پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار: الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان کے لیے نااہل قرار دے دیا

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کروانے میں ناکام رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عام انتخابات 2024: مخصوص نشتتوں سمیت 28 ہزار 626 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، الیکشن کمیشن

  2. پی ٹی آئی رہنماؤں کی ہراساں کیے جانے کی شکایات: ’کاغذات نامزدگی جمع کروائے تو وہاں لے جائیں گے جہاں جانے والے نامعلوم کہلاتے ہیں‘

  3. الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کریں گے، انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے: بیرسٹر گوہر

    ECP

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان انتخابات کو کالعدم قرار دیا اور اس جماعت سے انتخابی بلے کا نشان واپس لے لیا ہے۔

    اس فیصلے کے بعد اب بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے چیئرمین نہیں رہے اور بلا تحریک انصاف کا انتخابی نشان بھی نہیں رہا ہے۔ بیرسٹر گوہر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے تحت پی ٹی آئی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ذاتیات پر مبنی ہے اور الیکشن کمیشن نے کسی قانون کا حوالہ نہیں دیا کہ آخر کس قانون یا ضابطے کے تحت یہ انٹرا پارٹی انتخابات درست نہیں تھے۔ ان کے مطابق اس وقت الیکشن کمیشن میں 175 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں مگر صرف تحریک انصاف کے ہی انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ سنایا گیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا بلے کا نشان واپس لینے سے اب ووٹر کو اب تحریک انصاف کے امیدوار کو ووٹ دینے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ان کے مطابق انتخابی نشان کو گھر گھر تک پہنچانا آزاد امیدوار کے لیے بڑا چیلنج ہوتا ہے اور اگر انتخابی نشان نہ ہو تو پھر قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے 227 مخصوص نشستوں کے لیے بھی اہل نہیں سمجھا جاتا یوں سینیٹ جیسے انتخابات میں بھی ایک جماعت کا رول ختم ہوجاتا ہے۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے خلاف فیصلے پر فیصلے سنا رہا ہے جبکہ عدالتیں تنکیکی معاملات دیکھنا شروع کر دیتی ہیں۔

  4. بریکنگ, الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان انتخابات کو کالعدم قرار دیا اور اس جماعت سے انتخابی بلے کا نشان واپس لے لیا ہے۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں پر دو روز پہلے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا۔

    قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ انتخابی شیڈول کے مطابق الیکشن کمیشن 10 جنوری تک سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ کرے گا۔

  5. اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں 50 بلوچ خواتین رہا، ’کسی پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا‘ ترجمان اسلام آباد پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں 50 بلوچ خواتین کو رہا کر دیا ہے جن میں بلوچوں کے تحفظ کی سرگرم رکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں۔

    اس سے پہلے جمعرات کے روز اسلام آباد پولیس کے سربراہ اکبر ناصر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے پاس کوئی بھی خاتون قید میں نہیں اور سب کو رہا کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کی شب اسلام آباد پولیس کی جانب سے دو بڑی گاڑیاں وویمن پولیس سٹیشن بھجوائی گئی تھیں جہاں پر قید خواتین اور بچوں کو زبردستی اس میں بیٹھا کر واپس بلوچستان بھیجنے کی کوشش کی گئی لیکن ان مظاہرین نے بسوں میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔

    بلوچ سماجی کارکن سائرہ بلوچ بھی ان خواتین میں شامل تھیں، جنھیں وویمن پولیس سٹیشن میں بند کیا گیا تھا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تھانے کے اندر بھی انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تشدد کا نشانہ بنانے والوں میں مرد پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس حکام انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر آپ لوگ واپس نہ گئے تو آپ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

    ان الزامات کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا اور بعض افراد منفی پراپیگنڈہ اور سستی شہرت کے لیے جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے بیان کے مطابق مظاہرین کو پولیس نے اپنی حفاظت میں ان کی مرضی کے مقام پر روانہ کیا۔

    دوسری جانب سائرہ بلوچ نے کہا کہ خواتین کو رہا کرنے کے بعد وہ خواتین ابھی بھی اسلام آباد میں ہی ہیں اور سنیچر کے روز وہ دوبارہ نیشنل پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاجی کمیپ بھی لگائیں گے۔

  6. ہائیکورٹ نے غیرمناسب فیصلہ دیا، سائفر مقدمے میں عمران خان کے خلاف ابھی تک کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں: سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف سائفر مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست منظور کرنے کے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ’ہائی کورٹ نے حقائق کا جائزہ لینے کے باوجود ایک غیرمنصفانہ فیصلہ دیا ہے‘

    سائفر مقدمے میں ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے اور ہمیں عمران خان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں کہ انھوں نے یہ اطلاعات مجرمانہ ارادے یا بیرون کسی فائدے کے لیے عام کیں۔‘

    تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ضمانت کا مقدمہ ہے اور اس میں ابھی تفتیش ہونا باقی ہے اس لیے صرف اس حد یہ سپریم کورٹ اس نتیجے تک پہنچی ہے کہ ابھی تک دستیاب ریکارڈ ر ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن کی بنیاد پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کی جا سکے۔

    یہ فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے اور جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’عمران خان اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے خواہشمند امیدواران ہیں۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ ’عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’انتخابات کی گذشتہ سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور شاہ محمود قریشی اعلیٰ عہدے پر ہیں، ملک میں حقیقی انتخابات کے لیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے۔‘

  7. انتخابی پروگرام میں خلل ڈالے بغیر الیکشن کمیشن تحریک انصاف کی شکایات کا ازالہ کرے: سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ پی ٹی آئی کی لیول پلیئنگ فیلڈ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’انتخابی پروگرام میں خلل ڈالے بغیر الیکشن کمیشن شکایات دور کرے۔‘

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ الیکشن کمیشن صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی نہیں بنا رہا ہے۔

    درخواست گزار نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کو روکا اور ڈرایا جا رہا ہے اور ان سے کاغذات چھینے جا رہے ہیں جو صاف اور شفاف انتخابات کی نفی ہے۔

    عدالت نے لکھا کہ ’ایمانداری سے منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں اور صحت مند مقابلے کے لیے برابری کا میدان ضروری ہے۔‘

    عدالت نے قرار دیا ہے کہ ’انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہیے۔‘

    فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے، الیکشن کمیشن جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے۔ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کی پابند ہیں۔

    انتخابات جمہوری اصولوں کے مطابق کرائے جائیں جو اثر و رسوخ اور جبر سے پاک ہوں۔

    الیکشن کمیشن یقینی بنائے تمام جماعتوں کو انتخابی عمل میں مساوی مواقع ملیں۔ جمہوریت کی کامیابی کے لیے ووٹرز کو انتخابی عمل پر اعتماد ہونا چاہیے۔

    عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایات دیں کہ وہ آج ہی تحریک انصاف کے وفد سے ملاقات کرے اور ان کے تحفظات دور کرے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد تحریک انصاف کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن میں جا کر وہاں حکام سے ملاقات کی اور اپنے تحفظات سے انھیں آگاہ کیا۔

  8. سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد تحریک انصاف کی کے وفد کی الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں تحریک انصاف کے وفد نے الیکشن کمیشن حکام سے انتخابات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے اور اپنی جماعت کے خلاف کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    تحریک انصاف کے وفد میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی اورعلی بخاری سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست نمٹاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کا حکم دیا تھا۔

    تحریک انصاف کی ایک درخواست پر دوران سماعت سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن بھی دی تھی کہ بظاہر تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی جا رہی ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے حکام اور حکومت کو تحریک انصاف کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  9. سیاسی رہنماؤں میں سے کون کہاں سے انتخابات میں حصہ لینے کا خواہاں

    الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد ملک بھر میں انتخابات کے لیے کا غذا ت نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جا ری ہے۔

    سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق سابق وزیراعظم شہبازشریف نے این اے 132 قصورسے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں جبکہ سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے این اے 71، پی پی 46 اور 47 سیالکوٹ سے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

    خیال رہے کہ یہاں خواجہ آصف کا مقابلہ تحریک انصاف کے سابق رہنما عثمان ڈار سے ہوتا تھا۔ اس بار عثمان ڈار کی والدہ نے خواجہ آصف کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے این اے 52 گوجرخان سے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

    سابق چیئرمین ایف آئی اے بشیرمیمن اور ان سیاسی رہنما نصیرمیمن نے این اے 216 اور پی ایس 56 ہالا سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سید خورشید شاہ نے اين اے 206 پنوعاقل سے انتخابات لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

    یوسف رضا گیلانی نے این اے 148 سے جبکہ مسلم لیگ ن کے دور میں وزیر داخلہ کے وزیر چوہدری نثار اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے آزاد امیدوار کی حیثیت میں کاغذات نامزدگی جمع کروادیے ہیں۔

  10. بلوچستان سے آئے مظاہرین سے متعلق کمیٹی آج وزیراعظم سے ملاقات کرے گی: نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی

    SOLANGI

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ مظاہرین کے حوالے سے ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی- بلوچستان سے آئے ہوئے مظاہرین کے مطالبات دیرینہ ہیں-

    ان کے مطابق خواتین اور بچوں کو رہا کر دیا گیا ہے، زیادہ تر مرد حضرات بھی رہا ہو گئے ہیں- کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے، اس وقت گورنر بلوچستان سے آئے ہوئے ہیں-مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ آج وزیراعظم سے اس کمیٹی کی میٹنگ بھی ہے- بلوچستان سے آئے ہوئے خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے-

  11. الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران اور مانیٹرنگ ٹیموں کی تعنیاتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2024 کے لیے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران اور مانیٹرنگ ٹیموں کی تعنیاتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    جمعے کے روز جاری کردہ بیان میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ ٹیمیں انتخابی عمل کے دوران ضابطہ اخلاق اور الیکشن قوانین کی مانیٹرنگ کریں گی۔

    کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران و مانیٹرنگ ٹیمیں تمام اضلاع میں انتخابی عمل اور انتخابی مہم کی کڑی نگرانی کریں گی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق ڈویژنل سطح پر ریجنل مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر بھی تعنیات کر دیے گئے ہیں۔

  12. بلوچ یکہجتی مارچ کیا ہے اور ان کے مطالبات کیا ہیں؟

  13. بظاہر تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے: سپریم کورٹ, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق تحریک انصاف کی شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کر دی ہے۔

    عدالت نے قرار دیا ہے کہ بظاہر تحریک انصاف کا لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے۔ پی ٹی آئی کی لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ کا حصہ تھے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بظاہر لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے۔

    عدالت کے مطابق عثمان ڈار کے گھر جو ہوا وہ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کو کیوں دیوار سے لگایا جا رہا ہے؟

    عدالت کے مطابق سب کے ساتھ یکساں سلوک ہی لیول پلیئنگ فیلڈ ہے۔

    دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن ایم پی او کے آرڈر کیوں نہیں رکوا رہا؟

    ‏سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور حکومت کو تحریک انصاف کی شکایات کے ازالے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے پی ٹی آئی کو آج تین بجے الیکشن کمیشن جانے کی ہدایت کردی۔ اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ بطور سہولت کار اپنا کردار ادا کریں۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ابھی حکمنامہ لکھ کر بھجواتے ہیں تمام شکایات کا جائزہ لیکر حل کریں، جس کے بعد سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی۔

    سپریم کورٹ کی ہدایت پر پی ٹی آئی کا وفد آج تین بجے الیکشن کمیشن جا کر شکایات پیش کرے گا۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے الیکشن کمیشن کے حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایک طرف الیکشن ہو رہا ہے تو دوسری طرف آپ اڈیالہ جیل میں جا کر سماعتیں کر رہے ہیں۔ جسٹس اطہر نے مزید کہا کہ ’یہ آپ کا کنڈکٹ ہے آپ نے الیکشن کرانے ہیں۔ آپ کا کنڈکٹ ثابت کر رہا ہے کہ کوئی لیول پلینگ فیلڈ نہیں ہے۔‘

  14. ‏‏ جنوبی وزیرستان میں زیرِ تعمیر پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ، 5 مزدور ہلاک, عزیز اللہ خان، نامہ نگار بی بی سی اردو، پشاور

    جنوبی وزیرستان میں ایک زیر تعمیر پولیس چوکی کے قریب خیمے میں سوئے ہوئے کم عمر مزدوروں پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس میں کم از کم پانچ مزدور ہلاک اور ایک چوکیدار زخمی ہوا ہے۔

    یہ حملہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جس مقام پر ہوا اُسے ’دزہ غونڈے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ضلعی پولیس آفسر فرمان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مزدور سوئے ہوئے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا ہے۔ ان مزدوروں کی عمریں 17 سے 21 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین سگے بھائی تھے۔ جن کی عمریں 17، 19 اور 21 سال بتائی گئی ہیں۔

    یہ مزدور اس علاقے میں پولیس چوکی تعمیر کرنے کے لیے موجود تھے اور یہ چوکی فرنٹیئر کور کی جانب سے پولیس کے لیے تعمیر کی جا رہی تھی۔ ان کی حفاظت کے لیے صرف ایک چوکیدار حملے کے وقت اُن کے ساتھ موجود تھا جو اس حملے میں زحمی ہوا۔

    یہ علاقے پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے کچھ فاصلے پر واقع ہے اور یہاں اس سے پہلے بھی تشدد کے واقعات پیش آچکے ہیں جن میں اس سال نومبر میں قبائلی رہنما ملک نور اسلم پر حملہ اور اس سے پہلے فائرنگ اور دھماکوں کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

  15. بریکنگ, سائفر کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہge

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کرلی ہے۔

    عدالت نے ملزمان کو دس دس لاکھ روپے کے ضمانتیں مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کے خلاف جتنے بھی کیسز تھے اس میں وہ ضمانت پر ہیں اور ایک سائفر کیس ہی تھا جس میں وہ جیل میں تھے۔

    عمران خان ابھی دو مزید کیسز توشہ خانہ کیس اور ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے کیس میں گرفتار ہیں۔

  16. بریکنگ, سابق وزیراعظم پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں: جسٹس اطہر من اللہ

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوران سماعت قائم قام چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن حکام کو طلب کر لیا۔ الیکشن کمیشن حکام کو پی ٹی آئی کی لیول پلیئنگ فیلڈ کی درخواست کی سماعت کے حوالے سے طلب کیا گیا تھا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’کیا سیکرٹری خارجہ نے وزیراعظم کو بتایا تھا کہ یہ دستاویز پبلک نہیں کرنی؟ سائفر معاملے پر غیرملکی قوت کو کیسے فائدہ پہنچا؟‘

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق تو غیرملکی طاقت کا نقصان ہوا ہے، کیا حکومت 1970 اور 1977 والے حالات چاہتی ہے؟

    نگران حکومت نے آپ کو ضمانت کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے؟ ہر دور میں سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ سابق وزیراعظم کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’اس وقت سوال عام انتخابات کا ہے، اس وقت چئیرمین پی ٹی آئی نہیں عوام کے حقوق کا معاملہ ہے، عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سابق وزیراعظم پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں۔‘

    ‏سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے لکھے فیصلے پر سپریم کورٹ حیرانگی کا اظہار کیا۔

    جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے کہ ’ہائیکورٹ نے تو مگر ماشا اللہ کیس کا ہی فیصلہ کر دیا، ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد تو صرف رسی دینا باقی رہ گیا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’اگر سائفر گم ہو گیا تھا تو سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں میں شہباز شریف نے کیوں نہیں بتایا؟ شہباز شریف نے کس دستاویز پر سلامتی کونسل کا اجلاس کیا تھا؟‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اس معاملے پر ’ایک ماہ اعظم خان کیوں خاموش رہے؟ قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گیا تھا؟‘

  17. سائفر کیس میں ضمانت پر سماعت: سابق وزیراعظم ریاستی دشمن نہیں بلکہ سیاسی دشمن ہیں، سلمان صفدر

    سپریم کورٹ میں سائفر کیس کے حوالے سے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت سے متعلق سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا کہ ’سابق وزیراعظم کی چالیس مقدمات میں ضمانت قبل ازگرفتاری منظور ہوچکی ہے، کسی بھی سیاسی لیڈر کیخلاف ایک شہر میں چالیس مقدمات درج نہیں ہوئے، جس انداز میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مقدمات درج کر رہے ہیں اسے رکنا چاہیے، سابق وزیراعظم ریاستی دشمن نہیں بلکہ سیاسی دشمن ہیں‘۔

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’سابق وزیراعظم نے خط کے مندرجات کسی سے شیئر نہیں کیے، امریکی سفیر کو بلا کر کیا گیا احتجاج غلط ہے یا پھر سائفر کا مقدمہ۔ شہباز شریف نے بھی سابق وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والی قومی سلامتی کونسل کے نکات کی توثیق کی تھی۔ ‘

    شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’شاہ محمود قریشی پر نہ سائفر رکھنے کا الزام ہے نہ ہی کسی سے شیئر کرنے کا، شاہ محمود قریشی پر واحد الزام تقریر کا ہے جس کا جائزہ عدالت پہلے ہی لے چکی ہے، شاہ محمود قریشی دس دن ریمانڈ پر رہے، کوئی برآمدگی نہیں ہوئی۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا شاہ محمود قریشی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں؟ اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ شاہ محمود قریشی آج کاغذات جمع کرائیں گے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینا ہی ضمانت کے لیے اچھی بنیاد ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’ائفر کی ایک ہی اصل کاپی تھی جو دفتر خارجہ میں تھی، سائفر دفتر خارجہ کے پاس ہے تو باہر کیا نکلا ہے؟

    پراسیکویٹر رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’حساس دستاویزات کو ہینڈل کرنے کے لیے رولز موجود ہیں، رولز خفیہ ہیں اس لئے عدالت کی لائبریری میں نہیں ہوں گے۔‘

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفقار کیا کہ ’رولز کیسے خفیہ ہوسکتے ہیں؟ تو پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ’یہ ہدایت نامہ ہے جو صرف سرکار کے پاس ہوتا ہے۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ’جس انداز میں ٹرائل ہو رہا ہے پراسیکیوشن خود رولز کی خلاف ورزی کر رہی ہے، ڈی کوڈ ہونے کے بعد بننے والا پیغام سائفر نہیں ہوسکتا۔‘

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارقنے استفسار کیا کہ سائفر کا مطلب کیا ہے؟

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا سائفر کا مطلب ہی کوڈڈ دستاویز ہے ڈی کوڈ ہونے کے بعد وہ سائفر نہیں رہتا۔

    سائفر جب ڈی کوڈ ہوگیا تو سائفر نہیں رہا، قائمقام چیف جسٹس سردار طارق

    جسٹس اطہر من اللہ نے دریافت کیا کہ ’ کیا سیکرٹری خارجہ نے وزیراعظم کو بتایا تھا کہ یہ دستاویز پبلک نہیں کرنی؟ تفتیشی افسر کو سیکرٹری خارجہ کے بیان میں کیا لکھا ہے؟

    پراسیکویٹر رضوان عباسی نے وتایا کہ ’سیکرٹری خارجہ نے میٹنگ میں یہ بات کہی تھی۔‘

  18. اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان میں مظاہرے اور ریلیاں

    احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہZahid Hussain

    اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام لانگ مارچ کے شرکا پر تشدد اور ان کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جمعہ کو دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوںمیں لانگ مارچ کے شرکا کی گرفتاری اور ان پر تشدد کے خلاف آج شٹرڈائوں ہڑتال بھی کی جارہی ہے۔

    شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کی کال بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دی تھی جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی تھی۔

    اجتجاج

    ،تصویر کا ذریعہZahid Hussain

    شٹرڈائون ہڑتال کی کال کے باعث مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ اس سلسلے میں مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں۔

    اس سلسلے میں ایک بڑی احتجاجی ریلی تربت شہر میں نکالی گئی جہاں سے 6 دسمبر کو اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تھا۔ مقامی صحافی زاہد حسین دشتی کے مطابق اس ریلی میں خواتین بھی شریک تھیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے تمام گرفتار افراد کی رہائی اور لانگ مارچ کے شرکاء کے مطالبات کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  19. ‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس کی سماعت: ’وزیر خارجہ خود سمجھدار تھے کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں، لیکن عمران کو پھنسا دیا‘

    سائفر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے پریڈ گراونڈ میں 27 مارچ 2022 کے جلسے میں شاہ محمود قریشی کی تقریر پڑھ کر سُنائی، کہا ’شاہ محمود قریشی نے تقریر میں کہا کہ بہت سے راز ہیں لیکن حلف کی وجہ سے پابند ہوں سامنے نہیں رکھ سکتا۔‘

    اس پر قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق نے کہا ’وزیر خارجہ خود سمجھدار تھے سمجھتے تھے کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں، وزیر خارجہ نے سائفر کا کہا کہ بتا نہیں سکتا اور عمران کو پھنسا دیا، خود بچ گئے اور عمران کو کہا کہ سائفر پڑھ دو۔‘

    اس پر عمران حان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ’عمران خان نے بھی پبلک سے کچھ شئیر نہیں کیا تھا، نا ایسا کوئی جرم کیا کہ سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد کی جائیں۔‘

    عمران خان کیے وکیل سلمان صفدر نہ دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’‏آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا دائرہ وسیع کر کے سابق وزیرِ اعظم پر لاگو کیا گیا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ افواج پاکستان کے حوالے سے ہے جو ملکی دفاع سے جڑا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائفر کا مقدمہ بنا ہے، ماضی میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ سابق فوجی افسران پر لگا جنھوں نے حساس معلومات دشمن ممالک کو دیں۔‘

    ‏اُ% کا مزید کہنا تھا کہ ’وزارت خارجہ کے اپنے پروٹوکولز ہیں، اس قانون کا اطلاق کہوٹہ پلانٹ کی تصاویر دشمن ملک کے ساتھ شیئر کرنے پر ہوتا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ سو سال پرانا قانون ہے جو سنگین جرائم کے کیسز میں استعمال ہوتا ہے، یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جو کہ سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف بنایا گیا۔‘

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، رانا ثناء اللہ نے بطور وزیر داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا۔‘