بھٹو کی پھانسی کا معاملہ سماعت کے لیے مقرر، پانچ سوالات پر مشتمل یہ صدارتی ریفرنس کیا ہے؟

سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے پر صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس ریفرنس میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے اُس بیان کو بنیاد بنایا گیا جس میں اُنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ پر سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کی حکومت کا دباؤ تھا۔

لائیو کوریج

  1. ’بگ باس سب سن رہا ہوتا ہے‘: اسلام آباد ہائیکورٹ کا مبینہ آڈیو لیکس کی کاپی ڈی جی آئی ایس آئی کو بھیجنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے اس درخواست کی کاپی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گیارہ دسمبر تک اپنے تئیں تحقیقات کر کے بتائیں کہ دو افراد کے درمیان ہونے والی نجی گفتگو کس نے لیک کیا۔

    یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر دیا ہے۔

    عدالت نے ایف آئی اے کے حکام کو بھی اس معاملے سے متعلق فرانزک تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے درخواست پر عائد اعتراضات بھی ختم کر دیے اور پیمرا کو حکم دیا ہے کہ ’پیمرا بتائے کہ لوگوں کی نجی گفتگو کیسے ٹی وی چینلز پر نشر ہو رہی ہے؟‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ ’درخواست پر رجسٹرار آفس کا کیا اعتراض ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اعتراض ہے کہ الگ درخواست دائر کریں، متفرق درخواست کیسے کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آڈیو لیکس کیس میں متفرق درخواست دائر ہو سکتی ہے۔ وکیل اور مؤکل کے درمیان گفتگو پر استحقاق ہوتا ہے۔‘

    بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کیا اور کسی ادارے کے سربراہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ’بگ باس سب سن رہا ہوتا ہے آپ کو تو پتا ہونا چاہیے۔‘

    عدالت نے استفسار کیا کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ جس کا درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ سب کو پتا ہے کون ریکارڈ کرتا ہے۔

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ہم مفروضے پر تو نہیں چل سکتے، جس پر سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ میرا نہیں پورے ملک کے وکلاء کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’وکیل موکل سے آزادی سے بات نہ کر سکے تو نظام انصاف کیسے چلے گا۔‘

    بینچ نے استفار کیا کہ ’کیا آڈیو سوشل میڈیا پر آئی ہے؟‘ جس پر بشری بی بی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’آڈیو تمام ٹی وی چینلز نے نشر کی۔‘

    عدالت نے استفسار کیا کہ ’یہ آڈیو سب سے پہلے ٹوئٹر پر آئی یا کہیں اور؟ انھوں نے کہا کہ یہ معلوم ہو جائے ریلیز کہاں ہوئی ہے تو پتا چل سکتا ہے ریکارڈ کس نے کی۔‘

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’پیمرا ویسے تو کسی کا نام لینے پر بھی سکرین بند کر دیتا ہے، اور اس آڈیو کے بعد مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا کہ آپ کا فون محفوظ نہیں۔

    عدالت نے مزید سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

  2. الیکشن سے قبل پاکستان میں 18ویں ترمیم میں تبدیلی کی افواہیں کیوں پھیل رہی ہیں اور اس پر اعتراض کس کو ہے؟

  3. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ: انتخابی فہرستوں کی درستگی تک ملک میں عام انتخابات کے لیے الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکنے کی درخواست پر سماعت آج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج الیکشن کمیشن کو انتخابی فہرستوں کی درستگی تک ملک میں عام انتخابات کے لیے الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکنے کی درخواست پر آج سماعت ہونے جا رہی ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

    گذشتہ روز شہری آفتاب عالم ورک نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن بالخصوص افغان شہریوں کا نادرا ریکارڈ میں اندراج کیا گیا جو انتخابی فہرستوں میں شامل ہیں۔

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل ہونا آئین کی منشا کے خلاف ہے اور ایسے تمام افراد جنھوں نے فراڈ سے قومی شناختی کارڈز بنوائے ہیں ان کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جائیں۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالنے اور پاکستان میں رہنے والے غیر قانونی مہاجرین کے شناختی کارڈز منسوخ یا بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں اور پٹیشن پر فیصلے تک الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کے لیے الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے۔

    خیال رہے کہ نگران حکومت کی جانب سے ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو اپنے ملکوں میں واپس جانے کی پالیسی لائی گئی تھی اور حکومت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ ایسے متعدد افراد کا نادرا ریکارڈ میں اندراج کیا گیا ہے۔

  4. بی بی روشن: چھ گولیاں کھا کر اپنے شوہر اور بچوں کو بچانے والی خاتون، ’لیٹے رہو، بچے سیٹ کے نیچے چھپا دیے ہیں‘

  5. العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس: وہ مقدمہ جس میں نواز شریف تاحال بری نہیں ہو سکے

    nawaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دسمبر 2018 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا تھا اور ساتھ ساتھ تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو بظاہر العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔

    شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔

    البتہ نیب کے وکلا کا کہنا تھا کہ شریفوں کے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کے لیے رقم کہاں سے آئی۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایا لگایا۔

    حسین نواز کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے اوپر رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی۔ ان کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

    اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز کا اصل مالک نواز شریف خود تھے۔

    نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعوی تھا کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ تھے، نہ کہ ان کے بیٹے۔

    واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہی تھی۔

  6. العزیزیہ ریفرنس: اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت آج

    nawaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے سنہ 2018 میں سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت آج ہو گی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی نیب اپیل پر بھی سماعت ہو گی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔ دونوں اپیلوں پر سماعت آج دن دو بجے ہو گی۔

    یاد رہے کہ 24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے رواں سال اکتوبر میں اس سزا کو نواز شریف کی درخواست پر معطل کر دیا گیا تھا۔

    اس مقدمے میں پہلی بار 29 اکتوبر 2019 کو تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد پنجاب کی صوبائی حکومت نے نواز شریف کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد ہی وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔

  7. کراچی میں فرنیچر مارکیٹ میں آگ لگ گئی، ’شاٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ تیسرے درجے کی ہے‘ریسکیو 1122

    کراچی میں اگ

    ،تصویر کا ذریعہScreen Shot

    کراچی کے علاقے عائشہ منزل کے قریب فرنیچر کی دکانوں میں آگ لگ گئی جس نے تیزی سے پھیلتے ہوئے رہائشی عمارت کی بالائی منزلوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

    جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر عابد شیخ نے بتایا ہے کہ ’پوری بلڈنگ اس وقت بھی آگ کی لپیٹ میں ہے اور یہ تیسرے درجے کی آگ ہے۔‘

    ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر کے مطابق ’کوشش ہے کہ اس پر جلد از جلد قابو پایا جا سکے۔ تاہم کیونکہ آگ ممکنہ طور پر شاٹ سرکٹ کے باعث لگی ہے اس لیے اس پر قابو پانے کے لیے کیمیکل اور دیگر زریعوں سے بھی مدد لینا ضروری ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ جس عمارت میں اگ لگی ہے اس کا میزانائن اور گراونڈ فلور کمرشل مقاصد کے لیے استعمال میں تھا جبکہ بقیہ چار منزلوں پر فلیٹ تھے۔‘

    ریسکیو حکام کے مطابق دکان اور بلڈنگ میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے امدادای کاروائیاں جاری ہحں۔ اسنارکل اور فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کی کاروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق آگ نے قریبی دکانوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

  8. بجلی کمپنیوں کی جانب سے بلوں میں وصول کی جانے والی اضافی رقم کیا صارفین کو واپس مل سکتی ہے؟

  9. بریکنگ, نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان 15 سال بعد پہلی ملاقات، انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے درمیان آج ملاقات ہوئی ہے جس میں مُلک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

    نواز شریف بدھ کے روز تقریباً 15سال بعد چوہدری شجاعت سے ملنے ان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 2009 میں چوہدری شجاعت کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے تھے۔

    نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان ملاقات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور آئندہ انتخابات سے متعلق مشاورت کی گئی جب کہ اس دوران چوہدری شجاعت نے مطالبہ کیا کہ جن سیٹوں سے ہمارے لوگ جیتے تھے نہ صرف وہ ہمیں دی جائیں بلکہ گجرات، سیالکوٹ، منڈی بہاؤ الدین اور حافظ آباد میں بھی سیٹیں دی جائیں۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف، مریم نواز، رانا ثنااللہ، ایاز صادق اور اعظم نذیر تارڑ موجود تھے جب کہ چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے ملاقات میں چوہدری سالک حسین، چوہدری شافع حسین، چوہدری وجاہت اور طارق بشیر چیمہ شریک ہوئے۔

  10. ’توہینِ الیکشن کمشن‘ کی سماعت بھی اڈیالہ جیل میں ہو گی

    الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہینِ الیکشن کمیشن کے معاملے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس معاملے کی آئندہ سماعت تیرہ دسمبر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کی جائے گی۔

    اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو اگلے دو روز میں تمام تر انتظامات کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے کا معاملہ ایک سال سے زائد عرصے سے زیرِ سماعت ہےاور سابق وزیر اعظم اس مقدمے میں ایک مرتبہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، دونوں ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بالا وزارت داخلہ کو عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سابق وزیر اعظم کو کمیشن کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکا تھا۔

    ابھی یہ طے نہیں ہے کہ جیل میں ہونے والہ ٹرائیل ان کیمرہ ہوگا یا پبلک اور میڈیا کو یہ کارروائی دیکھنے کے لیے جیل کے اندر جانے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔

    اگلی سماعت تیرہ دسمبر کو ہوگی اس مقدمے میں اسد عمر بھی شامل تھے تاہم انھوں نے پیش ہوکر الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی تھی۔

  11. فوجداری قانون کے تحت اگر ٹرائل دو سال تک مکمل نہ ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار ہے: سپریم کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں ضمانت سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری قانون کے تحت اگر ٹرائل دو سال تک مکمل نہ ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’ضابطہ فوجداری قانون میں ٹرائل میں تاخیر کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جن قانونی وجوہات کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست خارج ہو ان ہی کو بنیاد بنا کر دوبارہ نہیں دی جا سکتی۔

    فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ضمانت کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی جائے تو اسی گراؤنڈ پر دوبارہ نہیں دی جا سکتی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ٹرائل میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت دی جا سکتی ہے۔‘

    یہ فیصلہ قتل کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت نہ ہونے کی درخواست پر دیا گیا ہے اور ملزم کی ضمانت ڈسٹرکٹ کورٹ اور متعلقہ ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم کی دو لاکھ روپے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔

  12. عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے نااہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے نااہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آج درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 21 اکتوبر 2022 کو بطور رکن اسمبلی نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف گذشتہ برس 28 اکتوبر کو ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا ہونے کی وجہ سے اپیل واپس لینے کی درخواست دائر کی تھی۔

    عمران خان نے 18 جنوری کو اپیل واپس لینے کی درخواست دائر کی تھی اور 13 ستمبر کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  13. حق مہر کی ادائیگی میں تاخیر پر شوہر کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کا حق مہر کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق حق مہر کی ادائیگی میں تاخیر پر شوہر کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

    چیف جسٹس فائز عیسی نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں لکھا کہ حق مہر شرعی تقاضہ ہے جس کا تحفظ ملکی قوانین میں بھی موجود ہے لہذا خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نکاح نامے میں حق مہر کی ادائیگی کا وقت مقرر نہ ہو تو بیوی کسی بھی وقت تقاضا کر سکتی ہے۔

  14. پاکستان میں مقیم ہزارہ افغان: ’طالبان ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے، افغانستان میں ہو سکتا ہے موت ہمارا انتظار کر رہی ہو‘

  15. جب انڈیا کے آرمی چیف نے ایک پاکستانی فوجی افسر کو بہادری کا تمغہ دینے کی ’سفارش‘ کی

  16. طورخم کے راستے مزید 1070 افراد کو افغانستان بھیجوا دیا گیا

    افغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ پانچ دسمبر کو بھی غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی انخلا کا سلسلہ جاری رہا اور طورخم کے راستے 1070 افراد افغانستان بھیجے گئے۔

    حکام کے مطابق منگل کے روز 38 افراد کو طورخم باركر کے راستے جلاوطن بھی کیا گیا۔

    مجموعی طور طورخم بارڈر سے 6173 غیرقانونی غیرملکیوں کو جلاوطن کیا گیا۔

    حکام کے مطابق طورخم بارڈر کے راستے اب تک مجموعی طور پر 2 لاکھ 51 ہزار 884 افراد خیبر پختونخوا سے افغانستان بے دخل کیے گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق طورخم سرحد کے علاوہ بھی دیگر مقامات سے افغانستان جانے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    مجموعی طور پر انگور اڈہ بارڈر کے راستے 3538 افراد جبکہ خرلاچی بارڈر سے 698 افراد افغانستان بجھوائےگئے۔

    حکام کے مطابق مجموعمی طور پر خیبر پختونخوا سے 2 لاکھ، 56 ہزار، 121 افراد کو افغانستان بھیجوایا گیا ہے۔

  17. بریکنگ, بجلی تین روپے پانچ پیسے فی یونٹ مہنگی، نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری

    Nepra

    ،تصویر کا ذریعہnepra.gov.pk

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی تین روپے پانچ پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی ہے۔

    نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ دسمبر کے بجلی بلوں میں وصول کیا جائے گا۔

    فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق لائف لائن صارفین اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا۔

  18. منظورپشتین کی گرفتاری اور بلوچستان بدری کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کا کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ

    پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظورپشتین کی گرفتاری اور بلوچستان بدری کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں نے کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    پی ڈی ایم کے کارکن پہلے پریس کلب کوئٹہ کے باہر جمع ہوئے جس کے بعد وہ جلوس کی شکل میں منان چوک گئے جہاں انھوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے منظور پشتین کی گرفتاری اور بلوچستان بدری کی مذمت کرتے ہوئے اسے بلاجواز قرار دیا۔

    انھوں نے منظور پشتین سمیت پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں کے بلوچستان میں داخلے پر پابندی کوانسانی حقوق اور جمہوریت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور ہر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

    درایں اثنا بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منظور پشتین کی گرفتاری اور بلوچستان بدری کی مذمت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ منظور پشتین تربت جانا چاہتے تھے مگرنہ صرف انھیں تربت نہیں جانے دیا گیا بلکہ ان کو بلوچستان سے نکال دیا گیا۔

  19. ’انصاف کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کے سوا چارہ نہیں تھا‘ پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج

    اکبر ایس بابر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی راہنما اکبر شیر بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ طور پر پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق درخواست الیکشن کمشن آف پاکستان میں دائر کردی ہے۔

    اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمشن میں دائر کی جانے والی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو نئے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے۔

    پی ٹی آئی بانی نے الیکشن کمشن سے استدعا کی کہ ’الیکشن کمیشن غیر جانبدار تیسرا فریق مقرر کرے جو پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کی نگرانی کرے، شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کرانے تک انتخابی نشان ’بلا‘ استعمال کرنے سے بھی روکا جائے۔‘

    اکبر ایس بابر نے جو درخواست الیکشن کمشن میں جمع کروائی اُس میں تحریر ہے کہ ’پی ٹی آئی الیکشن محض دکھاوا، فریب اور الیکشن کمیشن کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش تھی، فراڈ انتخابی عمل نے پی ٹی آئی ارکان کو ووٹ دینے اور انتخاب میں حصہ لینے کے حق سے محروم کردیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ 217 کے سیکشن 208 اور ذیلی شق 2 کی خلاف ورزی ہے۔‘

    اکبر ایس بابر نے اپنی درخواست کے ہمراہ وڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائے ہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر کے نام تین صفحات پر مشتمل درخواست میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 208 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

    درخواست میں اکبر ایس بابر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’30 نومبر2023 کو پی ٹی آئی کور کمیٹی کے پریس ریلیز 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا اعلان کیا گیا، اور نیاز اللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا، وفاقی سطح پر کمیشن کے کسی اور عہدیدار کا نام نہیں بتایا گیا، الیکشن قواعد وضوابط، شیڈول، کاغذات نامزدگی کا وقت اور طریقہ کار کا نہیں بتایا گیا۔‘

    درخواست میں مزید لکھا ہے کہ ’کاغذات کی وصولی اور مسترد کرنے کی تاریخ، اپیلوں کی سماعت اور دیگر معاملات کے بار میں کچھ نہیں بتایا گیا۔‘

    اکبر ایس بابر نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’قانون کے مطابق سیاسی جماعت مرکزی عہدیداروں اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کی تازہ ترین فہرست جاری کرنے کی پابند ہے، اس میں کسی تبدیلی کے بارے میں الیکشن کمیشن کو آگاہ کیاجائے گا، اب بھی پی ٹی آئی رکن ہوں، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلہ دے چکے ہیں۔‘

    اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ ’حقیقی جمہوری جماعت بنانے اور نظریاتی رکن کے طور پر پی ٹی آئی کو اپنی زندگی کے بہترین سال دے چکا ہوں، انصاف کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا، سیاسی جماعتیں مستقبل کی سیاسی قیادت کی نرسریاں ہوتی ہیں۔‘

    الیکشن کمشن میں دائر کی جانے والی اکبر ایس بابر کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن ایکٹ2017 اور انتخابی قواعد قانونی فریم ورک کا تقاضا ہے کہ جمہوری انتخابی عمل سے سیاسی جماعتوں میں قیادت منتخب ہو، سیاسی جماعتوں میں جعلی انٹراپارٹی الیکشن کے عمل کو ختم کیا جائے، تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو انتخابی قوانین اور ضابطوں کا پابند بنایاجائے۔‘

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 23 نومبر2023 کو20 دن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

  20. الیکشن کمیشن: عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے سے متعلق درخواست گزار خالد محمود کی طرف سے دائر گئی درخواست پر کیا ہے۔

    عمران خان کے وکیل شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ہم نے انٹر پارٹی انتخابات کا ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کروادیا ہے اور بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے نئے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں اس لیے قانونی طور پر یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے اس لیے اب اس درخواست کو نمٹا دینا چاہیے۔

    انھوں نے بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اس کیس کو چلانا چاہتے ہیں تو پی ٹی آئی کے سابق رکن اکبر ایس بابر پٹیشن دائر کررہے ہیں اس کو بھی ساتھ رکھ لیں۔

    اس پر چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست گزار خالد محمود کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ نئے چئیرمین کے خلاف بھی پٹیشن دائر کرے۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے انٹر پارٹی انتخابات کو کسی نے تسلیم نہیں کیا جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی ممبر اکبر ایس بابر نے بھی انٹر پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کیا۔ انھوں نے بینچ سے استدعا کی کہ وہ آرڈر میں لکھ دیں کہ عمران خان سزا یافتہ ہے اس لیے وہ پارٹی کا کوئی عہدہ رکھ نہیں سکتے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن لڑا ہی نہیں اس میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی اہلیت سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    سماعت کے بعد عمران خان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف درخواست پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک کارکن نے دائر کی ہے جو جلد ختم ہو جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ جب طاقتور حلقے اپ سے ناخوش ہوں اور کوئی سیاسی جماعت اپکا مقابلہ نہ کرسکے تو پھر اس طرح کے ادارے استعمال ہوتے ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے خلاف اداروں کے استعمال کی بدترین مثالیں رقم ہورہی ہیں۔ شعیب شاہین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جس طرح ن لیگ،جے یو آئی اور پیپلزپارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے سب کے سامنے ہیںگ اور پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات نہ مان کر انتخابات کروانے کا کہا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ دہرا معیار نہیں چلے گا اور سب کو ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔