آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تاحیات نا اہلی کیس کی سماعت ’جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟‘

ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے سماعت کی، دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کرتے ہوئے احتساب عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن: ’عمران خان کی انتخابات سے دستبرداری یا کسی اور رہنما کی نامزدگی کا ہرگز کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا‘

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخاب کے انعقاد کے حوالے سے تمام اہم امور پر غور کا سلسلہ جاری ہے اور چیئرمین عمران خان کی انتخابات سے دستبرداری یا کسی اور رہنما کی نامزدگی کا ہرگز کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    ترجمان پی ٹی آئی رؤف خالد کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد، تاریخ و طریقۂ کار اور امیدواران کے تعین سمیت تمام اہم معاملات پر جوں ہی قیادت کسی نتیجے پر پہنچے گی اسے باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے ہی ایک رہنما کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ پارٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی مشاورت سے انٹرا پارٹی الیکشن یکم دسمبر بروز جمعہ پشاور میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے بلے کے نشان کے لیے تحریک انصاف کو 20 روز کے اندر انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف بیس دن میں جماعتی انتخابات ازسرنو کروانے میں ناکام رہی تو اس صورت میں اسے اپنے انتخابی نشان یعنی بلے سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔

  2. حکومتِ بلوچستان کا بالاچ بلوچ کی ہلاکت اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹریبیونل بنانے کا فیصلہ, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو، کوئٹہ

    حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشن کے مطابق یہ ٹریبیونل سیکریٹری فشریز ڈیپارٹمنٹ عمران گچگی کی سربراہی میں قائم کردیا گیا ہے، جس کے اراکین میں ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر کیچ اور ایس ایس پی گوادر شامل ہیں۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ٹریبیونل 15 دن کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ حکومت بلوچستان کو پیش کرے گا۔

    یاد رہے کہ بالاچ بلوچ کی ہلاکت کا واقعہ 23 نومبر کو تربت پیش آیا تھا جہاں ان کے علاوہ تین دیگر نوجوان بھی مارے گئے تھے۔

    سی ٹی ڈی تربت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بالاچ کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا جنھیں بارود کی برآمدگی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق بالاچ بلوچ کو ان کے ساتھیوں کی نشاندہی کے لیے لے جایا گیا جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

    دوسری جانب بالاچ بلوچ کے لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے بالاچ کو گھر سے جبری طورپر لاپتہ کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ بالاچ کا ماورائے عدالت و قانون قتل کیا گیا ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کادعویٰ ہے کہ بالاچ کے ساتھ مارے جانے والے باقی تین افراد کو بھی جبری طورپر لاپتہ کیاگیا تھا۔

    دوسری جانب بالاچ بلوچ کی لاش کے ہمراہ تربت میں دھرنا چھٹے روز بھی جاری رہا جبکہ واقعے کے خلاف تربت اور گوادر سمیت مکران ڈویژن کے دوسرے شہروں میں شٹرڈائون ہڑتال رہی۔

    تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست بلوچ نے بتایا کہ احتجاج کے چھٹے روز بالاچ کی لاش کی تدفین کا فیصلہ کیا گیا تاہم مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔

  3. ’اُن ججز کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنھوں نے فوجی آمروں کا ساتھ دیا‘ جسٹس اطہر من اللہ

    سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی کے مقدمے میں موت کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے ’ان ججز کا بھی احتساب ہونا چاہیے جنھوں نے ملک میں لگنے والے مارشل لا کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ فوجی آمروں کا بھی ساتھ دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین توڑا، اسمبلیاں توڑی اور پھر اسی عدالت نے راستہ دیا۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’اسی پرویز مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا، اسمبلیاں توڑیں، 12 اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا، مشرف مارشل لاء کو قانونی کہنے والے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کارروائی صرف تین نومبر سن 2007 کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں کو گھروں میں نظر بند کرنےپر کارروائی ہو گی تو فئیر ٹرائل کا سوال اٹھے گا اور کہا جائے گا کہ کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟‘

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سچ بولنا چاہیے، اگر کسی فیصلے کو ختم ہونا ہے تو اسے ہونا چاہیے جس نے مارشل لاء کو راستہ دیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ملک کی تاریخ یہ ہے طاقتور کیخلاف کوئی نہیں بولتا اورکمزور پڑنے پر عاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’وکیل اکر بتائیں کہ آئین توڑنے والے آمروں کی حمایت کرنے والےججوں کی تصویریں یہاں کیوں لگی ہیں اور صرف یہاں بیٹھے جج ہی کیوں پوائنٹ آوٹ کریں، میڈیا بھی زمہ دار ہے ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے، بتائیں نا کتنے صحافی مارشل لاء کےحامی کتنے خلاف تھے؟‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کیخلاف کارروائی شروع ہونے پر اسوقت کی حکومت بھی کارروائی نہیں چاہتی تھی، اس وقت کس کی حکومت تھی؟ جس پر حامد خان نے جواب دیا کہ اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت تھی ۔

    بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’سابق فوجی صدر کو عدالت سے ملنے والی سزا بھی برقرار رہے اور ان کے اہلخانہ کو پینشن بھی ملتی رہیں یہ نہیں ہوگا۔‘

    عدالت نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھاتے ہوئے یہ سوال کیا گیا کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟ کیا سزا برقرار رہنے پر پرویز مشرف کی فیملی کو مراعات دینی چاہیں یا نہیں؟ عدالت نے سماعت 10 جنوری تک ملتوی کردی۔

  4. پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ برقرار ہے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو اسلام آباد

    سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کی طرف سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا چار رکنی لارجربینچ کر رہا ہے۔

    ایک اور درخواست گزار حامد خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے دلائل گزشتہ سماعت پر مکمل ہو چکے تھے اور آج اپنی تحریری معروضات پر جواب جمع کروا رہا ہوں۔

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین نے حامد خان کے دلائل اپنا لئے اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ ’ہمارا موقف ہے کہ خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔‘

    بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ خصوصی عدالت نے آئین شکنی کے مقدمے میں مجرم پرویز مشرف کو کب سزا سنائی اور اس فیصلے کی تاریخ کیا ہے جس پر عدالت کو بتایا کہ خصوصی عدالت نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمےکا فیصلہ سنایا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر کیا ہے؟اور کیا کہیں ذکر ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں تو پھر خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آن فیلڈ ہی ہے۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ جب لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس خصوصی بینچ کی تشکیل سے متعلق فیصلہ دیا تو اس وقت تک خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ سنا چکی تھی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے پر کچھ نہیں کہا توپھر اکیڈمک مشق کی کیا ضرورت تھی؟

    انھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد تو لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست غیر موثر ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کر کے صرف عدالت کی حیثیت پر فیصلہ نہیں دے سکتی تھی اور خصوصی عدالت ایک ریگولیٹ عدالت تھی ہی نہیں وہ تو صرف ایک فیصلے کیلئے قائم کی گئی تھی۔

    بینچ میں موجود جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف بھی سمجھتے تھے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار ہے اس لیے انھوں نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

    چیف جسٹس نے سابق فوجی صدر کے وکیل سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ کیا آپ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بارے میں جانتے ہیں یا نہیں اور اس بارے میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں؟ جس پر پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس سے متعلق کوئی ہدایات نہیں ملیں۔‘

  5. بلال پاشا کی موت: ’بابا میرا دل چاہتا ہے کہ نوکری چھوڑ کر گھر آ جاؤں تاکہ دل بھر کر سو سکوں‘

  6. عدالت کا وقت ضائع کرنے پر بحریہ ٹاؤن 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرے: سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ پر عدالتی وقت ضائع کرنے پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور اسے یہ رقم مستحق افراد کی مفت طبی امداد فراہم کرنے والے ادارے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT)کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کو اس کے قبضے میں موجود اراضی کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے آف پاکستان کے کیے جانے والے سروے کے لیے خرچ کی گئی رقم کے برابر رقم حکومت سندھ کو ادا کرنے کا پابند بھی کیا گیا ہے۔ یہ رقم بھی 10 لاکھ روپے کے برابر ہے۔

    یہ ہدایات سپریم کورٹ کے بحریہ ٹاون ادائیگیوں کے کیس کے 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ میں موجود ہیں جو پیر کی شام جاری کیا گیا تھا۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ سروے آف پاکستان نے زمین کا سروے کیا اور اس کے ڈائریکٹر نے وضاحت کی کہ یہ سروے گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم ریسیورز کا استعمال کرتے ہوئے سائنسی طریقے سے بحریہ ٹاؤن کی اپنی سروے ٹیم کی موجودگی میں کیا گیا تھا جس پر 10 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ اس طرح فراہم کردہ اراضی کی کمی کا افسانہ سروے پورٹ اور بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپنی فائلنگ سے پوری طرح بے نقاب ہو گیا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ ’بدقسمتی ہے سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سے رقم اکاؤنٹ میں بھیجی گئی، سپریم کورٹ غیر ضروری طور پر این سی اے کی پکڑی گئی رقم میں ملوث ہوئی، این سی اے کی ضبط کردہ رقم شاید مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی تھی۔‘

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اقساط کی ادائیگی میں ناکامی پر بحریہ ٹاون نادہندہ قرار دیا گیا تھا، بحریہ ٹاؤن رضامندی معاہدے کے ڈیفالٹ میں ہے، بحریہ ٹاؤن نے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں معاہدے کے مطابق قسطیں ایک عرصے سے جمع نہیں کروائیں، بحریہ ٹاون رضا مندی سے جاری حکم کی بھی نادہندہ ہے۔‘

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رقم رجسٹرار اکاؤنٹ میں رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، رقم سندھ کے لوگوں کی ہے، حکومت سندھ کو بھجوائی جائے۔‘

    بحریہ ٹاؤن ادائیگیوں کے کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے کی تھی۔ اس تین رُکنی بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔

  7. سائفر کیا ہوتا ہے اور عمران خان کے خلاف سائفر کا مقدمہ کیا ہے

    سائفر کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 30 ستمبر 2023 کو عدالت میں چالان جمع کرایا تھا جس میں انھوں نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سائفر کا خفیہ متن افشا کرنے اور سائفر کھو دینے کے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔

    کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس سائفر کوڈڈ زبان میں لکھا جاتا ہے۔ سائفر کو کوڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے۔

    اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں گریڈ 16 کے 100 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جنھیں ’سائفر اسسٹنٹ‘ کہا جاتا ہے۔

    یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف مقدمے میں انھیں سفارتی حساس دستاویز سائفر کو عام کرنے اور حساس دستاویز کو سیاسی مفاد کے لیے اور ملکی اداروں کے خلاف استعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کسائفر کو نہ اپنے پاس رکھ سکتے تھے اور نہ ہی اس میں جو کچھ لکھا گیا تھا اس کو کسی کی ساتھ شئیر کرسکتے تھے اور نہ ہی وہ اس معاملے کو پبلک میں لاکر اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے تھے۔

  8. سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سائفر کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہی ہو گا: خصوصی عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کا سائفر کیس میں جیل میں ٹرائل کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس کی سماعت سننے کے کسی خواہشمند کو نہیں روکا جائے گا۔

    یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے منگل کے روز ہونے والی سماعت کے موقع پر سابق وزیر اعظم عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دے رکھا تھا تاہم سماعت کے آغاز پر استغاثہ کی جانب سے بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر استغاثہ کی جانب سے اڈیالہ جیل کے سپرینٹنڈنٹ کی جانب سے فراہم کردہ ایک رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی گئی۔ تاہم سابق وزیر اعظم کے وکلا نے زور دیا کہ سابق وزیر اعظم کو آج عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔

    اس معاملے پر خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے آج صبح اپنا فیصلہ محفوظ کیا جو دن سوا گیارہ بجے سنایا گیا۔ مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جج نے اڈیالہ جیل کے سپرینٹنڈنٹ کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ سائفر کیس کی سماعت جیل ہی میں ہو گی تاہم اس موقع پر وہ افراد جو اس سماعت کو دیکھنا چاہیں انھیں روکا نہیں جائے گا۔

    خصوصی عدالت کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا کو کو جیل میں ہونے والی ٹرائل کو دیکھنے کی اجازت ہو گی۔

  9. سابق صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی کے مقدمے میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت آج ہوگی

    سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے خصوصی عدالت کی طرف سے آئین شکنی کے مقدمے میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں تین ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے آئین شکنی کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو موت کی سزا سنائی تھی۔

    چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اج سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی اس اپیل کی سماعت کرے گا۔

    سپریم کورٹ میں اس اپیل کی گزشتہ سماعت کے دوران سابق فوجی صدر کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ مرحوم پرویز مشرف کے ورثا اس اپیل کی پیروی نہیں کرنا چاہتے جس پر عدالت نے اپیل کندہ کے وکیل سے کہا تھا کہ وہ سابق فوجی صدر کے ورثا سے کہیں کہ وہ اس ضمن میں ایک بیان حلفی عدالت میں جمع کروائیں اور اس کے علاوہ عدالتی عملہ بھی سابق فوجی صدر کے ورثا کے ساتھ رابطہ کرے گا۔

    جس پرعدالت نے ابزرویشن دی کہ اگر پرویز مشرف کے ورثا اس اپیل کی پیروی نہیں کرنا چاہتے اور اگر عدالت نے ان کی اپیل مسترد کردی تو وہ سابق فوجی صدر کو ملنے والی مراعات اور پینشن سے بھی محروم ہوسکتے ہیں۔

    عدالت آج سپریم کورٹ کے حکم پر سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے لیے تشکیل دینے والی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بھی دائر اپیل کی سماعت کرے گی۔

    یہ اپیل وکلا کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے دائر کی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس خصوصی عدالت کی تشکیل کو ہی غی آئینی قرار دیا تھا جس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی تھی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے اس تین رکنی بینچ میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی بھی شامل تھے جنہیں بعد میں ترقی دیکر سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے اور کونسل نے انھیں اظہار جوہ کا دوسرا نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر رکھا ہے۔

  10. پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس پہلی بار 60 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کئی ہفتوں سے جاری تیزی کا رجحان منگل کے روز بھی جاری رہا اور اب تک انڈیکس میں چھ سو پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس پہلی مرتبہ 60 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر کے 60400 کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس میں دس منٹ کے دوران چھ سو پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ کئی ہفتوں سے تیزی کا رجحان جاری ہے اور ڈیڑھ مہینے میں انڈیکس میں دس ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس اکتوبر کے وسط میں 50 ہزار پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا جو ڈیڑھ مہینے کے عرصے میں 60 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری تیزی کی وجہ پاکستان کے معاشی فرنٹ پر کچھ مثبت پیشرفت رہی جس میں پاکستان سے آئی ایم ایف کے کامیاب مذاکرات رہے جس کے بعد دسمبر میں پاکستان کو ستر کروڑ ڈالر کی قسط وصول ہو گی۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق منگل کے روز سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کئی ارب ڈالر سرمایہ کاری کی مفاہمتی یاداشتیں ہیں جن پر وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے دورہ متحدہ عرب امارات میں دستخط کیے گئے ہیں۔

    ان مفاہمتی یاداشتوں کے تحت متحدہ عرب امارات پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے تجارتی خسارے میں کمی اور ترسیلات زر میں اضافے سے ملک کے بیرونی فنانسنگ کے شعبے میں بہتری کا سٹاک مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔

  11. سائفر کیس: عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کو ’سکیورٹی وجوہات‘ کی بنا پر عدالت میں پیش نہ کیا جا سکا, عدالت نے ملزمان کی پیشی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں آج سائفر کیس میں ملزمان سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو گذشتہ پیشی پر دیے گئے حکم کے باوجود پیش نہیں کیا جا سکا اور جیل حکام نے عدالت کو اس کی وجہ ’سکیورٹی خدشات‘ بتائی ہے۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں سائفر مقدے کی سماعت جج ابوالحسنات ذوالقرنین کر رہے ہیں اور انھوں نے سماعت کے اختتام پر ملزمان کی پیشی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔

    جیل حکام کی جانب سے اس دوران عدالت میں ایک رپورٹ جمع کروائی گئی جس میں کہا گیا کہ ’سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘

    عمران خان کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی انڈر ٹرائل ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب ہم کہتے تھے کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے سکائپ پر حاضری لگا لیں لیکن ہمیں کہا گیا کہ ہر صورت میں عدالت میں پیش ہوں اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ سکیورٹی کی وجہ سے عمران خان کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان کو عدالت میں پیش نہ کر کے نہ صرف اسلام آباد ہائی کورٹ بلکہ خود اسی عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی کیونکہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگلی سماعت پر ملزمان کو پیش کیا جائے۔‘

    اس پر جج ابوالحسنات نے کہا کہ ’جب کہا گیا کہ ملزمان کو ہر حال میں عدالت میں پیش کیا جائے اور یہ حکم ابھی تک برقرار ہے۔

    ’اس مقدمے میں میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے جہاں پر بھی اس مقدمے کی سماعت کر لیں لیکن وہاں پر لوگوں کی رسائی ہونی چاہیے۔‘

    جج ابوالحسنات کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس بارے میں کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے جتنے مرضی نوٹیفکیشن پیش کر دیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایسی جگہ اس مقدمے کی سماعت ہو جہاں پر میڈیا کو بھی آنے کی اجازت ہو۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالت اس ضمن میں جوڈیشل آرڈر بھی جاری کرے گی۔‘

    ایف آئی اے کے وکیل ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا کہ ’عدالت کو اس معاملے کو بھی دیکھنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کو کیوں پیش نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کہاں ہو گی۔ اگر جیل ٹرائل کرنا ہے تو عدالت نے بھی اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔

    اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت وہاں ہو جہاں پر لوگوں کو آنے کا اختیار ہو، تاہم اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی کہ کون کون اس سماعت میں پیش ہو سکتا ہے۔

    اس مقدمے کے ہراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ ’تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عدالت میں جیل حکام نے دستاویزی شواہد کے ساتھ بتایا کہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کر سکتے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عدالت کی کارروائی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا۔‘

    عدالت نے ملزمان کی پیشی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔

  12. عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت آج خصوصی عدالت میں ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت آج اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں ہو گی جس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کریں گے۔

    اس مقدمے کی گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس سے پہلے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوتی تھی اور وفاقی حکومت نے اس کیس کی جیل میں سماعت کا فیصلہ جج کی طرف وزارت قانون کو لکھے گئے خطوط کی روشنی میں کیا تھا۔

    تاہم گذشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت جیل میں کروانے کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس مقدمے میں اب تک ہونے والی کارروائی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی عدالت مقدمے کی سماعت کسی مخصوص جگہ پر کروانے سے متعلق حکومت کو خط نہیں لکھ سکتی بلکہ اس کے بارے میں جوڈیشل آرڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اس کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف عمران خان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے جیل ٹرائل کو قانون کے مطابق قرار دے چکے ہیں۔

    سائفر مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد ہو چکی تھی جبکہ اس کے علاوہ پانچ گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جا چکے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر اس مقدمے میں فرد جرم دوبارہ عائد ہو گی اور استغاثہ کے بیانات کو بھی دوبارہ قلمبند کیا جائے گا۔

    پراسیکوٹر کی طرف سے اس مقدمے کے 27 گواہان کی فہرست متعقلہ عدالت میں پیش کی گئی تھی۔ ان گواہان میں اس وقت کے سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کے نام بھی شامل ہیں۔ اس مقدمے میں زیادہ تر گواہان کا تعلق وزارت خارجہ سے ہے۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری اس وقت ڈالی جب انھیں توشہ خانہ کیس میں متعلقہ عدالت کی طرف سے رواں سال اگست میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور پولیس نے انھیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا تھا جبکہ اس مقدمے کے دوسرے ملزم شاہ محمود قریشی کو بعد میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    سائفر مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے شریک ملزم شاہ محمود قریشی کو دو مرتبہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دیا تھا جبکہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان ایک مرتبہ بھی جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں نہیں رہے۔

    عدالتی احکامات کی روشنی میں ان ملزمان کو آج متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا یا نہیں اس بارے میں اسلام آباد کی ضلعی انتطامیہ کی طرف سے ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا اور اس بارے میں عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل کچھ وکلا کا کہنا ہے کہ انھیں بھی اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ آیا سابق وزیر اعظم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عمران خان میں جیل میں ہونے والی ملاقات کے دوران سابق وزیر اعظم نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ شاید انھیں کھلی عدالت میں پیش نہ کیا جائے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے سائفر مقدمے کے اندراج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے اور جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پہلی سماعت کے دوران وفاق اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

  13. کردار مگر اب ہیں کہانی کے حوالے: عاصمہ شیرازی کا کالم

  14. متحدہ عرب امارات کے ساتھ مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے: نگراں وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں جن کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون، علاقائی استحکام اور سٹرٹیجک شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔

    سرکاری خبررساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق وزیراعظم کے پیر کو متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ان معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق نگران وزیراعظم نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔

    اعلامیے کے مطابق ان مفاہمت ناموں کی بدولت متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے تحت مختلف اقدامات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا جس سے پاک متحدہ عرب امارات اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

  15. سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے کی ادائیگی سے متعلق بحریہ ٹاؤن کی طرف سے دائر کی گئی متفرق درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

    بحریہ ٹاون ادائیگیوں کے کیس کا 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن ادائیگیوں کے کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے کی تھی۔ اس تین رُکنی بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔

    پیر کی شب سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں ’بیرون ملک سے مشکوک رقم سپریم کورٹ میں رکھنے کے اقدام کو بدقسمتی قرار دیا گیا ہے۔‘

    فیصلے میں کہا گیا کہ ’بدقسمتی ہے سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سے رقم اکاؤنٹ میں بھیجی گئی، سپریم کورٹ غیر ضروری طور پر این سی اے کی پکڑی گئی رقم میں ملوث ہوئی، این سی اے کی ضبط کردہ رقم شاید مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی تھی۔‘

    جاری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اقساط کی ادائیگی میں ناکامی پر بحریہ ٹاون نادہندہ قرار دیا گیا تھا، بحریہ ٹاؤن رضامندی معاہدے کے ڈیفالٹ میں ہے، بحریہ ٹاؤن نے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں معاہدے کے مطابق قسطیں ایک عرصے سے جمع نہیں کروائیں، بحریہ ٹاون رضا مندی سے جاری حکم کی بھی نادہندہ ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رقم رجسٹرار اکاؤنٹ میں رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، رقم سندھ کے لوگوں کی ہے، حکومت سندھ کو بھجوائی جائے۔‘

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جرمانے کی قسطیں جمع نہ کروانے کی درخواست خارج کرتے ہوئے 21 مارچ 2019 کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ جمع کروائے گئے کل 65 ارب میں سے بیرون ملک سے آئے 35 ارب روپے وفاقی حکومت اور بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع 30 ارب روپے سندھ حکومت کو دیے جائیں گے جبکہ عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    بحریہ ٹاون عمل درآمد کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ’اکیس مارچ 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بحریہ ٹاون کی رضامندی پر تھا اور بحریہ ٹاؤن نے سات سال میں 460 ارب روپے ادا کرنا تھے۔

    ’وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق زمین مکمل نہ ملنے پر ادائیگیاں روکی گئیں اور انھوں نے سروے آف پاکستان کی رپورٹ پر اعتراض اٹھا دیا۔‘

    عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ ’کئی سال تک جلد سماعت کی درخواست دائر نہ کرنا فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے لیے کیا گیا، بظاہر بحریہ ٹاؤن زیادہ زمین پر قابض ہے، بحریہ ٹاؤن نے ادائیگیاں نہیں روکیں بلکہ مزید زمین پر بھی قبضہ کیا۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ سال جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی میں ہزاروں کنال اراضی غیر قانونی طریقے سے منتقل کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کے حکام کو بحریہ ٹاون کے علاوہ متعلقہ سرکاری ملازمین کے خلاف تحقیقات کرنے اور اس کے نتیجے میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کے خلاف بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور بحریہ ٹاؤن مری سے متعلق مقدمات بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

  16. ’خوش قسمتی سے میری آنکھیں بچ گئیں ورنہ نقصان زیادہ ہو سکتا تھا‘ شہزاد اکبر, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے داخلہ اور احتساب کے امور سے متعلق مشیر شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں انھیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اور ان پر تیزاب سے حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پہلے پاکستان میں ان کے بھائی کو اٹھایا گیا جو کہ تین ماہ کے بعد بازیاب ہوئے اور اب برطانیہ میں ان پر حملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔‘ تاہم سابق مشیر داخلہ نے اس ضمن میں کسی ادارے یا شخصیت کا نام نہیں لیا۔

    شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’تیزاب حملے میں نقصان کافی ہوسکتا ہے لیکن بچت ہوگئی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’تیزاب کی وجہ سے ان کے بازوں اور سر کے اگلے حصے پر زخم آئے ہیں اور خوش قسمتی سے ان کی آنکھیں بچ گئی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کی فیملی کے ارکان اس وقت پولیس کی حفاظت میں ہیں اور برطانوی پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    تاہم ہرٹفورڈ شائر پولیس کا کہنا ہے کہ ’اتوار کی سہ پہر حملے کی اطلاع پر افسران کو طلب کیا گیا تھا جہاں ’خیال کیا جا رہا تھا کہ اس میں تیزابی محلول استعمال کیا گیا تھا۔‘

    پولیس کے مطابق ’ایک شخص کا ہسپتال میں علاج کیا گیا اور اب انھیں چھٹی دے دی گئی ہے۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ ’وہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ’تفتیش جاری ہے اور عینی شاہدین یا معلومات رکھنے والے کسی بھی شخص سے پولیس سے رابطہ کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔‘

  17. نگران حکومت کے تمام جماعتوں کو ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کے دعووں کے باوجود پی ٹی آئی کو انتخابی مہم میں مشکلات کا سامنا کیوں؟

  18. ’پاکستان میں مقیم کوئی بھی افغان شہری کسی بھی سیاسی جماعت کے اُمیدوار کی مدد نا کرے‘ پاکستانی وزارتِ داخلہ

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان م یں کہا گیا ہے کہ ’لوگوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ غیر قانونی غیر ملکیوں کو روزگار فراہم نہ کریں اور نہ ہی ایسے کسی فرد کی ملازمت حاصل کرنے میں مدد کریں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایسے کسی غیر قانونی غیر ملکی یا اسے ملازمت فراہم کرنے والے شخص کے بارے میں معلومات وزارت داخلہ کو قانونی کارروائی کے لیے وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیلپ لائن پر فراہم کی جائیں۔‘

    وزارتِ داخلہ کے جاری بیان مکے مطابق ’پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و انتخابی سرگرمیوں میں کسی بھی امیدوار کی مدد کرنا یا فنڈنگ ​​فراہم کرنا غیر قانونی ہے۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی افغان شہری کو پاکستان میں قانونی حیثیت سے قطع نظر ملک بدر کر دیا جائے گا۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

  19. ’بکا خیل دھماکے میں دو عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی‘ آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’26 نومبر 2023 کو حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے موٹر سائیکل سوار خودکش بمبار نے ضلع بنوں کے جنرل ایریا بکا خیل میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں حملہ آور کی شناخت ’افغان شہری‘ کے طور پر کی ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں دو بے گناہ شہریوں کی ہلاکت ہوئی جبکہ سات عام شہری اور تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔‘

    دھماکہ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

  20. ’معذرت کے ساتھ نہ چارج صحیح فریم ہوا اور نہ نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں:‘ جسٹس عامر فاروق

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ میاں گُل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا نیب نے خود سے نواز شریف کو نوٹس جاری کیا تھا؟

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’جی، نوٹس جاری کیا اور نواز شریف نے جواب جمع کرایا تھا، انھوں نے کہا کہ نیب کے ’کال اپ‘ نوٹس میں تفتیش سے متعلق کچھ نہیں ہے۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ایک اور سوال کیا اور پوچھا کہ کیا نیب نے اپنی طرف سے الگ سے کوئی تفتیش نہیں کی؟

    میاں نواز شریف کے وکیل نے جواب دیا ’جی بالکل، نیب نے صرف جے آئی ٹی کے سامنے بیان کی تصدیق چاہی اور نیب نے نواز شریف کو خود سے کوئی سوالنامہ نہیں دیا۔‘

    امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کو مالک اور مریم نواز سمیت دیگر بچوں کو بے نامی دار ثابت کرنے کا بوجھ پراسیکیوشن پر تھا، امجد پرویزکا کہنا تیا کہ ہمارا موقف یہی رہا کہ چارج بھی غلط فریم ہوا ہے۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’معذرت کے ساتھ نہ چارج صحیح فریم ہوا اور نہ نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’نیب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مریم نواز بینفشل اونر ہیں؟

    نوازشریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’نیب نے یہ کوشش ضرور کی مگر اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔‘

    سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں 18 میں سے 6 گواہوں کے بیانات ہو چکے تھے جب نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کیا۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ ’کیا کسی گواہ نے ایسا کوئی بیان دیا جس کے بعد نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا؟‘

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’پہلی گواہ سدرہ منصور نے ایس ای سی پی کا ریکارڈ پیش کیا، انھوں نے کہا کہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہمارا کیس اوپن ہوا اور گواہ پر جرح ہوئی تو اسی وقت نیب نے ضمنی ریفرنس لانے کا فیصلہ کیا۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ ریب نے کہا کہ ’آپ اس متعلق وقت لے کر جواب دیں۔‘

    سابق وزیر اعظم کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’احتساب عدالت نے نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز کا الزام مسترد کر دیا، انھوں نے کہا کہ نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر نہیں کی اور عدالت نے نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر سزا سنا دی۔‘

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’سمجھ سے باہر ہے کہ کرپشن کی بنیاد ختم ہو گئی لیکن عمارت پھر بھی کھڑی ہو گئی۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟ میاں نواز شریف کے وکیل نے حاضری سے استثنیٰ مانگ لیا جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں الگ سے درخواست دائر کریں۔

    آج کی سماعت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے جس کے بعد نواز شریف کا جانب سے دائر کی جانے والی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس کیس کی اپیلوں سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔