آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تاحیات نا اہلی کیس کی سماعت ’جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟‘

ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے سماعت کی، دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کرتے ہوئے احتساب عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس کیس: ’کیا نیب نے صرف ڈاکیے کا کام کرنا تھا یا اپنا مائنڈ بھی استعمال کرنا تھا؟‘ جسٹس میاں گُل حسن

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایون فیلڈ اور لعزیزیہ سٹل ملز کے مقدمات میں سزاوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’العزیزیہ ریفرنس میں نیب نے سزا بڑھانے کی اپیل دائر کر رکھی ہے، ریفرنس دائر کیے جانے کے وقت نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ میں تھے، اور نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ سے آکر عدالت میں پیش ہوئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف اور مریم نواز کا کوئی وارنٹ گرفتاری کا آرڈر نہیں ٹھا۔‘

    سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ریفرنس دائر ہونے کے بعد اور فرد جرم سے پہلے نواز شریف نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کی، اور سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کہا کہ ہماری کسی بھی ابزرویشن سے اثر انداز ہوئے بغیر فیصلہ دیا جانا چاہیے۔‘

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف بری ہوئے تھے، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیبنے استفسار کیا کہ کیا نیب نے اپیل دائر کی تھی؟ اس پر نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب کی اپیل عدالت میں زیر سماعت ہے۔

    جسٹس میاں گلُ حسن اورنگ زیب نے میاں نوازشریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی، جس پر امجد پرویز کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایک ریفرنس پر فیصلہ سنایا تھا اور فیصلے کے بعد دیگر ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دی تھی، انھوں نے کہا کہ اس عدالت میں درخواست زیرِ سماعت ہونے کے دوران ہی جج محمد بشیر نے کیس سننے سے معذرت کر لی تھی۔

    میاں گل حسن اورنگ زیب نے سوال کیا کہ ’آپ نے تینوں ریفرنسز ایک ساتھ چلانے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی اور جج صاحب نے ایک ریفرنس کو جلدی سے چلایا اور دو پر کارروائی کو روک دیا تھا۔‘

    نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’نیب نے جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنسز دائر کر دیے۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے کہیں اپنا مائنڈ استعمال کرتے ہوئے بھی کچھ کیا؟ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’نیب نے نواز شریف کو ایک ’کال اپ‘ نوٹس بھیجنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا، اور نیب نے ضمنی ریفرنس میں کچھ مزید شواہد ریکارڈ پر لائے،انھوں نے کہا کہ نیب نے میاں نواز شریف کے قوم سے خطاب کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا اور اس کے ساتھ ساتھ نیب نے مریم، حسن اور حسین نواز شریف کے بیانات کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا، اس کے علاوہ نیب نے کیلبری فونٹ سے متعلق ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کا بیان شامل کیا اور نیب نے گواہوں کے بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سوال کیا کہ کیا نیب نے صرف ڈاکیے کا کام کرنا تھا یا اپنا مائنڈ بھی استعمال کرنا تھا؟ انھوں نے نوازُشریف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پوری جے آئی ٹی رپورٹ نیب نے ریفرنس میں شامل کر دی؟

  2. اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت بدھ تک ملتوی

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایون فیلڈ اور لعزیزیہ سٹل ملز کے مقدمات میں سزاوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی، جس میں پیر کے روز ہونے والی سماعت میں نواز سریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے، جس کے بعد عدالت نے عماقت بدھ 29 نومبر تک ملتوی کر دی۔

    میاں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 20 اپریل سنہ 2017 کو پانامہ سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں 5 مئی 2017 کو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، بینچ میں موجود جسٹس میاں گل حسناورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس دائر ہونے سے پہلے کے حقائق اہم ہیں۔‘

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے 10 جولائی 2017 کو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی، جس کے بعد دلائل کے لیے وقت وقت دیا گیا اور 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ دیا جس میں وزیر اعظم پاکستان کو نااہل قرار دیا گیا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ نیب کو بھجوایا گیا تھا یا نیب ریفرنس دائر کرنے کی پابند تھی؟ جس پر نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت دی تھی، اور عدالت نے فیصلے کے چھ ہفتوں میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی اور اس کے ساتھ ساتھاحتساب عدالت کو چھے ماہ میں ان ریفرنس کا فیصلہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔‘

    انہوں نے کہا کہ العزیزیہ میں 7 سال اور ایون فیلڈ میں 10 سال کی سزا ہوئی ہے۔

  3. انسداد دہشت گردی کا مریم اورنگزیب کو نو دسمبر کو گرفتار کر کے عدالت پیش کرنے کا حکم, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے مسلم لیگ ن رہنما مریم اورنگزیب کو نو دسمبر تک گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    انسداد دہشتگردی عدالت کی جج عبہر گل نے عدم پیشی پر مریم اورنگزیب کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او کو وارنٹ کی تکمیلِ کرانے کی ہدایت کر دی۔

    واضح رہے کہ مریم اورنگزیب سمیت دیگر کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو کا مقدمہ پولیس نے درج کر رکھا ہے جس میں جاوید لطیف سمیت دیگر افراد بھی نامزد ہیں۔

  4. سارہ انعام قتل کیس: ملزم شاہنواز امیر کلاشنکوف برآمدگی کیس میں بری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سارہ انعام قتل کے الزام میں گرفتار مرکزی ملزم کیخلاف کلاشنکوف برآمدگی کے مقدمے میں اسلام آباد کی ڈسڑکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے شاہنواز امیر کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کے تحریری فیصلے میں پولیس کی ناقص تفتیش کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ یہ مقدمہ آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت 25 ستمبر 2022 کو تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔

    عدالت نے کلاشنکوف برآمدگی کیس میں ملزم کی رہائی کی روبکار جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ملزم کیخلاف الزام ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور استغاثہ کے شواہد میں ایک سے زائد شکوک وشبہات پائے گئے جس کے بعد شک کا فائدہ ملنا ملزم کا حق ہے۔

    فیصلے کے مطابق کیس کی کمپلینٹ پولیس سٹیشن کو بھجوانے والے کانسٹیبل طارق کو بطور گواہ عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا اور اتنے اہم گواہ کو عدالت میں پیش نہ کرنے کے قانون شہادت کے تحت نتائج ہیں۔

    عدالت کے مطابق کسی پرائیویٹ شخص کو گواہ نہ بنانا بھی ایک اور بڑا سقم ہے۔ واضح رہے کہ سارہ انعام قتل کیس میں دوران تفتیش پولیس نے شاہنواز امیر سے غیر لائسنس یافتہ کلاشنکوف برآمد کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

    یاد رہے کہ ملزم شاہنواز امیر کیخلاف سارہ انعام قتل کیس میں حتمی دلائل جاری ہیں اور ان کے مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا جائے گا۔

  5. ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمات میں احتساب عدالت کی طرف سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی۔

    چیف جسٹس عامر فاورق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ ان اپیلوں کی سماعت کرے گا۔ یہ بینچ قومی احتساب بیورو کی طرف سے ان سزاوں میں اضافہ کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت بھی کرے گا۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے جولائی سنہ 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے میاں نواز شریف کو 10 سال قید اور آٹھ ملین برطانوی پاونڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز کو سات سال قید اور دو ملین برطانوی پاونڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ستمبر سنہ 2022 میں مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی طرف سے ان سزاؤں کیخلاف اپیلوں میں ان دونوں کو اس ریفرنس میں بری کر دیا تھا۔

    اس وقت کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی تھی۔

    العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں اس وقت کے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد نے دسمبر 2018 میں میاں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فیلگ شپ ریفرنس میں بری کر دیا تھا۔

    احتساب عدالت کے جج محمد ارشد کی جولائی سنہ 2019 میں ایک متنازع ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں ان کو مبینہ طور پر یہ کہتے سنا گیا کہ ان پر نواز شریف کو سزا دینے کے لیے دباؤ تھا۔

    ہائیکورٹ کی اجازت سے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی وجہ سے میاں نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں ملنے والی ضمانتیں منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ انھیں اشتہاری بھی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم تقریبا چار سال کے بعد وطن واپس آنے اور متعلقہ عدالت میں پیش ہونے پر عدالت نے گزشتہ ماہ ان کی ضمانتیں بحال کر دیں اور ان کو اشتہاری قرار دینے کا حکم نامہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔

    اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز سابق وزیر اعظم کی طرف سے دائر کی جانے والی ان اپیلوں پر دلائل دیں گے۔ گزشتہ سماعت پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو روزانہ کی بنیاد پر ان اپیلوں کی سماعت کی جائے گی۔

    عدالت نے نیب کے پراسکیورٹر سے جب استفسار کیا کہ انھیں ان اپیلوں پر جواب دینے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا تو نیب کے پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ انھیں مجرم کی طرف سے دائر ان اپیلوں کا جواب دینے کے لیے صرف آدھا گھنٹہ درکار ہوگا۔

    اسلام آباد پولیس نے اس ضمن میں سکیورٹی پلان مرتب کیا ہے اور کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ متعقلہ عدالت میں داخلے کے لیے بھی رجسٹرار آفس سے خصوصی پاس جاری کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف یہ مقدمات پاناما لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد درج کیے گئے تھے اور سپریم کورٹ نے یہ احکامات پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں پر دیے تھے جن میں سے ایک درخواست گزار سابق وزیر اعظم عمران خان بھی تھے۔

  6. ’لفٹ بند جبکہ سیڑھیوں پر آگ لگی تھی‘: کراچی میں آتشزدگی کے بعد محمد عامر نے اپنے بیٹے سمیت 25 افراد کی جان کیسے بچائی

  7. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    یہاں ایک نظر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کی اہم خبروں کے چیدہ چیدہ نکات پر ڈالتے ہیں۔

    • سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی کی مہناس روڈ پر واقع آر جے شاپنگ مال میں سنیچر کے روز آتشزدگی کے واقعے پر پولیس نے عمارت کی تعمیر کی منظوری میں مبینہ غفلت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے سنیچر کو لگنے والی اس آگ سے جھلس کر 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کچھ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
    • پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم عمران خان کو 30 نومبر کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ کاز لسٹ کے مطابق الیکشن کمیشن 30 نومبر کو عمران خان پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ’توہین آمیز‘ بیانات دینے پر فرد جرم عائد کرے گا۔
    • بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ’غیر مُلکی تارکین وطن کو ہر صورت واپس بھیجا جائے گا، اور اب مُلک سے چُن چُن کر غیر قانونی غیر ملکیوں کو نکالا جائے گا۔‘
    • نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو درپیش ’سنجیدہ چیلنجز ہیں، مغربی سرحد پر بدقسمتی سے جو صورتحال بنتی جا رہی ہے وہ لگتا ہے آنے والے دنوں میں مزید خراب ہو گی تاہم امید ہے کہ امید ہے انتخابات وقت پر ہوں گے۔
    • سابق وزیر اعظم نواز شریف العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران آج چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بینچ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہوا ہے۔
    • نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کے دو روزہ سرکاری دورہ پر ابو ظہبی روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النیہان سے ملاقات کریں گے۔ اس دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون اور مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
    • سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف ’ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی رکاوٹ توڑنے اور مختلف ایونٹس کو غلط بیان کرنے‘ کے الزامات پر مبنی اندراج مقدمہ کا کیس ہائیکورٹ کی کاز لسٹ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل 25 نومبر کو رجسڑار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ نے جنرل باجوہ اور فیض حمید سمیت دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست 28 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔
    • سابق صدر آصف علی زرداری نے 2024 کے عام انتخابات سے قبل ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ انتخابی امور اور آئندہ حکومت سازی کے لیے مذاکراتی ٹیمیں تشکیل دے دیں۔ یہ ٹیمیں صوبہ وار سیاسی پارٹیوں سے الگ الگ مذاکرات کریں گی۔
  8. انوار الحق کاکڑ، نواز شریف اور عمران خان آئندہ تین روز میں اسلام آباد کی مختلف عدالتوں میں طلب

    اسلام آباد کی عدالتوں میں رواں ہفتے اہم کیسز سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ موجودہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سمیت دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور عمران خان کو آئندہ 3 روز میں اسلام آباد کی مختلف عدالتوں نے طلب کر رکھا ہے۔

    سابق وزیر اعظم نواز شریف العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران آج چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بینچ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہوا ہے۔

    سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 28 نومبر کو عدالت پیشی کا حکم دے رکھا ہے۔

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو بلوچ طلبہ گمشدگی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے 29 نومبر کو طلب کر رکھا ہے۔

    عدالتی حکم پر جسٹس محسن اختر کیانی کے بینچ میں انھیں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کے دو روزہ سرکاری دورہ پر ابو ظہبی روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النیہان سے ملاقات کریں گے۔ اس دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون اور مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

    عمران خان کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے خلاف اپیل 30 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت کرے گا۔

  9. جنرل باجوہ اور فیض حمید کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست ہائیکورٹ کی کازلسٹ سے منسوخ, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف ’ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی رکاوٹ توڑنے اور مختلف ایونٹس کو غلط بیان کرنے‘ کے الزامات پر مبنی اندراج مقدمہ کا کیس ہائیکورٹ کی کاز لسٹ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    رجسڑار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ نے جنرل باجوہ اور فیض حمید سمیت دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست 28 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کی تھی تاہم اب ہائیکورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق اس کیس کو منسوخ کر کے کاز لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔

    ایک شہری نے جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید و دیگر کے خلاف ایف آئی اے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ اس درخواست پر ہائیکورٹ نے ایف آئی اے، جنرل باجوہ اور فیض حمید کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری عاطف علی کی درخواست پر سماعت کرنا تھی جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس درخواست پر صحافی جاوید چوہدری، شاہد میتلا، پیمرا اور پریس ایسوسی ایشن آف پاکستان کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ درخواست کے مطابق بعض صحافیوں نے ’صرف ویورشپ کے لیے‘ آرٹیکل لکھے جس کا ’سوسائٹی پر منفی اثر ہوا۔‘

    درخواست میں کہا گیا کہ ’آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کریمنل رویہ سامنے آیا، اس لیے مقدمہ اندراج کی درخواست دی۔‘

    درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’کریمنل ایکٹ باجوہ اور فیض حمید کی ملی بھگت سے ہوا۔ ایف آئی اے سخت ایکشن لے۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض قانونی رکاوٹ عبور کر کے سنگین جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔‘

  10. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کے لیے پاکستان کی تازہ صورت حال سے متعلق تمام خبریں شامل کی جاتی ہیں۔

    26 نومبر کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  11. ہنری کسنجر: پاکستان کی وساطت سے سابق امریکی وزیر خارجہ کا خفیہ دورہ چین اور ’نقلی کسنجر‘ کی مری روانگی