العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس کیس: ’کیا نیب نے صرف ڈاکیے کا کام کرنا تھا یا اپنا مائنڈ بھی استعمال کرنا تھا؟‘ جسٹس میاں گُل حسن
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایون فیلڈ اور لعزیزیہ سٹل ملز کے مقدمات میں سزاوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’العزیزیہ ریفرنس میں نیب نے سزا بڑھانے کی اپیل دائر کر رکھی ہے، ریفرنس دائر کیے جانے کے وقت نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ میں تھے، اور نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ سے آکر عدالت میں پیش ہوئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف اور مریم نواز کا کوئی وارنٹ گرفتاری کا آرڈر نہیں ٹھا۔‘
سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ریفرنس دائر ہونے کے بعد اور فرد جرم سے پہلے نواز شریف نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کی، اور سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کہا کہ ہماری کسی بھی ابزرویشن سے اثر انداز ہوئے بغیر فیصلہ دیا جانا چاہیے۔‘
امجد پرویز کا کہنا تھا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف بری ہوئے تھے، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیبنے استفسار کیا کہ کیا نیب نے اپیل دائر کی تھی؟ اس پر نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب کی اپیل عدالت میں زیر سماعت ہے۔
جسٹس میاں گلُ حسن اورنگ زیب نے میاں نوازشریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی، جس پر امجد پرویز کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایک ریفرنس پر فیصلہ سنایا تھا اور فیصلے کے بعد دیگر ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دی تھی، انھوں نے کہا کہ اس عدالت میں درخواست زیرِ سماعت ہونے کے دوران ہی جج محمد بشیر نے کیس سننے سے معذرت کر لی تھی۔
میاں گل حسن اورنگ زیب نے سوال کیا کہ ’آپ نے تینوں ریفرنسز ایک ساتھ چلانے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی اور جج صاحب نے ایک ریفرنس کو جلدی سے چلایا اور دو پر کارروائی کو روک دیا تھا۔‘
نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’نیب نے جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنسز دائر کر دیے۔‘
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے کہیں اپنا مائنڈ استعمال کرتے ہوئے بھی کچھ کیا؟ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’نیب نے نواز شریف کو ایک ’کال اپ‘ نوٹس بھیجنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا، اور نیب نے ضمنی ریفرنس میں کچھ مزید شواہد ریکارڈ پر لائے،انھوں نے کہا کہ نیب نے میاں نواز شریف کے قوم سے خطاب کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا اور اس کے ساتھ ساتھ نیب نے مریم، حسن اور حسین نواز شریف کے بیانات کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا، اس کے علاوہ نیب نے کیلبری فونٹ سے متعلق ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کا بیان شامل کیا اور نیب نے گواہوں کے بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔‘
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سوال کیا کہ کیا نیب نے صرف ڈاکیے کا کام کرنا تھا یا اپنا مائنڈ بھی استعمال کرنا تھا؟ انھوں نے نوازُشریف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پوری جے آئی ٹی رپورٹ نیب نے ریفرنس میں شامل کر دی؟