سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے
معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لے لیا ہے۔ سپریم
کورٹ نے نوٹس میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں لیا۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل
اورتمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس
جاری کردیے ہیں۔
سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کی
مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا
دیا گیا ہے اور کمیٹی طے کرے گی لارجر بنچ پانچ رکنی ہوگا یا سات رکنی۔ پریکٹس اینڈ
پروسیجر ایکٹ کے بعد آئینی معاملات کی سماعت کم از کم پانچ رکنی لارجر بینچ کرے
گا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسی کا
کہنا تھا کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں
کیا جائے گا۔ عدالت نے عدالتی حکمنامے کی نقل الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کرنے کا
حکم دیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اس کیس میں فریق بننا
چاہے تو بن سکتی ہے۔
بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ
نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’انتخابات کے حوالے سے کوئی غیر یقینی صورتحال نہیں
اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ سپریم کورٹ کی توہین ہوگی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’موجودہ
کیس 2018 کے انتخابات سے متعلق ہے۔‘
جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست
گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اب نئے انتخابات سر پر ہیں تو یہ قابل سماعت
معاملہ کیسے ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس کا اثر
آئندہ انتخابات پر بھی ہوگا۔
بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی
نے سوال کیا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو نااہل کیوں کیا گیا؟ جس پر درخواست گزار کے
وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں نااہل کیا گیا
اورہائیکورٹ نے 2018 کے انتخابات میں میر
بادشاہ کو لڑنے کی اجازت دے دی۔ انھوں نے کہا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو آرٹیکل 62
ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔ بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ اگر کسی کی
سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا
کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا
جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نیب کیسز میں اگر تاحیات نااہلی کی سخت سزا ہے تو قتل کی صورت میں
کتنی نااہلی ہوگی؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ قتل کے جرم میں سیاستدان کی نااہلی
پانچ سال کی ہوگی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تاحیات
نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کیا کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟ جس پر
عدالت کو بتایا گیا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے
زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ
میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو
چکا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کیں
اور جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئیں تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے
گا۔ انھوں نے کہا کہ ’الیکشن ایکٹ میں آرٹیکل 232 شامل
کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’انتخابات
سر پر ہیں اور ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ
الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ
کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم
اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہوگا۔‘ چیف جسٹس پاکستان
نے سوال کیا کہ سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے
یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟