اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں متعقلہ عدالت کی طرف سے فوجداری کیس میں سزا کے فیصلے کو معطل کرنے کے حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاورق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نےسماعت شروع ہونے سے پہلے ہی سابق وزیر اعظم عمران خان کی بطور رکن اسمبلی نااہلی کا آٹھ اگست کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ 8 اگست کو اپیل اور سزا معطلی درخواست دائر ہوئی اور 28 اگست کو عمران خان کو سزا معطلی کا فیصلہ آیا۔ انھوں نے کہا کہ فیصلے کے ایک ماہ آٹھ دن بعد پانچ اکتوبر کو فیصلہ معطلی کی متفرق درخواست دائر ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ فیصلہ معطل ہو سکتا ہے یا نہیں اس سے متعلق ایک ہی فیصلہ ہے جہاں اس ایشو پر بات کی گئی ہے اور اس کے علاوہ درخواست گزار کی طرف سے جن فیصلوں کے حوالے دیے ان پر میں الگ سے بات کروں گا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 426 میں فیصلہ معطلی کا ذکر نہیں؟ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ضابطہ فوجداری میں فیصلہ سے متعلق الگ سے باب ہے۔ چیف جسٹس عامر فاورق نے استفسار کیا کہ قانون میں سزا معطلی کا جو لکھا گیا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
اس پر امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے سزا معطلی سے فیصلہ معطلی نہیں سکتا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ میں جیل سماعت کے لئے گیا تھا لیکن مجھے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انھوں نے کہا کہ میرا حق ہے کہ میں اپنے کلائنٹ کی طرف سے پیش ہوں۔
سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ مجھے آدھا گھنٹہ جیل کے باہر انتظار کرنا پڑا ہر دفعہ یہی ہوتا ہے۔
بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے متعلقہ کورٹ کے جج کو بتایا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ مجھے اور میرے سٹاف کو روکا گیا میری تضحیک کی گئی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے لاہور ہائیکورٹ میں اسی ریلیف کیلئے درخواست دائر ہونے کا اعتراض اٹھا دیا۔
انھوں نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کے نااہلی نوٹیفیکیشن کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جا چکی ہے اور لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے سماعت کر کے معاملہ پانچ رکنی بینچ کو بھجوا دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس پیشرفت کی وجہ سے اِس عدالت میں یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھیں تو حیرت ہے کہ الیکشن کمیشن اس حد تک جا سکتا ہے۔ انھوں نے کسی ادارے یا شخصیت کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی انا کی تسکین ہو گی بانی چیئرمین پی ٹی آئی پارٹی ہیڈ نہیں رہے۔
سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ انھیں یاد ہےکہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی بھی خواہش تھی نواز شریف، بے نظیر بھٹو پارٹی ہیڈ نہیں ہوں گے اور نواز شریف نے جاوید ہاشمی کو صدر پی پی پی نے مخدوم امین فہیم کو صدر بنایا تھا۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے ہائی کورٹ میں اپنے دلائل میں واضح طور پر کہا تھا کہ سزا کے فیصلے کو بھی معطل کریں۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بات تحریری طور پر درج کرنے سے رہ گئی ہو۔ انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے کیس میں سزا اور فیصلہ معطلی کی بات کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تین سپریم کورٹ کے ججز جنہوں نے فیصلہ دیا تھا، ان تینوں نے چیف جسٹس بننا ہے اور ان ججز نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ سزا کے ساتھ فیصلہ معطلی بھی ہوتی ہے۔
انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ میں ریکارڈ پر کہا تھا کہ سزا کے ساتھ فیصلہ بھی معطل کریں۔
عدالت نے عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔