچستان اسلام آباد جا کر بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی رہائی اور بالاچ بلوچ کے قتل پر بات کریں گے، اگر شنوائی نہ ہوئی تو وہ مستعفی ہو جائیں گے: سردار اختر مینگل

    Mengal

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل نے کہا ہے کہ گورنر بلوچستان اسلام آباد جا کر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ کے شرکا کی رہائی اور بالاچ بلوچ کے قتل کے معاملے پر بات کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ان دونوں مسائل پر گورنرکی بات نہیں مانی گئی تو وہ اپنا استعفیٰ دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پرگورنر بلوچستان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    خیال رہے کہ گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ کا تعلق بلوچستان نیشنل پارٹی سے ہے۔ سردار اختر مینگل نے کہا کہ جہاں تک لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے وہ ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن جہاں تک اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ کے شرکا کی رہائی اور تربت میں بالاچ کے قتل کا معاملہ ہے گورنر اسلام آباد جا کر ان مسائل پر بات کریں گے۔

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ گورنر کا استعفیٰ لکھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ہے لیکن گورنر اسلام آباد جائیں گے اور ان دونوں مسائل پر بات کریں گے۔

    بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کی بات نہیں مانی گئی تو وہ وہاں اپنا استعفیٰ دیکر آئیں گے۔

    سردار اختر مینگل نے لانگ مارچ کے شرکا پر تشدد اور ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں شریک بچوں اورخواتین پر تشدد کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ نگراں حکومت انڈر ٹیکر حکومت ہے- کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب یہ قانون کی دھجیاں نہ اڑاتی ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ نہتے اور پر امن لوگوں پر تشدد اور ان کو گرفتار کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا لیکن ہمارے حکمرانوں نے سانحات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ’مسنگ پرسنز‘ کے مسئلے پرروز اول سے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور یہ کہا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے لیکن اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ہے۔

  7. زیر حراست مظاہرین کو جیل بھیج دیا گیا ہے اور کچھ پولیس کی تحویل میں ہیں: آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    بلوچ یکجہتی مارچ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ مارچ کے شرکا کی گرفتاری کے کیس میں آئی جی اسلام آباد عدالت کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آپ نے کچھ لوگ گرفتار کے ہیں۔ کیوں؟ آئی جی پولیس نے کہا 25 دن سے بلوچ احتجاج کر رہے ہیں، انھیں کچھ کہا نہیں گیا مگر کل آٹھ دس گاڑیوں میں مزید شرکا آئے، جن میں سے کچھ مسلح تھے۔ ان کو چھ گھنٹے کچھ نہیں کہا، جب انھوں نے ریڈ زون کی طرف جانے کی کوشش کی اور پولیس پر پتھراو کیا تو پولیس نے مزاحمت کی۔

    اسلام آباد پولیس کے سربراہ اکبر ناصر نے عدالت کو بتایا کہ ’مظاہرین نے چھے گھنٹے تک سٹرک بلاک کیے رکھی جبکہ انھیں کہا گیا تھا کہ وہ ترمولی کے پاس جگہ ہے وہاں پر چلے جائیں مگر انھوں نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سکیورٹی کے حالات کی وجہ سے مظاہرین کو ڈی چوک میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔

    آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کی وجہ سے مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں کوئی خاتون نہیں ہے اور جن خواتین کو حراست میں لیا گیا تھا ان کو رہا کردیا گیا ہے۔

    آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں دو سو پندرہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ ناقابل ضمانت دفعات کے تحت درج ہوئے ہیں؟

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیسے نہتے مظاہرین نے پولیس والوں پر حملہ کیا اور ان سے اشیا بھی چھین لیں۔ انھوں نے کہا کہ کیا بلوچستان سے آئے ہوئے مظاہرین کیا اسلام آباد پولیس پر حملہ کرنے کے لیے آئے تھے۔

    آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ جن ستر خواتین اور بچوں کو حراست میں لیا گیا ان کو رہا کردیا گیا ہے اور جہاں وہ جانا چاہیں گے انھیں وہاں بھیجا جائے گا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ ایسی بے شمار رپورٹ آئی ہیں کہ گرفتاری کے بعد لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ وہ درخواست گزار کی وکیل کے ساتھ تعاون کریں اور ان افراد کے بارے میں معلومات بھی فراہم کرین جنھیں ان مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں زیادہ تر افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ کچھ کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا گیا ہے۔ تاہم عدالت کو یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے لوگ جوڈیشل ریمانڈ ہر ہیں اور کتنے پولیس کی تحویل میں ہیں۔

    عدالت نے اس درخواست کی سماعت جمعے تک کے لیے ملتوی کردی۔ عدالت نے درخواست گزار کی وکیل کو حکم دیا گیا کہ وہ ایس ایس پی انوسٹیگیشن کے ساتھ رابطے میں رہیں کیونکہ انھوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ خواتین گرفتاری کے بعد لاپتہ ہیں۔

  8. توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق عمران خان کی درخواست مسترد کردی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق عمران خان کی سزا مسترد کردی ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے توشہ خانہ معطلی سے متعلق عمران خان کی درخواست پر فیصلہ گیارہ دسمبر کو محفوظ کیا تھا۔

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطل ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق سزا کالعدم قرار دینے کے صورت میں الیکشن میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔

  9. حیرانگی ہے کہ چیف جسٹس نے سائفر مقدمے کو چار ہفتوں میں نمٹانے کی ہدایت کی: جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیا۔

    تاہم عدالت نے سائفر کیس کا ٹرائل فوری روکنے کی استدعا منظور نہیں کی ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں۔ عدالت نے سائفر کیس ٹرائل مکمل کرنے کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے چار ہفتوں کی ڈیڈ لائن پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’چار ہفتوں کا وقت تو ہم عام سے کیسز میں بھی نہیں دیتے۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کا ٹرائل ان کیمرا ڈیکلیئر کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پراسیکیوشن کی درخواست پر عدالت نے ٹرائل ان کیمرہ کرنے کا فیصلہ سنایا اور فیصلے میں لکھا کہ سائفر کیس کی کوریج پر بھی پابندی ہوگی کیونکہ عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ سے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی سائفر کیس کی کارروائی شائع اور نشر کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

    ملزمان کے اہل خانہ کو ٹرائل میں بیٹھنے کی مشروط اجازت ہے لیکن انھیں بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی سے متعلق بات نہیں کرسکتے۔

    عدالت نے استفسار کیا اگر فرد جرم عائد ہوگئی ہے تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ فرد جرم عائد ہو گئی ہے؟ وکیل نے کہا بالکل نہیں، انھیں پابند کیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی نہیں بتا سکتے۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا پراسیکیوشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران خان کے عمل نے سائفر سکیورٹی کو متاثر کیا۔

    انھوں نے یہ الزام تو لگایا مگر کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ سیکیورٹی کیا تھی؟ متعلقہ حکام بتاتے ہیں کہ سائفر کے کوڈز ہر کچھ ماہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے ان کیمرا پروسیڈنگ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا؟ ملزمان پر فرد جرم کب عائد ہوئی؟

    عدالت نے کہا اس کیس میں ایک مسئلہ ہورہا ہے، ٹرائل کوئی وکیل کررہا ہے اور اپیلیں کوئی دوسرا وکیل۔

    جس پر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ پنجوتھہ نامی وکیل یہاں ہیں، یہ ٹرائل کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے 14 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی ہے جبکہ 13 دسمبر کو ان کیمرہ کی درخواست پر 14 دسمبر کے لیے نوٹس ہوا تھا۔

    ڈائریکشن کیس ہونے کے باعث ٹرائل کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت چل رہی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا یہ ڈائریکشن کیس کیسے ہے؟

    سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے سنگل بینچ نے چار ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ڈائریکشن دی، جس پر جج نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا واقعی یہ سچ ہے کہ چار ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے؟ چار ہفتوں کا وقت تو ہم عام سے کیسز میں بھی نہیں دیتے۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سائفر کیس کے ٹرائل پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر رہے ہیں پہلے انھیں سن لیں۔ عدالت ان اس مقدمے کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔’

  10. بلوچ یکجہتی مارچ کے 283 مظاہرین پولیس حراست میں ہیں: اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پولیس نے گذشتہ رات بلوچ یکجہتی مارچ کے 283 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق مظاہرین کو احتجاج کے لیے اسلام آباد کی ایف نائن پارک اور ایچ نائن کی پیشکش کی گئی مگر انھوں نے ڈی چوک جانے کی ضد برقرار رکھی۔

    پولیس کے مطابق یہ شرکا اسلام آباد کے پریس کلب سے دیگر شرکا کے ساتھ ریڈ زون کی طرف جانا چاہتے تھے، جہاں نزدیک ڈپلومیٹک انکلیو، وزرا اور ججز کی رہائش گاہیں ہیں۔

    پولیس کے مطابق جب ان مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا تو پھر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔ پولیس نے اپنی کارروائی کو سیلف ڈیفنس قرار دیا۔

    پولیس کے مطابق مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران چار افراد اور تین پولیس والے معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  11. شیخ رشید کا راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 56 اور 57 سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان انتخابات میں تحریک انصاف نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کمرہ عدالت میں تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ کی موجودگی میں میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پرویز الہیٰ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ تحریک انصاف ان کے مقابلے میں ان دو حلقوں میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔

    ’میں 40 دن کا چلا کاٹ آیا ہو۔ میں نے غداری نہیں کی اور کسی کے خلاف پریس کانفرنس نہیں کی۔ میں قلم دوات کے انتحابی نشان پر میدان میں اتروں گا۔‘

  12. بریکنگ, بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی گرفتاریوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت چار بجے، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر ذاتی حیثیت میں طلب

    بلوچ یکجہتی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے پر گرفتار ہونے والے شرکا کی رہائی کے لیے، لانگ مارچ کے منتظمین کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق آج چار بجے اس درخواست کی سماعت کریں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    لانگ مارچ منتظمین سمی بلوچ اور عبد السلام نے وکیل ایمان مزاری کے ذریعے درخواست دائر کی تھی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تمام احتجاجی مظاہرین کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں، اور احتجاج کے آئینی حق سے روکنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

    لانگ مارچ کے شرکا کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے علاوہ تھانہ ترنول، رمنا، شالیمار، سیکریٹریٹ، ویمن تھانہ، مارگلہ کے ایس ایچ اوز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    لانگ مارچ کے منتظمین کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی جانے والی درخواست میں یونیورسٹی طلبہ سمیت 68 گرفتار مظاہرین کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخلِ دفتر کی جانے والی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’چھ دسمبر کو تربت سے اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ شروع ہوا تھا جو گزشتہ شب اسلام آباد پہنچا، بلوچ جبری لاپتہ افراد کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواستیں زیر التوا ہیں، تاہم بدھ کی شب 86 کے قریب کے لانگ مارچ کے شرکا کو گرفتار کر لیا گیا تھا، ان تمام احتجاجی مظاہرین کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

    دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں، وفاقی دارلحکومت کی انتظامیہ کو لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں کرنے روکا جائے۔

  13. بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا پر پولیس کا کریک ڈاؤن: ’ہمیں اسلام آباد سے کوئی توقع نہیں، اداروں پر بھروسہ نہیں‘

  14. اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف بلوچستان میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ

    اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام مارچ میں شامل مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور مطاہرین کو حراست میں لیے جانے پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

    بلوچستان بار کونسل کے عہدیدار رجب بلیدی نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیے جانے پر بیان میں کہا کہ ’اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے پرامن احتجاجی ریلی پر فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگقابل مذمت ہے۔‘

    بلوچستان بار کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گرفتار خواتین، بچوں، بزرگوں اور طلباء کو فوری طور پر نا صرف رہا کیا جائے بلکہ ان پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔‘

  15. بلوچ یکجہتی مارچ: حراست میں لیے جانے والے مظاہرین کے خلاف مقدمات درج

    اسلام آباد پولیس کے ایک سنئیر اہلکار کے مطابق تھانہ ترنول اور تھانہ کوہسار میں بلوچ مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    بلوچ یکجہتی مارچ کے مظاہرین کے خلاف درج ہونے والے یہ مقدمات دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی، کارِ سرکار میں مداخلت، زبردستی دوکانیں اور سڑکیں بلاک کرنے کے علاوہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ چھیڑ خانی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

    تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او شفقت فیض کے مطابق ’بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے زیادہ کا تعلق انٹرنیشل اسلامی یونیورسٹی سے ہے اور یہ ملزمان وہاں پر زیرِ تعلیم ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ملزمان نے نہ صرف سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا بلکہ وہاں سے گاڑی میں سوار خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے علاوہ ان سے قیمتی اشیا بھی چھینی ہیں۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ شب بلوچستان سے اسلام آباد پہنچنے والے بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کو وفاقی دارلحکومت میں داخل ہونے پر روکنے کی کوشش کے دوران آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں، اس دوران حراست میں لیے جانے والے مظاہرین کو اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں بند کیا گیا۔

  16. ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ایک (سابق ٹویٹر) پر جاری ایک بیان میں ’21 دسمبر کو اسلام آباد میں بلوچ لانگ مارچ کے مظاہرین کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔‘

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مظاہرین کے خلاف واٹر کینن، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا ہے، درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت متعدد دیگر افراد کو ان کی آزادی، سلامتی اور احتجاج کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زخمی کیا گیا ہے۔‘

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ ’ادارہ اپنے اس مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان تمام مظاہرین کو فوری طور پر رہا کرے اور ان کے خلاف صرف اظہار رائے کی آزادی اور احتجاج کے حق کو استعمال کرنے پر لگائے گئے الزامات کو ختم کرے۔‘

    مزید یہ کہ ’تمام ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں بالخصوص بلوچستان میں بین الاقوامی معیار کے مطابق غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ساتھ ہی ماورائے عدالت قتل کے متاثرین اور جبری طور پر لاپتہ ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے۔‘

  17. بلوچ یکجہتی مارچ: مُنتظمین کی جانب سے مظاہرین کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر، فوری سماعت اور کارروائی کی استدعا

    بلوچ یکجہتی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے پر گرفتار ہونے والے شرکا کی رہائی کے لیے، لانگ مارچ کے منتظمین کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ درخواست لانگ مارچ کے منتظمین میں سے سمی بلوچ اور عبدالسلام نے وکیل ایمان مزاری کے ذریعے دائر کی ہے، ساتھ ہی اس معاملے یعنی دائر درخواست پر آج ہی سماعت کی استدعا بھی کی ہے۔

    لانگ مارچ کے شرکا کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے علاوہ تھانہ ترنول، رمنا، شالیمار، سیکریٹریٹ، ویمن تھانہ، مارگلہ کے ایس ایچ اوز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    لانگ مارچ کے منتظمین کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی جانے والی درخواست میں یونیورسٹی طلبہ سمیت 68 گرفتار مظاہرین کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخلِ دفتر کی جانے والی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’چھ دسمبر کو تربت سے اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ شروع ہوا تھا جو گزشتہ شب اسلام آباد پہنچا، بلوچ جبری لاپتہ افراد کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواستیں زیر التوا ہیں، تاہم بدھ کی شب 86 کے قریب کے لانگ مارچ کے شرکا کو گرفتار کر لیا گیا تھا، ان تمام احتجاجی مظاہرین کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔‘

    دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں، وفاقی دارلحکومت کی انتظامیہ کو لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں کرنے روکا جائے۔‘

  18. بانی پاکستان کی پوشیدہ تصویر میں چھپے ہندسے۔۔۔ آپ کے بٹوے میں موجود پانچ ہزار کا نوٹ اصلی ہے یا جعلی؟

  19. لاہور میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پر مبینہ گرینیڈ حملہ، واقعے کی تحقیقات جاری

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہ1122

    لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ریٹائرڈ) ثاقب نثار کے گھر کے گیراج میں گذشتہ شب ہونے والے دھماکے کی تفتیش کا عمل جاری ہے۔

    پولیس کے مطابق دھماکے سے گھر کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور گیراج میں کھڑی دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ دھماکے کے نتیجے میں گھر کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان ثاقب نثار کے گھر کریکر پھینک کر فرار ہوئے۔

    لاہور پولیس نے سابق چیف جسٹس کے ذاتی سکیورٹی گارڈ کی مدعیت میں اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہ1122

    ،تصویر کا کیپشنسابق چیف جسٹس کے گھر پر ہونے والے مبینہ گرینیڈ حملے میں زخمی ہونے والا پولیس اہلکار

    سکیورٹی گارڈ سجاد حُسین شاہ نے پولیس کو بتایا کہ ’ہم گھر کے گیراج میں بیٹھے تھے، اسی دوران گھر کے اندر ایک گرینیڈ آ کر گرا جس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے میں گیراج میں موجود تین گارڈز زخمی ہو گئے۔ دھماکے سے گیراج میں کھڑی دونوں گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور گھر کی چند کھڑکیوں کو بھی نقصان پہنچا۔‘

    ایف آئی آر کے اندراج کے بعد آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس حکام سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ’ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ملک دشمن عناصر کی ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کی مذموم کوشش ہے۔ واقعے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کے امکانات رد نہیں کیے جا سکتے۔‘

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ’جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد پر کام جاری ہے۔‘

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق سابق چیف جسٹس کے اہلخانہ اس واقعے میں مکمل محفوظ رہے جبکہ گھر کی سکیورٹی پر تعینات پولیس کانسٹیبل عامر اور کانسٹیبل خرم معمولی زخمی ہوئے ہیں جب کا علاج جاری ہے۔